ٹیکسی ڈرائیور/گوربخش سنگھ پریت لڑی

گورمکھی کہانی کا ترجمہ۔۔

‘‘صاحب…. صاحب…. صاحب جی!’’
رات کے بارہ بجے تھے۔ کمل اسکوٹر کے ساتھ ایکسیڈنٹ ہوجانے کی وجہ سے ایک ہفتہ ہسپتال میں رہی تھی اور آج ہی آئی تھی اور اسے گرم پانی کی بوتل سینکتے سینکتے یشونت کی آنکھ لگ گئی تھی، وہ ہڑبڑا کر اُٹھا۔
‘‘کیا ہے رامے….؟’’
‘‘صاحب۔ ٹرنک کال۔ لدھیانہ سے۔’’
‘‘ہیلو…. ہیلو…. کون ستی….؟ ایکسیڈنٹ کہاں ہوگیا سیریس تو نہیں….؟ او مائی گاڈ…. کیا کمل بھی آئے….؟ وہ آج ہی ہسپتال سے واپس آئی ہے…. امیتا کو ہوش تو ہے…. او مائی گاڈ!…. ہماری موٹر بھی ورکشاپ میں ہے…. ٹیکسی منگواتاہوں۔’’
‘‘کیوں یش جی…. ایسیڈنٹ…. امیتا کو میں بھیج نہیں رہی تھی…. جا رامے…. فوراً جا…. جیسے بھی ملے ٹیکسی لے آ….’’ کمل نے کہا، اور پھر پیچھے سے آواز لگائی۔ لیکن دیکھنا کسی سردار کی ٹیکسی نہ لانا، سردار بڑے ریش ہوتے ہیں۔’’
یشونت نے سوٹ کیس میں دونوں کا ایک ایک سوٹ ڈال لیا۔ ‘‘کیا پتہ ایک دن وہاں رکنا ہی پڑے ۔’’
ٹیکسی کا ہارن بجا۔ ڈرائیور باہر نکل کر نل میں سے پانی کی بالٹی بھر کر ریڈی ایٹر میں ڈال رہا تھا۔ یشونت نے کھڑکی میں سے دیکھا۔
‘‘اوہ پاگل راما، کسی سردار کو ہی لےآیاہے۔’’
راما سوٹ کیس اٹھانے کے لیے اندر آیا۔
‘‘تجھ سے تو کہا تھا کہ سردار کی ٹیکسی نہ لانا۔’’
‘‘صاحب! میں نے بڑی کوشش کی۔ دو اڈوں پر گیا۔ ہندو ٹیکسی ڈرائیور کئی تھے، لیکن کوئی جانے کے لیے تیار نہ ہوا۔ ایک دو سرداروں سے بھی پوچھا۔ سب نے کورا جواب دیا۔ میں نے ستر روپے بھی دینے کے لیے کہا۔ اتنے میں یہ سردار آگیا، اور وہ اپنی گاڑی اڈے کے مینجر کو دے ہی رہا تھا کہ میں نے اس سے منٹ سماجت کی اور ساری بات بتائی کہ ہماری اکلوتی امیتا کا خطرناک ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے۔ بروقت وہاں پہنچنے سے شاید وہ بچ جائے۔ سردار سوچ میں پڑ گیا میں نے ستر روپے بتائے مگر اس نے کوئی توجہ نہ دی۔ البتہ چابی مینجر سے مانگ لی اور مجھے ٹیکسی میں بیٹھنے کے لیے اشارہ کیا۔ میں نے کہا۔ صاحب بہت اچھے ہیں۔ ستر سے بھی زیادہ دے دیں گے۔ اس نے پھر کوئی توجہ نہ دی اور کوٹھی کا نمبر پوچھ کر چل دیا۔
‘‘اچھا! ہماری قسمت میں چکر پڑ گیا ہے۔ لیکن رامے تو ہوشیار رہنا۔ اس کے ساتھ ہی بیٹھنا، سونا بالکل نہیں۔ اس کی ہر حرکت پر نظر رکھنا۔ ان ٹیکسی ڈرائیوروں کی کہانیاں تو سنتا ہی ہے۔ کمل! چابی دینا۔ اپنا ریوالور بھی ساتھ لے لوں۔ کل ہی پڑھا تھا کہ راستہ میں ٹیکسی ڈرائیور نے سامان سنبھال کے سواریوں کو ٹیکسی سے نیچے اتار دیا اور چلتا بنا۔’’
یشونت اور کمل ٹیکسی میں پچھلی سیٹ پر بیٹھ گئے ۔ راما ڈرائیور کے برابر میں بیٹھا۔ ڈرائیور کچھ ضرورت سے زیادہ ہی خاموش تھا۔ کسی طرح کی بات چیت میں حصہ نہیں لے رہا تھا۔ گاڑی چل دی۔
یشونت اور کمل ایک دوسرے کو جاگتا رکھنے کے لیے آہستہ آہستہ گفتگو کر رہے تھے۔ ‘‘امیتا خود بھی جانا نہیں چاہتی تھی۔ قسمت اسے گھیر کے لے گئی۔ مامی زور دے رہی تھی۔ انہوں نے ٹاس سے فیصلہ کیا۔ ٹاس مامی کے حق میں ہوا۔ امیتا مجھے پیار کرکے چلی گئی۔ میری خوش مزاج امیتا!’’
‘‘اتنا ظلم ہمارے ساتھ نہیں ہوسکتا۔ ہماری اکلوتی امیتا ہمارے لیے اس دنیا میں سب کچھ ہے۔ چوٹ ووٹ کی کوئی بات نہیں۔ بڑی سے بڑی چوٹ بھی ڈاکٹر ٹھیک کرلیتے ہیں۔’’
ان کے خوف کے برعکس، سردار ٹیکسی ڈرائیور گاڑی بڑی احتیاط کے ساتھ چلا رہا تھا۔ لیکن کوئی پچیس میل طے کرنے کے بعد اس نے ٹیکسی روک لی۔
‘‘رامے! تو جاگ رہا ہے نا….؟’’ یشونت نے ایک دم محتاط ہو کر کہا۔ اور اپنا پستول ہاتھ میں لےلیا۔
‘‘کیوں سردار جی۔ رک کیوں گئے ہو….؟ گاڑی تو ٹھیک ہے نا….؟ میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں۔ میں آپ کے لیے کوئی خطرہ مول لینا نہیں چاہتا۔ اس لیے ذرا رک گیا تھا اب ٹھیک ہوں۔’’
ڈرائیور نے کچھ دیر رک کے پھر ٹیکسی چلا دی۔
گاڑی چلتی رہی۔ لیکن تیس میل اور چل کے پھر رک گئی۔ اس مرتبہ ارد گرد کوئی آبادی نہیں تھی اور اندھیرا بھی گہرا ہوگیا۔ یشونت نے پستول ہاتھ سے الگ نہیں ہٹایا تھا۔ اس نے رامے کا کندھا تھپک کے اسے ہوشیار کردیا۔
‘‘آپ فکر نہ کیجیے۔’’ڈرائیور نے کہا۔ ‘‘میری حالت کچھ ٹھیک ہوجائے تو چلتا ہوں۔ جتنی دیر ٹیکسی روک کر وقت کھویا ہے۔ اس کی تلافی کردوں گا۔ لیکن آپ کی حفاظت کی مجھے بےحد فکر ہے۔ رات اندھیری اور سڑک سنسان ہے۔’’
ڈرائیور کے الفاظ بڑے تسلی بھرے تھے، لیکن یشونت کو پوری طرح اطمینان نہیں ہو رہا تھا اس نے پستول کو مضبوطی سے تھامے رکھا۔
انہوں نے ٹیلی فون پر معلوم کرلیا تھا کہ ایکسیڈنٹ چندی گڑھ کے قریب ہی ہوا تھا۔ امیتا کی کھلی جیپ کے ساتھ کوئی بس ٹکرا گئی تھی۔ امیتا جیپ سے باہر گر پڑی اور بس کا کوئی سخت حصہ اس کا ماتھا پھوڑ کے آگے بڑھ گیا تھا اور اسے ہسپتال پہنچادیاگیاتھا۔
ہسپتال پہنچ کر معلوم ہوا کہ امیتا کی موت موقع واردات پر ہی ہوگئی تھی۔ اٹھارہ برس کی خوبصورت لڑکی کی لاش پر چادر پھیلی ہوئی تھی کمل اس سے لپٹ گئی۔ یشونت اس کی طرف دیکھ نہیں رہا تھا۔ اس نے مونہہ دوسری جانب کرکے رومال آنکھوں کے سامنے رکھ دیا۔
‘‘اپنی امیتا دیوی کے آخری درشن کرلیجیے۔’’ کمل نے یشونت سے کہا۔ ‘‘نہیں…. میں امیتا کا خوبصورت اور ہنس مکھ چہرہ ہی اپنی آنکھوں میں رکھنا چاہتا ہوں۔ یہ چہرہ میرے لیے نہیں۔ اس ظالم بس ڈرائیور کے لیے ہے، جس نے ہماری امیتا کو ختم کرکے پیچھے گھوم کے اس کی طرف دیکھا تک نہیں۔ یہ چہرہ میری امیتا کا نہیں۔ ہاتھ اسی کے ہیں۔ میں ان خوبصورت ہاتھوں کو چوم لیتا ہوں۔’’
سردار ڈرائیور کے رونے کی آواز تو نہیں آرہی تھی۔ لیکن رومال سے اس کا جلدی جلدی آنکھیں پونچھنا بتا رہا تھا کہ اس سے اپنے آنسو روکے نہیں جارہے تھے۔
امیتا کو اسٹریچر پر ڈال دیا گیا۔ قریب ہی دو نرسیں بھی تھیں۔ اسٹریچر کو ایک طرف سے امیتا کے ماما نے تھاما اور دوسری جانب سے سردار ڈرائیور نے مردہ امیتا کو ٹیکسی کی پچھلی سیٹ پر احترام کے ساتھ لٹا دیا اگلی سیٹ پر یشونت اور کمل ڈرائیور کے ساتھ بیٹھ گئے۔ ڈرائیور کے ہاتھ کئی مرتبہ کانپے، مگر وہ رکا نہیں، ہاتھوں پر قابو پا کر وہ گاڑی چلاتا رہا۔
لدھیانہ میں امیتا کی ننھیال میں صبح کو وہ امیتا کے واہ سنسکار کی تیاری ہو رہی تھی۔ سب رشتہ دار ہنس مکھ امیتا کی باتیں یاد کرکے سسک رہے تھے۔ ایک طرف کھڑے ہوئے سردار ڈرائیور کے آنسو دوسروں کی طرح چھم چھم تو نہیں بہہ رہے تھے، مگر ایک ایک کرکے ٹپک ضرور رہے تھے اور وہ بار بار رومال سے انہیں پونچھ لیتا تھا۔
سب نے اس سے کچھ کھانے کے لیے اصرار کیا۔ اس کے سامنے کھانا لا کر بھی رکھا گیا۔ اس نے کوئی چیز منہ میں نہیں ڈالی۔
چتا پر امیتا کو الٹا لٹا دیا گیا۔ رشتہ دار چتا پر لکڑیاں چن رہے تھے۔
بھاری لکڑیاں سردار ڈرائیور نے چتا پر رکھیں، اور جب آخری بار چہرہ دیکھا جا رہا تھا تو سردار ڈرائیور بھی آگے بڑھا اور ہاتھ جوڑ کے سر جھکا کر لوٹ آیا۔
امیتا کا واہ سنسکار ہوگیا۔ یشونت اور کمل جس طرح گئے تھے۔ اسی طرح ٹیکسی میں واپس لوٹ آئے۔ لیکن اس بار یشونت نے پستول پر ہاتھ نہیں رکھا تھا، اسے سوٹ کیس میں بند کردیا تھا اور نہ اس نے ڈرائیور کی ہر حرکت پر نظر رکھی ، بلکہ وہ اور کمل ڈرائیور کی احتیاط باکمال ڈرائیونگ اس کے خاموش نازک دل کی جی ہی جی میں تعریف کر رہے تھے۔
ڈرائیور راستے میں کہیں رکا نہیں۔ کمل سارے راستہ اس کی چوڑی پشت کی جانب تکتی رہی۔ سوچتی رہی کہ اس سردار کی ہرادا باقی ٹیکسی ڈرائیوروں سے کیسی مختلف اور انوکھی اور خاص طور سے سردار ڈرائیوروں کے مقابلے میں۔
کوٹھی پہنچ کر ڈرائیور نے کمل کی طرف کا دروازہ خود کھولا۔ کمل کی آنکھیں نم تھیں۔ شایداس خیال سے کہ اب کبھی امیتا کی ہنسی کی رو کی پہلی جھنکار اس بدقسمت کوٹھی میں سنائی نہیں دے گی۔
یشونت نے اپنے بٹوے میں اسی روپے کے نوٹ نکال کر ڈرائیور کے ہاتھ میں تھما دیے۔ ڈرائیور نے دس دس کے پانچ نوٹ جیب میں ڈال کر باقی تین یشونت کو واپس کردیے۔
‘‘نہیں سردار جی۔ یہ میں نے آپ کو انعام کے طور پر نہیں دیے یہ آپ کا حق بنتا ہے۔’’
‘‘میرا حق آپ پر بالکل نہیں بنتا۔’’ ڈرائیور نے مستحکم سی آواز میں کہا ‘‘آپ کے لیے جانے سے پہلے میں نے ایک دم انکار کردیا تھا۔ صرف جب آپ کے نوکر نے بتایا کہ بروقت پہنچنے پر شاید کسی کی جان بچ جائے تو میں تیار ہوگیا۔’’
‘‘آپ اسی کی طرف سے لے لیجیے۔’’ یشونت نے نوٹ ڈرائیور کی جیب میں ڈال دیے، لیکن اس نے جلدی سے نکال کر واپس کردیے۔
‘‘وہ اگر بچ جاتی تو میں اس سے لے لیتا…. آپ سے میں نہیں لوں گا، کیونکہ آپ کے لیے میں نے بڑا خشک انکار کردیا تھا۔
یشونت ایک کوشش اور کرنے والا ہی تھا کہ کمل نے روک دیا۔ ‘‘یش جی! انہیں مجبور نہ کیجیے۔ ان کا احسان ہم نوٹوں سے ادا نہیں کرسکتے۔ ان کا یہ احسان، میں ان کو یقین دلاتی ہوں۔ ساری عمر امیتا کی ناقابل فراموش یاد کی طرح سنبھال کر رکھوں گی۔’’ اور کمل کا گلا بھر آیا۔
ڈرائیور کمل کے چہرے کی طرف دیکھنے لگا۔ یشونت کے ساتھ اس نے باتیں کی تھیں۔ لیکن اس کے چہرے کی طرف ایک بار بھی نہیں دیکھا تھا۔ کمل کی طرف دیکھ کر اس نے ایک کاغذ اپنی جیب سے نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا۔ ‘‘میں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا تھا کہ یہ کاغذ میں آپ میں سے کسی کو نہیں دکھاؤں گا۔ لیکن بی بی جی کے لفظوں میں ایسا کچھ ہے کہ میں اپنے فیصلے پر قائم نہیں رہ سکا۔’’
کمل نے وہ کاغذ کھول کر پڑھا۔ وہ ایک تار تھا۔ پڑھتے ہی کمل کی آنکھیں یوں بہہ نکلیں جیسے آسمان سے کوئی بادل یکایک ٹوٹ پڑتا ہے۔ تار فارم بھیگ گیا۔ یشونت نے کمل کے ہاتھ سے تار لے کر پڑھا ‘‘پتا اچانک چل بسے۔ فوراً پہنچو۔’’
‘‘یہ تار ایک گھنٹہ پہلے۔ مجھے ملا اور میں گاڑی اڈے پر دے کر بارہ بجے کی ریل سے گاؤں جانا چاہتا تھا۔ مگر جب آپ کے نوکر نے بتایا کہ موقع واردات پر فوراً پہنچنے سے آپ کی بیٹی کی جان بچ سکتی ہے تو میں نے سوچا کہ پتا جی کو تو واپس نہیں لاسکتا۔ دو بھائی گھر پر ہیں ہی، اگر اس بی بی کی جان بچ جائے مگر راستے میں پتا کی یاد گاڑی کے وہیل پر میرے ہاتھ محفوظ نہیں رہنے دیتی تھی۔’’
کمل اور سسک پڑی۔ ساڑی کے کونے سے آنکھیں اور منہ پونچھ کر اس نے ہاتھ جوڑ لیے اور کہا۔ ‘‘اچھے سردار جی….! کیا مجھے اپنے چرنوں کو چھولینےدیں گے….؟’’
ڈرائیور نے کمل کے جڑے ہوئے ہاتھوں کو پکڑ کے اپنے ماتھے پر لگا لیا اور اپنی آنکھیں پونچھتا ہوا وہ ٹیکسی میں بیٹھ گیا۔
سڑک کی بجری پر پہیوں نے کرچ کرچ کی۔ کمل ٹکٹکی لگائے ٹیکسی کو دیکھتی رہی۔ ٹیکسی پھاٹک سے گزری۔ کمل کے پاؤں لڑکھڑائے۔ یشونت نے اسے سہارا دینے کے لیے بازوؤں میں لے لیا۔ ‘‘اندر چلو کمل، گر پڑوگی۔’’
لیکن کمل اتنی دیر تک وہیں کھڑی دیکھتی رہی جب تک ٹیکسی اسے نظر آتی رہی۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *