آزمائش/مارک ٹوئن۔انگریزی ادب

دنیا میں اکیلا ہونا بھی کسی عذاب سے کم نہیں۔ اس محرومی کا احساس صرف وہی کرسکتا ہے جو اپنوں کی چاہت کو ترس گیاہو۔
ستائیس برس کی عمر میں ، میں بھی تنہائی کے اسی آزار سے دوچار تھا، لیکن میں نے یہ احساس محرومی ذہن پر مسلط نہیں ہونے دیا۔ ان دنوں میں سان فرانسسکو کے ایک مائیننگ ایجنٹ کے پاس کلرک کی حیثیت سے ملازم تھا۔
کھلے سمندر میں کشی رانی میرا خاص مشغلہ تھا۔ اس مشغلے نے افسردگی اور یاسیت کو مجھ پر طاری نہیں ہونے دیا تھا۔ میں موقع ملتے ہی کھلے سمندر میں نکل جاتا اور شام تک نیلگوں سمندر کی اُبھرتی ڈوبتی موجوں میں کھویا رہتا۔ کبھی کبھار کوئی حسین لڑکی کسی تیز رفتار کشتی پر میرے قریب سے گزرتی تو میں بے اختیار مسکرا اُٹھتا۔
ایک شام جب میں نے واپسی کی راہ لی، تو یہ بھیانک انکشاف ہوا کہ میری کشتی گہرے سمندر میں بہت دور پہنچ چکی ہے۔ دراصل اس دن میں ایک لڑکی کے تعاقب میں تھا جو حسن و رعنائی کا دلفریب پیکر تھی۔ میری کشتی میں اچانک ہی کوئی خرابی پیدا ہوگئی تھی جس سے لڑکی تو دور نکل گئی اور جب میں نے کشتی چلائی تو مجھ پر یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ میں بھٹک چکا تھا۔
لیکن میری مشکل ایک چھوٹے مال بردار جہاز نے حل کردی ۔ میں جہاز والوں کو متوجہ کرنے کے لیے پھیپھڑوں کی پوری قوت سے چلانے لگا۔ انہوں نے مجھے دیکھ لیا اور اس طرح میں مچھلیوں کی خوراک بننے سے بچ نکلا۔ یہ چھوٹا سا مال بردار جہاز لندن جا رہا تھا۔ گو جہاز والوں نے مجھے سمندر میں بھٹکنے سے بچالیا، لیکن طویل سفر کے دوران مجھ سے مشقت طلب کام بھی لیے۔ آخر خدا خدا کرکے شیطان کی آنت کی طرح طویل سفر ختم ہوا اور مجھے لندن پہنچ کر جہاز سے اُتار دیا گیا۔
جب میں نے لندن کی سرزمین پر قدم رکھا، میری حالت بھکاریوں جیسی تھی۔ میلے کچیلے کپڑے، جن پر جگہ جگہ پیوند کاری نمایاں تھی اور جیب میں صرف ایک ڈالر۔
یہ رقم مجھے بمشکل چوبیس گھنٹوں کے لیے سر چھپانے کی جگہ اور خوراک مہیا کرسکی۔ اس کے بعد میں بالکل قلاش تھا۔ بھوک کی شدت سے جسم نڈھال اور ٹانگیں بے جان ہورہی تھیں، اس عالم میں پورٹ لینڈ پیلس Portland Palace سے گزرتے وقت میری نگاہ ایک بچے پر پڑی جس نے بڑی سی ناشپاتی سے صرف ایک ہی ٹکڑا کھایا اور پھر جلدی سے ناشپاتی نالی میں پھینک کر اپنی کار میں سوار ہوگیا۔ میری بھوکی نگاہیں اس ناشپاتی پر جم گئیں جو نالی کے کیچڑ میں لت پت ہوگئی تھی۔ میری فاقہ کشی کو چھتیس گھنٹے گزر گئے تھے۔ آنتوں میں بل پڑنے لگے ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ میں آگے بڑھنے کا ارادہ کرتا اور کسی راہ گیر کو دیکھ کر رُک جاتا۔ پھر منظر صاف دیکھ کر آگے بڑھا اور ناشپاتی اُٹھانے کو جھکا ہی تھا کہ اچانک سامنے والے مکان کی کھڑکی کھلی اور ایک آدمی کی ہمدردانہ آواز سنائی دی۔
‘‘اندر آجاؤ برخوردار’’۔
میں بلا سوچے سمجھے مکان کے دروازے کی طرف بڑھ گیا اور ایک ملازم کی رہنمائی میں چلتا ہوا ایک آراستہ کمرے میں پہنچا جہاں دو ادھیڑ عمر آدمی بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ملازم کو رخصت کردیا اور مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ غالباً انہوں نے کچھ دیر پہلے ہی ناشتہ کیا تھا۔
میز پر ناشتے کی بچی کھچی اشیاء دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا، لیکن ان لوگوں نے مجھے اخلاقاً یا مروتاً بھی کھانے کو نہ پوچھا۔ میرے دل میں ایک ٹیس سی اُٹھی۔ دونوں بوڑھوں میں کسی مسئلے پر گرما گرم بحث ہوچکی تھی۔ اب میں ان کے روبرو کھڑا یہ جاننے کا منتظر تھا کہ مجھے کیوں بلایا گیا ہے۔ وہ مجھ سے میرے بارے میں مختلف سوالات کرنے لگے جس سے انہیں میرے بارے میں بہت کچھ معلوم ہوگیا۔
میرے حالات جاننے کے بعد انہوں نے مجھ سے دریافت کیا کہ آیا میں ان کا ایک اہم کام کرسکتا ہوں یا نہیں۔ میں نے کام کی نوعیت کے بارے میں معلوم کیا۔ ان میں سے ایک بوڑھے نے میرے ہاتھ میں ایک لفافہ تھماتے ہوئے کہا کہ سب کچھ اس بند لفافے میں تحریر سے معلوم ہوجائے گا کہ مجھے کیا کرنا ہوگا۔ میں لفافہ کھولنا ہی چاہتا تھا کہ اس نے مجھے روک دیا کہ میں یہ لفافہ گھر لے جاکر آرام اور سکون سے کھول کر پڑھوں، مزید یہ کہ مجھے جلد بازی سے اجتناب کرنا چاہیے۔ میں اُلجھ گیا۔ اپنی اُلجھن دور کرنے کے لیے میں نے اس معاملے پر بات کرنے کی کوشش کی ، لیکن انہوں نے مجھے کہنے سننے کا موقع دیے بغیر رخصت کردیا، جس سے مجھے اپنی توہین کا احساس بھی ہوا، لیکن میں اس حالت میں نہیں تھا کہ ان سے اُلجھ سکتا، یوں بھی ہم جیسے غریب تو دولت مندوں کا کھلونا ہوتے ہیں جن سے دل بہلانا وہ اپنا حق سمجھتے ہیں۔

مکان سے باہر نکلتے ہی ایک مرتبہ پھر میرے پیٹ میں بھوک سے اینٹھن ہونے لگی ۔ اب میں شرم کو بالائے طاق رکھ کر ناشپاتی کی طرف بڑھا ، لیکن اسے ایک تیز پانی کا ریلا بہا لے گیا تھا۔ مجھے دونوں بوڑھوں پر غصہ آنے لگا جن کی وجہ سے میں ناشپاتی سے محروم ہوگیا تھا۔ ناشپاتی بڑی تھی اور پانی سے دھونے کے بعد پیٹ بھرنے میں کافی معاون ثابت ہوسکتی تھی۔
زندگی اس وقت مجھے ناقابلِ برداشت بوجھ معلوم ہورہی تھی۔ میں لڑکھڑاتا ایک طرف چل پڑا۔ گلی کا موڑ مڑتے، جیسے ہی وہ مکان نظروں سے اوجھل ہوا میں نے لفافہ کھول لیا۔ لفافے میں ایک نوٹ دیکھ کر میری آنکھیں چمک اُٹھیں۔ چند لمحے قبل مجھے ان بوڑھوں پر تاؤ آرہا تھا، لیکن اب ان کے بارے میں میرے خیالات یکسر بدل گئے تھے۔ میں نے فوری طور پر نہ تو لفافے سے نوٹ نکالنے کی کوشش کی نہ اس میں موجود خط پڑھنا ضروری سمجھا۔ میرے جسم میں تازگی کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔
میں نے لفافہ جیب میں رکھا اور تیز تیز چلتا کسی ریستوران کی تلاش میں نظریں دوڑانے لگا۔ مجھے زیادہ دور نہیں جانا پڑا۔ دوسرے موڑ پر ایک چھوٹا سا ریستوران نظر آرہا تھا۔ اندر داخل ہوکر میں نے کھانا لانے کا حکم دیا۔ کھانا میز پر آتے ہی میں کھانے پر بری طرح ٹوٹ پڑا اور اس وقت تک کھاتا رہا جب تک پیٹ میں گنجائش باقی رہی۔ بالآخر کھانا ختم کرنے کے بعد میں نے اطمینان سے جیب سے لفافہ نکالا اور جیسے ہی نوٹ باہر کھینچا مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا۔
آپ کو یاد ہوگا کہ سرکاری شعبے میں غیر ممالک سے رقم کے تبادلے میں سہولت کے لیے ایک موقع پر بنک آف انگلینڈ نے دس دس لاکھ پونڈ کی مالیت کے دو نوٹ جاری کیے تھے اور اپنے ہاتھوں میں بنک آف انگلینڈ کا دس لاکھ پونڈ مالیت کا ویسا ہی نوٹ دیکھ کر میں بے ہوش ہوتے ہوتے بچا تھا۔
مجھ جیسے مفلوک الحال شخص کے لیے دس لاکھ پونڈ کا مطلب تھا فوری گرفتاری…. میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے اور دماغ میں آندھیاں سی چلنے لگیں اور مجھے اپنی بصارت پر یقین نہ آیا۔ مگر حقیقت سامنے تھی جس سے انکار بھی ممکن نہیں تھا۔
تقریباً ایک منٹ تک مجھ پر یہی کیفیت طاری رہی، حواس بحال ہوتے ہی میری نظر سب سے پہلے ریستوران کے مالک پر پڑی جس کی نظریں نوٹ پر مرکوز تھیں اور جسم کا ہر حصہ یوں ساکت تھا جیسے پتھر کے مجسمے میں تبدیل ہوگیا ہو۔ میں چند لمحے اس کا جائزہ لیتا رہا پھر فوراً ہی میرے ذہن میں تحریک ہوئی اور میں نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے لاپروائی سے بولا ‘‘اس میں سے کھانے کے پیسے کاٹ کر باقی رقم واپس کردیں’’۔
میری آواز سن کر جیسے وہ ہوش میں آگیا اور انتہائی ندامت اور معذرت کا اظہار کرتے ہوئے بتانے لگا کہ اس مالیت کے نوٹ کا کھلا نہیں ہے۔ میری کوشش کے باوجود اس نے نوٹ کی طرف ہاتھ نہیں بڑھایا البتہ اس کی حیرت سے پھیلی نظریں نوٹ پر چپکی رہیں ۔ میں نے نوٹ مزید آگے بڑھایا تو یوں سمٹ گیا جیسے وہ بچھو ہو۔
‘‘اس زحمت کے لیے معذرت خواہ ہوں، لیکن مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس کھلے پیسے نہیں جس سے کھانے کی قیمت ادا کرسکوں، اس لیے آپ کو یہی نوٹ کھلا کروانا ہوگا’’۔ یہ کہہ کر میں نے نوٹ اس کے بالکل قریب کردیا۔
مگر وہ نوٹ چھونے کے لیے تیار نہیں تھا البتہ اس بات پر آمادہ ہوگیا کہ میں کھانے کی قیمت پھر کسی وقت ادا کردوں۔ میں نے عذر پیش کیا کہ ممکن ہے مجھے طویل عرصے تک اس طرف آنے کا موقع نہ ملے اس لیے میں اپنے سر پر قرض کا یہ بوجھ نہیں لادنا چاہتا، مگر وہ بھی اپنی ہی قسم کا آدمی تھا۔
اس نے ناصرف یہ پیش کش کہ میں جب اور جس وقت چاہوں یہاں آکر اپنی پسند کی کوئی چیز کھا پی سکتا ہوں، بلکہ اگر پسند کروں، تو یہاں میرا مستقل کھاتا بھی کھل سکتا ہے۔ شاید اس کے خیال میں، میں کوئی بہت بڑا رئیس تھا جو میلے کچیلے لباس میں ملبوس، جیب میں دس لاکھ پونڈ کا نوٹ رکھ کر لوگوں کی کیفیات سے لطف اندوز ہورہا تھا۔
ہماری اس بحث کے دوران ایک اور گاہک اندر داخل ہوا، تو مالک مجھے نوٹ چھپانے کا اشارہ کرنے لگا۔ پھر میرے سامنے اس طرح کورنش بجالا جیسے میرا زر خرید غلام ہو، پھر وہ مجھے دروازے تک رخصت کرنےبھی چلا آیا۔

ریستوران سے نکلتے ہی میں اس مکان کی طرف دوڑا جہاں ان بوڑھوں سے میری ملاقات ہوئی تھی میرا خیال تھا کہ انہوں نے مجھے غریب سمجھ کر میری مدد کی تھی، لیکن کسی چھوٹے نوٹ کے بجائے لفافے میں غلطی سے دس لاکھ پونڈ کا نوٹ رکھ دیا تھا اور اس سے پہلے کہ یہ نوٹ میرے قبضے میں یا پولیس مجھے آہنی سلاخوں کے پیچھے دھکیل دے، میں ان شریف بوڑھوں کی غلطی درست کرنا چاہتا تھا۔ پکڑے جانے کی صورت میں ، میں پولیس کو کس طرح بھی یہ یقین نہیں دلاسکتا تھا کہ وہ نوٹ مجھے ان لوگوں نے دیا تھا۔
مجھے شبہ تھا کہ اپنی غلطی کا احساس ہونے کے بعد ان لوگوں نے پولیس کو اطلاع نہ کردی ہو۔ اس وقت مجھ پر گھبراہٹ اور بدحواسی طاری تھی، لیکن جب میں مکان کے سامنے پہنچا تو کوئی غیر معمولی نقل و حرکت نہ پاکر میری گھبراہٹ کچھ کم ہوئی۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ان لوگوں کو ابھی تک اپنی غلطی کا احساس نہیں ہوا تھا۔ دستک کے جواب میں اسی مجہول سے ملازم نے دروازہ کھولا۔ اسے دیکھتے ہی میں نے شریف بوڑھوں کے متعلق استفسار کیا، تو اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا ‘‘ وہ لوگ سفر پر جاچکے ہیں’’۔
‘‘جاچکے ہیں، مگر کہاں ؟’’ بے تابی سے میری آواز بلند ہوگئی۔
‘‘ان کے سامنے کوئی منزل نہیں تھی ، وہ براعظم کی سیاحت کو گئے ہیں’’۔ ملازم نے جواب دیا۔ ‘‘ واپس کب تک آئیں گے؟’’ میں نے جلدی سے سوال کیا۔
‘‘ایک ماہ بعد’’۔
‘‘ایک مہینہ! یہ تو بڑا غضب ہوا، کیا میرا ان سے رابطہ قائم کرنے کوئی ذریعہ ہوسکتا ہے، یہ ضروری ہے’’۔
‘‘میں کچھ نہیں کہہ سکتا کہ وہ لوگ کہاں ہوں گے’’۔
‘‘کیا گھر کے کسی اور فرد سے بات ہوسکتی ہے’’۔
‘‘افراد خانہ تو کئی ماہ قبل جاچکے ہیں ، ان دنوں غالباً مصر یا ہندوستان میں ہوں گے’’۔
‘‘دیکھیے جناب آپ شاید مجھ سے مذاق کررہے ہیں۔ ان دونوں شریف آدمیوں سے ایک سنگین غلطی سرزد ہوچکی ہے جس کی میں انہیں اطلاع کرنا چاہتا ہوں۔ مجھے یقین ہے وہ بیرونِ ملک سیاحت کو نہیں گئے بلکہ ادھر ادھر کہیں سیر و تفریح کو نکل گئے ہوں گے اور رات تک واپس آجائیں گے۔ میں رات کو پھر ایک چکر لگاؤں گا انہیں بتادینا کہ پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں’’۔
‘‘دیکھیے جناب! اگر وہ بزرگ واپس لوٹ آئے تو میں یہ پیغام ضرور دے دوں گا۔ لیکن آج بہرحال ان کی واپسی کی مجھے توقع نہیں۔ ان کے تیور بتارہے تھے کہ وہ لمبے سفر پر جارہے ہیں’’۔
ملازم کا جواب سننے کے بعد میرے پاس کوئی چارہ نہ تھا سوائے واپسی کے لیکن اس صورتحال نے میرے دماغ کی چولیں ہلادیں ۔ وہ ملازم کو پیغام دے گئے تھے کہ طے شدہ وقت پر واپس آجائیں گے، لیکن اس کا کیا مطلب ہے، ممکن ہے لفافے میں موجود خط کی تحریر وضاحت کرسکے…. خط کو تو میں نوٹ کے چکر میں بھول ہی گیا تھا۔ چنانچہ میں نے خط نکالا اور کھول کرپڑھنے لگا :
‘‘تمہارا چہرہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ تم ایک شریف النفس اور دیانت دار شخص ہو، تمہیں دیکھ کر ہم نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ ناصرف بہت غریب بلکہ اس شہر میں اجنبی بھی ہو کیونکہ تم ہر طرف نگاہ اُٹھاکر ماحول کا بغور جائزہ لیتے ہو۔ اس خط کے ساتھ تمہیں کچھ رقم بھی ملے گی جو تمہیں بغیر کسی سود کے تیس دن کے لیے قرض دی جارہی ہے۔
آج سے ٹھیک تیس دن بعد اسی مکان پر آجانا۔ میں نے تم پر ایک شرط لگائی ہے، اگر میں یہ شرط جیت گیا، تو میں تمہاری ہر وہ خواہش پوری کردوں گا جو میرے دائرہ ٔ اختیار میں ہوگی اور جس کے تم اپنے آپ کو اہل ثابت کرو گے’’۔

اس خط کے نیچے نہ تو کسی کے دستخط تھے، نہ کوئی پتہ اور نہ ہی تاریخ درج تھی۔ یہ سب میرے لیے ایک پیچیدہ گورکھ دھندے سے کم نہ تھا۔
بہرحال میں اس نتیجے پر پہنچا کہ انہوں نے ایک دلچسپ کھیل شروع کیا تھا جس کے دو مقاصد ہوسکتے تھے، یا تو وہ کوئی تجربہ کررہے تھے یا یہ کوئی بہت گہری چال تھی۔ میں سوچنے لگا کہ اگر میں یہ نوٹ بینک آف انگلینڈ کے حوالے کردوں کہ نوٹ متعلقہ آدمی تک پہنچادیا جائے، توباز پرس میں مجھے گرفتار کرلیا جائے گا۔ کسی مالیاتی ادارے سے نوٹ نقدی میں تبدیل کروانے کی کوشش کروں تب بھی پھنس جاؤں گا۔ میرے ذہن میں اندیشے اور وسوسے بڑھتے جارہے تھے۔
چنانچہ اتنی بڑی رقم کے باوجود میں ایک فقیر کے روپ میں ایک تیار شدہ کپڑوں کی دکان میں داخل ہوا اور مطلوبہ جوڑا طلب کیا۔ میں نے جیب سے نوٹ نکالا، تو منیجر اور مالک کے ہوش اُڑگئے، وہ کبھی نوٹ اور کبھی میرے حلیے کو پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھنے لگے۔
یہاں بھی ریستوران سے ملتا جلتا واقعہ پیش آیا۔ قسمت مجھ پر مہربان ہورہی تھی۔ میں ان کے تعاون پر مزید نئے جوڑوں گا کہہ کر دس لاکھ پونڈ کانوٹ لیے دکان سے باہر نکل آیا۔ مالک اور منیجر حیرت کی تصویر بنے مجھے دیر تک دیکھتے رہے۔
یہ خبر جلد ہی جنگل کی آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی کہ جیب میں دس لاکھ پونڈ کانوٹ رکھ کر گھومنے والا اجنبی ہیرس Harrisکے ایک گھٹیا سے ریستوران میں ہر صبح ناشتہ کرنے آتا ہے۔ لوگ مجھے دیکھنے کے لیے صبح صبح ہی جمع ہونا شروع ہوجاتے۔ بعض اوقات تو اس قدر بھیڑ ہوجاتی کہ تل دھرنے کو بھی جگہ نہ رہتی۔ اسی چکر میں ہیرس کا کاروبار خوب چمک اُٹھا تھا۔ اب اس نے انتہائی اصرار پر مجھے لمبی لمبی رقمیں بھی بطور قرض دینا شروع کردیں۔ شروع شروع میں، تو میں کچھ جھجھک کا مظاہرہ کرتا رہا، لیکن چونکہ میں ضرورت مند تھا اس لیے قرض کی رقوم سے ٹھاٹ کی زندگی بسر کرنے لگا۔ اس کے ساتھ ہی دل کو یہ دھڑکا بھی لگا رہتا کہ کوئی مصیبت دھماکے کے مانند مجھ پر نازل نہ ہوجائے۔ زندگی کی بے شمار آسائشیں مہیا ہونے کے باوجود مجھے سکون میسر نہ تھا، میں نے تاریک پہلو پر بھی برابر نظر رکھی ہوئی تھی۔
یہ نوٹ میرے لیے وہ تیز خنجر بن گیا تھا جو کچے دھاگے سے میری گردن پر لٹکا ہوا تھا اور یہ دھاگا کسی بھی لمحے ٹوٹ سکتا تھا۔ میری راتوں کی نیندیں اُڑگئیں، ہر وقت آس پاس انجانے خطرات منڈلاتے محسوس کرتا لیکن دن کے وقت میں اپنے آپ کو بالکل مختلف محسوس کرتا، کسی خطرے کا احساس ہوتا نہ کوئی ڈر، خوف قریب پھٹکتا۔
رفتہ رفتہ میرا شمار شہر کے امراء میں ہونے لگا۔ مجھے بہت زیادہ اہمیت دی جانے لگی۔ انگریزی ، اسکاٹ اور آئرش زبان کا کوئی اخبار ایسا نہیں تھا جو میرے تذکرے سے خالی ہوتا۔ اخبارات کے نامہ نگار میرا پیچھا کرتے اور میری دن بھر کی مصروفیت اپنے اپنے انداز میں شائع کرتے۔ اعلیٰ طبقوں میں میرا رتبہ بڑھتا رہا۔ روزنامہ پنچ Punchنے تو گویا اپنا ایک صفحہ میرے لیے مخصوص کررکھا تھا۔ بعض اوقات مجھے قدرت کی ستم ظریفی پر ہنسی آئی کہ وہی شخص جو پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے گندی نالی میں پڑی ہوئی ناشپاتی اُٹھاکر کھانے کو تیار تھا آج پھلوں کے باغات خرید سکتا تھا۔
میں نے اپنا پرانا چیتھڑوں والا جوڑا بھی سنبھال کر رکھا ہوا تھا۔ کبھی کبھی لطف لینے کے لیے میں وہ جوڑا پہن کر بازار میں نکل جاتا۔ اس حالت میں، میں جب کسی دکان والے سے کوئی چیز مانگتا تو وہ مجھے بھکاریوں کی طرح دھتکار دیتا، لیکن جب میں اس دس لاکھ کا نوٹ دکھاتا، تو وہ اس طرح سکتے میں آجاتا جیسے روح اس کے جسم کا ساتھ چھوڑ چکی ہو۔

اپنی شہرت کے دسویں روز میں امریکی سفیر سے ملاقات کے لیے پہنچ گیا۔ وہ بڑے خلوص اور جوش سے ملا، لیکن ناراضگی کا اظہار کیا کہ دولت اور شہرت کے نشے میں مجھے بہت دیر سے سفیر کا خیال آیا۔ میں نے اس کے عشائیے میں شرکت کی حامی بھرلی۔
اس رات امریکی سفیر کے عشائیے میں گنتی کے چند افراد ہی موجود تھے جن میں کچھ ایسے لوگ بھی شامل تھے جن کا تذکرہ میں ضروری نہیں سمجھتا۔ البتہ امریکی سفیر کی بیوی کی ایک انگریز دوست پورٹیا لانگھم Portia Langham کا ذکر ضرور کروں گا۔ اسے دیکھتے ہی میں اس کے دام محبت میں گرفتارہوگیا تھا۔
صرف دو منٹ بعد یہ انکشاف بھی میرے لیے باعثِ مسرت تھا کہ بائیس سالہ پورٹیا لانگھم کے دل میں بھی میری محبت کا چراغ روشن ہوچکا تھا۔
اتنے میں مہمان خصوصی مسٹر لائیڈ ہسٹینگز Lloyd Hastingsتشریف لے آئے۔ مجھے آگے بلایا گیا۔ مہمانِ خصوصی مجھے جانتے تھے میں بھی ان سے واقف تھا ‘‘کیا آپ؟’’
‘‘جی ہاں، میں ہی وہ ایک ملین پونڈ والا شیطان ہوں۔ گھبرائیے نہیں آپ بھی چاہیں تو مجھے اس نام سے مخاطب کرسکتے ہیں۔ اب میں اس کا عادی ہوچکا ہوں’’۔ میں نے عاجزی سے جھکتے ہوئے کہا۔
‘‘خوب خوب! اخبارات میں اس عرفیت کے ساتھ دو مرتبہ آپ کا نام بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا لیکن میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آپ وہی ہنری ایڈم Henry Adams ہیں جو آج سے تقریباً چھ ماہ قبل سان فرانسسکو میں بلیک ہوپکنز Blake Hopkins کے پاس ایک معمولی تنخواہ پر ملازم تھے اور اضافی پیشگی رقم کے لیے رات رات بھر میرے ساتھ بیٹھ کر کام کیا کرتے تھے۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ آپ لندن میں اس طرح شاہانہ زندگی گزار رہے ہوں گے۔ آپ لندن کیسے آئے اور آپ کے پاس الہٰ دین کا چراغ کہاں سے آگیا کہ یہاں آتے ہی آپ نے دھوم مچادی؟’’
‘‘اسے تم محض ایک اتفاق کہہ سکتے ہو۔ لمبی کہانی ہے تمہیں ضرور سناؤں گا مگر اس وقت نہیں’’۔
‘‘خیر کہو تمہارا کاروبار کیسا چل رہا ہے؟’’
میں نے تھوڑی دیر بعد پوچھاتو لائیڈ کے چہرے کی رونق غائب ہوگئی اور گہرا سانس لیتے ہوئے بولا، ‘‘مجھے واقعی اپنا وطن چھوڑ کر یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ کاش تم میری کہانی سن سکتے ’’۔
‘‘یہاں سے فارغ ہونے کے بعد میں تمہارے ساتھ چلوں گا اور تمہاری داستان ضرور سنوں گا۔ آج رات تم میرے پاس رہو گے ، میں تمہاری پوری داستان سنوں گا’’۔
‘‘اوہ! کیا تم واقعی سنجیدہ ؟’’ یہ کہتے ہوئے لائیڈ کی آنکھیں نم آلود ہوگئیں۔
‘‘ہاں، میں واقعی سنجیدہ ہوں اور تمہاری سر گزشت کا ایک ایک لفظ سننا چاہتا ہوں’’۔
‘‘خدا کا شکر کہ ایک ایسا آدمی تو ملا جس کے دل میں میرے لیے ہمدردی کے جذبات موجزن ہیں وگرنہ اس اجنبی دیس میں تو میرا کوئی پرسان حال نہیں تھا’’۔

اگلی ملاقات میں ہسٹینگز میرے سامنے بیٹھا اپنی رام کہانی سنارہا تھا۔ وہ بہت سی توقعات لے کر انگلستان آیا تھا۔ یہاں آنے سے پہلے اس نے اپنی مائیننگ کمپنی کے حصص فروخت کرنے کے اختیارات حاصل کرلیے تھے اور اس کا خیال تھا کہ اس سے کاروبار میں اسے کم ازکم دس لاکھ ڈالر کا منافع ضرور ہوگا۔ یہاں اس نے بڑی محنت کی۔ ایک ایک پائی داؤ پر لگادی، لیکن بد قسمتی اس کے دامن سے لپٹ چکی تھی۔ سر توڑ کوشش کے باوجود نئی کانوں کے سلسلے میں طبع آزمانے کے لیے وہ کسی سرمایہ کار کا تعاون حاصل نہ کرسکا۔ اس طرح ایک ماہ کے اندر اندر وہ پوری طرح تباہ ہوچکا تھا۔ ‘‘ہنری’’ وہ آخر میں میرے نام کے ہجوں پر زور دے کر بولا۔ ‘‘اب صرف اور صرف تم ہی مجھے بچاسکتے ہو۔ کہو تم میری مدد کروگے….؟’’
‘‘لیکن میں تمہاری مدد کیسے کرسکتا ہوں، کیا تمہارے ذہن میں کوئی تجویز ہے….؟’’
‘‘میں نے کمپنی سے کان کنی کے حقوق ایک ملین ڈالرز میں حاصل کیے تھے۔ یہ رقم مجھے ہر صورت واپس کرنی ہے۔ تم مجھے اس رقم کے علاوہ واپسی کا کرایہ دے دو۔ تمہارا یہ احسان میں زندگی بھر نہیں بھولوں گا’’۔
میں ایک دم سناٹے میں آگیا۔ میں کہنا تو چاہتا تھا کہ میں تو خود بھکاری ہوں، ایک پھوٹی کوڑی کا مالک بھی نہیں۔ میرا تو بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے، لیکن الفاظ نوکِ زباں پر آکر رک گئے۔ اس وقت میرے ذہن میں ایک انوکھا خیال آیا اور میں نے خاص کاروباری لہجے میں کہا ۔ ‘‘ ٹھیک ہے۔ گھبراؤ نہیں لائیڈ، میں تمہاری مدد کروں گا’’۔
‘‘اوہ، میں کسی طرح تمہارا شکر ادا کروں ہنری، مجھے الفاظ نہیں مل رہے’’۔ جذبات کی شدت سے ہسٹینگز کی آواز کپکپارہی تھی۔
‘‘پہلے میری پوری بات سن لو لائیڈ، میں اس طرح تمہاری مدد نہیں کروں گا جس طرح تم سمجھ رہے ہو، کیونکہ اس میں بہت بڑا خطرہ ہوگا مجھے تمہاری کانیں خریدنے کی ضرورت نہیں۔ میں لندن کے تجارتی مراکز میں رہ کر اپنے سرمائے کو متحرک رکھ سکتا ہوں۔ سرمایہ گردش میں رہے تو آمدن میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ میرے ذہن میں تمہاری مدد کے لیے ایک اور منصوبہ ہے۔ میں اس کان کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں اور اس میں شبہ نہیں کہ وہ ایک انمول خزانے سے کم نہیں۔ اگر تم میرا نام استعمال کرو تو پندرہ دن کے اندر اندر وہ کان فروخت ہوسکتی ہے، لیکن سودا تین ملین سے کم نہیں ہونا چاہیے۔ منافع کی رقم ہم آپس میں بانٹ لیں گے’’۔ بات ہسٹینگز کی سمجھ میں آگئی۔ وہ خوشی سے دیوانہ ہوکر ناچنے لگا۔ اگر میں اسے زبردستی نہ روکتا تو وہ یقیناً فرنیچر تک توڑ ڈالتا۔
‘‘اوہ، تمہارے نام پر لندن کے تمام سرمایہ دار دوڑ پڑیں گے اور ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے لیے آپس میں دست و گریباں ہونے سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ میں تمہیں زندگی کے آخری لمحات تک یاد رکھوں گا’’۔
اگلے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر لندن میں کھلبلی مچ گئی تھی۔ شہر کے بڑے بڑے رئیس اور ان کے نمائندے میرے پاس دوڑے چلے آئے اور میں ہر ایک کو یہی جواب دیتا تھا۔ ‘‘ہاں میں ہسٹینگز کو جانتا ہوں، وہ بے داغ کردار کا مالک ہے اور اس کام کے بارے میں بھی مجھے سب کچھ معلوم ہے’’۔
ادھر یہ ہنگامے ہورہے تھے ادھر میں اپنا وقت بڑے اطمینان سے گزار رہا تھا۔ میں ہر شام امریکی سفیر کے گھر پہنچ جاتا جہاں پورٹیا بھی آجاتی۔ ہم گھنٹوں ایک دوسرے میں کھوئے رہتے ۔ میں نے اس سے کان کا تذکرہ تک نہیں کیا تھا۔ میں اس سلسلے میں بھی اسے حیران کردینا چاہتا تھا۔

بالآخر جب مہینہ اختتام کو پہنچا تو لندن اینڈ کاؤ نٹی بینک London and County Bankمیں میرے کھاتے میں ایک ملین ڈالر کی رقم جمع ہوچکی تھی اور ہسٹینگز کے حصے میں بھی اتنی ہی رقم آئی تھی۔
میں نے بہترین جوڑا زیب تن کیا اور گاڑی میں بیٹھ کر پورٹ لینڈ پیلس روانہ ہوگیا۔ مجھے دور ہی سے پتہ چل چکا تھا کہ دونوں معزز بوڑھے اپنے گھر واپس آچکے تھے۔ میں راستے میں رکا اور امریکی سفیر کے ہاں پہنچا اور پورٹیا کو ساتھ لے کر بوڑھوں کی طرف روانہ ہوگیا۔
اسی ملازم نے دروازہ کھولا، اور ہمیں اس کمرے میں پہنچادیا جہاں وہ دونوں معزز بوڑھے موجود تھے۔ میرے ساتھ حسین پورٹیا کو دیکھ کر وہ دونوں پریشان ہوگئے۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔
‘‘جناب! میں مہینے بھر کی تفصیلی اطلاع پیش کرنے کو تیار ہوں۔ یہ خاتون میری ہونے والی رفیقہ ٔ حیات ہے اور میری مددگار ہے۔ اس کی موجودگی ہماری گفتگو میں حائل نہیں ہوگی’’۔
اس کے بعد میں نے ان دونوں کا نام لیتے ہوئے پورٹیا کا تعارف کروایا۔ میرے اس طرح نام لینے پر انہیں کوئی پریشانی نہیں ہوئی کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھتے ہوں گے کہ کوئی شخص بھی ٹیلی فون ڈائریکٹری سے ان کا نام معلوم کرسکتا تھا۔
انہوں نے بڑے احترام سے ہمیں کرسیوں پر بٹھایا۔ کچھ دیر بعد انہوں نے اصلی موضوع کی طرف آتے ہوئے کہا ‘‘ ہمیں تفصیل سن کر خوشی ہوگی’’۔ اس بوڑھے نے مجھ سے کہا جس نے آج سے ٹھیک ایک ماہ قبل مجھے لفافہ دیا تھا۔
‘‘تمہاری اطلاع سے میری اور بھائی ایبل Ableکے درمیان شرط کا فیصلہ ہوجائے گا۔ اگر میں یہ شرط جیت گیا ، تو میں اپنے دائرہ اختیار میں رہ کر تمہاری کوئی بھی ایک خواہش پوری کرنے کا پابند ہوں گا۔ کیا دس لاکھ پونڈ کا وہ نوٹ تمہارے پاس موجود ہے….؟’’
‘‘یہ رہی آپ کی امانت…’’ میں نے نوٹ اس کی طرف بڑھادیا۔
‘‘میں شرط جیت گیا’’۔ اس نے ایبل کے کندھے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ‘‘کیا کہتے ہو بھائی؟’’
‘‘میں بیس ہزار پونڈ کی شرط ہارچکا ہوں، میں یقین بھی نہیں کرسکتا تھا کہ کوئی شخص یوں ادھار پر بھی زندہ رہ سکتا ہے’’۔ ایبل نے شکست تسلیم کرلی ۔
‘‘ میری کہانی تو خاصی طویل ہوگی جس میں پورے مہینے کی تفصیل پھیلی ہوئی ہے۔ اس کہانی کے لیے کسی اور وقت آنے کی اجازت چاہوں گا۔ فی الحال آپ اسے ایک نظر دیکھ لیجیے ’’۔
میں نے انہیں سرٹیفیکٹ دکھاتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کیا۔
‘‘یہ کیا؟ دو لاکھ کا ڈیپازٹ سرٹیفیکٹ! کیا یہ تمہاراہے…..؟’’
‘‘جی ہاں! یہ اس نوٹ کا کرشمہ ہے جو آپ نے مجھے عنایت فرمایا تھا۔ اپنی ذہانت کے بل بوتے پر تیس دن کے عرصے میں، میں نے یہ رقم جمع کی ہے’’۔
‘‘انتہائی حیرت انگیز یہ سب ناممکن سا لگتا ہے، لیکن میں ان کا ثبوت فراہم کرسکتا ہوں’’۔ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ اب پورٹیا کی حیران ہونے کی باری تھی۔ حیرت سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں۔ وہ اپنی ہیجانی کیفیت پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی ‘‘ہنری ! کیا یہ رقم واقعی تمہاری نہیں ہے۔ اس عرصے میں تم مجھے بے وقوف بناتے رہےہو؟’’۔
‘‘میں تمہیں حیران کردینا چاہتا تھا۔ امید ہے کہ اس کے لیے تم مجھے معاف کردو گی!’’
میں مس پورٹیا کی طرف دیکھ کر مسکرادیا تو وہ بولی ‘‘ معافی اتنی آسانی سے نہیں مل سکے گی، تمہیں اس شرارت کی سزا ضرور ملے گی’’۔
‘‘تمہیں اس کا حق حاصل ہے۔ جو سزا چاہو تجویز کرسکتی ہو۔ آؤ اب چلیں ’’۔ میں نے ہاتھ اس کی طرف بڑھادیا۔
‘‘ایک منٹ !….’’ اس بوڑھے نے مجھے روک لیا جو شرط جیت چکا تھا۔ ‘‘تمہیں یاد ہے میں نے کہا تھا کہ اگر میں شرط جیت گیا تو تمہاری ایک خواہش پوری کردوں گا’’۔
‘‘ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ اس کے لیے میں آپ کا ازحد شکرگزار ہوں لیکن اب میری کوئی خواہش نہیں’’۔ میں نے بے نیازی کا مظاہرہ کیا۔
‘‘ہنری تم اتنے ناشکرگزار کیوں بن رہے ہو، تمہیں ان بزرگوں کے جذبات کا بھی پاس نہیں۔ اگر تمہیں کچھ کہتے ہوئے شرم محسوس ہورہی ہے تو میں بات کرلوں’’۔
یہ کہہ کر پورٹیا نے مسکراتی ہوئی نگاہوں سے میری طرف دیکھا اور پھر شرط جیتنے والے بوڑھے کے پاس چلی گئی اور اپنا بازو بوڑھے کی گردن میں حائل کردیا اور ا‘س کی پیشانی پر بوسہ دینے کے بعد جیسے ہی وہ سیدھی ہوئی، دونوں بوڑھوں کے منہ سے قہقہے ابل پڑے، لیکن میری حالت ایسی تھی کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ مجھ پر سکتہ کی سی کیفیت طاری تھی۔
ذہن یہ سمجھنے سے قاصر تھا کہ یکایک کیا ہوگیا۔ اس وقت پورٹیا کی آواز میری سماعت سے ٹکرائی۔
‘‘پاپا ! ان کا خیال ہے کہ یہ جو کچھ آپ سے طلب کریں گے آپ انہیں نہیں دے پائیں گے۔ کیا واقعی، کہیں ایسا تو نہیں پاپا؟’’
‘‘کک…. کیا….. یہ تمہارے پاپا ہیں….؟’’ میں متوحش نگاہوں سے پورٹیا کی طرف دیکھنے لگا۔
‘‘ہاں یہ میرے پاپا ہیں۔ تمہیں یاد ہوگا جب تم امریکی سفیر کی دعوت میں اپنی کہانی سنارہے تھے تو میں ہنسی سے لوٹ پوٹ ہورہی تھی۔
دراصل مجھے ہنسی اس بات پر آرہی تھی کہ ابو اور چچا ایبل نے تمہیں کس گورکھ دھندے میں اُلجھادیاہے’’۔
چند لمحوں بعد میں ساری صورتحال سمجھ گیا اور اپنے حواس بحال کرتے ہوئے بولا ‘‘ میری خواہش ہے کہ آپ مجھے اپنی فرزندی میں لے لیں’’۔
بوڑھے نے مجھ پر قابل تحسین نگاہ ڈال کر مسکراتے ہوئے کہا۔
‘‘مجھے منظور ہے ….تم جب چاہو پورٹیا کو لے جاسکتے ہو’’۔
میں نے رقص کے سے انداز میں جھک کر ان کا شکریہ ادا کیا اور پورٹیا میرے پاس چلی آئی۔
بینک کی انتظامیہ نے وہ نوٹ منسوخ کرکے یادگار کے طور پر رکھ لیا تھا اور ہماری شادی پر اسے تحفتاً پیش کردیا گیا، جو آج بھی ایک خوبصورت فریم میں آویزاں گزرے دنوں کی کہانی سناتا نظرآتاہے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *