انسانی خدا ـــ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ۔۔۔۔رشاد بخاری/قسط 2 قحط کے بعد انسانوں کے دوسرے سب سے بڑا دشمن وبائی امراض تھے ،جو کسی ایک علاقے میں پھیلتے تو انسانوں کی نسلوں کی نسلیں تباہ کردیتے۔ وہ گنجان آباد← مزید پڑھیے
اپنے ہی بیٹے پر ۔۔۔۔۔ خالی کمرے میں رسی سے بندھے ، بلوری آنکھوں والے اپنے ہی جوان بیٹے پر پستول تانے، نیم پاگل حالت میں کھڑا ، چھ فٹ کا مرد، ملک ریاض، قابل رحم لگ رہا تھا۔ وہ← مزید پڑھیے
انورکی اس نہاری ہاؤس میں اکثر آنے کی وجہ صرف یہ نہیں تھی کہ یہاں پورے شہر کے مقابلے میں سب سے زیادہ لذیذاور منفرد ذائقے والی نہاری ملتی تھی۔بلکہ یہاں آنے کی ایک وجہ اسکے کام کے حوالے← مزید پڑھیے
ایسا ہوتا ہے کہ آپ کے پاس کوئی ضرورت مند آیا اور آپ نے سوچے سمجھے بغیر اپنے دفاع کے لئے اندر کے خسیس اور کمینہ خصلت منشی کو پکارنا شروع کر دیا اور جب منشی اور مہمان رخصت ہوئے← مزید پڑھیے
کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط34 یورپ میں کچھ آوارگی کے دن! اس سے اگلے برس کا یورپ کا سفر صرف دو وجوہات سے تھا ایک تو یہ تھی کہ ہائیڈل برگ یونورسٹی سے (جس میں کسی زمانے← مزید پڑھیے
وہ کنوار ی تھی مگر حاملہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایسی حاملہ جسے آج دن تک کسی نا مِحرم نے آنکھ اُٹھا کر اور مِحرم نے اوڑھنی کے بغیر نہ دیکھا پھر بھی وہ کنواری تھی اور حاملہ۔ ۔ ۔← مزید پڑھیے
انسانی خدا ـــ مستقبل کی ایک مختصر تاریخ۔۔۔۔۔رشاد بخاری/قسط 1 کیا ہم نے قحط پر قابو پا لیا ہے؟۔۔۔۔ صرف چند صدیاں قبل دنیا میں قحط ایک بہت بڑی آفت تھی۔1694میں فرانس کے شہر بیواس میں ایک فرانسیسی افسر نے← مزید پڑھیے
تخیل خود جہاں اپنی حدِ پرواز طے کر لے جہاں لفظوں کا آہنگ خامشی کا ساز طے کر لے جہاں ملبوسِ عریانی پہن کر حرف سجتے ہوں جہاں پر حرف کی اوقات ہی کیا ظرف بکتے ہوں جہاں رسمِ زباں← مزید پڑھیے
مُجھے بس اس بات کا افسوس رہے گا کہ میں نے نیرنگ گیلری سے نکلتے ہوئے آگے بڑھ کر اُس کے لیے دروازہ کیوں کھولا؟ اور جب اُسے رُخصت کرنے لگا تو کیوں ایک بار پھر آگے بڑھ کر میں← مزید پڑھیے
بیگم میرے لئے جلدی سے کھانا ٹیبل پہ لگا دو،میں تھنکنگ روم سے فریش ہوکے دو منٹ میں آیا۔آج تو ایمان سے اتنے زوروں کی بھوک لگی ہوئی ہے کہ دم نکل رہا ہے۔ اتنا کہہ کر میں واش روم← مزید پڑھیے
مسلسل سفر کی اذیت سے تنگ آ کر سڑک کے کنارے واقع سرائے نما کمرے میں ہم دونوں رات رک گئے۔سرائے پر حقِ ملکیت جتانے والا ایک بوڑھا فقیر تھا جو مٹھی گرم ہوتے ہی کہیں چھو منتر ہو چکا← مزید پڑھیے
چلے تھے دیوسائی ۔۔۔جاوید خان/قسط25 بُرزَل ایک قاتل درہ: درّہ بُرزَل تقریباً 13500ُٖفُٹ بلند ہے۔سلسلہ ِ ہمالیہ کے اَہم دروں میں شمار ہوتاہے۔سال کے اَندازاً سات ماہ بھاری بَرف باری کی وجہ سے بند رہتا ہے۔1947سے قبل یہ سِری نگر،سکردو،گلگِت← مزید پڑھیے
پورے پانچ برس بعد لندن میں شدید برف باری ہو ئی جس کی وجہ سے موسم آئے دن خراب رہنے لگا تھا۔۔۔راستوں پر جمی ٹھوس برف کا شیشے کی مانند سخت ہوجانا میرے جیسے روزانہ نوکری پر جانے والوں کے← مزید پڑھیے
آج کل ایک بہت دلچسپ کتاب زیرمطالعہ ہے جو زمین پر زندگی کے بارے میں سوچنے کے کچھ نئے رخ سامنے لارہی ہے۔ اسرائیلی ماہر تاریخ و سماجیات یووال نوح ہراری کی کتاب ’ہومو ڈیوس کی کتاب (انسانی خدا ۔۔← مزید پڑھیے
“سادھ پکوڑے ویچ کے اپنے آپ وچّ جنت دیاں موجاں ماندا تے چور چوری کرکے اپنے بال بچے نال بلے لٹدا۔ تے انجھ سادھ اپنے حالَ وچ مست، چور اپنے مال وچ مست تے ویلا اپنی چال وچ مست سی…۔← مزید پڑھیے
گدھے ہمارے معاشرے کا انتہائی عام جزو ہیں۔ شنید ہے کہ گدھوں کے ایشیائی جد امجد بنی نوع انسان کی گدھا خوری سے مجبور ہوکر دیگر ممالک براستہ چین پاکستان آمد کا ارادہ کر بیٹھے۔ یہاں پہنچ کر گدھوں کے← مزید پڑھیے
یہ کہانی طائف کی ایک یخ بستہ رات سے شروع ہوتی ہے جب گل خان کو شدید سردی میں بھی گرمی چڑھی ہوئی تھی۔ کیونکہ گل خان خود کو ایک سچا مسلمان ماننے کی وجہ سے اسرائیل کے حالیہ دھمکی← مزید پڑھیے
جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔ ہم دونوں دوست میرے ریسٹورنٹ پہ بیٹھے گپیں لگا رہے تھے کہ ایک انڈین لڑکی نے کاونٹر کی بیل بجائی میں نے سیاہ فام ملازمہ کو اشارہ کیا تو وہ اسے سروو کرنے کیلیے چلی گئی ۔ مگر← مزید پڑھیے
اَستور ناشتہ: اَستوربازار پہنچ کر جس ہوٹل میں کھانا کھایا تھا اُسی میں ناشتہ کرنے کے لیے بیٹھے۔ہوٹل کا کُچھ عملہ اَبھی بیدار ہوا تھا۔دوستوں نے تگڑے ناشتے کاحکم نامہ جاری کیا۔انڈے بَہت سے پراٹھے اور چائے۔میری گرانی ابھی ختم← مزید پڑھیے
اس نئے مکان میں آئے ہمارا دوسرا دن تھا، ہم سے مراد میں اور میرے دو چھوٹے بچے۔کافی جستجو اور تلاش کے بعد ،میں اس مکان کو کھوج پائی تھی۔ شہرکے ہنگاموں سے دور ، ایک الگ تھلگ پرسکون علاقے← مزید پڑھیے