اگر کوئی سعودی عرب جائے اور المراعی کا “لبن” نہ پیے تو یوں جانیے کہ اس کا بھی وہی عالم ہے کہ ” جنے لہور نئیں ویکھیا او جمیاں نئیں” یعنی ، جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ پیدا ہی← مزید پڑھیے
چونکہ ساری دنیا سے مسلمان وہاں آتے ہیں سو ہر رنگ و نسل اور ہر علاقے کے لوگوں نے وہاں پہ اپنے ہوٹل بھی قائم کیے ہوئے ہیں ۔ جابجا پاکستانی ہوٹل نظر آتے ہیں۔ میں نے بہت سارے ہوٹلوں← مزید پڑھیے
صحن حرم میں ایک خوبصورت نظارہ ابابیلوں کے اڑنے کا بھی ہے ، صبحِ دم یہ بھی تازہ دم ہوتی ہیں سو ان کی آواز بھی تازہ ہوتی ہے ، لیکن ایک نظارہ مغرب سے کچھ وقت پہلے کا بھی← مزید پڑھیے
اچھا یاد آیا کہ جب مروہ پر ساتواں چکر مکمل ہوا تو مجھے بیت الخلا جانا تھا۔ کوہ مروہ کے بغلی دروازے سے باہر نکلیں تو جو قریبی بیت الخلا ہے ، اس کی اپنی ایک تاریخی اہمیت اور حیثیت← مزید پڑھیے
یہ کوہ صفا ہے ۔۔۔۔۔اس سے اور بھی بہت یادیں جڑی ہوئی ہیں ۔ رسولِ اکرم و مکرم صلی اللّٰہ علیہ وسلم اس روز کوہ صفا کے پاس سے ہی گزر رہے تھے کہ ابوجہل کا سامنا ہو گیا ۔← مزید پڑھیے
بڑی خوشگوار ٹھنڈک تھی۔ ستارے جگمگ جگمگ کرتے تھے۔ نیچے سے آئے ہوئے لوگ گھومتے پھر رہے تھے۔ ہم بھی ٹامک ٹوئیاں مارتے مارتے مطلوبہ جگہ پہنچ گئیں۔ مخصوص روائتی گھر جسے مقامی زبان میں مِمشاسِکی حَہ کہتے ہیں۔ سامنے← مزید پڑھیے
انسانوں کا ایک ہجوم تھا جو سیلاب کے مانند میرے دائیں بائیں بہہ رہا تھا اور میں جیسے اس سیلاب میں چلا جا رہا تھا اور بہے جا رہا تھا ۔ میں دیکھ رہا تھا یہاں ہر کوئی اپنی دنیا← مزید پڑھیے
مغرب کی نماز ختم ہوئی، ہمارا ارادہ تھا کہ صحنِ حرم میں جا کر ارکانِ عمرہ ادا کیے جائیں تاکہ سفر کا مقصد پورا ہو ۔ عمرہ بنیادی طور پر چار امور کا نام ہے ، میقات پر احرام باندھ← مزید پڑھیے
آسمان کسی پرہیز گار کے دامن کی طرح شفاف تھا۔ دھوپ میں ماں کی گود جیسی نرمی اور ملائمت تھی۔ یوربی ہوائیں کسی چنچل دوشیزہ کی مانند اداؤں سے تھم تھم کر چلتی تھیں۔ لوہے کی تاروں‘ سرئیے اور لکڑی← مزید پڑھیے
3 ستمبر 1947,امروکا اسٹیشن سطح سمندر سے بلندی 572 فٹ رات کے ڈھائی بجنے کو تھے اور غلام محمد کی آنکھوں سے نیند غائب تھی۔ امروکا ریلوے اسٹیشن کا یہ بوڑھا اسٹیشن ماسٹر اس وقت تک سو جاتا تھا لیکن← مزید پڑھیے
میں ان کی آمد کے انتظار کے دوران باکو گائیڈ دیکھتا رہا تھا اور میں نے حسین سے پوچھ کر وہ لے بھی لی تھی چنانچہ فائدہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ کام تمام کرنے کے بعد کچھ مقامات دیکھ لیں← مزید پڑھیے
جب کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر نے اپنی کتاب ” قسطنطنہ سے عمر خیام کے شہر تک” میں لکھا تھا کہ ” باکو دنیا میں استعمال کیے جانے والے تیل کا پانچواں حص}ہ پیدا کر رہا ہے” تب مامید امین رسول← مزید پڑھیے
18 اپریل 1992 بغداد اسٹیسن سطح سمندر سے بلندی 393 فٹ سمہ سٹہ جنکشن سے بہاول نگر، امروکہ آنے جانے کے لیے ٹرینوں کی واحد گزرگاہ پر 1835 میں بغداد الجدید کا اسٹیشن تعمیر ہوا تو نہ صرف بہاول پور← مزید پڑھیے
دن کا پروگرام میں نے اپنی مرضی سے ترتیب دیا۔سرفہرست کار گاہ نالہ کی سیر تھی۔ شفقت نے چپ چاپ پیچھے چلنے میں عافیت خیال کی۔ ذرا بھی انتظار کی زحمت نہیں کرنا پڑی۔ سڑک پر قدم رکھے اور ویگن← مزید پڑھیے
اکبر حسین اکبر کے ساتھ دوسری ملاقات اس صبح ہوئی جب میں صدر روڈ پر ہنس راج کی طرح پر پھیلائے پی آئی اے کی عمارت کے ایک چھوٹے سے کیبن میں میز پر ہاتھ پھیلائے جناب زیدی صاحب کے← مزید پڑھیے
میری واپسی قدوائی فیملی کے ساتھ ہوئی۔ مشہ بروم ٹورز کی بس میں بیٹھے جس نے آٹھ بجے شب چلنا شروع کیا۔ باہر گُھپ اندھیرا تھا۔ میں نے الو کی طرح آنکھیں پھاڑ کر دیکھا۔ بڑا خوفناک منظر تھا فوراً← مزید پڑھیے
ہوٹل کے کمرے سے نکلے تو باہر شٹل تیار کھڑی تھی ، شٹل سے مراد وہ بس سروس ہے کہ جو ہوٹل سے زائرین کو لے کر حرم جاتی ہے ۔ ووکو ہوٹل کی یہ سروس بلا شبہ شان دار← مزید پڑھیے
‘‘ایسا تو ہوتا ہے۔ معاشی انقلاب جب کسی معاشرے میں جگہ بنائیں تو پہلی زد اقدار پر پڑتی ہے۔ یہ فطری امر ہے۔ اس سے فرار نہیں۔’’ راحیل میرے ساتھ ہی پرانا محل دیکھنے چل پڑی۔ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر← مزید پڑھیے
سات آٹھ سیڑھیاں اترنے میں میں نے خاصی دیر لگائی تھی۔ پوڈے کافی اونچے اور چھوٹے سے زینے کی ترتیب تقریباً سیدھی تھی۔ گر پڑنے کا خطرہ تھا۔ فوراً بعد ایک چھوٹا سا کمرہ دیکھنے میں آیا۔ اس سے آگے← مزید پڑھیے
اور مشتاق نگاہوں کی سنی جائے گی۔۔ گاڑی تیزی سے اپنی منزل کو بڑھتی جا رہی تھی ، دائیں بائیں دونوں طرف سبزے کی بہار تھی ، ایسا ہمیشہ سے نہیں کہ یہاں پہاڑوں پر سبزہ آ جائے بلکہ جدہ← مزید پڑھیے