دکھوں کا ابراہیم۔۔۔رفعت علوی/قسط 2

1970 میں لکھا جانے والا ایک پاگل افسانہ ،خود پرستی انا اور نادانیوں کی بھول بھلیوں میں الجھے  ایک پاگل لڑکے کی خود فریبیوں کی پاگل کہانی!
دکھوں کا ابراہیم۔۔۔۔رفعت علوی/قسط 1

آج سوچتا ہوں کہ اس روز تم نے مجھے ڈیبیٹ میں شکست نہیں دی تھی بلکہ مجھے پہلی ملاقات میں ہی زندگی بھر کی شکست دے دی تھی۔۔۔

تارا۔۔۔۔یادوں کے ستارے ہیں  کہ دل میں اترتے چلے آرہے ہیں، تم کہا  کرتیں تھیں کہ یادویں  تو جگنوؤں کی طرح ہوتی ہیں جو چمک چمک کر زیست کی بھول بھلیوں  میں اجالے بکھیرتی رہتی ہیں مگر یہ جگنو میرے لئے تو درد کی صلیب بن گئے ہیں۔
جانے اس سمے تم کہاں ہوگی اور نہ جانے کیا کررہی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔شاید کیپٹن فہیم کے ساتھ تم بھی سمندر کے گہرے پانیوں میں محو سفر ہو یا اونچے اونچے گھنیرے درختوں سے گھرے اپنے نیم روشن گھر کے کسی کمرے میں آتشدان کے سامنے آرام کرسی پر  دراز کسی سوچ میں گم ہو۔۔اور تمھارے چہرے پر تمھاری وہی سیاہ دراز زلفیں بکھری ہونگی جس میں مجھے پھول ٹانکنے کی تمنا تھی، کبھی تم بےخیالی میں زیر لب مسکراتی ہوگی اور کبھی اپنی پرنم پلکیں پونچھتی ہوگی شاید۔۔شاید۔۔۔۔

تمھاری سوچ بھی کیا ہوگی۔۔۔۔۔شاید تم اس شخص کے بارے میں کچھ سوچ رہی ہو جس کی تم اب امانت ہو یا شاید پھر اس پاگل پاگل سے لڑکے کے متعلق جس کو تم نے ٹوٹ کر چاہا مگر جو تم سے بھاگتا رہا، جس کی طرف تم سمندر کی لہروں کی طرح بڑھتی رہیں پر وہ تمھارے لئے کنارے پر بچھی ریت نہ بن سکا۔۔

آج میں تم کو بتاتا ہوں کہ وہ لڑکا تم سے اس لئے نہیں بھاگتا رہا کہ تم اس کے لئے قابل حصول نہ تھیں بلکہ وہ اس لئے گریزاں رہا کہ وہ تمھارے حسن، ذہانت اور مقبولیت کے سامنے احساس کم تری کا شکار تھا سو تم اس کے برتاؤ کو اس کی سنگدلی، خود پسندی، اور اس کا غرور سمجھتی رہیں ۔یہی وجہ ہے جب ایک بار میں مسز رخشی کے ساتھ تمھارے قریب سے گزر رہا تھا تو تم نےبظاہر صبیحہ کو مخاطب کر کے کہا تھا۔۔۔
“یہ لڑکے بھی عجیب پاگل ہوتے ہیں ان لڑکیوں کی طرف لپکتے ہیں جو ان کی دسترس سے باہر ہوں اور ان لڑکیوں سے بھاگتے ہیں جو خود ان کے چرنوں میں بکھرنے کو تیار بیٹھی ہوں”

اس گھڑی میرا دل چاہا کہ تم سے کہوں کہ “بی بی میں تو اس اونچے اور خشک بادل کی طرح ہوں جو نہ تو کسی صحرا پہ برس سکتا ہے اور نہ ہی کسی چٹان سے ٹکرا سکتا ہے” مگر میں تم سے یہ سب کچھ نہیں کہہ سکا کیونکہ تم نہ تو ریگستان تھیں اور نہ ہی پہاڑ، تم تو پھولوں سے لدی وہ نازک شاخ تھیں جو اپنے بوجھ سے خود جھکی جا رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر یوں ہوا ستارا بیگم کہ فائن آرٹس کی کلاس میں میرا برش ہر بار تمھارے ہی چہرے کے نقوش ابھارنے لگا، تم کو یاد تو ہوگا کہ ہر کلاس میں میرا پروجیکٹ نامکمل رہنے لگا تھا۔۔اورہر بار تم میری طرف یوں دیکھتیں جیسے تمھیں علم ہو کہ میرے ایزل پر بکھرے رنگوں سے کون سا چاند طلوع ہو رہا ہے میرے برش نے کس کے چہرے کی شفق کاغذ پر اتاری ہے۔اور ایک دن۔۔۔

جب میں کینوس پر تمھاری نقش و نگار ابھار کر آخری اسٹروک لگا رہا تھا، اسٹروک کیا لگا رہا  خون جگر بھر رہا کہ کلاس کا دروازہ کھول کر تمھارا پورا گروپ اندر گھس آیا۔۔
صبیحہ نوشی رخسار اور تم۔۔۔۔ہاں تم۔۔۔۔لاجونتی کی طرح اپنے آپ میں گم۔۔۔۔ ٹھہری ٹھہری  سی سمٹی سمٹی سی رکی رکی سی۔۔۔۔۔
کیا بنایا جا رہا ہے فلاسفر صاحب؟۔۔۔۔۔سب نے اندر گھستے ہی کورس کے انداز میں کہا اور میں نے بےساختہ تمھارے گیلے پوٹریٹ پر ہی سادہ کاغذ چڑھا دیا، تم دھیرے دھیرے میرے قریب آئیں اس قدر قریب کہ میں تمھیں ہاتھ بڑھا کر اپنے دل میں چھپا سکتا تھا، تم نے ایک بار میرے چہرے کی طرف دیکھا جہاں دھوپ چھاؤں کا ساعالم تھا پھر ایزل کی طرف متوجہ ہوگئیں، میرا دل بےتحاشہ دھڑکنے لگا شاید تمھاری سیاہ چمکدار آنکھیں سفید کاغذ کے پیچھے چھپی اپنی تصویر تک اترتی چلی گئی تھیں۔۔

تم کچھ دیر تک گہری گہری نظروں سے خالی ایزل کو دیکھتی رہیں پھر رک رک کر بڑے  گھمبیر لہجے میں بولیں۔۔
“کیا ہی اچھا ہو کہ اگر انسان کا دل بھی اس کورے کاغذ کی طرح سادہ اور صاف ہو”
اگرچے تمھارا یہ جملہ میری روح کی گہرائیوں میں اتر گیا تھا مگر میں نے تمھاری یہ بات بظاہر بےنیازی سے ان سنی کردی اور کاغذ کے چاروں طرف ایک سیاہ حاشیہ کھینچ کر کھوکھلی ہنسی کے ساتھ بولا
” تصویر تو ابھی بننا شروع ہوئی ہے دوستوں”
اور یہ سچ بھی تھا واقعی تقدیر نے ہماری زندگی کی تصویر تو ابھی بنانا شروع کی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستارا!۔۔۔۔آج جب کہ ماضی کی سرسبز اور شاداب وادی بہت پیچھے رہ گئی ہے اور حال کا بے برگ و گیا ریگستان یہاں سے وہاں تک پھیلا ہوا ہے تو مجھے کہہ لینے دو کہ ان دنوں میں ریت سے اپنی ذات کا بت تراش رہا تھا اس بت کو توڑنے کے لئے جس تیشے کی ضرورت تھی وہ نہ میرے پاس تھا اور نہ تم اس سے واقف تھیں، سو ہم پانی کے پاس ہوتے ہوئے بھی پیاسے رہے، سالوں ساتھ ساتھ چلتے رہے پھر اجنبیوں کی طرح جدا ہوگئے۔

اور وہ شاید میری زندگی کا بڑا انمول لمحہ تھا جب میں اور تم رشدی صاحب کے چیمبر میں اتفاقیہ طور پر  یکجا ہوگئے، رشدی صاحب کمرے میں موجود نہ تھے بہت سے لمحے چپ چاپ گزر گئے، میں بظاہر بےخیالی میں “داس کیپیٹل” کےاوراق پلٹ رہا تھا کہ تم نے اپنے لچکتے ڈولتے جسم کو سنبھالتے جھجکھتے   اپنی پرسکون جھیل سی گہری آنکھیں جھکا کر وہ انویٹیشن کارڈ میری طرف بڑھا دیا جو تم کئی دنوں سی اپنے قریبی دوستوں کو بانٹتی رہی تھیں۔۔
مجھے یوں لگا جیسے میرے اوپر چاروں طرف سے بہاروں کے خوش رنگ پھول برس پڑے ہوں۔۔۔میں نے دھڑکتے دل اور مچلتے جذبات کے ساتھ کارڈ کو ایک مقدس امانت کی طرح تھام کر تمھاری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔
اتوار کو میری برتھ ڈے ہے۔
برتھ ڈے۔۔۔۔تمھاری آواز میرے دل کی سیپ میں بارش کا پہلا قطرہ بن کر گری پر میں نے بڑ ے  اجنبی اور فارمل لہجے میں کہا
معاف فرمائیے گا مس ستارا۔۔۔۔۔اس اتوار کو میری کچھ خاص انگیجمنٹ ہیں۔۔۔میں ۔۔۔۔نہ آسکوں گا!

اب سوچتا ہوں کہ جانے اس وقت میرے لہجے میں وہ بیگانگی اور اجنبیت کہاں سے اور کیسے امنڈ آئی تھی۔
تم نے بہت شکایتی اور اداس نظروں سے میری طرف دیکھا اور اپنے چہرے پر ڈوبتے چاند کی زردیاں لئے چپ چاپ کمرے سے نکلی چلی گئیں!

جاری ہے!!

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *