ایک رات کا ذکر ہے/ٹوڈور گریشیا ۔بلغاریہ

ترجمہ۔ثاقب علی!

یہ ٹھیک دس سال پہلے کی بات ہے اس عجیب و غریب آدمی کو میں نے پہلی اور آخری مرتبہ دیکھا تھا۔
مجھے وہ دن اچھی طرح یاد ہے۔ کہہ لینے دیجئے، وہ موسم بہار کا پہلا دن تھا۔ مارچ کی مخصوص خوشبو فضا میں مہکنے لگی تھی۔ جب ہلکی ہلکی ٹھنڈی ہوا میں ننھے ننھے برفیلے ذرات دھوپ میں تیرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ اس روز مطلع صاف تھا۔ شہر کی گلیاں ویران ویران سی تھیں۔ جوں جوں شام کا وقت قریب آ رہا تھا، سردی بڑھ رہی تھی، لیکن مجھے گھر جانے کی بھی جلدی نہ تھی، کیوں کہ ہمارا ہیٹر پچھلے چار پانچ روز سے خراب پڑا تھا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے اس شام میں شدید بوریت محسوس کر رہا تھا۔ نہ گھر جانے کو جی چاہ رہا تھا اور نہ کلب ہی میں بیٹھنے کو طبیعت چاہ رہی تھی۔ اس الجھن میں کلب ہی میں بیٹھا رہا۔ خم پہ خم لنڈھاتا رہا۔ یار دوستوں سے گپیں لڑاتا رہا، اور جب شام بیت گئی، اور رات سر پہ منڈلانے لگی تو میں کلب سے نکلا اور آہستہ آہستہ گھر کی طرف چلنے لگا۔

اس وقت بھی میں اسی مکان میں رہتا تھا۔ یہ کمان شہر کے عین وسط میں راکو وسکی اسٹریٹ میں واقع ہے۔ معمول کے مطابق ڈیوڑھی میں اندھیرا تھا۔ معمول کے مطابق میں نے ہاتھ بڑھایا تا کہ سوئچ دبا کر روشنی کی جائے، لیکن اس سے پہلے کہ میرا ہاتھ سوئچ تک پہنچتا، اوپر سے گھنٹی بجنے کی آواز سنائی دی۔ یہی نہیں، زینے کی بتی بھی خود بخود جل گئی۔ میں ششدر رہ گیا، کہ یہ کیا قصہ ہے دیکھا کہ مجھ سے کوئی دو قدم کے فاصلے پر ایک ادھیڑ عمر کا آدمی، دیوار سے ٹیک لگائے کھڑاہے۔ اس کا چہرہ اوور کوٹ کے لمبوترے کالر میں چھپا ہوا تھا۔ مجھے اس کی صرف دو آنکھیں نظر آ رہی تھیں، تیز اور چھبتی ہوئی آنکھیں۔ لگتا تھا وہ اپنی سحرزدہ نظروں سے مجھے اس جگہ پر گاڑ دینا چاہتا ہے یا شاید یہاں سے اکھاڑ پھینکنا چاہتا ہے۔

اس نوعیت کا غیر متوقع آمنا سامنا میری طبیعت اور مزاج کے سراسر خلاف تھا، اور ہوا بھی پہلی مرتبہ تھا۔ ایک ہفتہ پہلے اسی طرح رات کے وقت جب میرا ایک دیرینہ دوست اپنے گھر واپس آیا تو اسی طرح ڈیوڑھی کی تاریکی میں کسی شخص نے لوہے کا ڈنڈا اس کے سر پر مار کر اسے ہلاک کر دیا تھا۔ وہ صوفیہ کے ایک اخبار میں آرٹسٹ تھا۔ اس لٹیرے بدمعاش نے اس کے کمرے کا تالا توڑا اور جو کچھ اس کا اثاثہ تھا، بٹوہ، دو جوڑے جوتے، چمڑے کا ایک بریف کیس اور ایک کپڑوں کی اٹیچی، یہ سب لے کر فرار ہو گیا۔ مجھے اس کا ملال اس لئے بھی زیادہ شدید تھا کہ بریف کیس میں میری بھی ایک بہت اچھی کہانی کا مسودہ تھا جو آئندہ اتوار کے ایڈیشن میں چھپنے والی تھی۔

کیا اس وقت یہ شخص بھی اسی نیت سے میرے مکان پر آیا ہے؟ اس خیال کے ذہن میں آتے ہی میں نے اپنے دونوں ہاتھ جیبوں سے باہر نکال لئے اور سوچنے لگا جب یہ مجھ پر حملہ کرے گا تو مجھے اس کے جسم پر کس جگہ لات مارنی چاہیے۔
ڈرو نہیں۔۔۔۔۔۔اجنبی نے نرمی سے کہا۔میں چور نہیں ہوں۔ پھر اسی نرمی میں مسکراہٹ کا اضافہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔کیا میں تمہیں چور نظر آتا ہوں؟
اب میں نے اسے غور سے دیکھا تو وہ خاصا معزز آدمی نظر آیا۔ صاف ستھرا معیاری لباس، اوور کوٹ بھی اچھے کپڑے کا اور خوبصورتی سے سلا ہوا تھا۔ زیادہ تر میں اس کے چہرے سے متاثر ہوا۔ چہرہ لمبوترا اور نازک نقوش والا تھا۔ چہرے کے تاثرات میں خوش مزاجی گھلی ہوئی تھی، پھر بھی اداس نظر آ رہا تھا، البتہ اس کی تیز نگاہیں میرے اندر بےچینی پیدا کر رہی تھیں۔

میں سوچنے لگا کہ سرد تاریک ڈیوڑھی میں یہ کس کا انتظار کر رہا تھا۔میں تمہارا ہی انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔ اجنبی نے کہا تو مجھے یوں لگا جیسے وہ کوئی جن بھوت ہے۔
عام طور پر بوڑھے ادیب بدتمیز اور گستاخ ہو جاتے ہیں۔ نوجوان ادیب مؤدب اور عزت کرنے والے ہوتے ہیں۔ نوجوان ادیب مجھے اپنی کہانیاں پڑھنے کے لیے دے جایا کرتے تھے، لیکن بوڑھے ادیب میرے پاس بیٹھ کر اپنی لمبی لمبی کہانیاں اور ناول سنایا کرتے تھے، خواہ میرا سر چکرانے لگے، متلیاں آنے لگیں، لیکن وہ اپنی بین ساری ساری رات بیٹھے بجاتے رہتے تھے۔

گھبراؤ نہیں، میں تمہیں سنانے کے لئے کوئی ناول وغیرہ نہیں لایا۔۔۔۔یہ کہتے ہوئے اجنبی کی مسکراہٹ میں طنز تھا۔
معاف کیجئے، میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں؟ میں نے اس کی بصیرت سے ڈر کر کہا۔
بس باتیں کر لو۔
اب۔۔۔؟
ہاں اب۔۔۔
لیکن اب تو بہت دیر ہو گئی ہے۔ بہتر ہے آپ کل تشریف لے آئیں۔
ابھی اور اسی وقت، کل بہت دیر ہو جائے گی۔۔۔ اجنبی نے اصرار کیا۔
میں سوچنے لگا کہ اپنے چھوٹے سے تنگ و تاریک کمرے میں ایک اجنبی کو بھلا کیوں کر مدعو کر سکتا ہوں۔
میں تمہارا کمرہ دیکھنے نہیں آیا تم سے ایک ضروری بات کرنے آیا ہوں۔
اس مرتبہ میں نے اجبنی کو بہت غور سے دیکھا۔ یہ کس قسم کا آدمی ہے، نجومی ہے یا پاگل؟ یقینا پاگل ہی ہو گا۔ اس کی آنکھوں میں مجھے پاگل پن نظر آ رہا تھا۔
نہیں، میں پاگل نہیں ہوں، تمہاری طرح ایک نارمل انسان ہوں۔۔۔۔۔
تو پھر یقینا آپ نجومی ہیں۔
نہیں، میں نجومی بھی نہیں ہوں۔
میرے خیالات تو آپ پڑھ رہے ہیں۔
ہاں، میں خیالات پڑھ سکتا ہوں۔
اور آپ کہتے ہیں کہ نجومی ہیں نہ پاگل۔
پاگل اور نجومی دوسروں کے خیالات نہیں پڑھ سکتے۔ میرے آدھی رات کے اس مہمان نے طنزاً کہا۔

میں نے اس شخص کی طرف انتہائی تعجب سے دیکھا اور سوچنے لگا کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا ہوں۔
نہیں آپ خواب نہیں دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔۔ اجنبی نے آہ بھر کر کہا۔ مجھے تسلی دلانے کے لئے اپنا ہاتھ بڑھا کر مزید کہا۔۔۔تم ڈرتے کیوں ہو، اس میں کوئی خاص عجیب و غریب، آسمانی یا مافوق الفطرت بات نہیں ہے، آؤ تمہیں ایک چیز دکھاتا ہوں۔
اس نے اوور کوٹ کا کالر نیچے کر لیا۔ اب وہ مجھے زیادہ معزز، اور زیادہ نارمل، لیکن زیادہ غمگین نظر آیا۔ یہ شخص اب مجھے کچھ دکھانے والا ہے؟ اس کے پاس دکھانے کے لئے کچھ ہے بھی نہیں، سوائے اس آلہِ سماعت کے، جو اس نے اپنے دائیں کان میں ڈوری سے باندھا ہوا ہے۔ اس قسم کی سننے والی مشینیں اب عام رواج پا چکی ہیں۔ ایک ننھا سا عضو کان کے پردے سے مس کر دیا جاتا ہے، جس کی ڈوری مشین سے جڑی ہوتی۔ مشین عام طور پر جیب میں رکھی رہتی ہے اور بیٹری سے چلتی ہے۔
جی نہیں، یہ آلہِ سماعت نہیں ہے۔ اجنبی نے آہستہ سے کہا۔یہ مائیکرو ریسیور ہے اور میں نے ایجاد کیا ہے۔ ریڈیائی لہروں کے بجائے انسانی دماغ سے نکلنے والی حیاتی برقی لہریں پکڑتا ہے گویا تم سادہ لفظوں میں یوں کہہ سکتے ہو یہ آدمی کے خیالات پڑھتا ہے۔ کیسی ناقابلِ قبول بات تھی، لیکن اب میرے لئے اس کی باتیں سمجھنا زیادہ دشوار نہ رہا۔ ضروری نہیں کہ ہر شخص جنوں بھوتوں پر یقین رکھے۔ ہر چند کہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو دعویٰ کرتے کہ انہوں نے بھوت اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔

میں نے اپنے پراسرار مہمان کو حیرت سے دیکھا اور کہا۔اچھا، میرے ہمراہ اوپر تشریف لے چلیے۔ پھر قدرے اضطراب اور گھبراہٹ میں کہا۔ لیکن خدا کا واسطہ، اپنی یہ ایجاد کان سے نکال لیجئے۔
اجنبی فراخ دلی سے مسکرایا۔ اس کے تبسم میں خوش خلقی تھی، خوش مزاجی تھی، خوش نیتی تھی۔ اس نے اپنا مائیکرو ریسیور کان سے ہٹاتے ہوئے کہا۔
اچھا، اب میں تمہیں تنگ نہیں کروں گا۔
ہم زینہ چڑھ کر اوپر گئے۔ میرے پاس اس وقت بھی یہی ایک کمرے والا مکان تھا۔ باورچی خانہ اور غسل خانہ الگ تھا۔ یہ ایک کمرہ بیڈ روم بھی تھا اور میرا لکھنے پڑھنے کا کمرہ بھی۔ میں نے جلدی سے میلی جرابیں کرسی پر سے ہٹائیں۔ ایک جوتا میز کے اوپر رکھا تھا، دوسرا میز کے نیچے۔ دونوں کو جوڑ کر ایک جگہ رکھا۔ ٹماٹر کی چٹنی کی بوتل بستر پر اخباروں کے اوپر پڑی ہوئی تھی، وہ اٹھا کر میز پر رکھی۔
کیا آپ بتا سکتے ہیں، اس وقت میں کیا سوچ رہا ہوں؟ میں نے پوچھا۔
ہاں، بتا سکتا ہوں۔ اجنبی نے اسی لہجے میں جواب دیا۔تم سوچ رہے ہو کہ چھڑے چھانٹ لوگوں کی زندگی بھی کتنی مشکل ہوتی ہے، بہر حال یہ بھی بتا سکتا ہوں کہ تمہاری جلد شادی ہونے والی ہے۔
آمین! آپ کا کیا حال ہے؟ یعنی آپ شادی شدہ ہیں یا۔۔۔۔۔؟
اجنبی کا چہرہ ایک دم سنجیدہ ہو گیا۔۔۔شادی شدہ تو ہوں لیکن یہ باتیں تمہیں اپنے وقت پر معلوم ہو جائیں گی۔ میں تمہیں ہر بات بتا دوں گا۔
اور میں ہر بات سنوں گا۔ سب سے پہلے آپ یہ بتائیے کہ آپ مجھ سے یعنی مجھی سے کیوں وہ خاص بات کرنا چاہتے ہیں جو عنقریب آپ مجھ سے کرنے والے ہیں۔ میں آپ کے لئے اجنبی اور ناواقف ہوں۔
نہیں، ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں۔اجنبی نے جواب یا۔ ممکن ہے، تم نے بھلا دیا ہو، لیکن ہم ایک دوسرے سے مل چکے ہیں۔ صرف تین دن پہلے ، رات کو ہم ایک ہی ریستوران میں بیٹھے ہوئے تھے۔ کیا واقعی تم بھول گئے؟
تمہاری میز میری میز سے ملی ہوئی تھی۔ ہم آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔

ہاں مجھے یاد آ گیا، آپ ٹھیک کہتے ہیں، یہ تین دن پہلے کی تو بات ہے۔
کیا واقعی تمہیں یاد آ گیا؟
ہاں، ہاں، بالکل۔ آپ نے اپنا یہ ریسیور اس وقت بھی اپنے کان میں لگا رکھا تھا۔
ہاں، لگا رکھا تھا۔ اجنبی نے کہا۔۔۔۔اور میں نے تمہارا خیال پڑھ لیا تھا۔ تم نے سوچا تھا یہ آلہ اتنا بھی برا نہیں ہے، اگر کبھی بہرا ہونے پر لگانا پڑا تو مجھ پر کوئی قیامت نہ ٹوٹ پڑے گی۔۔۔
قیامت نہ ٹوٹ پڑے گی، ہاں واقعی میرے دماغ میں یہ خیال آیا تھا۔
کیا آپ کو وہ لوگ یاد ہیں جو آپ کے بائیں والی میز پر بیٹھے ہوئے تھے؟
مجھے وہ لوگ خوب یاد تھے، میں انہیں اتنی جلدی کیوں کر بھول سکتا تھا۔ میز پر دو نوجوان عورتیں تھی، اور ان کی عمر کے کئی مرد۔ ان میں سے ایک بہت دلکش اور حسین تھی، نازک اندام اور معصوم چہرے والی۔ سارا وقت اپنے شوہر کو محبت بھری نظروں سے تکتی رہی، لیکن اس کے شوہر نے اس کی پرواہ تک نہ کی۔ اس کی ہوس بھری نظریں بار بار دوسری عورت کے چہرے پر پڑ رہی تھیں جو زیادہ پرگوشت اور پرجوش تھی، نازک اندام، معصوم چہرے والی، شادی شدہ عورت کی سہیلی تھی۔ اسے یہ تو معلوم تھا کہ میری سہیلی شادی شدہ نہیں ہے، لیکن یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ آوارہ ہے۔ ابھی پینے پلانے کا شغل جاری تھا کہ اس عورت کے جذبات مجھ سے مخفی رہے نہ کسی اور شخص سے جو بھی وہاں بیٹھا تھا، سب جانتے تھے کہ یہ شخص کیا چاہتا ہے، لیکن اس کی بیوی کو اس پر ذرا بھی شبہ نہ تھا۔ وہ اسی طرح اپنے خوبصورت شوہر کو محبت بھری نظروں سے تکتی رہی۔
میں نے جواب دیا۔۔۔مجھے اچھی طرح یاد ہے۔
واقعی اس کی بیوی کو ذرا بھی شبہ نہ تھا۔ میں نے ان دونوں کے خیالات بھی پڑھ لئے تھے۔
میں پھر تعجب کرنے لگا۔دونوں کے خیالات پڑھ لئے تھے ان دونوں میں کیا تعلق تھا؟
وہ دونوں مل کر اس معصوم عورت کو دیر سے بےوقوف بنا رہے تھے۔ تم نے ان کے تعلقات کا ٹھیک اندازہ لگایا تھا۔ تم ان کی طرف مجھ سے بھی زیادہ غور اور اشتیاق سے دیکھ رہے تھے۔ جب تمہیں یقین ہو گیا تھا کہ ان دونوں میں تعلق ہے تو تم نے سوچا تھا۔ یہ اچھا ہی ہے کہ اس غریب کو ذرا بھی شبہ نہیں۔ اگر کچھ شبہ ہو گیا تو یہ کچلے ہوئے پھول کی طرح مرجھا جائے گی۔۔۔۔ تم نے یہی سوچا تھا نا؟

آپ بالکل ٹھیک فرماتے ہیں۔۔۔۔میں نے کلب میں بیٹھ کر آج شام جتنی بھی چڑھائی تھی، اس کا سارا نشہ ہرن ہو گیا۔ میرے شکوک ہوا میں تحلیل ہو گئے۔ میں انتہائی غور سے اپنے عجیب مہمان کی طرف دیکھنے لگا۔ مجھے یقین سا ہو چلا کہ اس عجیب آدمی نے یہ پراسرار اور خوفناک آلہ یقیناً ایجاد کیا ہوگا۔
اس نے میری طرف سوچتے ہوئے دیکھا۔ وہ کچھ سوچ رہا تھا، جیسے کچھ یاد کر رہا ہو، پھر جھجکتے ہوئے بولا۔۔۔۔تم نے یہی سوچا تھا کہ یہ اچھا ہی ہے کہ اس غریب کو بھی شبہ نہیں۔ تم یقین جانو میں نے بھی یہی سوچا تھا۔ اور یقین جانو اس سوچ کے نتیجے ہی میں، میں اس وقت تمہارے سامنے بیٹھا ہوں۔

مجھے غصہ آ گیا۔۔۔۔۔آخر آپ کہنا کیا چاہتے ہیں؟ قصہ کیا ہے؟ تفصیل سے بتائیے۔ یہ آپ نے مجھے معموں میں کیوں الجھا رکھا ہے۔
اجنبی کچھ دیر سوچ میں پڑا رہا۔ پھر اس کی تیوری چڑھی اور وہ بولا۔میں تمہیں اپنی ذات کے بارے میں کچھ بتانے کا ارادہ نہیں رکھتا، حتیٰ کہ اپنا نام بھی نہیں بتاؤں گا۔ تمہیں میری زندگی ، میرے ماضی یا میرے مستقبل سے کوئی دلچسپی نہ ہونی چاہیے۔ تمہیں میری اس ایجاد سے بھی کوئی دلچسپی نہ ہونی چاہیے۔۔۔
پھر آپ یہاں کیا لینے آئے ہیں؟ میں نے خفگی سے کہا۔
تمہیں ابھی معلوم ہو جائے گا۔ اس نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔
تمہیں صرف اتنا بتاؤں گا کہ میں نے اپنی اس ایجاد پر عمر عزیز کے دس سال صرف کیے ہیں۔ پہلی بڑی کامیابی مجھے دو سال پہلے حاصل ہوئی تھی، لیکن معاملہ ادھورا تھا۔ دوسروں کے خیالات پڑھنے کے لئے مجھے ایک بھاری ہیلمٹ پہننا پڑتا تھا۔ وہ ہیلمٹ دماغ کی برقی لہریں پکڑتا تھا۔ دو سال مزید محنت کرنا پڑی، تب جا کر یہ آلہ تیار ہوا ہے جو تم دیکھ رہے ہو۔ ممکن ہے معجزوں اور کرامات پر تمہارا ایمان نہ ہو، لیکن دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ میں نے ایک سائنسی معجزہ کر دکھایا ہے۔

یعنی صرف سائنسی ہی نہیں، بلکہ۔۔۔۔۔۔ میں کچھ کہنے کے لئے مناسب الفاظ ڈھونڈ رہا تھا کہ اس نے قطع کلام کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔
جی ہاں، تم نے بجا کہا۔ ابتداء میں مجھے اندازہ نہیں تھا کہ اس ایجاد کا معاشرے اور اخلاقیات پر بھی اثر پڑے گا۔ محض ذوق برائے ذوق یا سائنس برائے سائنس یہ کوشش کر رہا تھا، لین جس روز میں نے پہلی مرتبہ انسان کا پہلا خیال اس آلے کے ذریعے پڑھا۔ میں بتا نہیں سکتا کہ مجھے کس قدر صدمہ ہوا۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا، کیا مجھے دوسرے انسانوں کے خیالات پڑھنے کا حق بھی ہے؟ کیا لوگوں کی اجازت کے بغیر ان کے خیالات پڑھنے کا مجھے کسی بھی لحاظ سے انسانی، قدرتی یا اخلاقی حق پہنچتا ہے؟ میں یہ اچھی طرح جانتا تھا انسان کی محنت کا استحصال کرنا بہت بڑا ظلم ہے۔ میں نے اپنے آپ سے پوچھا، اور انسان کے دماغ کا استحصال کرنا ظلم ہے یا ۔۔۔۔۔۔
میرا پراسرار مہمان کہتے کہتے رک گیا۔ اس کا چہرہ زرد پڑ گیا اور اس کی آنکھوں میں درد چمکنے لگا۔۔۔۔۔دراصل بات یہ ہے کہ میں نے پہلا تجربہ جس شخص پر کیا وہ بہت ضعیف اور بیمار تھا۔ اس کے دماغ میں جتنے بھی خیالات اٹھتے تھے، سب ضعیف اور بیمار تھے۔ یعنی کوئی نتیجہ خیز بات سامنے نہ آئی۔ ادھر میرا یہ حال تھا کہ میں اپنی ایجاد کا دیوانہ بنا ہوا تھا اور اسے عظیم الشان اور مفید ترین سمجھے ہوئے تھا، چنانچہ میں نے اپنے آپ کو تسلی دینے کے لئے ایک نظریہ بنا لیا۔
میرا خیال ہے دنیا میں جتنے بھی نظریات کام کر رہے ہیں، ان میں سے آدھے اپنے آپ کو تسلی دلانے کے لئے گھڑے گئے تھے، اس لئے کوئی غم کی بات نہیں۔۔۔۔۔ میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی خاطر کہا۔
بجا کہتے ہو۔۔۔۔ میرے مہمان نے مجھ سے اتفاق کیا۔ایک بات اور بتاتا چلوں میں نے اس ایجاد کو انتہائی خفیہ رکھا ہے۔ آج تک کسی کو اس کا علم نہیں۔ تم پہلے شخص ہو جسے اس کا پتہ چلا ہے۔ اس کو استعمال میں لانے کے لئے مجھے بہرے پن کا بہانہ بنانا پڑا۔ ایک روز میں نے اپنے دوستوں کو بتایا کہ یارو، اونچا سننے لگا ہوں، اس لئے میں نے بیرونی ملک ایک خط لکھا ہے، آلہ سماعت منگوانے کے لئے۔ تیاریاں ہو رہی تھیں۔ مشکلات پر قابو پایا جا رہا تھا، لیکن ضمیر میں برابر ایک خلش سی چلی آ رہی تھی۔

ضمیر میں خلش۔۔۔۔ وہ کیوں؟۔۔۔۔ میں نے پوچھا
میرے مہمان نے سگریٹ سلگا لیا۔ اس کے ماتھے پر شکنیں ابھریں، کہنے لگا۔۔۔دوسرا تجربہ میں نے اپنی گھریلو ملازمہ پر آزمایا۔ وہ پندرہ سولہ برس کی، بڑی سادہ سی، غریب سی، احمق سی ٹھس لڑکی تھی۔ میں نے کبھی اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہ دیکھا تھا۔ دہقان لڑکیوں کے سے کھدر کے کپڑے پہنتی تھی۔ خون کی کمی کا شکار، دبلی پتلی سی لڑکی۔ میری لیبارٹری میں آتی تو یوں لگتا جیسے خواب میں چل رہی ہے۔
یہ عجیب بات ہے کہ میں نے اپنے مائیکرو ریسیور سے اس کا پہلا خیال یہی پڑھا۔مجھے نیند آ رہی ہے۔
یہ خیال پڑھا تو مجھے بہت غصہ آیا کہ اس کم بخت کی کھوپڑی میں خیال آیا بھی تو کیا یا پھر یوں کہنا چاہیے کہ یہ ریسیور جو خیال بھی پکڑتا ہے وہ ضعیف، بیمار، کمزور اور منفی ہوتا ہے۔ کہیں اس کی مشینری میں تو کوئی نقص نہیں کہ صحت مند خیال پڑھ ہی نہیں سکتا۔
میرا مہمان مزید کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔لیکن یہ ٹھیک ٹھاک کام کر رہا تھا۔ فوراً ہی اس کے دماغ میں دوسرا خیال پیدا ہوا۔مجھے بھوک لگ رہی ہے۔
اس سے اگلا خیال یہ تھا۔لیکن مالکن نے کھانا پھر تالے میں بند کر دیا ہے ۔
پھر تو گویا خیالات کا ایک سلسلہ بندھ گیا تھا۔میں آج رات کو کیا کھاؤں گی؟ شاید مالکن نے ڈبل روٹی کے کچھ سلائس ادھر ادھر رکھ دیے ہوں گے۔ تو میں کیا کھاؤں گی۔ کوئی بات نہیں، میں نے بھی اپنے تکیے کے نیچے تین سلائس چھپا رکھے ہیں۔ مالک کو ان کا پتہ ہی نہ چلے گا اور اگر اس کو پتہ چل گیا تو۔۔۔۔۔ وہ اکثر میرے تکیے اور بستر کے نیچے ٹٹولتی رہتی ہے، بڑی رذیل عورت ہے، مجھے چور سمجھتی ہے، حالانکہ وہ خود چور ہے، میرے خطوط چوری چوری کھول کر پڑھ لیتی ہے، لیکن میں بھی بدلے میں اس کے عشقیہ خطوط پڑھ لیتی ہوں، مگر اس وقت تو مجھے نیند آ رہی ہے اور مجھے بھوک لگ رہی ہے۔ میں مالک سے کہوں گی، آج رات مجھے جلدی چھٹی دے دیں۔ وہ بہت اچھے مہربان آدمی ہیں۔ اگر وہ مجھ پر زیادہ مہربانی کریں گے تو انہیں صاف صاف بتا دوں گی کہ آپ کی بیوی آپ کے فلاں دوست سے معاشقہ لڑاتی ہے اور جب آپ گھر پر نہیں ہوتے تو اسے بلاتی ہے اور عشقیہ خطوط لکھتی ہے۔

آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ خادمہ کے یہ خیالات پڑھ کر میں پتھر کی طرح منجمد ہو گیا۔۔۔۔ میرے مہمان کی زبان گویا پتھرا گئی تھی۔
تم میری بیوی کو نہیں جانتے، عجیب عورت ہے۔ اب بھی جوان ہے۔ عمر چونتیس پینتیس سال کے لگ بھگ ہے۔ اچھے کپڑے پہنتی ہے، اچھا کھاتی ہے۔ اسے ایک شائستہ، مہذب اور ذہین عورت سمجھا جاتا ہے۔ تمہارے کلبوں میں اس کا آنا جانا ہے۔ فنونِ لطیفہ کے بارے میں اعتماد سے بات کر سکتی۔ لوگ اس کی عزت کرتے ہیں۔ کیا وہ خادمہ کا کھانا تالے میں چھپا کر رکھے گی؟ ناممکن بات ہے۔ وہ میری عدم موجودگی میں کسی اور شخص کو گھر پر بلواتی ہے، اس سے عشق کرتی ہے۔ اسے خطوط لکھتی ہے، ناممکن! جس طرح وہ میرے ساتھ پیش آتی ہے اور جس حد تک میں اسے جانتا ہوں، اسے دیکھتے ہوئے کہہ سکتا ہوں، یہ سب ناممکن ہے۔ لیکن یہ ناممکن کیوں ہے؟ آدمی کے دو چہرے بھی تو ہو سکتے ہیں۔ آدمی دوسروں سے جھوٹ بھی تو بول سکتا ہے۔ اپنے آپ سے تو نہیں بول سکتا۔۔۔۔۔۔ میں نے ریسیور اپنے کان سے ہٹا لیا اور خادمہ کی طرف دیکھا۔ وہ اس وقت سٹول پر بیٹھی ہوئی تھی۔
میں نے خادمہ سے پوچھا۔ ۔۔۔میری! کیا تمہیں بھوک لگ رہی ہے؟
وہ لڑکی ہکا بکا رہ گئی۔ خوفزدہ ہو کر کہنے لگی۔نہیں حضور! مجھے بھوک نہیں لگ رہی۔
تم جھوٹ بول رہی ہو؟
جی نہیں، میں بھلا آپ سے کیوں جھوٹ بولتی۔ وہ مزید حیران ہو گئی۔
ممکن ہے مالکن نے تمہارا کھانا تالے میں رکھ دیا ہو؟
جی نہیں، جی نہیں، میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتی۔ انہوں نے کبھی ایسا نہیں کیا۔
میں نے ریسیور دوبارہ اپنے کان پر لگا لیا اور کہا، سچ بتاؤ میری، شاباش سچ سچ بتاؤ۔
میں نے آپ کو سچ سچ بتا دیا ہے۔ لڑکی نے التجائیہ انداز میں کہا، لیکن میں اس کے خیالات پڑھ رہا تھا۔میں سچ کیسے بتا دوں، مجھے مالکن سے ڈر لگتا ہے۔ اسے معلوم ہوا تو وہ مجھے کچا چبا جائے گی۔ مار مار کر میرا قیمہ کر دے گی، میرے بدن پر نیل ڈال دے گی۔
میں نے ریسیور ایک بار پھر کان پر سے ہٹا لیا اور سوچ میں پڑ گیا۔ لڑکی جو کچھ سوچ رہی تھی، بلاشک و شبہ بالکل درست تھا۔ میں نے اسے کچھ پیسے دیے اور کہا، بیکری سے بسکٹ، پیسٹری وغیرہ خرید لینا۔ اور کہا، دیکھو یہ بات ہر گز مالکن کو نہ بتانا کہ میں نے پیسے دیے تھے۔ میری نے ڈر کے مارے مجھ سے پیسے لےلیے اور وہ رونے کو ہو گئی۔ میں نے حوصلہ دلانے کے لئے اس کا سر تھپتھپایا۔۔۔۔۔ مجھے اس کے خیالات پڑھ کر جتنا صدمہ ہوا، اس کا اندازہ تم خود کر سکتے ہو،

حالانکہ وہ دن میرے لئے انتہائی یادگار ہونا چاہیے تھا، کیوں کہ میں نے ایک انوکھی ایجاد وضع کر لی تھی اور کامیابی کے ساتھ دوسروں کے خیالات پڑھنے کا آلہ ایجاد کر لیا تھا۔ برس ہا برس کی محنت شاقہ کے بعد بالآخر مجھے کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ اس وقت مجھے بے انتہا خوش ہونا چاہیے تھا، لیکن یقین جانو صدمے سے میرا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تھا صدمہ یہ بھی تھا کہ خادمہ کے ساتھ گھر میں بدسلوکی کی جاتی ہے۔ صدمہ یہ بھی تھا کہ جس بیوی پر 14 برس سے اعتماد کرتا چلا آ رہا تھا، وہ بےوفا نکلی۔ صدمہ یہ بھی تھا کہ جس ایجاد پر میں فخر کر رہا تھا وہ انسانی معاشرے کے لئے بجائے مفید ہونے کے ، خطرناک ثابت ہوگی، لیکن سب سے زیادہ جو بات میرے دل کو چیرے ڈال رہی تھی، وہ بیوی کی منافقت تھی۔ وہ خدا جانے کب سے مجھے دھوکا دے رہی تھی، اور اتنی کامیابی کے ساتھ کہ مجھے اس پر ذرا بھی شبہ نہ ہوا۔

میرے دکھی مہمان نے ایک لمبی گہری آہ بھری۔ ایسا معلوم ہوتا تھا وہ بھول گیا ہے کہ اس کے ساتھ کمرے میں کوئی اور بھی ہے۔ اچانک اس نے اپنا چہرہ اوپر اٹھایا۔ میری طرف غور سے دیکھا اور کہا۔۔۔۔تم اندازہ کر سکتے ہو کہ اس صورت میں بیوی کا آمنا سامنا ہونے سے مجھے کتنی وحشت ہو رہی تھی۔ میرا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ 14 سال سے میں ایک مصنوعی عورت سے ملتا چلا آ رہا تھا، اور اب اصلی عورت سے ملوں گا۔ جب میں اسے دیکھوں گا تو کیوں کر دیکھوں گا۔ کیا مجھے اس سے نفرت نہ ہو جائے گی۔ کیا غصے میں آ کر اس کا سر نہ توڑ دوں گا۔ اس کی کھوپڑی نہ کھول دوں گا۔ ہماری زندگیاں تباہ نہ ہو جائیں گی۔ طلاق علیحدگی تو معمولی سی بات ہے، میں اسے کہیں ہلاک نہ کر دوں۔ ان کھولتے ہوئے خیالوں کے ساتھ ساتھ میں یہ بھی سوچ رہا تھ اکہ کیا مجھے دوسروں کے خیالات پڑھنے کا حق ہے؟ جب کسی کا خط کھولنا بھی جرم ہے، تو کسی کی روح میں تانک جھانک کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔۔۔۔۔۔ میں بےقراری سے اپنے گھر کی ارد گرد کی گلیوں میں یونہی گھومنے لگا، بالآخر میں نے ہمت کی اور اپنے گھر میں داخل ہوا مجھے یوں محسوس ہوا جیسے بیوی میرے دوست کے ساتھ کمرے میں ہو گی۔ جو ہو سو ہو، میں نے بند کمرے کا دروازہ کھول دیا۔ وہ صوفے پر لیٹی ہوئی کتاب پڑھ رہی تھی۔ کمرے میں کوئی اور نہ تھا۔ اشتعال کی چڑھی آندھی اچانک تھم گئی۔ میں نے آہستگی سے پوچھا۔۔۔۔کوئی خبر؟
کوئی خاص نہیں۔ بیوی نے کتاب پر سے نظریں ہٹائے بغیر جواب دیا۔
کیا کہا؟۔۔۔۔
کوئی خاص نہیں۔ اس دفعہ بھی اس نے آنکھیں اٹھا کر نہ دیکھا۔
میں بالکل نپٹ بہرا ہو چکا ہوں۔ میں نے آہ بھری۔
یہ دیکھو، جس مشین کا آرڈر دیا تھا، وہ آ گئی ہے۔
میں نے جیب سے یہ آلہ سماعت نکال کر اسے دکھایا اور دوبارہ جیب میں رکھ لیا اور اس کی ڈوری سے بندھا ایئر فون کان میں رکھ لیا۔ یقین جانو اس وقت میری انگلیاں لرز رہی تھیں۔ اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور بڑبڑائی۔۔۔۔۔۔بس اس کی اور ضرورت رہ گئی تھی۔
لیکن میں اپنے آلہ سماعت سے اس کے خیالات پڑھ رہا تھا۔ وہ سوچ رہی تھی۔۔۔۔۔اب تم بالکل ہی پنشن یافتہ بوڑھے منشی نظر آؤ گے۔
میں نے مصالحانہ لہجے میں کہا۔۔۔۔یہ اتنا برا تو نہیں ہے۔
ایئر فون پر اس کے نئے خیال کی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔اگلی چیز جو تم لاؤ گے، وہ بیساکھیاں ہوں گی۔
حالانکہ بظاہر اس نے صرف کندھے جھٹکائے تھے۔
میں قریب ہی پڑے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا اور ایک کتاب اٹھالی۔ میری بیوی کتاب پڑھ رہی تھی۔ ایئر فون میں مطالعے کے اثر سے پیدا ہونے والے خیالات بھی آ رہے تھے اور اس کے اپنے ذہن میں ابھرنے والے خیالات بھی سنائی دے رہے تھے۔ وہ سوچ رہی تھی یعنی جیسا کہ مجھے اپنے ریسیور میں سنائی دیا۔۔۔۔کیا پیسے ابھی مانگ لوں؟ نہیں، اس وقت مناسب نہیں۔ ڈنر کے بعد اس کا موڈ ٹھیک ہو جائے گا۔ اس کے بعد پھر کتاب کا جملہ اس کے ذہن پر طاری ہو گیا۔ وہ دھندلایا تو اس کا اپنا خیال سنائی دیا، ۔۔۔
چونکہ ہر وقت اپنی ایجاد میں منہمک رہتا ہے، اس لئے چڑچڑا اور تنہائی پسند ہو گیا ہے۔ یہ بات میرے حق میں اچھی ہے۔ اس سے ملنے جلنے میں آسانی رہتی ہے۔ میرے دباؤ میں رہتا ہے جب چاہتی ہوں پیسے مانگ لیتی ہوں۔
کیا واقعی بہرے ہو گئے ہو؟۔۔۔ میری بیوی نے مجھ سے پوچھا۔
ہاں، چند دنوں سے تو بالکل سنائی نہیں دیتا۔
یعنی جب سے یہ مشین لگی ہے، بجائے فائدے کے، الٹا نقصان ہوا ہے۔ اس پر تم نے اچھی خاصی رقم خرچ کی ہے۔ اس نے کہا ۔ ۔
لیکن اس کے ذہن میں یہ خیال گونج رہا تھا۔مشین لگنے سے تو اور بھی زیادہ بوڑھا نظر آنے لگا ہے۔میں نے اپنے پراسرار مہمان کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ لیکن آپ تو ٹھیک ٹھاک لگ رہے ہیں، بوڑھے تو نظر نہیں آتے۔
اجنبی مسکرایا۔۔۔۔۔لیکن جوان عورت کی نظریں اور ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ اتفاق سے میں اس کے ہمراہ ایک کلب چلا گیا۔ اس کا اصرار تھا میں یہ واہیات مشین کان پر نہ لگاؤں، لیکن میں اپنی مار پر تھا، میں نے ایئر فون لگائے رکھا۔ کلب میں اسے شرم آ رہی تھی۔ اپنے ایسے عجیب بہرے شوہر کا تعارف کراتے ہوئے بھی تذلیل محسوس ہوتی تھی۔ اس کا یہ خیال میں نے پڑھ لیا۔۔۔۔۔یہ بڈھا تو میری جان کو آ گیا ہے۔ آئندہ اس کو اپنے ساتھ نہیں لاؤں گی۔

ہاں یاد آیا۔۔۔۔ میں نے بیوی سے کہا۔۔میری ، چند دنوں سے بہت کمزور نظر آ رہی ہے، کچھ کھاتی پیتی بھی ہے کہ نہیں؟
بیوی نے میری طرف کھا جانے والی نظروں سے دیکھا اور بےاعتنائی سے جواب دیا۔گویا یہ بھی میرے ازدواجی فرائض میں شامل ہے کہ دیکھتی رہوں ، ملازم کیا کھاتے ہیں اور کتنا کھاتے ہیں۔۔۔۔ اس نے زبان سے تو یہ کہا، لیکن دماغ میں یہ سوچا۔۔۔پروفیسر صاحب کی معمولی تنخواہ میں اس کے نوکروں کوزردہ پلاؤ کھلایا کروں۔

گویا آپ پروفیسر ہیں۔ میں نے استفساریہ انداز میں کہا۔ پروفیسر نے ہاں میں سر ہلایا۔
میں نے خفگی سے کہا۔پروفیسر، آپ نے غلط بیوی کا انتخاب کیا ہے، یعنی غلط عورت کا بطور بیوی۔
بیوی کی حیثیت سے وہ اتنی بری نہیں۔ وہ اچھی بیوی ہے۔ گھر صاف ستھرا رکھتی ہے۔ کھانا اچھا پکاتی ہے۔ اچھی شعار، سگھڑ خاتون ہے۔ میرے کپڑوں، بٹن وغیرہ کا خیال رکھتی ہے۔ مجھ سے کبھی لڑتی جھگڑتی نہیں۔ غصہ نہیں کرتی۔ دیر سویر ہو جائے تو ناک بھوں نہیں چڑھاتی۔ اب تک وفادار بھی رہی ہے۔ مجھے ایک دو مرتبہ محسوس ہوا تھا کہ میری محبت میں مبتلا ہو گئی ہے، لیکن اس کو میں نے زیادہ شدت سے اس لئے محسوس نہیں کیا کہ یہ روح کا معاملہ ہے۔ محبت روح کو گداز اور قلب کو نرم کرتی ہے۔ جسمانی طور پر وہ باوفا رہی ہے۔ ہمیشہ اس نے اپنے ذاتی وقار کا خیال رکھا ہے۔۔۔۔۔

لیکن جب سے یہ ریسیور استعمال کیا ہے، تصویر کا دوسرا رخ نظر آ رہا ہے۔ پہلے اس کا ظاہر جانتا تھا، اب باطن جان رہا ہوں۔ اس نے مجھ سے کبھی محبت نہیں کی۔ اس نے مجھے محض روپے کما کر لانے والا دیہاڑی دار ٹٹو سمجھا۔ اب محسوس ہوتا ہے میں نے اتنے عرصے تک کتنا زبردست دھوکہ کھایا تو سوچتا ہوں کہ کیا میں احمق تھا۔ یہ عورتیں بھی مردوں کو ایسی خوبصورتی سے بےوقوف بناتی ہیں کہ بےچاروں کو پتا ہی نہیں چلتا کہ یہ کب خلوص سے مسکراتی ہیں اور کب مکاری سے۔ اب چند دنوں سے تو یوں لگتا ہے جیسے اس بھری دنیا میں، میں بالکل تنہا ہوں۔ لیکن کبھی کبھی یہ سوچتا ہوں کہ اس میں سارا قصور اس کا نہیں، کچھ ذمہ داری مجھ پر بھی عائد ہوتی ہے۔ میرا خیال ہے، دنیا کے تمام شوہر بیویوں کے معاملے میں اندھے، گونگے اور بہرے ہوتے ہیں۔

ارے صاحب، آپ خوامخواہ اپنے ضمیر کو تنگ کر رہے ہیں اور بیوی کے عیوب پر پرداہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔۔ میں نے سنجیدگی سے کہا۔
تمام عورتیں ایک جیسی نہیں ہوتیں۔ آپ کی بیوی بالکل خالی ڈھول ہے۔ بےوفا اور بےفائدہ، اور جس چیز کو آپ ذاتی وقار کہہ رہے ہیں، وہ محض ایک فریب ہے۔
میں نہیں کہہ سکتا، وہ کیا ہے۔ میرے مہمان نے کہا۔اپنی طرف سے حقیقت پسند اور منصفانہ بننے کی پوری پوری کوشش کر رہا ہوں۔ اگر آپ اس مائیکرو ریسیور پر لوگوں کے اصل خیالات پڑھ لیں تو آپ حیران رہ جائیں کہ انسان کتنا عجیب جانور ہے۔ حالات بعد میں بدلتے ہیں، انسان پہلے بدل جاتا ہے۔ خیر کیا ہے اور شر کیا، اب یہ بات اخلاقی نظریوں اور فلسفوں کی نہیں رہی۔ یہ ریسیور کان پر لگائیے، سب معلوم ہو جائے گا۔ آپ کے اونچے اونچے آدرش دھڑام سے زمین پر گر پڑیں گے ۔ لوگ ہیں کچھ، نظر آتے ہیں کچھ۔ سائنس اب ان کے دلوں کا حال بھی معلوم کرنے لگی ہے۔ آپ ادیب لوگ بڑے بڑے عزائم، مقاصد اور نصب العین رکھتے ہیں۔ بڑی اچھی بات ہے۔ ادیب کے لئے ضروری ہے وہ خیر، نیکی، شرافت اور صداقت کا ساتھ دے، ان کے حق میں قلم اٹھائے رکھے، لیکن قلم اٹھانے سے پہلے اسے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اصل میں یہ کیا چیزیں ہوتی ہیں۔

آپ کے کچھ دوست بھی ہیں کہ نہیں؟۔۔۔ میں نے اس کی بات یوں اچانک کاٹ دی کہ مجھے خود بھی حیرت ہوئی۔
لیکن وہ ذرا بھی حیران نہ ہوا، بولا۔مجھے معلوم تھا، آپ یہ ضرور پوچھیں گے۔ ہاں، میرے بہت دوست ہیں۔ ایک تو بچپن سے میرا جگری دوست چلا آ رہا ہے۔ ہم روزانہ ملتے تھے۔ اکٹھے ٹہلتے تھے۔ کھاتے پیتے تھے۔ وہ میرا رازدار تھا، بےتکلف دوست تھا، لیکن اس کم بخت ریسیور نے میرا سکون ہی نہیں، میرے عزیز دوست بھی چھین لئے۔ جونہی یہ ریسیور کان پر لگایا، معلوم ہوا وہ میرے لئے نہ تو مخلص تھا نہ بےتکلف، نہ رازدار، بلکہ سخت خود غرض اور مکار آدمی تھا میرے اس دوست کو میری اس ایجاد کا علم تھا کہمیں بنا رہا ہوں۔ جب یہ تیار ہو گئی اور میں نے اسے بتایا کہ میں نے ایجاد کامیابی سے مکمل کر لی ہے تو وہ پرجوش طریقے سے بولا۔۔۔۔مبارکباد، زندہ باد۔لیکن اس کے ذہن میں یہ خیال مچل رہا تھا جو میں نے ریسیور سے سنا۔۔۔
بےوقوف کہیں کا، سمجھتا ہے واقعی کوئی ایجاد کر ڈالی ہے۔ اپنا وقت ضائع کرنے کی بجائے کوئی ڈھنگ کا کام کرتا اور بیوی کے لئے روپیہ کماتا تو کتنا اچھا ہوتا۔
مجھے یقین ہے، بہت جلد مفید نتائج برآمد ہوں گے۔
خدا نے چاہا تو ضرور۔۔۔۔ میرے دوست نے کہا۔لیکن وہ سوچ رہا تھا، تم چند روز میں اسے اٹھا پھینکو گے، نرے گاؤدی ہو۔۔۔۔۔۔
میں نے اس کے اور بھی کئی خیال پڑھے اور مجھے جلد ہی معلوم ہو گیا کہ وہ میرے حق میں مخلص نہیں، بلکہ میری بیوی سے جو شخص چوری چھپے ملتا ہے، وہ یہی میرا جگری دوست ہے۔۔۔۔ ایک وہی نہیں، میں نے جس شخص کے بھی خیالات اس ریسیور سے سنے، معلوم ہوا کہ وہ دوغلا ہے، منافق ہے، بہروپیا ہے، دو چہرے والا ہے۔ سب لوگ جھوٹ بولتے ہیں، مکاری کرتے ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔ دوسروں کے جھوٹ اور مکاری پر منے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں، لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ وہ بھی روزانہ ایک ایک لمحے میں جھوٹ کا استعمال اس طرح ضروری طور پر کر رہے ہیں جیسے پانی اور ہوا۔ یہ بڑے بڑے معزز، شرفاء، یہ نامور اور مشہور لوگ، جن کے پیچھے ایک دنیا چلتی، یہ سائنس داں، ادیب دانشور، سیاسی لیڈر، یہ سب اتنے بڑے جھوٹ اتنی آسانی اور سادگی سے بولتے ہیں کہ کبھی کبھی تو مجھے انسان ہی سے نفرت ہونے لگتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے انسان کے لئے جھوٹ ایک مستقل طرزِ زیست بن چکا ہے، جیسے جھوٹ نہیں بولیں گے تو مر جائیں گے، ان کا دم گھٹ جائے گا۔

یہ تو قدیم، بنیادی اور ازلی صداقتیں ہیں جناب۔ ان کو جاننے کے لئے کسی آلہ سماعت کی ضرورت نہیں۔
ٹھیک کہتے ہو۔ میرے اجنبی مہمان نے کہا۔ لیکن ریسیور نے چہروں کے نقاب اتار پھینکے ہیں۔ جب یہ ایجاد مقبولِ عام ہو جائے گی اور ہر شخص اپنے کان پر ریسیور لگانے لگے گا تو کوئی دوسرے سے جھوٹ نہ بول سکے گا۔ اس کے ذریعے میں نے بڑے بڑے مشاہدات کیے ہیں۔ جھوٹ کے بعد انسانوں میں سب سے زیادہ استعمال میں آنے والی چیز حماقت ہے، یعنی جہالت۔ ایک تو لوگوں کو معلوم نہیں ہوتا، اوپر سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنی حماقت اور جہالت کو چھپا لینا دورِ جدید میں فنون لطیفہ میں شمار ہونے لگا ہے۔ یہ ایک ایسا پراسرار اور گہرا فنِ لطیف ہے کہ یہ جاننے کے لئے کہ فلاں شخص کتنا جاہل ہے، آپ کو اس کے ساتھ برس ہا برس رہنا پڑے گا۔
گویا آپ کی ایجاد نے آپ کو بڑا مایوس کیا۔ آپ تو بالکل قنوطی ہو گئے ہوں گے۔
نہیں، نہیں، ایسا ہر گز نہیں ہے۔۔۔میرے مہمان نے صدائے احتجاج بلند کیا۔
قنوطیت میرے قریب تک سے نہیں گزری، میں تو سائنس پر بات کر رہا ہوں، بالکل غیر جانبداری سے۔ مجھے تو یہ حقیقت معلوم ہو گئی ہے۔ انسان کا دل جو بدی میں شرابور ہے، سکڑتا ہے، سمٹتا ہے اور بالآخر تحلیل ہو جاتا ہے، لیکن بدی، انسانی دل کا قدرتی جزو نہیں ہے۔ دل کے قدرتی اجزائے ترکیبی میں سچائی، نیکی اور شرافت شامل ہیں۔ جب ہم اقدار پر مبنی ایک نیا معاشرہ بنا لیں گے تو بدی اور شر انسان کے دل سے پسینے، پیشاب، بلغم اور فاسد مادے کی طرح خود بخود خارج ہو جایا کریں گے۔ پھر انسان صحیح معنوں میں انسان ہو گا۔

کاش ایسا ہو سکے، اس سے زیادہ خوشی کی بات اور کیا ہو سکتی ہے۔ آپ کی ایجاد نے تو کمال کر دکھایا۔میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی خاطر کہا۔
وہ اداسی سے مسکرایا۔۔۔۔نہیں صاحب! آپ غلط سمجھے۔ میں نے اسے تباہ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور کوئی مجھے اس فیصلے پر عمل کرنے سے روک نہیں سکتا۔
آپ نے فیصلہ کر لیا ہے، یعنی آپ اسے تباہ کر دیں گے؟
جی ہاں! آج ہی رات اسے ریزہ ریزہ کر دیا جائے گا۔
یعنی آپ اس لئے تباہ کریں گے کہ یہ آپ کی نظر میں بجاے ایک مفید ایجاد کے، ایک خطرناک ہتھیار ہے۔
ہاں، آپ ٹھیک سمجھے، میں نے ایک خطرناک ہتھیار بنا لیا ہے۔
لیکن حقیقت کی تلاش میں ابھی یہ بہت کام آئے گا۔ جس آلے کے استعمال سے جھوٹ بےنقاب ہو جاتا ہو، منافقت سامنے آ جاتی ہو، وہ خطرناک کیسے ہو گیا؟ آپ نے اس پر بھی غور کیا؟

بہت غور کیا، بہت سوچا۔ میرے تھکے ماندے، بھوکے پیاسے مہمان نے کہا۔ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے، چند سال پہلے قدرت کا ایک بہت بڑا راز انسان نے دریافت کیا تھا، یعنی جوہری توانائی کا راز۔ اس دریافت نے انسان کو خوشحال بنایا، یا اس کے دکھوں میں اضافہ کیا؟ انسان نے ایٹم بم اس دریافت کے بعد ہی بنائے۔ کون جانے ، میری یہ ایجاد کس خبیث کے ہاتھ لگے اور وہ کس خباثت سے اس کا استعمال کرے۔ جو انسان جوہری توانائی سے ایٹم بم بنا سکتا ہے، وہ مائیکرو ریسیور کو شرپسندی اور دہشت گردی کےلئے استعمال کر سکتا ہے۔ ابھی تم نے کہا کہ یہ آلہ جھوٹ، منافقت اور جہالت کے خلاف ایک موثر ہتھیار ہے، لیکن استعمال کرنے والے اسے حقیقت، صداقت، سچائی، نیکی اور شرافت کے خلاف بھی تو استعمال کر سکتے ہیں۔

میں اس کی دلیل سے گڑبڑا گیا اور الجھن میں پڑ گیا کہ کیا کہوں، کیا نہ کہوں۔ میں نےجھلا کر کہا۔۔پھر آپ یہاں کیوں تشریف لائے ہیں؟ میرے مشورے کے لئے یا کسی اور مقصد سے؟
مشورے کے لئے تو ہر گز نہیں۔اس نے بیزاری سے سر ہلایا۔
مجھے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں۔ میں نے غور بھی کر لیا ہے اور اونچ نیچ اچھی طرح دیکھ لی ہے۔ ممکن ہے میرا تجزیہ غلط ہو، یہ بات دوسری ہے۔ جب جوہری توانائی والے سائنس دان اخلاق و ضمیر پر ثابت قدم نہ رہ سکے تو اور کون رہ سکتا ہے۔ معاملہ اب میرے ضمیر کا تھا۔ اپنا فیصلہ مجھے خود کرنا تھا اور میں کر چکا ہوں۔ چند دنوں سے ایک شیطانی وسوسہ میرے قلب و ضمیر میں گھسا ہوا تھا۔ شک کا وہ کانٹا نکال کر تمہارے پاس آیا ہوں۔
کیسا شک؟ میں نے پوچھا۔

میں سوچنے لگا تھا کیا میں پاگل تو نہیں ہوں، مخبوط الحواس تو نہیں ہوں، یہ محض کسی دیوانے کا خواب اور مجذوب کی بڑ تو نہیں ہے۔
یکایک مجھے محسوس ہوا کہ کمرے میں ایک چمکیلی لہر سی دوڑ گئی ہے، ایک ٹھنڈی بجلی سی۔ اجنبی کی آنکھوں سے یہ کیسی چمک نکلی تھی؟ کیا یہ شخص واقعی پاگل تو نہیں ہے۔ رات بہت گمبھیر اور تاریک تھی۔ میرے کمرے کی بڑی کھڑکی بند تھی اور چھوٹی کھلی ہوئی تھی۔ میں نے سوچا، یہ شخص نیچے چھلانگ نہ لگا دے۔ خوامخواہ پولیس مجھے دھر لے گی۔

میں آپ کی کیا مدد کر سکتا ہوں؟ مجھے اب اس شخص سے وحشت ہونے لگی تھی۔بہت چھوٹا سا کام ہے۔ آپ ریسیور اپنے کان سے لگائیں اور میرے خیالات پڑھ کر دیکھیں۔ آپ کے اور میرے سوا یہ بات کسی کو معلوم نہ ہو گی۔ اگر یہ آلہ صحیح حالت میں کام کر رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ بھی میرے خیالات پڑھ سکتے ہیں۔
اس تصور ہی سے میرا دل ڈوبنے لگا۔۔۔۔بہت اچھا۔ میں نے نیم مردہ آواز میں کہا۔
اس نے اوور کوٹ کی جیب سے مائیکرو ریسیور نکالا۔ ریسیور پر میری نگاہ بعد میں پڑی، اس کی لرزتی ہوئی انگلیوں پر پہلے پڑی۔
بس اتنی سی بات ہے۔ وہ بڑبڑا رہا تھا۔
میں نے ایک پرزے پر چند سطریں لکھ لی ہیں۔ یہ سطریں میں چپ چاپ اپنے ذہن میں پڑھوں گا۔ آپ ایئر فون پر سنیں گے اور بعد میں پرزہ پڑھیں گے۔ پتا چل جائے گا کہ یہ ایجاد ٹھیک کام کر رہی ہے یا نہیں۔
میں نے سر ہلایا۔۔۔۔بہت اچھا۔
یہ رہا ایئرفون۔
میں نے ایئر فون اپنے کان میں ٹھونس لیا۔ پہلے تو مجھے جیسے موسیقی کی آواز آئی۔ پھر جیسے کوئی واضح الفاظ میں مجھ سے کہہ رہا تھا۔۔۔۔
کیا میری آواز سنتے ہو، زور سے بولا۔ کیا میری آواز سنائی دے رہی ہے؟
ہاں، سنائی دے رہی ہے۔ میں نے جواب دیا۔
میرا مہمان خاموشی سے ایک طرف بیٹھا ہوا، اپنے ذہن میں اپنی لکھی سطریں پڑھ رہا تھا۔
وہ آواز آ رہی تھی۔تو پھر میں تمہارے پاس اس لئے آیا ہوں کہ میں تمہیں ایک ایماندار آدمی سمجھتا ہوں۔ اور اسی لئے تم پر اعتبار کرتا ہوں۔ تمہیں مجھ سے وعدہ کرنا چاہیے کہ ہماری اس ملاقات کے بارے میں تم کسی کو ایک حرف بھی نہ بتاؤ گے۔ آج 22 فروری 1967ء ہے۔ آج سے ٹھیک دس سال بعد 22 فروری 1977ء کو تم اس پابندی سے آزاد ہو گے، تب تمہیں حق ہو گا کہ اس ملاقات اور اس ایجاد کے بارے میں لوگوں سے جو کچھ چاہو، صاف صاف بتا دو، تب لوگوں کو معلوم ہو جانا چاہیے کہ میں نے ان کے لئے کتنی زبردست ایجاد کی تھی، اور ان کے حوالے کرنے کے بجائے کیوں غارت کردی۔ بس اتنا کافی ہے۔

میں کانپ رہا تھا۔اور ان دس برسوں میں آپ کہاں رہیں گے؟
ایئر فون ہٹا دو۔۔۔۔ آواز میں تحکم تھا۔ایئر فون فورا ًہٹا دو۔
میں نے حکم کی تعمیل کی اور پریشانی اور تذبذب سے اپنے مہمان کی طرف دیکھنے لگا۔ وہ کرسی پر بیٹھا ہوا تھا اس نے کاغذ کا پرزہ میرے حوالے کر دیا۔
تم نے جو کچھ سنا، کیا یہی ہے؟
حرف بہ حرف، ہو بہو۔ میں نے کہا۔
وہ خوشی سے اچھلا۔۔۔مدتوں کے بعد آج رات میں سکون کی نیند سو سکوں گا۔ میرے ضمیر پر کوئی بوجھ نہ ہوگا۔ چین سے سوؤں گا۔ لیکن سونے سے پہلے اپنی اس بیش قیمت ایجاد کو ریزہ ریزہ کر دوں گا۔

لیکن یہ آپ کے ذہن میں تو زندہ سلامت رہے گی نا۔ ذہن سے آپ اسے کیوں کر کھرچھیں گے۔ دس سال تک یہ آپ کے ساتھ رہے گی، آپ کے اندر رہے گی۔ اس کا آپ کیا کیجئے گا؟
شاید میں ان دس برسوں میں کسی وقت مر ہی جاؤں۔ کون جانے کیا ہو، وقت بتائے گا۔اس نے کہا۔
میں اپنے مہمان کے بدلے ہوئے روئیے کو دیکھ کر حیران رہ گیا۔ اب وہ خوش مزاج تھا اور زندہ دل بشاشت سے مسکرا رہا تھا، جیسے کوئی بہت بڑا بوجھ تھا جو اس کے سر سے اتر گیا تھا۔ اسے خوش دیکھ کر میں بھی خوش ہو گیا اور حیرت، تعجب، شک اور خوف کے تاثرات میرے وجود سے غائب ہو گئے۔
ہم انسان ہیں، بہر حال ہمیں تو اچھے مستقبل پر ایمان رکھنا چاہیے۔ میں نے اس سے اتفاق کیا۔ وہ کھڑا ہو گیا۔ گہرا لمبا سانس لیا۔
آپ جا رہے ہیں کیا؟میں نے پوچھا۔
آپ کے سونے کا وقت ہو رہا ہے۔ وہ مسکرایا۔
بشرطیکہ مجھے نیند آ سکی۔
کبھی کبھی اتنا جاگنا برا بھی نہیں ہوتا۔ میں نے مسلسل کتنی ہی راتیں جاگ کر گزاری ہیں۔ جاگنا تو اتنا خوفناک نہیں ہوتا جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔
بلکہ مفید ہی ہو جاتا ہے۔میں نے ٹکڑا لگایا۔
بےحد مفید۔
پھر میرا پراسرار، عجیب و غریب، اجنبی مہمان رخصت ہونے لگا۔ زینے کی آخری سیڑھی پر اس نے اپنا دبلا پتلا ہاتھ آگے بڑھایا اور مجھ سے الوداعی مصافحہ کرتے ہوئے بولا۔میں پہلا شخص تھا جس نے اس ایجاد پر دوسروں کے خیالات پڑھے تھے، اور تم آخری شخص تھے، اچھا خدا حافظ!
میں نے اوپر اپنے کمرے میں آ کر کھڑکی سے باہر جھانکا۔ وہ گلی پار کر رہا تھا۔ اندھیرے میں وہ سیدھے قد کے ساتھ، تیزی سے چلا جا رہا تھا۔

اس واقعے کو گزرے ٹھیک دس سال ہو چکے ہیں۔ میں نے اس رات کے مہمان کو پھر کبھی نہیں دیکھا۔ اس کے بارے میں کسی سے بات بھی نہیں کی۔ آج رات میں اس رات کا ذکر ایک کہانی کی شکل میں لکھ رہا تھا۔ آخری پیراگراف لکھ رہا تھا کہ یونہی اچانک، اتفاقیہ میری نظر کھڑکی سے باہر کچھ دیکھنے لگیں۔ ایک لمحے کے لئے ذہن میں خیال آیا کہ شاید سیاہ اوورکوٹ والا شخص یہاں سے گزرے۔ کیا زندگی میں کبھی کہیں اسے دیکھ سکوں گا؟ شاید وہ مر کھپ چکا ہے اور کسی قبر میں پڑا ہو گا۔ ہڈیاں گل سڑ گئی ہوں گی یا کسی ریلوے اسٹیشن کی بینچ پر بیٹھا ہوگا۔ جیب میں ریسیور ہو گا اور کان میں ایئر فون۔ لوگوں کے خیالات پڑھ رہا ہو گا۔ اچھے خیال، برے خیال۔ شاید وہ ابھی میرے دروازے پر دستک دینے والا ہو۔۔۔۔

دروازے کی گھنٹی بجی۔ میں نے دروازہ کھول دیا۔ وہ مسکراتا ہوا اندر داخل ہوا۔
گویا اب دوسری رات کا ذکر شروع ہوا۔۔۔۔۔۔!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”ایک رات کا ذکر ہے/ٹوڈور گریشیا ۔بلغاریہ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *