ٹارگِٹ، ٹارگِٹ ، ٹارگِٹ /حصہ اول

سائن پوسٹنگ!
سن تھا 1995 اور مہینہ نومبرکا۔ہم نئے نئے پاس آؤٹ ہو کر ایکسر سائز فائر بال کی کھجور میں اٹکے تھے۔ ایکسر سائز فائر بال ایک لحاظ سے تاریخی جنگی مشق تھی جس میں پوری 11کور نے انتہائی پیشہ ورانہ مہارت سے حصہ لیا۔ہماری یونٹ ڈیو آرٹلری کا حصہ تھی۔ چل سو چل کا عالم تھا‘ ایک جگہ پر پہنچ کر یونٹ ابھی سامان بھی نہ کھولنے پاتی کہ اگلی جگہ پہنچنے کے آرڈر مل جاتے۔ہماری افسرانہ آنکھ چونکہ ابھی پوری طرح سے نہیں کھلی تھی‘ اس لئے پورا ماحول ہمارے لئے کسی الف لیلیٰ سے کم نہ تھا۔ ایکسرسائز کے دوران سینئرافسران کے دورے بہت زیادہ ہوا کرتے تھے۔مقصد تیاری کا جائزہ لینا اور اگر کوئی غلطی نظر آئے تو موقع پر ہی تمام سٹاف کی ’عزت افزائی‘ کرنا ہوتا تھا۔ یہ وزٹ عام طور پر اچانک اور بغیر پیشگی اطلاع کے کئے جاتے تاکہ اصل صورتحال سے آگاہی حاصل ہو سکے۔اس میں دن اور رات کی بھی کوئی قید نہیں تھی بلکہ اس مقصد کے لئے عموماً رات کے وقت کو ترجیح دی جاتی تھی۔

ایکسرسائز کے علاقے میں ہر یونٹ اس بات کی پابند ہوتی ہے کہ مین روٹ سے لے کر اپنی ڈیپلائمنٹ کی جگہ تک تھوڑے تھوڑے فاصلے پر رہنمائی کے نشانات(سائن پوسٹ)نصب کرے۔ یہ نشانات سڑک کے ساتھ مناسب جگہ دیکھ کر نصب کئے جاتے ہیں اور ان پر رہنمائی کے لئے مختلف تیر کے نشانات بنے ہوتے ہیں۔ہر یونٹ کو ایک مخصوص نمبر الاٹ کیا جاتا ہے جو ان نشانات پر درج ہوتا ہے۔معمول یہ تھا کہ ایکسرسائز میں ہر مرحلے کی تکمیل کے بعد ایک دن کا وقفہ ہوتا جس میں تمام یونٹوں کے آفیسرز ڈی بریفنگ کے لئے ڈیو آرٹلری ہیڈکوارٹرز میں اکٹھے ہوا کرتے۔کمانڈر نے دوروں کے دوران جتنے بھی پوانٹس نوٹ کئے ہوتے‘ ان پر بحث کی جاتی اور اس کے بعد ڈانٹ ڈپٹ کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا۔

ان دنوں ایک عدد سروے بیٹری بھی ہماری ڈیو آرٹلری کا حصہ ہوتی تھی جس کو ایک سینئر میجر کمانڈ کر رہے تھے۔ڈی بریفنگ سیشنز کے دوران باقی یونٹوں کے تو درجنوں نکتہ ہائے اعتراض سامنے آتے جن کی وجہ سے ان کی خوب گوش مالی ہوا کرتی جبکہ سروے بیٹری کا صرف ایک پوائنٹ ہوتا اور وہ یہ کہ ان کی سائن پوسٹنگ درست نہیں تھی۔جب کافی مرتبہ ایسا ہی ہوا تو ایک دن اکیلے میں ہم نے میجر صاحب سے پوچھنے کی جسارت کر ہی ڈالی کہ سر ہر مرتبہ آپ کی بیٹری کا ایک ہی پوائنٹ ہوتا ہے،آپ اپنی سائن پوسٹنگ درست کیوں نہیں کرتے تاکہ یہ پوائنٹ بھی سامنے نہ آئے۔جواب میں انہوں نے ہم پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی، سگریٹ کا زوردار کش لگایا اور مسکراتے ہوئے بولے: ’’کاکا! ابھی تو صرف ایک پوائنٹ آتا ہے،اگر سائن پوسٹنگ درست کردی تو کمانڈر سیدھا یونٹ میں پہنچ جائے گا اور اس کے بعد جو درجنوں پوائنٹ آئیں گے ان کا جواب کون دے گا؟‘‘

بیوقوف لوگوں کی فہرست!
اپنی سروس میں ہمارا واسطہ دو طرح کے افسر وں سے رہا۔ ایک تو وہ کہ چپ چاپ بغیر کسی چوں چرا کے مہینے کی پہلی تاریخ کو میس بل ادا کرنے پر اکتفا کیا کرتے اور دوسرے وہ جو روزانہ دن میں چار مرتبہ میس حوالدار کو رجسٹر سمیت اپنے روبرو حاضر کرتے اور اس سے بل میں شامل ایک ایک آئٹم پر تفصیل سے بحث کرتے۔اگر اس غریب نے چائے کی پیالی کی قیمت دو روپے لکھ دی تو اس کی شامت آ جائے گی کہ ہمارے حساب سے تو اس کی قیمت پونے دو روپے بنتی ہے۔ یہ حساب کتاب کرنا عموما کیٹرنگ آفیسر کا کام ہوتا ہے لیکن ہم نے باقی افسران کو بھی‘ بسا اوقات‘ اس کام میں تندہی سے مشغول پایا۔ان دنوں ہمارے سی او اتفاق سے بیچلر تھے اور بیچلر آفیسر کوارٹرز (بی او کیوز)میں ہمارے ساتھ والے کمرے میں قیام پذیر تھے۔دن بھر ہم یونٹ میں ان کی ڈانٹ ڈپٹ سنا کرتے اور اس کے بعد بی او کیوز اور میس میں بھی انہی کا سکہ چلتا تھا۔

ان کے پاس چونکہ فارغ وقت کافی ہوتا تھا اس لئے وہ بھی اس کا بیشتر حصہ میس حوالدار اور میس رجسٹر پر صرف فرمایا کرتے تھے۔ایک دن شومئی قسمت سے وہ اور ہم میس میں اکیلے تھے۔ انہوں نے میس حوالدار کو بلایا اور اس سے ایک طویل بحث کی کہ اس نے چائے میں ڈالی جانے والی چینی ، پتی اور دودھ کی قیمت کیسے نکالی ہے۔تمام چیزیں اپنے سامنے منگوائی گئیں ۔میس حوالدار نے ہر چیز کے چمچ گنے اور کل قیمت کو ان چمچوں کی کل تعداد سے تقسیم کیا ۔ اس طرح ہر آئیٹم کی فی چمچ قیمت نکالی گئی اور اس کے بعد چائے کی ایک پیالی میں شامل ہونے والے ہر آئٹم کے چمچوں کی قیمت کا علیحدہ حساب کیا گیا ۔ آخر میں ان سب رقموں کو جمع کر کے چائے کے ایک کپ کی قیمت نکالی گئی جو میس حوالدار کی مقرر کردہ قیمت سے پندرہ پیسے کم نکلی ۔

اس تمام حساب کتاب میں ایک گھنٹہ صرف کرنے کے بعد انہوں نے اگلاآدھا گھنٹہ میس حوالدار کی بلاتکان بے عزتی فرمائی جس کا لب لباب یہ تھا کہ اس جیسا نالائق شخص آج تک روئے زمین پر پیدا نہیں ہوا اور اگر ان کے بس میں ہو تو وہ اس کو توپ کے آگے باندھ کر فائر کا حکم دے دیں۔ میس حوالدار اپنا سامان سمیٹ کے رخصت ہوا تو سی او اور ہم ایک بار پھر میس میں اکیلے تھے۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے عرض کی ’’سر !ماشااللہ آپ فوج میں ایک اہم عہدے پر فائز ہیں۔ آپ کا تعلق ایک زمیندار گھرانے سے ہے چنانچہ آپ کو اپنی زمینوں سے بھی معقول آمدن ہو جاتی ہے۔ آپ کی فیملی بھی نہیں ہے جس کے باعث آپ کا ماہانہ خرچ نہ ہونے کے برابر ہے۔ ایسا ہوتے ہوئے آپ چند پیسوں کے لئے خود کو اتنی تکلیف میں کیوں ڈالتے ہیں‘‘۔

سی او کو ہم سے اس سوال کی توقع نہیں تھی اور عین ممکن تھا کہ وہ میس حوالدار کے بعد ہماری کلاس لینا شروع کر دیتے،لیکن چونکہ ہم نے بھی سوال کو خوشامد کے ورق میں اچھی طرح سے لپیٹا تھا اس لئے ان کی توپوں کا رخ ہماری طرف نہ ہوا۔ انہوں نے ہم پر ایک اچٹتی سی نگاہ ڈالی اور بولے‘‘برخوردار!میں یہ تمام’’ کھجل خواری‘‘ پیسے بچانے کے لئے نہیں کرتا بلکہ اس لئے کرتا ہوں کہ کل کلاں کو یہ میس حوالدار ان بے وقوف افسروں کی فہرست بنائے جن کو اس نے اپنی چالاکی سے الو بنایا ہوا تھا تو اس میں کم از کم میرا نام شامل نہ کرے۔‘‘

ہینڈز ڈاؤن آن او پی!
اوپی کا تصور ہی بڑے بڑوں کی نیندیں اڑانے کے لئے کافی ہے۔ ایک ایسا موقع جب پوری یونٹ کے افسر او پی پر موجود ہوں اور کمانڈر کی جانب سے فائر درست کروانے کے لئے کہا جائے تو خون خشک ہونا اور سانپ سونگھ جانا ایک لازمی امر ہے۔ وجہ صرف ایک کہ او پی پر غلطی کی گنجائش بالکل بھی تسلیم نہیں کی جاتی۔ بے تحاشہ ڈانٹ ڈپٹ اور نت نئی سزائیں معمول کا حصہ ہوتی ہیں۔ ہم نئے نئے پاس آؤٹ ہو کر یونٹ میں آئے تو فیلڈ فائر کے لئے یونٹ نے نوشہرہ رینجز پر کیمپ کیا۔ ان دنوں معاشرے میں ہمارا کوئی خاص کردار نہیں تھا کیونکہ سیکنڈ لفٹین کا کام یونٹ میں خاموشی سے رہ کر دیکھنا اور سیکھنا ہوتا ہے، تاوقتیکہ وہ آرٹلری سکول سے بیسک کورس نہ کر لے۔ ایک دن تمام آفیسرز فائر کے لئے اوپی پر جمع ہوئے۔ گنز او پی سے 3 کلومیٹر پیچھے ڈیپلائے کی گئی تھیں۔

کمانڈر کے تشریف لانے کے بعدلائیوفائر کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ جل تُو جلال تُو کا ورد شروع ہو گیا۔ باری باری ہر آفیسر کو فائر درست کروانے کا کہا جاتا۔ جس آفیسر کی باری ہوتی کمانڈر آرٹلری اسے اوپی کے سامنے دو تین کلومیٹر کے فاصلے پر کوئی ٹارگٹ دکھاتے اور اس پر فائر منگوانے کاکہتے۔ مذکورہ آفیسر جلدی جلدی اپنے کمپاس، نقشے اور دوربین کی مدد سے ٹارگٹ کا ڈیٹا نکالتا اور گن پوزیشن پر موجود سٹاف کو پاس کرتا تاکہ وہ اس کے مطابق گنز کو فائر کرواسکیں ۔انتہائی عجلت میں بہت ساری کیلکولیشنز، لائیو فائیرنگ کا ماحول اور بے عزتی کا خوف مل کر بڑے بڑوں کا پِتہ پانی کرنے اور ہاتھوں کے طوطے اڑانے کے لئے کافی ہوتا ہے۔ ایسے میں اپنے حواس بحال رکھنا اور صحیح ڈیٹا کیلکولیٹ کرنے کے بعد گنوں کو پاس کرنا ایک مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ کمانڈرپیشہ ورانہ معاملات میں انتہائی سخت گیر شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ہر غلطی پر فوراً سزا دینا ان کا معمول تھا۔

اسی دوران چائے کا وقفہ ہو گیا۔ وقفے کا اختتام قریب تھا کہ ہم واش روم چلے گئے۔ دس منٹ کے بعد واپس او پی کا رخ کیا تو کیا دیکھتے ہیں کہ تمام افسر ہینڈز ڈاؤن پوزیشن میںآدھے ’مرغے ‘بنے ہوئے تھے۔ اگرچہ جو کچھ بھی ہوا تھا‘ اس سے ہم قطعی لاعلم تھے اور اس کے وقوع پذیر ہونے میں ہماری کسی غلطی کا شائبہ تک نہیں تھا‘ لیکن بطور ایک سعادت مند سیکنڈ لفٹین کے اپنے سینئرز سے’ اظہار یکجہتی‘ کرنے میں ہم نے ذرہ برابر دیر نہیں لگائی اور چپکے سے ہینڈز ڈاؤن پوزیشن میں چلے گئے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ہمارے ایک سینئیر نے فائر کے احکامات دیتے ہوئے حواس باختہ ہو کر گن پوزیشن کو ایسا ڈیٹا پاس کر دیا تھا کہ اگر اس پر عملدرآمد ہو جاتا تو اگلا گولہ عین او پی کے اوپرآ کر گرتا۔

پیپسی چولہے تے رکھو!
سیاچن سے وابستہ کچھ ایسی چیزیں بھی ہیں جن کا عام زندگی میں صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ بیس کیمپ سے فارورڈ پوسٹ تک پہنچنے کے لئے ایک لمبا سفر کرنا پڑتا ہے جو بسا اوقات ہفتوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ ایس او پی کے مطابق ماحول سے مانوس ہونے کے لئے ہر ایک ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچنے کے بعد ایک رات گزارنا ضروری ہوتا ہے۔ دوران سفر مختلف ٹرانزٹ پوسٹوں پر رات گزاری جاتی ہے۔ایک مرتبہ ہمیں ایک ایسا ہی سفر درپیش تھا۔ ایک ٹرانزٹ پوسٹ سے دوسری کا سفر موسم کی خرابی کے باعث معمول سے کچھ زیادہ طویل ہو گیا تھا۔ پانچ گھنٹے برف میں پیدل چل چل کر جب ہم اگلی ٹرانزٹ پوسٹ کے قریب پہنچے تو دور سے اگلو دیکھ کر جان میں جان آئی۔ پورا بدن تھکن سے چور چور تھااور گھنٹوں برف میں چلنے کے باعث پاؤں شل ہو چکے تھے۔ پوسٹ میں داخل ہوئے تو پوسٹ حوالدار نے جو کہ پوسٹ کمانڈر بھی تھا‘ ہمارا استقبال کیا اور ساتھ ہی زوردار آواز لگائی’’پیپسی چولہے تے رکھو۔‘‘

جیسے ہی ہمارے اوسان بحال ہوئے تو دیکھا کہ ٹین کے مگ میں سچ مچ کی پیپسی ہمیں دعوتِ نظارہ دے رہی تھی۔ دل کی دھڑکن خوشی کے مارے قابو سے باہر ہونے لگی۔ہم نے وقفے وقفے سے ایک ایک گھونٹ لے کر اس مشروب کو جسم میں انڈیلا۔ سچ پوچھئے تو کولڈ ڈرنک کا جو مزہ اس دن آیا وہ اب تک بھلائے نہیں بھولتا۔ پوسٹ حوالدار نے بتایا کہ اس نے ہمارے لئے بطور خاص یہ اہتمام کیا ہے۔ پیپسی سیاچن کے انتہائی کم درجہ حرارت کے باعث جم کر پتھر کی مانندٹھوس برف بن جاتی ہے جسے قابل استعمال بنانے کے لئے چولہے پر ابلتے ہوئے پانی کے پتیلے کے اندر رکھ کر گرم کرنا پڑتا ہے۔ دیکھا دیکھی ہم نے بھی پوسٹ پر پہنچ کر پیپسی کی ڈیڑھ لٹر والی بوتل کا آرڈر دیا۔ سامان نے بیس کیمپ سے ہماری پوسٹ تک پہنچنا تھا جس میں کم از کم پندرہ دن کا وقت درکار تھا۔وہ پندرہ دن ہم نے انتہائی اشتیاق کے عالم میں گزارے۔

آخر خدا خدا کر کے وہ دن آن پہنچا جب پارٹی سامان لے کر ہماری پوسٹ پر پہنچی۔حسب ترکیب پیپسی کو فوراً چولہے پر رکھ کر’ قابل استعمال‘ بنایا گیا۔جب بوتل ہمارے پاس لائی گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ تین چوتھائی بوتل خالی تھی جبکہ ڈھکنا اپنی جگہ پر مضبوطی سے بند تھا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ مقدار کی کمی کے پیچھے کیا راز چھپا تھا۔خیر بڑی پس و پیش کے بعد جس قدر بھی مشروب موجود تھا‘ اسی پر اکتفا کیا گیا۔دو ماہ گزر گئے، پوسٹ پر ہمارا ٹائم پورا ہوا اور واپسی پر اسی پہلے والی ٹرانزٹ پوسٹ پر رات گزارنے کے لئے ٹھہرے۔ پوسٹ کمانڈر نے حسبِ سابق اس مرتبہ بھی پیپسی سے خاطر تواضع کی۔ہم نے اپنی بوتل کے خالی ہونے کے بارے میں اس سے دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ بیس کیمپ سے لے کر آپ کی پوسٹ کے درمیان جو پانچ ٹرانزٹ پوسٹیں موجود ہیں یہ ان لوگوں کی کارستانی ہے۔ وہ لوگ سرنج کے ذریعے پلاسٹک کی بوتل میں سے سوراخ کر کے پیپسی باہر نکال لیتے ہیں۔ سوراخ اتنا باریک ہوتا ہے کہ کھلی آنکھ سے نظر تک نہیں آتا۔ ہم نے پوسٹ پر پیپسی منگوانے کی غلطی تو نہیں دہرائی البتہ چھٹی پر گھر پہنچے اور بیگم کولڈ ڈرنک سے تواضع کرنے لگیں تو ہمارے منہ سے بے اختیار نکل گیا ’’پیپسی چولہے تے رکھو‘‘۔

(جاری ہے)
بشکریہ الہلال۔

Avatar
کرنل ضیا شہزاد
کہ آپ اپنا تعارف ہوا بہار کی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”ٹارگِٹ، ٹارگِٹ ، ٹارگِٹ /حصہ اول

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *