شاعروں سے معذرت کیساتھ۔۔۔ عارف خٹک

ایک دن پشتو چینل کے ایک دوست پروڈیوسر کا فون آیا کہ لالہ ہمارے چینل نے جنوبی اضلاع کے شعراء اور فوک گلوکاروں کیساتھ ایک نشست کا پلان بنایا ہے۔ جس میں مقامی شعر و شاعری اور لوک گیتوں کو ریکارڈ کرکے دیکھایا جائیگا۔ سو کرک میں آپ فلاں تاریخ کو میرے کسی حجرے میں ریکارڈنگ کا انتظام کرلیں۔ مقامی شعراء اور گلوکاروں کو بلا لیں تاکہ میں ریکارڈنگ کرسکوں۔

میں نے انتظام کرکے دے دیا اور موصوف اپنے سازوسامان اور لاو لشکر سمیت مطلوبہ حجرے میں پہنچ گئے۔ میرا بڑا شکریہ ادا کیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ رات کے تیسرے پہر وہ مجھے فون کررہا ہے۔ میں بھی پریشان کہ کسی نے ترنگ میں آکر گولیاں تو نہیں چلا دیں۔ ڈرتے ڈرتے فون اٹھایا۔ رندھی ہوئی آواز میں کہنے لگا کہ لالہ پچھلے پانچ گھنٹوں سے ریکارڈنگ کررہا ہوں۔ مگر سب شعراء اور گلوکاروں کے گیتوں میں خوبصورت لڑکوں کا ذکر تواتر سے ہورہا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ لڑکیوں کا شاعری میں ذکر کرنا ممنوع ہے۔ اب اس مردانہ پروگرام کو میں کیسے ٹیلی کاسٹ کروں۔ پاکستان میں ہوں امریکہ میں تھوڑی ہوں کہ ہم جنس پرستی کی پروموشن کیلئے ایوارڈ حقدار مانا جاوں۔

اب دوست کو کیا بتاتا کہ شعر و شاعری سے اپنا کوئی شغف نہیں ہے۔ جس سے اپنا شغف ہے وہ شعر و شاعری میں نہیں ہے۔

آٹھویں میں تھا۔ جب ہر رات سوتے ہوئے فقط یہ سوچ کر سو جاتا کہ اگلی صبح بڑے بھائی سے پہلے اٹھونگا اور زیادہ پراٹھے کھاونگا۔ کیونکہ بڑےابھائی بزور بازو میرا حصہ بھی کھا جاتا تھا۔

ان وقتوں میں اردو کے استاد نے ہماری شعر و شاعری سے کھلم کھلا جنگ کروانے کی قسم کھائی تھی۔ اس عمر میں بچے کو سکھایا جاتا ہے کہ بڑوں کا احترام کرو۔ چھوٹوں پر شفقت کرو مگر وہ بضد تھا کہ وہ ہم سے بڑے بڑوں کا احتروام کروائے گا اور چھوٹوں چھوٹوں سے منہ موڑنے پر مجبور کریگا۔ ہمیں اردو شاعری کے تشریحات پر لگا دیا۔ اب ہمیں کیا پتہ کہ مرزا غالب نے کس وقت اور کون سی حالت وجد میں شعر لکھا۔ ہم بالغ بھی نہیں ہوئے تھے کہ تشریحات میں اپنی ہوس کو اردو دانی کے لبادے میں لپیٹ کر اپنے اور دوسروں کے علم میں اضافہ کرتے۔ ایک طرح سے استاد نے قسم کھائی تھی کہ ہمارے کردار کا جنازہ وہ سرعام نکالے گا۔ اور ہوا بھی یہی۔

ایک دن ہوم ورک میں مرزا غالب کا شعر دیا کہ گھر جاکر اس کی تشریح لکھ کر لانا۔ کل پوچھوں گا۔ شعر تھا “دل نادان تجھے ہوا کیا ہے، آخر اس درد کی دوا کیا ہے”۔ امی ہماری پڑھی لکھی تھیں ۔ ان کے ہاتھ میں کھبی کبھار اردو کا ڈائجسٹ نظر آجاتا تھا۔ چنانچہ ہم امی  کے پاس گئے کہ اس شعر کی تشریح کیا ہے؟۔ امی نے شعر پڑھا کہ اس شعر میں شاعر کہتا ہے۔ کہ دل نادان تجھے ہوا کیا ہے، آخر اس درد کی دوا کیا ہے۔ یہی شعر اور شاعر دونوں کا مشترکہ مطلب ہے۔ ڈنڈے کا ڈر نہیں ہوتا تو قسم اللہ پاک کی میں مرزا غالب کو تا قیامت اسی درد میں تڑپتے چھوڑ دیتا۔ چاروناچار اپنے بڑے کزن لالہ شیر علی کے پاس چلا گیا۔ جس کے بارے میں ابا نے کھلم کھلا وارننگ دی تھی کہ اگر میں نے تم کو کبھی شیر علی کے آس پاس بھی دیکھا تو ٹانگیں توڑ کر ہاتھ میں دے دونگا۔ وجہ بدنامی اس کا علم تھا۔ لالہ شام کو حجرے میں بڑے بوڑھوں کو منٹو کا افسانہ “ٹھنڈا گوشت” پشتو میں با آواز بلند سناتا اور حجرے کے باہر عصمت چغتائی کا  “لحاف ” بچوں کو نیچی آواز میں سناتا۔ کئی بار اس کے ابو اس کی جان کو آجاتے بالآخر اپنی گلوخلاصی وہ زاہد ملک کی گندی کہانیاں پشتو میں سنا کر ممکن بنادیتا۔

میں لالہ کے پاس گیا کہ اس شعر کی تشریح کرکے بتادو۔ لالہ نے ادھر ادھر دیکھا اور اپنا منہ میرے کان کے قریب لایا اور سرگوشی کی کہ مرزا غالب ایک نمبر کا ٹھرکی شاعر تھا۔ اس شعر کے خدوخال سے میں سمجھ گیا ہوں کہ اس نے یہ شعر کن حالات و اثرات کے مدنظر لکھا ہے۔ مرزا کی اک سہیلی تھی  جسکو مرزا چھوٹی عمر کی وجہ سے “نادان” کہتے تھے۔ اب وہ اک دن مرزا کی ٹانگ سے لگ کر اک گھنٹہ بیٹھی مومن خان مومن کے گندے شعر سناتی رہی۔۔ جب مرزا کا ڈیزل انجن دھچکے لے لے کر سٹارٹ ہوا تو  محبوبہ کو یاد آیا کہ شام گہری ہوتی جارہی ہے، لہذا جلد از جلد اسے گھر پہنچنا ہوگا۔ اب جو وہ دامن چھڑا کر بھاگی تو مرزا تو شدت خواہش سے تڑپ رہے تھے، بھڑک کر بولے، “دل ناداں تجھے ہوا کیا کے، آخر اس درد کی دوا کیا ہے”۔ آئیو ڈکس تو ہوتی نئیں تھی، نادان نے چنانچہ ہلدی کا لیپ کرنے کا مشورہ ہی دیا ہو گا۔  المیہ یہ ہوا کہ من و عن ہم نے یہ تشریح اگلے دن استاد کو سنا بھی دی۔ وہ دن اور آج کا دن ہم نے کوئی شعر پڑھا نہ طبع آزمائی کی کوشش کی۔

اردو ادب عالمی کانفرنس کے دوران بڑے بڑے شعراء مختلف ملکوں سے نازل ہوئے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ آرٹس کونسل کے کینٹین کے احاطے میں بیٹھ کر مفت کے چائے اور سموسے ٹھونس رہا تھا اور کراچی یونیورسٹی کی بچیاں تاڑ رہا تھا۔ جو اردو زبان کیطرح زبوں حالی کا شکار نظر آرہی تھیں۔ کیونکہ وہ شعراء کو انگریزی میں اردو ادب کے حوالے سے اپنی اپنی خدمات بتائے جارہی تھیں۔ وہ سب آپس میں اس بات پر الجھے ہوئے تھے کہ اردو زبان پہلے آئی یا شعر؟ اور مزے کی بات کہ سب اس بات پر بھی متفق تھے کہ ابھی تک اردو زبان کو کوئی اچھا شاعر میسر نہیں آیا جیسے انگریزی زبان کو گوئٹے نصیب ہوا تھا۔ شاعری جذبات کی ترجمانی کرتی ہے۔ آپ کے احساسات کو زبان دیتی ہے۔ میں لاتعلق سا بیٹھا ہوا تھا کہ چپ رہوں تو بہتر ہے۔ کم از کم رعب تو رہیگا۔ میں یہ اندازے لگا رہا تھا کہ شام تک میری نسوار میرا ساتھ دے سکتی ہے یا کانفرنس سے پہلے ختم ہوجائیگی۔ میں بلاشبہ یہ دعا مانگ رہا تھا کہ کانفرنس پہلے ختم ہو اور نسوار بعد میں۔ اچانک ایک دوست شاعر کو میری لاتعلقی کچھ کھل سی گئی تو پوچھا کہ خٹک صاب آپ جیسے فحش نگاروں کے نزدیک شعر و شاعری کی کیا قدرومنزلت ہے؟ جان چھڑانے کی خاطر جواب دیا کہ میں ابھی طفل مکتب ہوں۔ مگر نازنینوں کے کان “فخش نگاری” کے لفظ پر کھڑے ہوگئے تھے سو وہ بھی ہمیں مرکز نگاہ بنا کر دیکھتی رہی۔ اب جواب دینا بہت ضروری ہوگیا تھا۔ انھیں بتایا کہ مجھے وہ مرد زہر لگتے ہیں جو محبوبہ کی پرسنل پراپرٹیز کو پبلک میں ڈسکس کرتے ہوں۔ سانپ جو خود بھی ناگن گزیدہ ہے اس کی تشبیہ اپنی محبوبہ کے بالوں سے کرنے پر تلے ہوتے ہیں۔ تیر کمان مرد حالت جنگ میں ساتھ رکھنے کے قائل ہوتے ہیں، مگر شاعر یہاں بھی محبوبہ کے کمر پر تیر اندازی کرنے سے باز نہیں اتا۔ ہرن جیسے شریف جانور کی آنکھیں بھی محبوبہ کی غزالی آنکھیں بنانے پر تلا ہوا ہوتا ہے۔ گویا محبوبہ نہ ہوئی کراچی چڑیا گھر کی جل پری ہوئی۔ جس کا آدھا دھڑ انسان اور آدھا دھڑ جانور کا ہوتا ہے۔

شاعر کو آپ شاعر کہیں یا انسان مگر میں اسے جدید نفسیات کی کلنیکل سائیکالوجی کا ایک اہم باب مانتا ہوں۔ یہ خود تو اذیت پسند ہوتا ہے مگر اس سے بڑا کوئی اور پاگل پن ہے کہ وہ اپنی اذیت پسندی پر ہمیں بھی مجبور کریں کہ آپ واہ واہ کہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ شاعر عام زندگی میں کیوں ناکام ہوتے ہیں؟ کیونکہ یہ مخلوق مرد کے نام پر دھبہ ہیں۔ عورت کو دیکھ کر آنسو بہاتے ہیں۔ روتے ہیں۔ چلاتے ہیں۔ خود کو تکلیف دیتے ہیں۔ اور ایسا مرد ایک عورت کیلئے کبھی بھی قابل قبول نہیں ہوتا جس کا تعلق ان کے ہی قبیلے سے ہو۔ عورت کو وہ مرد چاہیئے ہوتا ہے جو آگے بڑھے، اس کا ہاتھ پکڑے اور تین بول پڑھوالے۔ ایک لڑکی نے پوچھا سر میں نے کامیاب شوہر بھی دیکھے ہیں جو شاعر ہیں۔ جواب دیا کہ آپ نے ان کو شادی سے پہلے نہیں دیکھا ہوگا۔

سارے شعراء نے متفق ہوکر مجھ پر نفرت بھری نگاہ ڈالی اور کہا کہ ایک فحش نگار جو خود کو مزاح نگار بھی کہلوانا پسند کرتا ہے، اب اس سے بندہ کیا گلہ کرے۔ میں نے بیچ والی لڑکی کو تاڑتے ہوئے جواب دیا کہ مشتاق احمد یوسفی کو کس درجے میں رکھتے ہیں۔؟ سب نے یک زبان ہوکر جواب دیا کہ وہ ایک عظیم انسان ہیں۔ میں نے کہا کہ اس عظیم انسان نے آپ کے بارے میں جو لکھا ہے اس کے بارے میں کیا خیال ہے؟

یوسفی کہتے ہیں کہ ایک دن ایک نوجوان شاعر دوسرے سے باز پرس کررہا تھا کہ تم نے میری زمین میں غزل کیوں کہی۔ اس نے کہا سودا کی زمین ہے۔ تیرے باپ کی نہیں! اس پر دونوں میں تلخ کلامی ہوئی۔ شروع میں خان صاب کو سمجھ نہیں آیا کہ جھگڑا کس بات کا ہے۔ اگر زرعی زمین کا تنازعہ ہے تو زبانی کیوں ہے؟ یوسفی صاحب لکھتے ہیں کہ جب ہم نے خان صاب کو ردیف، قافیے اور اضافت کا مطلب سمجھایا تو خان صاب دنگ رہ گئے۔ کہا “لا حول ولا۔ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ باپ کو گالی دی۔ اس پر لڑ رہے ہیں۔ فرضی زمینوں پر تم برسرپیکار ہو۔ کیا یہ لوگ (شاعر) یہی زمین ترکے میں چھوڑ کر مریں گے کہ برخوردار! ہم تو چلے ۔ اب تم ان آبائی مربعوں کی چوکیداری کرنا۔ قافیوں کی سبزی اگانا اور اضافتوں کا مربا بنا کر کھانا۔ ایسوں کیلئے پشتو میں ایک بہت برا لفظ ہے۔”

میری بات سن کر ساری لڑکیاں میری طرف آدھمکیں۔
ایک شاعر نے مری مری آواز میں کہا کہ سنا ہے یوسفی بھی یوسفزئی پشتون ہیں۔ جو حالات کا شکار ہوتے ہوتے فقط یوسفی رہ گئے ہیں۔ میں نے اثبات میں سر ہلا دیا ، جی وہ یوسفزئی پشتون ہی ہیں۔ یہ سنتے ہی ساری لڑکیاں واپس شعراء کے پاس واپس چلی گئیں۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”شاعروں سے معذرت کیساتھ۔۔۔ عارف خٹک

    1. واقعی بے مقصد ۔مجھے خود شاعری نہیں آتی لیکن جو شعراء گزرے اور بڑا نام کمایا ہے بلکہ سکہ جماگئے ہیں تاریخ ان کو ہمیشہ سنہرے الفاظ میں یاد رکھے گی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *