میر انیس کی فصاحت – غلام ربانی

جب کوئی خیال یا جذبہ لفظوں کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے یا دلی واردات یا کوئی کیفیت لفظوں کے لباس میں سامنے آ جاتی ہے تو شعر بن جاتی ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ طرزِ ادا میں نزاکت ہو، بندش چست ہو، بیان اتنا دل نشین ہو کہ دل میں اتر جائے اور اثر کرے۔ اگر شعر میں اثر نہیں تو وہ شعر نہیں ہے۔ میر انیس کا کلام تاثیر میں ڈوبا ہوا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان کی دعا”وہ بات دے زباں پہ جو دل میں اثر کرے” قبول ہو گئی۔
میر انیس کے زمانے کا لکھنؤ تکلف اور تصنع پر مٹا ہوا تھا۔ رعایتِ لفظی اور دور از کار صنعتوں کا بازار گرم تھا۔ مرثیے بھی صنعتوں سے مالامال تھے۔ کیونکہ لکھنؤ کے بازار میں اس وقت اس جنس کی مانگ تھی۔ ان حالات میں میر انیس نے اپنے لیے الگ راستہ نکالا اور لفظوں کی دھوم دھام اور پُرشکوہ بیان کی جگہ سادہ بیانی سے کام لیا۔ مگر اس سادگی میں کروڑوں بناؤ ہیں۔ اس میں سادگی ہے۔ شگفتگی ہے۔ برجستگی اور دل آویزی ہے۔ سادہ بیانی میں گل فشانی کرنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس کے لیے اعلیٰ ذوق، زبان پر قدرت اور اندازِ بیان میں ندرت چاہیے۔ میر انیس ایک معمولی سے خیال کو اس طرح ادا کر جاتے ہیں کہ شعر کہیں سے کہیں پہنچ جاتا ہے۔ بعض وقت ایک مصرع پوری نظم بن جاتا ہے۔ نواب مصطفیٰ خاں شیفتہ اپنے وقت کے بہت بڑے سخن سنج تھے۔ مولانا حالی کا بیان ہے کہ ایک دن میر انیس کا ذکر ہو رہا تھا۔ اُنہوں نے یہ مصرع پڑھا:
آج شبیر پہ کیا عالمِ تنہائی ہے۔۔۔

اس مصرع میں کوئی بلند پروازی یا معنی آفرینی نہیں ہے۔ معمولی سی بات کہی ہے مگر ادا اس طرح ہوئی ہے کہ مصرع آسمان پر پہنچ گیا ہے۔ اچھے شعر کی ایک توصیف یہ بھی ہے کہ سنتے ہی یاد ہو جائے۔ میر انیس کے ہاں یہ اعجاز موجود ہے۔ شاعر کی پونجی الفاظ، روزمرہ، محاورے، تشبیہیں، استعارے اور تمثیلیں ہوتی ہیں۔ میر انیس ان سے مالامال ہیں۔ جہان تک الفاظ کا تعلق ہے، بلامبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ اُنہوں نے جتنے الفاظ استعمال کیے ہیں اردو کے کسی شاعر نے نہیں کیے۔ انہوں نے ایسے لفظ بھی استعمال کیے ہیں جن کو دوسرے شاعروں نے ہاتھ نہیں لگایا۔ بات یہ ہے کہ کوئی لفظ اپنی ذات سے برا نہیں ہوتا۔ اُس کا بے جا استعمال اُس کو برا بنا دیتا ہے۔ اچھے سے اچھے لفظ کو بے موقع استعمال کیا جائے تو قدر کھو دیتا ہے اور معمولی اور عامیانہ لفظ صحیح مقام پر بولا جائے تو ناگوار نہیں ہوتا۔ ان لفظوں کے مزاج بھی ہوتے ہیں۔ میر انیس ان کے مزاج داں تھے۔ اُنہوں نے جس مقام پر جو لفظ رکھ دیا ہے وہاں سے ہٹ نہیں سکتا۔
بعض وقت لفظوں کے انتخاب میں بڑی دقت ہوتی ہے۔ کسی زبان کے دو لفظ مترادف نہیں ہوتے، اُن کے مفہوم میں کچھ نہ کچھ فرق ضرور ہوتا ہے۔

سر اپنا تہِ تیغ میں دھرنے کو چلا ہوں
لڑنے کو تو جاتا نہیں مرنے کو چلا ہوں​

پہلے مصرعے میں دھرنے کی جگہ رکھنے سے وزن میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ مگر رکھنا، رکھشا سے بنا ہے جس میں کسی قدر احتیاط کا مفہوم ہے۔ اس موقع پر دھرنا ہی صحیح ہے۔۔۔۔۔ ہماری زبان نرالی ہے۔ اس میں ایک ایک چیز کے دو کیا تین تین نام ہیں۔ ایک ہندی کا، ایک فارسی کا، ایک عربی کا۔ مگر موقع کے لحاظ سے ان کے استعمال میں فرق ہوتا ہے۔ گھر اور مکان دونوں ایک ہی چیز ہیں مگر اُن کے مزاج میں فرق ہے۔ گھر غریب کا ہوتا ہے، مکان امیر کا ہوتا ہے۔ میر انیس نے اہلِ بیت کے بیان میں گھر ہی استعمال کیا ہے۔ بیوہ اور رانڈ ایک ہی بات ہے۔ مگر کسی امیر کبیر کے بعد اس کی بیوی “بیوہ” کہلاتی ہے، رانڈ نہیں۔ رانڈ بے کس اور دکھیاری ہوتی ہے۔ انیس نے سیدانیوں کے لیے یہی لفظ استعمال کیا ہے۔
جنابِ امام کی زبان سے:
یہ فوج ترے بعد مرے گھر کو نہ لوٹے
رانڈوں کے سروں پر سے تو چادر کو نہ لوٹے​!
زلزلہ اور بھونچال ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ لیکن ان کے استعمال میں موقع کا لحاظ رکھا گیا ہے:

اللہ رے زلزلہ کہ لرزتے تھے دشت و در۔۔​
اس میں جنگ کا ہنگامہ ظاہر کیا گیا ہے۔ بھونچال میں بھاگنے کا تصور ہے:
بھونچال میں جیسے کوئی گھر چھوڑ کے بھاگے۔۔۔
اس طرح اوس اور شبنم، چھاتی اور سینہ، صحرا اور جنگل اور دوسرے لفظوں کو موقع کے لحاظ سے الگ الگ استعمال کیے ہیں۔
میر انیس نے لفظی ترکیبیں بھی خوب استعمال کی ہیں۔ شکوہ دکھانے کے موقع پر فلک جناب، گردوں اساس، فلک مآب، کیواں حشم، آسمان جناب، فلک مقام اور اس قسم کی لفظی ترکیبیں استعمال کی ہیں۔

یہ وہ زمانہ ہے کہ لکھنؤ میں ایک گروہ لفظوں کو کم کر رہا تھا۔ شاعروں کو لفظوں کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مگر وہی حضرات ترک بترک کی گردان کر رہے تھے۔ اس وقت استادی منوانے کے لیے ضرور تھا کہ زبان میں کوئی اصلاح کرے اور کچھ لفظ ترک کرے۔ استاد اپنے شاگرد کو حکم دیتا تھا کہ ہم نے فلاں لفظ ترک کر دیا ہے، تم بھی اسے شعر میں مت باندھو۔ اس کی لپیٹ میں ایسے لفظ بھی آ گئے جن کا بدل آج تک پیدا نہیں ہوا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا کسی شخص کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ لفظوں کو ترک کرا دے۔ لفظ بے جان نہیں ہوتے۔ یہ جانداروں کی طرح پیدا ہوتے ہیں، بڑھتے ہیں اور مر جاتے ہیں۔ لیکن جیتے جاگتے لفظوں کا گلا گھونٹنا کہاں تک درست ہے۔ معاف فرمائیے گا۔ لکھنؤ کی زبان میں الفاظ کی کمی ہے۔ فسانۂ آزاد کی ہزاروں صفحوں کی ضخیم جلدوں میں اتنے لفظ نہیں ہیں جتنے ایک ابن الوقت یا توبۃ النصوح میں ہیں۔ یہ واقعہ ہے مبالغہ نہیں۔ میر انیس کا دامن اس لفظ کشی سے پاک ہے۔ انہوں نے نہوڑانا، ڈگ ڈگانا، جھنڈ والے بال, اوجھڑ، دڑیڑا، ڈانڈ جیسے لفظوں کو شاعری کے دربار میں پہنچا دیا اور زبان کو فائدہ پہنچایا۔ شعر کی معنوی خوبیوں کا اندازہ ہر کوئی کر سکتا ہے۔ لیکن لفظی خوبیوں کا لطف اہلِ زبان زیادہ اٹھاتے ہیں۔ زبان کی پرکھ روزمرہ سے ہوتی ہے۔ کلام میں جس قدر روزمرہ کی کمی ہو گی اسی قدر وہ فصاحت سے دور ہوتا جائے گا۔

مولانا شبلی نے میر انیس کی فصاحت کی اتنی تعریف کی ہے کہ حق ادا کر دیا ہے۔ ان کی شاعری کے ہر پہلو کو اجاگر کیا ہے اور بیان کی نزاکتوں کو واضح کیا ہے۔ دوسروں نے میر انیس پر جو اعتراضات کیے ہیں ان کے معقول جواب دیے ہیں۔ لیکن آخر میں ان کی زبان پر کچھ اعتراض بھی کیے ہیں۔تشبیہات زبان کا زیور ہوتی ہیں۔ لیکن تشبیہ تشبیہ میں فرق ہے۔ میر انیس کی تشبیہ اس قدر انوکھی اور دل آویز ہے کہ دل میں کُھب جاتی ہے۔
اللہ ری چمک علمِ بوتراب کی
تارِ نظر بنی تھی کرن آفتاب کی

یوں برچھیاں تھیں چار طرف اس جناب کے
جیسے کرن نکلتی ہے گرد آفتاب کے

یوں ساتھ تھے عزیز شہِ کم سپاہ کے
جیسے ستارے چرخ کے ہوں گرد ماہ کے​
ارزق کا غصہ:
جوشِ غضب سے سرخ ہوئی چشمِ نابکار
مثلِ تنور منہ سے نکلنے لگا بخار​

ثریا کو فارسی والوں نے بلندی ظاہر کرنے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اردو میں بھی اس کی تقلید کی گئی ہے۔
میر انیس نے رات کی زینت کے لیے کہا ہے:
جلوہ بڑا تھا عقدِ ثریا کے نور کا
روشن تھا جھاڑ بامِ فلک پر بلور کا​

تھا چرخِ اخضری پہ یہ رنگ آفتاب کا
کھلتا ہے جیسے پھول چمن میں گلاب کا​
بڑا شاعر وہ ہے جو بھونڈی سے بھونڈی چیز میں بھی حُسن تلاش کر لیتا ہے۔ میر انیس نے یہ کمال دکھایا ہے۔
جنابِ امام کا جسمِ مبارک نیزوں سے چھد گیا ہے۔ کہتے ہیں:
یوں تھے خدنگ ظلِ الٰہی کے جسم پر
جس طرح خار ہوتے ہیں ماہی کے جسم پر​
مشکیزے کے تسمے کو منہ سے پکڑ کر اٹھائے رکھنا بدنما معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اس بدنمائی کو میر انیس نے حسین بنا دیا ہے:
آنکھیں لہو تھیں رخ سے جلال آشکار تھا
مشکیزہ تھا کہ شیر کے منہ میں شکار تھا​

نادر تشبیہات کے استعمال میں ہمارے شاعر مشکل ہی سے انیس کی ہمسری کر سکتے ہیں۔ یہی حال استعاروں کا ہے۔ ان میں بڑی بڑی نزاکتیں اور لطافتیں پیدا کی ہیں۔ جنابِ امام کا ورود میدانِ کربلا میں ہوتا ہے تو:
جنگل کا اوج بڑھ گیا خیمے کی شان سے
پلّہ زمیں کا اٹھ کے ملا آسمان سے

کوسوں ضیا تھی نیرِ دیں کے ظہور سے
جنگل کو چاند لگ گئے چہرے کے نور سے​
حضرت عباس کا حملہ:
پھر ڈوب گیا فوج میں وہ شیرِ دلاور۔۔۔
حضرت عباس اور جنابِ امام کی محبت کے لیے بڑی پاکیزہ تمثیل دی ہے:
جلدیں اگرچہ دو ہیں پہ قرآن ایک ہے
قالب جدا جدا ہیں مگر جان ایک ہے​
جنابِ امام کے عزیز اور رفیق ایک ایک کر کے جنت کو سدھار رہے ہیں۔ ان کے لیے بہت ہی نادر استعارہ استعمال کیا ہے:
دیکھا سوئے افلاک امامِ دوسرا نے
تسبیحِ امامت کے بکھرنے لگے دانے​
حضرت علی اکبر پر تیروں کا مینہ برس رہا ہے:
تیروں کا کیا ہجوم تھا اس نورِ عین پر
پروانے گر رہے تھے چراغِ حُسین پر​
جنابِ امام کے جہاد میں پیشانیِ مبارک سے پسینے کی بوندیں ٹپک رہی ہیں:
کثرت عرق کے قطروں کی تھی روئے پاک پر
موتی برستے جاتے تھے مقتل کی خاک پر​
حضرت علی اکبر شہید ہو چکے ہیں۔ جنابِ امام اُن کو پکارتے ہیں:
اے میرے شیر کیا کسی جنگل میں چھپ رہے
اے میرے چاند کیا کسی بادل میں چھپ رہے

آنکھیں چہرے کا سنگھار ہوتی ہیں۔ ہنستی ہوئی آنکھ کی سب نے تعریف کی ہے۔ میر انیس نے روتی ہوئی آنکھ میں بھی رعنائی پیدا کر دی ہے۔
روتے ہیں فرقتِ شہِ عالی جناب میں
نرگس کے پھول تیر رہے ہیں گلاب میں​
حضرت عباس شہید ہو چکے ہیں۔ اب حضرت علی اکبر کی باری ہے۔ یزیدی طنز کرتے ہیں:
چننے دو گل پسر کو شہادت کے باغ سے
کب تک بچائے گا وہ کلیجے کو داغ سے

بھائی کا داغ اور ہے داغِ پسر ہے اور
بازو کا درد اور ہے دردِ کمر ہے اور
قوت بدن کی اور ہے نورِ نظر ہے اور
سینے کا زخم اور ہے زخمِ جگر ہے اور​
میر انیس صنائع بدائع کا سہارا نہیں لیتے تھے۔ لیکن جہاں کوئی صنعت خود بخود ان کے قلم سے ٹپک گئی ہے تو لطف دوبالا ہو گیا ہے۔
حُسنِ تعلیل ملاحظہ ہو:
پیاسی جو تھی سپاہِ خدا تین رات کی
ساحل سے سر پٹکتی تھیں موجیں فرات کی​
صنعتِ ایہام ذومعنی لفظوں کی بازی گری ہے۔ لکھنؤ اس صنعت پر فدا تھا۔ خضوضاً ناسخ کی طلسم بندیوں نے وہ دھوم مچائی کہ لوگوں پر جادو سا ہو گیا۔ کوشش یہ کی جاتی تھی کہ کسی ایسی چیز کا تصور پیدا کیا جائے جس کا دنیا میں وجود نہ ہو۔
میر اُن نیم باز آنکھوں میں
ساری مستی شراب کی سی ہے​
ساری کے دو معنی ہیں۔ ایک سب، دوسرے سرایت کرنے والا۔ اس شعر میں دونوں معنی ہو سکتے ہیں۔ ایسے شعر دیوانوں میں ڈھونڈنے سے ملتے ہیں۔ میر انیس کے ہاں ان کی کثرت ہے۔ ابہام کو اس طرح استعمال کیا ہے کہ صنعت، صنعت نہیں معلوم ہوتی۔
تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دوں
قطرے کو جو دوں آب تو گوہر سے ملا دوں​
قطرے میں آب بھی ہوتی ہے اور گوہر میں بھی۔
گلدستۂ معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں
اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں​
پھول کا رنگ ہوتا ہے مگر یہاں یہ رنگ”طرح” کے معنی دیتا ہے۔

صنعتِ طباق دو متضاد یا مقابل چیزوں کو ایک جگہ کرنا ہے۔ میر انیس نے اس صنعت کو اکثر جگہ بڑی بے تکلفی سے برتا ہے۔
مری قدر کر اے زمینِ سخن
کہ میں نے تجھے آسماں کر دیا​
اس شعر کی نثر کیجیے تو یہی شعر رہے گا۔ ایسے شعر سن کر بعض وقت آدمی سوچنے لگتا ہے کہ ایسا شعر تو ہم بھی کہہ سکتے ہیں۔ مگر جب سوچتا ہے تو سوچتا ہی رہ جاتا ہے۔ مراعات النظیر عوام کی تسخیر کے لیے بہت اچھا لٹکا تھا۔ یہ لَے اتنی بڑھی کہ رعایتِ لفظی سے گزر کے ضلع جگت پر ختم ہوئی۔ میر انیس نے بھی اس صنعت کو استعمال کیا ہے۔ مگر اس میں ابتذال نہیں ہونے پاتا۔
جب تک یہ چمک مہر کے پرتو سے نہ جائے
اقلیمِ سخن میرے قلمرو سے نہ جائے

ہر نخل برومند ہے یا حضرتِ باری
پھل ہم کو بھی مل جائے ریاضت کا ہماری​
میر انیس نے واقعات اور قدرتی مناظر کے بہت اچھے مرقعے تیار کیے ہیں۔ ان میں جو تصویریں ہیں وہ منہ سے بولنے لگتی ہیں۔ دن اور رات میں صبح کا وقت شاید نیچر کو زیادہ پسند ہے۔ اس وقت قدرت اپنی ساری رعنائیاں اکھٹی کر دیتی ہے۔ انیس نے جو صبح کا سماں باندھا ہے اس میں فصاحت آنکھوں سے دکھائی دیتی ہے۔ ان کے قلم نے اردو کو وہ شاہکار دیا ہے جو دنیا کے ادبِ عالیہ میں جگہ پا سکتا ہے۔ میر انیس کی رات بھی دن کی طرح روشن ہے۔ ملاحظہ ہو:
کھولا عروسِ شب نے جو زلفِ سیاہ کو
روشن کیا سپہر نے قندیلِ ماہ کو
ضو دے کے اختروں کے چراغوں نے راہ کو
پُرنور کر دیا تھا فلک بارگاہ کو

جلوہ تھا یوں ستاروں کا اس دن کی رات میں
افراط روشنی کی ہو جیسے برات میں

جلوہ جدا تھا عقدِ ثریا کے نور کا
روشن تھا جھاڑ بامِ فلک پر بلور کا

تاباں تھے بر و بحر و بیابان و کوہسار
اک اک شجر پہ سروِ چراغاں کی تھی بہار
تحریک سے ہوا کی جو ہلتے تھے برگ و بار
گرتا تھا نور چھن کے درختوں سے بار بار

ہر دم تھا چاندنی سے فزوں نور چھاؤں کا
تھا فرش ہر شجر کے تلے دھوپ چھاؤں کا​
انہوں نے واقعات کو اس طرح بیان کیا ہے کہ ان کا تصور نظروں میں پھر جاتا ہے۔
حُر زخموں سے نڈھال آخری سانس لے رہے ہیں۔ ان کا سر حضرت کی گود میں ہے۔ پوچھتے ہیں، کچھ کہو۔ جواب ملتا ہے:
بات بھی اب تو زباں سے نہیں کی جاتی ہے
کچھ اوڑھا دیجیے مولا مجھے نیند آتی ہے​
اس کے بعد!
طائرِ روح نے پرواز کی طوبیٰ کی طرف
پتلیاں رہ گئیں پھر کر شہِ والا کی طرف​
جزئیات کو بھی اس طرح بیان کیا ہے۔ گرمی کی حالت ملاحظہ ہو:
بھرتا تھا دمِ مرگ پریشاں کوئی ہو کے
دامن سے ہوا دیتا تھا منہ کو کوئی دھو کے
بچتا کوئی ہاتھوں سے ردا چہرے پر روکے
رکھ لیتا تھا سر پر کوئی رومال بھگو کے​

پڑتی تھیں جو چھینٹیں تو مزہ دیتا تھا پانی
جھک کر کوئی چلّو ہی سے پی لیتا تھا پانی​
بے زباں کو گویائی دینا میر انیس ہی کا کام ہے۔
حضرت عباس نہر پر پہنچ گئے ہیں۔ گھوڑا پانی میں منہ ڈالنا چاہتا ہے۔ آپ اُسے پانی نہیں پینے دیتے۔
دو دن سے بے زباں پہ جو تھا آب و دانہ بند
دریا کو ہنہنانے لگا دیکھ کر سمند
ہر بار کانپتا تھا سمٹتا تھا بند بند
چمکارتے تھے حضرتِ عباسِ ارجمند

تڑپاتا تھا جگر کو جو شور آبشار کا
گردن پھرا کے دیکھتا تھا منہ سوار کا​
لشکرِ حُسین کو یوں دکھایا ہے:
بتیس کُل سوار شہِ دیں کے پاس ہیں
اب رہ گئے پیادے وہ دو کم پچاس ہیں

کھانے کا ہے خیال نہ پانی کی فکر ہے
سجدے ہیں اور دعائیں ہیں اور حق کا ذکر ہے​
ہماری شاعری میں رزمیہ کی کمی تھی۔ میر انیس نے اس افلاس کو بھی دور کر دیا ہے۔ لشکر کشی، شمشیر زنی، مبارز طلبی، نقاروں کا شور اور قتل وغیرہ، واقعات کو جس طرح میر انیس نے نظم کیا ہے وہ سکندر نامہ تو کیا شاہنامہ سے ٹکر کھاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ میر انیس نے اردو زبان پر احسان کیا ہے۔ وہ اردو کی آبرو ہیں اور جب تک یہ زبان زمین کے کے پردے پر قائم رہے گی میر انیس کا نام باقی رہے گا۔

(غلام ربانی کے مجموعۂ مضامین”الفاظ کا مزاج” سے مقتبس)

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *