جزاک اللہ۔۔۔ عمران حیدر

جزاک اللہ۔۔۔۔۔۔۔
ہم دونوں دوست میرے ریسٹورنٹ پہ بیٹھے گپیں لگا رہے تھے کہ ایک انڈین لڑکی نے کاونٹر کی بیل بجائی
میں نے سیاہ فام ملازمہ کو اشارہ کیا تو وہ اسے سروو کرنے کیلیے چلی گئی ۔ مگر فوراً ہی واپس آکر کہا کہ وہ مجھ سے بات کرنا چاہتی ہے
میں حیرت اور غصے کی ملی جلی کیفیت سے اٹھا اور پروفیشنل انداز میں اس سے پوچھا can I help you
وہ فوراً بولی
plz  my  friend    Iam  hungry  I  want  food but  I don’t have money
میں چند لمحوں کیلیے خاموش ہوگیا اور اسکی حالت پہ غور کرنے لگا شکل و صورت اچھی بھلی تھی عمر یہی کوئی 20، 25 سال ہوگی جنیز کی پینٹ اور گھسی پٹی ٹی شرٹ اسکی غربت کا پتا دے رہی تھی
وہ سمجھی شاید میں انکار کرنے کیلیے کوئی بہانہ سوچ رہا ہوں اور فوراً بولی
But   if  you  want  something  else I can  give you.
میں اسکی بات کا مطلب فوراً سمجھ گیا اور no   no   it’s   OK کہہ کر کچن سے ملازمہ کو آواز دی اور اسکے لیے کھانا سروو کرنے کا کہہ کر واپس اپنے دوست کے پاس جاکر بیٹھ گیا
اس نے متجسس انداز میں پوچھا کیا کہہ رہی تھی
میں نے جب اسے بتایا تو اسکا چہرہ غصے سے لال ہوگیا اور اسکے ساتھ ساتھ مجھے بھی گالیاں دینے لگا کہ تم نے اس فحاشہ کو مفت کھانا کیوں دیا ہے
میں نے اسے ٹھنڈا کرنے کیلیے کہا کہ ویسے بھی تو بعض اوقات اتنا کھانا خراب ہوجاتا ہے جسے ڈسٹ بِن میں پھینک دیتا ہوں کیا ہوا جو وہ بھی کھا لے گی اگر وہ فحاشہ ہے دو نمبر ہے تو مجھے کیا۔۔
یار تم نہی جانتے۔۔۔ اس نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے خاموش کرواتے ہوئے کہا۔ یہ انڈین ہے ہمارے پاس ہی ایک بلڈنگ میں رہتی ہے
ایک دن یہ ایسے ہی روتی پھر رہی تھی میں نے ترس کھا کر اسے kfc کھلائی اور اپنے روم میں لے گیا کہ اسکی کچھ” مالی مدد” بھی کردونگا
صبح ہوئی تو میں نے نہا دھو کر اسے کچھ پیسے دیے تو پیسے پکڑتے ہوئے کہتی ہے “جزاک اللہ”
کسے کتے دی پُتر ، گشتی نوں ایناں وی نئی پتا کہ کم کہڑا کرکے ہٹے آں، تے پیسے کہڑی گل دے لین ڈئی اے
اے بس ناں دے ای مسلمان نیں ۔ ناں پاکی دا پتا اے ناں پلیتی دا۔۔ جس مرضی حالت میں اللہ کا نام لے لیتے ہیں ۔۔۔ وہ مسلسل بولے جارہا تھا

کچھ دیر بعد اس لڑکی نے کھانا ختم کرلیا اور باہر لگے سِنک سے پلیٹس دھو کر کاونٹر پہ رکھ دیں۔
میں پلیٹس پکڑنے کیلیے اٹھا تو اس نے مسکرا کر” جزاک اللہ ” کہا اور تیز تیز قدم اٹھاتی باہر چلی گئی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *