بیس سال بعد جب وہ دوبارہ پیدا ہو ئی ،توڈھٹائی سے پھر اسی جھیل کے کنارے آبیٹھی ،جو محبت کی لاش سالم نگلنے کے بعدمردہ جھیل کے نام سے پکاری جانے لگی تھی،لڑکی کی بیس سال پہلے والی تمام حیرتیں← مزید پڑھیے
ادب کے بارے میں کچھ لیکھا جوکھا آئینہ در آئینہ سے ماخوذ! سوال: ایک شاعرکی زندگی اور موت کی بند عمارت میں دروازے کی درزوں میں سے امکانیات کا سود وزیاں دیکھنے سے عبارت ہے۔ یہ کھلم کھلا آسمانی مشاہدہ← مزید پڑھیے
زندہ سچائی، زندہ واقعات اور زندہ لوگوں سے اس کہانی کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ مزے کی بات یہ کہ اس کہانی کا مردہ لوگوں سے بھی کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہم جاگتے ہوئے بھی نیند میں ہوتے ہیں۔ جیسے← مزید پڑھیے
انقلاب کامیاب ہوا۔ غریبوں اور محروموں نے استحصالی طبقے کو اٹھا کر گلیوں، سڑکوں اور چوراہوں پر پھینک دیا۔ ظلم و استبداد کا نظام یوں تو صدیوں سے قائم تھا لیکن انقلاب کی اصل وجہ رواں برس کے وہ پے← مزید پڑھیے
گاؤں والوں نے آج پھر ایک اور باسی کی لاش جنگل کو جانے والے راستے سے اٹھائی تھی اور رات کی سیاہ خاموشی میں اب وہ اسے دفنانے آئے تھے۔ ہاتھوں میں مشعلیں تھامے وہ اس لکڑی کے تختے کے← مزید پڑھیے
جگلوٹ: راے کو ٹ سے ۷۲ کلومیٹر کے بعد جگلوٹ آتا ہے۔ایک تنگ سی سڑک شاہراہ ریشم سے بِچھڑ کر دَریائے سندھ کے اُوپر (پُل)سے گُزر تی ہوئی اَستور کو جاتی ہے۔جگلوٹ سے اَستور ۵۵کلومیڑ پڑتا ہے۔شاہراہ ریشم سے اَستور← مزید پڑھیے
ابوالحسن نغمی بزرگ ادیب ہیں۔ سعادت حسن منٹو سے ان کی قربت رہی۔ ریڈیو پاکستان کے ملازم رہے۔ پھر واشنگٹن آگئے۔ کچھ عرصہ وائس آف امریکا میں کام کیا۔ کئی کتابیں لکھیں جن میں داستان جاری ہے، یہ لاہور ہے← مزید پڑھیے
سوچنا! شایدسب سے مشکل کام ہے ،یہی وجہ ہے کہ کم ہیی اسکی طرف راغب ہوتے ہیں۔۔۔ میں نے بھی آج سے سوچنا شرو ع کر دیا ہے ، اب چاہے آپ ہوں یا کوئی دوسرا، میرے سوچنے پراب کوئی← مزید پڑھیے
صبح سویرے لٹن میاں کی آنکھ کھل گئی۔ جاگنے سے عین پہلے وہ کلو کمہارن کی پنڈلیوں کا دیدار فرما رہے تھے۔ جس ماحول میں لٹن میاں نے پرورش پائی وہاں ان کے اور ٹیلی وژن، وی سی آر وغیرہ← مزید پڑھیے
رات کے بارہ بجے تھے ‘ قبرستان کے اندر قدم رکھتے ہی شاہ صاحب نے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھاپھر آہستہ سے سب کو سمجھایا’’موبائل آف کرلو ‘‘۔ ہم سب نے جلدی سے موبائل نکال کر آف کردیے۔تھوڑی ہی← مزید پڑھیے
واشنگٹن ڈی سی (امریکا) میں اردو پر کام کی شروعات (ایک یاداشت) ڈاکٹر ٹامس گرےؔ سے میری پہلی ملاقات انڈیا میں ہوئی تھی۔ یہ کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی تشریف لائے تھے، جہاں میں بھی ہندوستانی شرکاء کے← مزید پڑھیے
اس نے پوچھا’’شاہ لطیف کون تھا؟‘‘ میں نے کہا ’’دنیا کا پہلا فیمینسٹ شاعر‘‘ اس نے پوچھا ’’کس طرح۔۔۔!؟‘‘ میں نے کہا ’’اس طرح کہ : وہ جانتا تھا کہ عورت کیا چاہتی ہے؟ اس سوال کا جواب ارسطوبھی نہ← مزید پڑھیے
وہ فون کان سے لگائے کسی پر پھنکاررہا تھا۔ میں تجھے تباہ کر دوں گا۔ تو جہاں بھی جائے گا میری پہنچ سے نہیں نکل سکتا ۔ تجھے پتہ نہیں ، میری رسائی کہاں تک ہے ، میرے ہاتھ کتنے لمبے ہیں؟← مزید پڑھیے
لاہور میں قیامت کی گرمی پڑ رہی تھی۔ یہ جولائی کے دوسر ے ہفتے کی بات ہے۔ دوپہر میں ریڈیو اسٹیشن سے نکل کر لوہاری درواز ے پہنچا تو مسلم مسجد کے مینار کے نیچے مجھے ساغر کی ایک جھلک← مزید پڑھیے
میری آنکھ عموماًاس کی تیز اور لگاتار دی جانے والی آوازوں سے کھل جاتی تھی۔ ’’کچرے والا بھئی۔۔کچرے والا۔‘‘ رات گئے تک لکھنے لکھانے کے کاموں میں مشغولیت اکثر و بیشتر دو ڈھائی بجا دیتی تھی۔ایسے میں صبح صبح کچی← مزید پڑھیے
بابُوسر گاؤں: بابُوسر گاؤں پاکستان کی طرف سے گلگت کاسرحد ی گاؤں ہے۔گاؤں کی حدود میں اُترتے ہی ایسے لگا جیسے ہم وادی نیلم کے کسی گاؤں میں داخل ہو رہے ہوں۔کچے پکے مکانات کچھ سُرخ جِستی چادروں سے بنے← مزید پڑھیے
میری نیلی جھیل۔۔ تمام عمر اکیلے میں تجھ سے باتیں کیں، تمام عمر تیرے رُوبرو خاموش رہے۔۔۔ میری زندگی کی حماقت ۔۔۔۔ تم میرے لئے شفیق الرحمان کے افسانے نیلی جھیل جیسے ہی ہو۔ جو صرف دور سے ہی بہت← مزید پڑھیے
پتا نہیں کیوں یہ طے کر لیا گیا ہے کہ جنسی ہراسمنٹ کا شکار صرف عورت ہی ہوتی ہے حالانکہ خواتین کے ہاتھوں اس سلوک کا شکار ہونے والے مردوں کی بھی کمی نہیں۔ خواتین تو ”Me Too ‘‘ کہہ← مزید پڑھیے
1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ ،خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی! دکھوں کا ابراہیم۔۔۔۔رفعت علوی/قسط 1 آج سوچتا ہوں کہ اس روز تم نے← مزید پڑھیے
اپنے اپنے ذوق کی بات ہے، مگر میانوالی اور سرگودھا کے لہجے میں گالیوں کی آن، بان اور شان ہی کچھ نرالی ہوتی ہے- میانوالی کے لہجے سے ہمیں روشناس کرانے والے ملک صاحب تھے- سات پشتوں سے آباء کا← مزید پڑھیے