گدھے

گدھے ہمارے معاشرے کا انتہائی عام جزو ہیں۔ شنید ہے کہ گدھوں کے ایشیائی جد امجد بنی نوع انسان کی گدھا خوری سے مجبور ہوکر دیگر ممالک براستہ چین پاکستان آمد کا ارادہ کر بیٹھے۔ یہاں پہنچ کر گدھوں کے اس قبیل کو اپنی غلطی کا بھرپور احساس ہوا کہ نئے دیس کے باسی، آلسی مارے اپنی کاہلی کے عروج پر تھے۔ گدھوں کو دیکھتے ہی مقامی آبادی کو جیسے سخت محنت سے بھاگنے کے لئے نجات دہندہ مل گیا۔ کہتے ہیں لوگوں نے گدھوں کی پہلی کھیپ کا باقاعدہ سواگت کرتے ہوئے انہیں پورے ستائیس منٹ گھاس چرنے کی اجازت دی۔ ٹھیک اٹھائیسویں منٹ ہمارے چینی مہمان ہمارا سامان ڈھونے میں مصروف ہوچکے تھے۔

گدھوں اور انسانوں کا قدیم رشتہ کارِ خر اور خرکار والا رہا۔ کبھی موقع ملے تو خر اور خرکار کے اس سمبند پر غور کیجئے گا۔ ویسے ذاتی تجربہ ہے کہ کچھ انسان بھی خر سے کم نہیں۔ اس حوالے سے ایک عہد کی یاد آگئی۔ اندرون شہر پشاور میں ایک بے مکیں مکان تھا جسے پڑوسی کچرے دان کا رتبہ دے چکے تھے۔ محلے کی کچی شراب سے لے کر بچے کباب تک اسی مکان میں پھینکے جاتے۔ ابا مرحوم کو جانے کیا خیال آیا کہ کچرے دان خرید کر راقم کو مکان بنانے کی ذمہ داری سونپ ڈالی۔ اندرون شہر کا اس قدر اندرون جہاں سائیکل اور موٹر سائیکل کے سوا فقط رکشہ ہی جانے کی ہمت کر پاتا، اور وہ بھی سامنے سے دوسرا آتا دیکھ کر ریورس میں پلٹ جاتا۔ ایسے میں ہزاروں کی تعداد میں خشت و سنگ پلاٹ پر پہنچانے کے لیے خر و خچر ہی باقی بچتے۔ طے یہ ہوا کہ کہ مال پہنچانے والے ٹرک بردار وہ دور محلہ سیٹھیاں سے بھی کچھ اوپر مال پھینک دیا کریں گے جہاں سے آگے شاہین بازار تک مال لانے کے لیے خر کاروں کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ خر کار جن کاموں کے ذمہ دار تھے ان میں کچرے کی صفائی، پلاٹ کی کھدائی، درزیوں کی چڑھائی، مال کی پلاٹ تک ترسیل شامل ہوگی۔

یہ انتہائی دلچسپ مرحلہ ہوا کرتا۔ دراصل گدھے اور اس قبیل کے دیگر حیوانات کو چلتے پھرتے ماحول لید دار کرنے میں بدرجہ اتم ملکہ حاصل ہے۔ یہ حرکت راستے میں موجود درزیوں کو خاصی ناگوار گزرتی۔ گدھا معصوم ویسے ہی اس قدر لدا ہوتا کہ اہل بزاز کی رقیق جملہ بازی سمجھ بھی پاتا تو دنیا و مافیہا سے بے خبر رہنے میں عافیت اختیار کرتا۔ دوسری جانب خرکاروں نے گدھوں کے ساتھ رہ کر اپنی دھن میں مگن چلتے رہنے کا فن سیکھ لیا تھا۔ ایسے میں کسی درزی کے احتجاج اور گھنٹہ گھر کے گھنٹہ کا جواب ایک ہی طرح سے دیا جاتا۔ خرکار یہاں وہاں دیکھے بغیر گدھے کو ڈنڈا مارتا اور صدا لگاتا۔۔۔ “چلو”۔ یقین کیجیے “اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی” کا اصل مظاہرہ مجھے وہاں کئی ماہ محلہ عطائی خان پشاور میں دیکھنے کو ملتا رہا۔

خر اور خرکاروں کا رشتہ اس قدر مضبوط تھا کہ جہاں خرکار موتر وسرجن واسطے بیٹھا، گدھے وہیں اپنے مائع فضلے کا والو کھول بیٹھے۔ اب ماحول تصور کیجیے کہ اندرون شہر جہاں آسمان کا کوئی تین مربع فٹ دکھائی دیتا ہے، باقی صرف عمارتیں، وہاں ایک عدد پلاٹ ہے جہاں سے کچرہ اٹھایا جارہا ہے۔ ہم باس بنے ایک جانب بیٹھے موبائل پہ معاشقہ چلا رہے ہیں، عین اس وقت جب عشق و معشوق کی باتیں اپنے نکتہ عروج پر ہوتیں، جانو چمی دو ناں کا جواب سوچنا شروع ہی کیا ہوتا، ماحول میں اچانک پیشاب کے تیز ترین بھپکے اپنا وجود ہمارے نتھنوں کے ذریعے گھسیڑنا شروع کر دیتے۔ ہم لاحول پڑھتے کھڑے ہوجاتے تو پانچ خرکار اور گیارہ گدھے اتحاد بین الانسان و حیوان کا مظاہرہ کرتے موتتے دکھائی دیتے۔ سامنے کا راستہ بند ہوتا لہذا دل کے پاس گالیوں اور مسوس کر رہ جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہتا۔

درویش صفت گدھے کی شرافت دیکھیے کہ جسمانی تشدد کے باوجود اپنے کام سے کام رکھتا ہے۔ یہاں ذہنی تشددد الگ ہے جو کبھی “کھوتی دیا پتراں” تو کبھی “گدھا بحیثیت بیوقوفی کا استعارہ” کی شکل میں معصوم کو سہنا پڑتا ہے۔ مغرب کی حرکات بھی کچھ کم نہیں۔ ایک جانب درویش جانور کو سیاسی جماعت کا نشان بنا کر سر پہ بٹھایا تو دوسری جانب عارف خٹک کی پسندیدہ صنف کے خاصے کو Ass یعنی گدھے خالہ زاد خچر سے منسوب کر ڈالا۔ اہل مغرب کی نقل کرنے کا ہماری عوام ویسے ہی شوق ہے، شاید یہی شوق پچھلے دنوں ایک دیہاتی کو لے ڈوبا جو پنجاب کے کسی گاؤں میں گدھی کے ساتھ زیادتی کرتا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ بھٹی صاحب کہتے ہیں گاؤں دیہات میں یہ حرکت اکثر “سرزرد” ہوتی رہتی ہے لیکن میں اس ضمن کچھ نہیں کہوں گا کہ ابھی تک پچھلی کہانی میں ایک مولوی کو منفی کردار بنانے کا خمیازہ بھگت رہا ہوں۔ گاؤں دیہات میں بسنے والے ملک، اعوان اور رانے پیچھے پڑ گئے تو کون چھڑائے گا؟ (ایڈیٹر سے اپیل ہے یہاں ہاتھ جوڑنے کی تصویر لگا دے، شکریہ)۔ 

یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ گدھے پہ بات کو اور لاہور کا ذکر نہ آئے؟ اہلیان لاہور ہمیشہ سے زندہ دل مشہور ہیں لہذا میں یہ بات ماننے سے انکاری ہوں کہ جس جوان نے پہلی بار لاہوریوں کو کھوتا خوری کی لت پہ لگایا وہ خود بھی اسی مٹی کا باسی تھا۔ ہرگز نہیں۔ خدا کی قسم بہت عجیب محسوس ہوتا ہے زید حامد کی طرح بات کرنا مگر مجھے لاہوری کھوتا خوری میں را اور موساد کی سازش لگتی ہے۔ دشمن چاہتے ہیں کہ ہم کھوتا خوری کے ذریعے امریکیوں کو پیغام دیں کہ کھوتا ہم ذبح کر چکے اگلی باری ہاتھی کی ہے۔ یوں امریکیوں کو اشتعال دلا کر دشمن ہمیں اور ہمارے پیارے انکل سام کو لڑوانا چاہت ہے۔ چاہیں تو اس سازش کا تذکرہ زید حامد سے کر کے دیکھیں تصدیق کی گارنٹی میری۔ 

ویسے لاہور میں کھوتا خوری کے بعد جب اہلیان کراچی پر کلب کڑاہی کھانے کا انکشاف ہوا تو میں نے ایک لاہوری اور ایک کراچی کے باشندے کے درمیان ایک خان صاحب کو صلح صفائی کراتے دیکھا۔ دونوں لڑ رہے تھے کہ تم گدھا کھاتے ہو اور تم کتا۔ خان صاحب دونوں کی تھوڑ یوں پہ ہاتھ لگاتے فرمانے لگے “خوچہ تمہارا اور تمہارا خوراک کا فیصلہ تمہاری ڈکاریں کریں گی”۔ پوچھا کیسے تو کہنے لگے “ہم کتا اور کھوتا دونوں اپنے ہاتھ سے ذبح کرتا ہے، ہم جانتا ہے گوشت اتنا سخت کہ تیس منٹ میں ہاضمے کا ڈکار آنہیں سکتا”۔ 

غرضیکہ گدھا ایک معصوم جانور ہے۔ اپنی دھن میں مگن ایک محنتی جانور۔ غصے میں کم آتا ہے مگر آتے ہی اندھی دولتی مارتا ہے۔ مخصوص اشاروں کو رٹ بھی لیا کرتا ہے، ان اشاروں کا جواب بھی دیتا ہے۔ جتھے کی صورت میں پیشاب بھی کرتا ہے۔ ڈھٹائی کی حد تک سخت جان بھی ہے۔ تھوڑا بیوقوف ہے، کہ سوچے سمجھے بغیر جو سکھا دیا سیکھ لیا جو بتا دیا کر لیا۔ ہمارا مقدمہ فقط اتنا ہے کہ عوام الناس اس قبیل کو معصوم سمجھے اور دولتی کھا کر بھی پورے خر و خچر طبقے پر خنس نہ نکالے کہ غنڈے بدمعاش ہر مخلوق کا حصہ ہوتے ہیں۔ 

نوٹ: گدھوں پہ لکھے گئے اس مضمون کی کسی انسانی طبقے سے مماثلت محض اتفاقیہ سمجھی جائے۔ 

نوٹ پہ نوٹ: سمجھ تے تسی گئے ہوگے؟ جے سمجھ وی گئے تے خاموشی اختیار کرو۔ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *