جلانتک ۔۔۔ قمر سبزواری/افسانہ

اپنے ہی بیٹے پر ۔۔۔۔۔  خالی  کمرے میں رسی سے بندھے ،  بلوری آنکھوں والے اپنے ہی جوان بیٹے پر پستول تانے، نیم پاگل حالت میں کھڑا ، چھ فٹ کا مرد، ملک ریاض، قابل رحم لگ رہا تھا۔ وہ کبھی سر کا نشانہ لیتا، کبھی سینے کا اور کبھی اپنے ہی بیٹے کے دل کا۔ اُس کے جسم پر کپکپی طاری تھی ، ٹانگیں بری طرح لرز رہی تھیں اور  ناک سے پانی بہہ رہا تھا۔ اُس نے اپنے کانپتے ہونٹوں کو بھینچا، آنسوؤں سے لبریز اپنی آنکھیں زور سے بند کیں اور پستول کی لبلبی پررکھی اپنی دونوں انگلیوں پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔

پچھلے کچھ دنوں سے ٹوانہ اب روز ہی اُسے ملنے لگا تھا، مکانوں کی پشت جڑی ہونے کے باوجود پہلے تو مہینے دس دن میں ایک آدھ بار ہی مڈ بھیڑ ہوتی تھی، مگر اب تو آتے جاتے،سڑک پر چڑھتے ہی، مسجد سے نکلتے ہی کوئی نہ کوئی ایسا اتفاق ہو جاتا کہ ٹوانہ یا مولوی سعود اُس سے مل جاتے۔

ملک اُس سرخ گیٹ والے کا کچھ کرنا پڑے گا ٹوانے نے جینز کی پینٹ کی  پاکٹوں سے ہاتھ نکال کر ملک کے شانے پر بازو رکھتے ہوئے بات شروع کی ۔۔۔۔ اور میں جانتا ہوں کہ تم ہی کچھ کر سکتے ہو،کبڈی کے پرانے کھلاڑی ہو ، لڑنا جانتے ہو اور مجھے پتہ ہے کہ دشمن کے حاوی ہونے سے پہلے اُس کا زور توڑنے کی اہمیت سے واقف ہو۔۔۔ بس میں۔۔۔۔ بلکہ میں ہی کیا پوری سکیم دیکھ رہی ہے کہ کب تم اُن لوگوں کو یہ  مکان خالی کرنے پر مجبور کرتے ہو، سالے حرام زادے چاروں  باپ بیٹے ایک سے بڑھ کر ایک اپنے آپ کو بدمعا ش اور بہت بڑے تیس مار خان سمجھتے ہیں۔ ٹوانہ ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا – تمھیں پتہ ہے اِن باپ بیٹوں کی نظر تمھارے ساتھ والے پلاٹ پر ہے انھوں نے اتھارٹی آفس کے اندر کچھ لوگوں سے ساز باز کر کے پلاٹ اپنے نام کرانے کی کوشش شروع کر دی ہے، ٹوانے کی بات ختم ہوتے ہی مولودی سعود نے سر پر رکھے رومال کو درست کرتے ہوئے ملک کو مطلع کیا۔ اچھا اچھا جبھی تو میں بھی کہوں کہ گھر کے سب لوگ پلاٹ میں چہل قدمی کے بہانے آکر دیر تک بنچوں پر کیوں بیٹھے رہتے ہیں، اِس کا مطلب ہے مستقبل کے منصوبے بن رہے ہیں، ملک نے جیسے خالی جگہ اپنے شکوک سے پُر کر دی۔۔۔۔۔ملک جی اگر پلاٹ انھیں مل گیا تو محلے کا جینا تو دوبھر ہوگا ہی ہوگا لیکن آپکی تو دیوار کے ساتھ دیوار جڑی ہو گی  آپکا کیا ہو گا۔مولوی سعود نے ایک اور پتہ پھینکا۔

ملک کے دو ہی کام تھے زیادہ وقت گھر پر گزارنا اور باہر نکلنا تو اپنی بند گلی اور سکیم میں اپنی فوقیت اور اہمیت کے بارے میں گلی محلے کے لوگوں کی باتوں کی ٹوہ وغیرہ لیتے رہنا۔

ملک جب  گھر پر ہوتا تو زیادہ وقت اپنی اٹھے ہوئے کولہوؤں اور پھولے ہوئے  سینے والی بیوی کو دیکھ دیکھ کر یا پکڑ کر خوش ہوتا رہتا ، اس کی بیوی ملک کی بے جا پابندیوں کی وجہ سے بس دو ہی حالتوں رہتی یا تو لیٹنے کے لئے تیار یا پھر ملک کے پاس آنے سے بالکل بے زار ، اکثر جب وہ تیار ہوتی تو ملک کی سائیکل کے کتے فیل ہو جاتے اور وہ گھر سے باہر نکل جاتا  لیکن جب وہ بے زار ہوتی تو ملک کو اُسے  زبردستی پکڑنے میں ایک عجیب سا مزاآتا، جیسے اُسے شکار کرتے ہوئے آیا کرتا تھا۔

گھر کے معاملات میں وہ ملک کی لمبی دلیلوں اور  بستر پر طاقتور بازوؤں کے سامنے اکثر بے بس ہو جاتی ، دل میں گالیاں دیتی اور اگلے روز پھر پہلے جیسی ہو جاتی۔

ملک اب اپنے گھر میں بیوی اور دونوں بیٹوں کے سامنے بھی سرخ گیٹ والے نئے لوگوں کے بارے میں فکر مندی کے انداز میں ذکر کرنے لگا تھا۔ اُس کا بڑا بیٹا اِن باتوں پر زیادہ کان نہ دھرتا اور اکثر ملک کو کہتا، ابا جی ایسا کچھ   لگتا تو نہیں، اُن انکل اور بھائی جان لوگوں کو میں نے ایک دو بار دیکھا ہے مجھ سے تو بڑے اچھے طریقے سے ملے ہیں۔۔۔

اُلو  کے پٹھے تجھے کتنی بار سمجھایا ہے اُن سے نہ ملا کر کبھی آمنا سامنا ہو بھی جائے تو کنی کترا جاتا ہے بندہ اور یہ جو تُو رات دیر تک گلی کی نکڑ پر لڑکوں کے ساتھ کھڑا رہتا ہے ناں ، کسی دن ٹانگیں توڑ دوں گا میں تمھاری۔ بیوی سرخ گیٹ والوں کے بارے میں ملک کا تفکر دیکھتی، باتیں سنتی اور  ساری عقل مندی اور مستقبل بینی کا اظہار ایک ہی جملے میں کر دیتی، ملک جی آپ خود ہی دیکھ لیں آپ بہتر ہی سمجھتے ہوں گے۔۔۔ اور چھوٹا بیٹا تو تھا ہی چھو ٹا اپنے کھیل کود میں مگن نہ اس سے کوئی بات کرتا نہ پوچھتا۔

ملک رات کو بستر پر دراز ہوتا تو اُس کے دماغ میں ٹوانے اور مولوی سعود کی باتیں گونجنے لگتیں۔ سکیم کی اِس بند گلی کا سارا ماحول خراب ہو جائے گا، سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے گا، گلی کے سب لوگ ملک صاحب ، ملک صاحب کہہ کر بلاتے ہیں اِن نئے بد بختوں کی وجہ سے ایک ٹکے کی عزت نہیں رہے گی اور ویسے بھی یہ اُس کمی کمین صدیقی کے ہم خیال لگتے ہیں جو مجھے ایک آنکھ نہیں بہاتا، سب سے پہلے آیا تھا اِس گلی میں میرے ساتھ ہی اور آج تک مجھے نیچا دِکھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ اگر صدیقی اور یہ نئے لوگ ایک ہو گئے تو میرا کیا بنے گا۔ اِن کی عورتیں کتنی آزاد اور بے باک ہیں پتہ ہی نہیں چلتا کہ کون کس کی بیوی اور کس کی بہن ہے سب ہی ایک دوسرے کے ساتھ کھلے عام گھومنے پھرنے نکلے ہوتے  ہیں۔ ان کے یہاں رہنے کا مطلب ہے ہم لوگ بھی اپنی عورتوں اور بچوں کی تابعداری سے ہاتھ دھو لیں، کچھ تو کرنا ہی پڑے گا اِن بے غیرتوں کا۔

جمعہ کی نماز کے بعد ٹوانہ اور مولوی سعود ملک کے ساتھ ہی چلتے چلتے اُس کے گھر کے کونے تک آئے ۔ یہ ہماری مسجد کا امام کچھ بدلتا نہیں جا رہا، اِس کے خطبوں میں وہ جوش وہ گرمی نہیں ہے بس نماز پڑھاتا ہے اور دو چار سیدھی سیدھی باتیں کر کے فارغ کر دیتا ہے، جمعہ کے خطبے میں ایک ولولہ ہونا چاہیے کچھ ایسا کہ لوگوں کو پورا ہفتہ یاد رہے۔ مولوی سعود کسمساتے ہوئے بولا۔۔۔بس ایک بار میں اپنی مسجد بنوا لوں تو پھر دیکھنا میں کیسا خطبہ دیتا ہوں۔۔

چھوڑیے ناں مولوی صاحب، ٹوانے نے سعود کی بات کاٹی  وہ جانے اور اُس کا کام، ہمیں کیا لینا دینا۔۔۔

ہاں تو ملک میں کہہ رہا تھا کہ وقت گزر تا جا رہا ہے اور تم کچھ بھی نہیں کر رہے ہو کہیں بہت دیر نہ ہو جائے۔۔۔یار ٹوانہ صاحب میرے بچے ابھی چھوٹے ہیں اورشریف لڑکے ہیں جبکہ اُس کے تینوں لڑکے جوان ہیں، میں سوچتا ہوں کہیں اُن میں سے کوئی میرے بچوں کو نقصان نہ پہنچا دےدیوار کے ساتھ خالی پلاٹ ہے اور وہ بھی درختوں سے ڈھکا ہوا رات کو دیوار پھلانگ کر گھر میں کچھ پھینک ہی جائیں تو میں تو گیا نا۔

اچھا یہ بات ہے، لو جی ملک جی پھر کیا یاد رکھو گے آپ بھی، اب کے مجھے گاؤں کا چکر لگانے دو، آپ کے لئے ایسا تحفہ لاؤں گا کہ یاد ہی رکھو گے، مولوی سعود نے مژدہ سنایا۔

عشاء کی نماز کے بعد ملک مسجد سے واپس  آتے ہوئے اپنے گھر میں داخل ہونے کی بجائے پلاٹ کی طرف چل پڑا، درختوں کے اندھیرے میں کچھ کھسر پھسر ہو رہی تھی ملک نے تھوڑا آگے ہو کر آنکھیں پھاڑ کر اندھیرے میں دیکھنے کی کوشش کی، اچانک ایک کتا زور سے بھونکا اور ملک کی طرف  شاید  لپکنے کی کوشش کی ، دو اھیڑ عمر میاں بیوی اور ایک نوجوان بینچ پر  بیٹھے باتوں میں مشغول تھے نوجوان نے لپک کر لمبے لمبے بالوں والے چھوٹے سے رَسکی ٹوائے کتے کا خوبصورت سا پٹہ پکڑ کر اُسے ڈانٹ دیا ۔۔۔۔نو، ٹونی، نو، نو ۔۔۔بیڈ بوائے ۔۔ملک اچھل کر واپس گلی میں ہو گیا، اُس کا دل دھک دھک کر رہا تھا، اُسے شرمندگی سی محسوس ہوئی جو چند ہی لمحوں میں شدید غصے میں تبدیل ہو گئی، وہ گالیاں بکتا ہوا اپنے گھر میں داخل ہو گیا۔

مولوی سعود اپنے علاقے سے ملک کے لئے کتوں کا ایک جوڑا لے کر آیا، بڑے بڑے منہ، طاقتور جبڑوں اور بے رحم آنکھوں والے لڑاکا کتے۔ کتوں کی زنجیریں ہاتھوں میں پکڑتے ہی جیسے ملک کی طاقت اور جنون کئی گنا بڑھ گیا۔ ایڑی کے زور پر کتوں کو کھینچ کر روکتے ہوئے ملک مولوی سعود سے بولا ، یہ کام کیا ناں آپ نے مولوی صاحب اب مزا آئے گا ، اب میں پلاٹ میں بیٹھا کروں گا رات گئے تک اور دیکھوں گا کون ادھر میٹنگیں کرتا ہے میری دیوار کے ساتھ۔

اب ملک صبح اٹھ کر کتوں کو نہلاتا، گلی میں بلکہ سڑک پر گھمانے لے کر جاتا اور پھر سہ پہر کو پلاٹ میں درختوں کے نیچے باندھ کر پاس ہی کرسی بچھا کر بیٹھ جاتا ، کبھی ان کے جسم پر کنگھے کر کے پسو نکالے جارہے ہیں تو کبھی ان کے کٹے ہوئے کانوں کوتھوڑا اور کٹوا کر انھیں مزید لڑاکا بنانے کا پروگرام بن رہا ہے، کبھی ان کے لئے پٹے آرہے ہیں تو کبھی گوشت۔ ملک ، ٹوانے اور مولوی سعود نے اپنے اپنے ذرائع سے کتوں کو لڑاکا اور خونخوار بنانے کے کچھ نادر اور آزمودہ طریقے بھی دریافت کر لئے، اب ملک کتوں کو ہر وقت باندھ کر رکھتا یا توگھر کے اندر سیڑھی کے نیچے یا پھر پلاٹ میں کونے والے درخت کے ساتھ اِس سے کتوں کے اندر ایک وحشت پیدا ہوتی ہے، کتوں کے ساتھ بہت سختی سے پیش آیا جاتا، اس سے کتوں میں کاٹنے کی خواہش تیز ہوتی ہے، کتوں کی خوراک دیر سے اور دور رکھ کر دی جاتی، اس سے زور اور بربریت پیدا ہوتی ہے، اکثر کتوں کی آنکھیں باندھ دی جاتیں اس سے کتا ہر ایک پر بھونکنا سیکھتا ہے۔

ملک کا زیادہ وقت اب کتوں کے ساتھ اور اُن کی ٹریننگ میں ہی گزرتا وہ سوتے جاگتے اپنے کتوں کو خونخوار تر ہوتا دیکھتا اور تصور ہی تصور میں اپنے کتوں سے سرخ گیٹ والوں کی کتیا اور ٹانگوں کو نوچواتا رہتا۔

ملک کے بیٹے کے امتحان سر پر تھے باپ کو تو اِس بار تیاری کرانے  کا کچھ ہوش نہ تھا اِس لئے لڑکا خود ہی کبھی اپنے ہم جماعتوں کو گھر پر بلا لیتا اور کبھی خود کسی دوست کے ہاں چلا جاتا اور رات دیر سے ہی لوٹتا۔ ایک رات ملک اپنے بیٹے کے دوستوں کے گھروں میں جب اُس کا پتہ کرنے گیا تو کتوں کو بھی ساتھ ہی لے گیا، سکیم سے ایک سڑک ہائی وے کے نیچے سے ہوتی ہوئی اُس پار کی آبادی تک جاتی تھی رات کے سناٹے میں دو طاقتور اور خونخوارکتوں کی زنجیریں پکڑ کر سڑک کے بیچوں بیچ چلتے ہوئے ملک کو عجیب سا لطف آ رہا تھا اکا دکا راہگیر انھیں دیکھ کر دور سے   سڑک کے دوسرے کنارے پر ہو جاتے اور ملک پہلے سے بھی زیادہ کھل کر چلنے لگتا، چھوٹے سے انڈر پاس میں داخل ہوتے ہی انھیں ایک کتا نظر آیا، ملک کے کتوں نے غراتے ہوئے زنجیروں کو کھینچنا شروع کر دیا، سامنے والا کتا شاید  بیمار یا زخمی تھا پل بھر میں ملک کے دونوں کتے ملک کو گھسیٹتے ہوئے اُس پر ٹوٹ پڑے جتنی دیر میں ملک زنجیروں کو کھینچ کر کتوں کو روکتا اتنی دیر میں وہ اُس مریل سے کتے کو لہو لہان کر چکے تھے، ملک کے کتوں کی خونخوار غراہٹ اور مریل کتے کے چیخنے چلانے کی گونج نے انڈر پاس میں اتنا ہیبت ناک تاثر پیدا کیا کہ ایک لمحے کے لئے ملک کانپ کر رہ گیا اُس نے کتوں کو گالیاں بکنی شروع کر دیں اور تیز تیز دوسری طرف نکل گیا۔

اگلے آٹھ دس دن ملک کتوں سے پہلے والی دلچسپی نہ رکھ سکا، کتے سیڑھی کے نیچے یا پلاٹ میں کونے والے درخت کے ساتھ ہی بندھے رہتے، سرخ گیٹ والوں کی بھی کوئی خیر خبر نہ تھی ایسے لگتا تھا جیسے پلاٹ تو دور اپنا مکان ہی چھوڑ کر چلے گئے ہوں ملک کتوں کے پاس جاتا بھی تو چمکار کے ، ایک دو گالیاں دے کر واپس اندر چلاآتا، بڑا بیٹا تو  رات بھر دوستوں کے ہاں امتحانات کی تیاری کرتا  اور صبح دیر سے اٹھتا ، چھوٹا ہی تھا جو کتوں کو کچھ کھانے پینے کو ڈال دیتا لیکن وہ بھی جیسے ملک کی طرح بے سدھ سے ہو تے جا رہے تھے، سوئے سوئے اور کھانے سے بیزار۔

ملک کی نظریں جمعہ کی نماز کے دوران اگلی پچھلی صفوں میں مولوی سعود اور ٹوانے کو ڈھونڈتی رہیں مسجد سے نکلتے ہوئے اُس نے ایک جاننے والے سے دونوں کے بارے میں استفسار کیا۔۔۔۔ارے کیا ملک  صاحب ؟  آپ کے تو قریبی دوست ہیں دونوں اور آپ کو ہی پتہ نہیں۔۔۔دونوں میں آج کل کچھ ان بن چل رہی ہے ، ادھر آگے گلی میں ، شاید آپ کے گھر کی طرف ہی کوئی پلاٹ ہے، سعود نے وہاں مسجد بنوانے کے لئے نصف قیمت پر پلاٹ خریدنے کی زبان بندی کی ہوئی تھی اور ٹوانے نے اُسی پلاٹ کو پوری قیمت پر خریدنے کے لئے بیانہ دے دیا ہے، کہتا ہے ایک طرف بڑی گلی ہے اور ایک طرف سڑک ، ایک طرف گھر بناؤں گا اور ایک طرف دکانیں۔  بس اسی بات پر دونوں میں ٹھن گئی ۔۔۔۔ملک پاؤں پٹخ کر زیر لب موٹی موٹی گالیاں دیتا ہوا گھر کی طرف چل پڑا۔ گھر کے دروازے پر پڑوس کی ایک عورت کھڑی ملک کی بیوی سے کچھ باتیں کر رہی تھی، ملک کو دیکھتے ہی وہ اپنے گھر کی طرف چل پڑی ،

کیا ہوا ، کیا کہہ رہی تھی یہ عورت   ، کیا پھر بچوں کی کوئی شکایت ہے یہ لوگ میرے بچوں کو ہنستا کھیلتا کیوں نہیں دیکھ سکتے۔۔۔

نہیں ایسی کوئی بات نہیں، سرخ گیٹ والوں کا بتا رہی تھی۔۔۔

ملک کے کان ایک دم کھڑے ہو گئے ، اُس کا دھیان فوراٌ اپنے کتوں کی طرف گیا۔

کہہ رہی تھی کہ اُن لوگوں کے بیٹے نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ہے، کافی دنوں سے گھر میں کچھ اختلافات چل رہے تھے، بہو اپنے ساس سسر کے ساتھ رہنے پر راضی نہ تھی اُن کے بیٹے نے پہلے تو اپنی بیوی کو سمجھایا بجھایا پھر یہ ہمارے ساتھ والا پلاٹ لینے کی کوشش بھی کی کہ چلو یہاں ہی ایک مکان بنا کر ماں باپ کے پاس ہی اپنا گھر بسا لے گا لیکن جب پلاٹ میں ہمارا اٹھنا بیٹھا اور کتے باندھنا دیکھا اور کسی نے اُسے بتایا کہ پلاٹ ہم نے لے لیا ہے تو بات بنتے بنتے بگڑ گئی اور آخرِ کار طلاق ہو گئی۔

ملک کے ذہن میں ٹوانے اور سعود کی باتیں اور مشورے گونجنے لگے، کڑی سے کڑی ملنے لگی، ملک دروازے کو لات مار کر بند کر کے اپنے کمرے میں چلا گیا ، دیکھ لوں گا اِس ٹوانے اور مولوی کو بھی، دیکھتا ہوں اِس پلاٹ میں کون آتا ہے۔ وہ بہت غصے میں تھا ۔ چھوٹا بیٹا اپنے کمرے میں ہی دبک گیا، بیوی ملک کو رام کرنے کے لئے، بچ بچا کے ، اُس کے سامنے مختلف زاویوں میں آنے جانے  لگی  لیکن بے سود ، شام تک ملک نے  کئی بار دونوں سے فون پر رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن دونوں کے فون مسلسل بند جا رہے تھے۔

رات کا پچھلا پہر تھا ، ملک کا بڑا بیٹا دوستوں کے ہاں سے پڑھائی سے فارغ ہو کر گھر آیا تو اُسے کال بیل بجانے کی ہمت نہ ہوئی ، ابا آج بہت غصے میں ہیں اگر اُن کی آنکھ کھل گئی تو خیر نہیں۔۔۔وہ کچھ دیر چھوٹے بھائی کے کمرے کی کھڑکی کو کنکر اُٹھا اُٹھا کر مارتا رہا اور آخر کار گیٹ پھلانگ کر گھر میں داخل ہو گیا۔ سیڑھیوں کے نیچے سے عجیب سی آوازیں آرہی تھیں ، کتے ایسے غرا رہے تھے جیسے کسی پر نہیں بلکہ خود پر ہی بگڑ رہے ہوں۔ ملک کا بڑا بیٹا کتوں کے پاس چلا گیا، اُس نے ایک کتے کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ، سرگوشی کی کیا ہوا آج ابا نے غصے میں تمھیں بھی نہیں پوچھا، اچانک کتا اُس پر جھپٹا اور اُس کے ہاتھ پر کاٹ لیا۔۔۔زخم معمولی تھا، لڑکا خوف اور درد سے اچھل کر پیچھے ہوا اور کتوں کو گالیا ں دیتا ہوا اپنے کمرے میں چلا گیا۔

آج سکولوں میں سالانہ امتحانات کے نتائج کا دِن تھا ، ملک کے بیٹوں کا بھی نتیجہ نکلنا تھا،  لیکن ملک کے گھر میں جیسے صف ماتم بچھی ہوئی تھی اڑوس پڑوس کا تانتا بندھا ہوا تھا ، ملک اپنی سب طاقت سب پیسا لگا چکا تھا  لیکن ڈاکٹر تین دِن پہلے اپنی مایوسی کا اظہار کر چکے تھے، ملک کے بڑے لڑکے کو باؤلا  کتا کاٹنے  سے جلانتک کا روگ لگ چکا تھا علاج کی کوششیں اپنی جگہ لیکن  اب بہت دیر ہو گئی تھی، مرض تمام اعصابی نظام کو مفلوج کر کے دماغ پر اثر انداز ہونا شروع ہو گیا تھا۔

اپنے ہی بیٹے پر ۔۔۔ تنہا کمرے میں ، رسی سے بندھے بلوری آنکھوں والے اپنے ہی جوان بیٹے پر پستول تانے، نیم پاگل حالت میں کھڑا ، چھ فٹ کا مرد، ملک ریاض، قابل رحم لگ رہا تھا۔ کبھی  وہ سر کا نشانہ لیتا، کبھی سینے کا اور کبھی اپنے ہی بیٹے کے دل کا۔ اُس کے جسم پر کپکپی طاری تھی ، ٹانگیں بری طرح لرز رہی تھیں اور منہ اور ناک سے پانی بہہ رہا تھا۔ اُس نے اپنے کانپتے ہونٹوں کو بھینچا، آنسوؤں سے لبریز اپنی آنکھیں زور سے بند کیں اور پستول کی لبلبی پررکھی اپنی دونوں انگلیوں پر دباؤ بڑھانا شروع کر دیا۔

Save

قمر سبزواری
قمر سبزواری
قمر سبزواری ۲۲ ستمبر ۱۹۷۲ عیسوی کو راولپنڈی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم کے بعد ملازت شروع کی جس کے ساتھ ثانوی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا۔ صحافت میں گریجوئیشن کرنے کے بعد کالم نگاری اور افسانوی ااادب میں طبع آزمائی شروع کی۔ کچھ برس مختلف اخبارات میں کالم نویسی کے بعد صحافت کو خیر باد کہ کر افسانہ نگاری کا باقائدہ آغاز کیا۔ وہ گزشتہ دس برس سے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں۔ اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “پھانے” کے نام سے شائع ہوا۔دو مزید مجموعے زیر ترتیب اور دو ناول زیر تصنیف ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *