قصہ حاتم طائی جدید۔قسط8

حاتم پیر ودھائی اڈّے پر سر پکڑے بیٹھا تھا کہ”ہاتف” نے صدا دی:
وے سب توں سوھنیاں …
ہائے وے من موہنیاں …
میں تیری ھووووووووو …….!
اس نے جھٹ جیب سے موبائل نکالا- دوسری طرف شہزادی کا پرسنل سیکرٹری “استاد بشیر” تھا
پہلے سوال دا جواب مینوں ای میل کر تے دوجے دی تیّاری پھڑ !
حاتم نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا:
آپ کے ملائے ہوئے صارف نے اپنا موبائل بند کر رکھا ہے ، براہ کرم کچھ دیر بعد رابطہ کریں۔۔

وجہء بے فکری کچھ یوں تھی کہ ہفتہ پہلے ہی شہزادی نے دوسرا سوال حاتم کو ٹویٹ کر دیا تھا اور اب وہی سوال کالے مچھر کی طرح اس کے کانوں میں بھنبھنا رہا تھا:
اس شخص کا”اسٹیٹس”بیان کرو جو کہتا ہے:
شادی کر دریا میں ڈال …. !
اس مختصر مگر جامع گُتھی کو سلجھانے کےلئے وہ ستلج تا بیاس ، ہر اس کھائی میں گھس چکا تھا جسے ساون بھادوں میں عموماً دریا کہا جاتا ہے-
اوپر سے پیرِ فرتوت بھی غائب تھے-

کسی متبادل بزرگ کی تلاش میں وہ بے شمار”النّ” قسم کے فقیروں سے ملا ، اور جی بھر کے مایوس ہوا- کوئی گُرگِ باراں دیدہ اس گتھی کو سلجھانے پر قادر نہ تھا جسے شادی سمجھ کر دریا میں پھینکنا تھا-ایک بنی گالوی قسم کے بزرگ تو سوال سنتے ہی بھڑک اٹھے ، فرمایا:” نا اہل حکومت نے عوام کے ساتھ ساتھ دریاؤں کا بیڑا بھی غرق کر رکھا ہے ، اوّل تو بہتے نہیں اور بہنے پہ اتر آئیں تو سب کچھ بہا کے لے جاتے ہیں”- جملہ یوں ہونا چاہیے
شادی کر تندُور میں ڈال … !

حاتم نے پوچھا:
یا للعجب وہ کیسے ؟؟
وہ گویا ہوئے:” اگر شادی کو دریا میں پھینکا گیا تو یہ سیلابی پانی میں ناچتی ہوئی دوبارہ آبادی میں آن گھُسے گی- اس پھٹیچر کو تندور میں پھینکنا چاہیے … نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ….”
نالہ لئی والے سرخ پوش نے نقطہ اٹھایا کہ جملے کی ترکیبِ نحوی میں “شادی کر” حرفِ اضافی ہے- اگر بدمست حکومت دریا میں کچھ نہ کچھ ڈالنے پر بضد ہی ہے تو دو چار منسٹر پھینک دے … کم از کم خشک سالی تو دور ہو
حاتم ان جعلی درویشوں سے بچتا بچاتا رجانہ سے کمالیہ پہنچا اور ناک کی سیدھ میں چلتے چلتے راوی میں چھلانگ لگا دی-
گھنٹہ بھر دھول مٹی اڑانے کے بعد وہ بمشکل دوسرے کنارے پر آن لگا-
اس نے ایک سبزپوش کو دیکھا جو بیری کے پتے جسم پر لپیٹ کر چت سویا پڑا تھا اور کووّں کا ایک غول اس کے اوپر منڈلاتا تھا-

حاتم نے پاس آ کر سلام کیا اور کہا:” اے دلق پوش ، اگر آپ فوت ہو چکے ہیں تو کوّوں کو اطلاع کر دوں ؟؟”
اس پر وہ پیر مرد پانسا پرت کے بولا:
مرا نہیں ، فی الحال اکڑا ہوں ، اور یہ اکڑ دائمی نہیں ، سردی کی وجہ سے ہے-
حاتم نے کہا۔۔۔ خدا آپ کو حیات خضر عطا کرے ، مجھے تو طائران لاہوتی کی پرواز سے بدگمانی ہوئی جو آپ کے سراقدس پر برابر منڈلا رہے ہیں

بزرگ نے کہا:یہ دیسی کوّے ہیں ، سرکاری نہیں جو زندہ مردہ میں تمیز نہ کر سکیں !
اس کے بعد وہ بزرگ ایک طویل جماہی لیکر بولے:
” ٹائم کی ہویا”
حاتم نے کہا” وہی جو کل اس وقت ہوا تھا ….. اے بزرگِ نیک طینت ! قصّہ یہ ہے کہ بھائی پھیرو کا شہزادہ منیر شامی اسلام آباد کی شہزادی ….”
بزرگ بات کاٹ کے بولے:۔۔۔ بس کرو ، سن چکا ہوں یہ بیکار قصّہ پہلے میری کہانی سنو … کوئی زمانے کی بات ہے کہ ایک کوّا پیاسا تھا … اس نے پانی کی تلاش میں ادھر ادھر نظر دوڑائی ۔۔
حاتم بات کاٹ کر بولا:”اے سخن ور !! میں بھی یہ گھٹیا کہانی بارہا سن چکا ہوں ، کچھ تازہ ہو تو ارشاد فرمائیے”
اس پر وہ بزرگ دیر تک کھانسے ، پھر یکایک بریک لگا کر بولے:
بے شک کم فہموں کے نزدیک یہ بیکار کا قصہ ہے ، مگر دور اندیش حکمرانوں کےلئے اس میں حکمت کے موتی پنہاں ہیں- چنانچہ جس نگری سے انہیں اپنا امیدوار ہارتا نظر آئے ، وہاں راتوں رات ایک ٹرک کنکریوں کا پھینکوا دیتے ہیں- پکی سڑک کے آثار دیکھ کر عوام کی ذہنی سطح بلند ہو جاتی ہے ، اور نا اہل امیدوار ووٹ لیکر اڑ جاتا ہے۔
جاری ہے۔۔۔
ساتویں قسط کا لنک۔
https://mukaalma.com/article/ZAFARGEE/3955

Avatar
ظفرجی
جب تحریر پڑھ کر آپ کی ایک آنکھ روئے اور دوسری ھنسے تو سمجھ لیں یہ ظفرجی کی تحریر ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *