جس دن میں لڑکی سے عورت بنی اس دن میری بائیسویں سالگرہ تھی۔ مجھے اس دن احساس ہوا کہ ذہنی ہم آہنگی، شدید چاہت اور جذباتی وابستگی رکھنے والے دو افراد جب جسمانی اتصال کرتے ہیں تو لطف و حظ← مزید پڑھیے
کی بہار میں ہماری شادی ہوئی تھی پھر اس بندھن کو مزید مضبوطی عطا کرنے کے لیے پہلے آمنہ اور اس کے بعد فاطمہ آ گئی۔ سب کچھ بہت اچھا چل رہا تھا کہ اچانک امی مختصر سی علالت کے← مزید پڑھیے
اس سال سردی جلدی آ گئی ہے مگر ابھی ٹھنڈی ہوا جسم کو اتنی ناگوار نہیں ہے بس ایک جیکٹ سے کام چل جاتا ہے۔ میں نے ایک گہری سانس لیتے ہوئے پسنجر سیٹ کے پائیدان سے کافی کا تھرماس← مزید پڑھیے
آج لاہور سے اسلام آباد آتے ہوئے موسم خوشگوار تھا۔ موسم بہار رخصت ہو رہا تھا ۔ مگر دھوپ میں ابھی تمازت نہیں آئی تھی۔ یہ دوپہر کا سماں ہوگا۔ میں اپنی ہنڈا جیپ میں تنہا سفر کر رہا تھا۔← مزید پڑھیے
میں جانتا تھا کہ اس نے جو پوسٹ لگائی اس کا مخاطب میں ہوں۔ وہ میری دیوانی تھی اور مجھ سے منسوب بھی لیکن کئی سال کی ہمرکابی کے باوجود میں اس کے دل میں مستور راز جاننے میں ناکام← مزید پڑھیے
وہ مجھے کچہری میں اکثر و بیشتر نظر آتا تھا۔ گو اس کا لباس صاف ستھرا ہوتا مگر ان کی خستگی و بوسیدگی چھپائے نہ چھپتی۔ عموماً وہ خاکی پینٹ پر سبز دھاری یا نیلی چیک کی قمیص پہنا کرتا← مزید پڑھیے
اس نے ہاتھ میں پکڑے کاغذ کے ٹکڑے کو مٹھی میں سختی سے دبایا اور اسے چھپانے کے لیے کوئی جگہ تلاش کرنے لگی ۔ برسوں کی دبی ہوئی چنگاری کو ہوا دینے کا اب کیا فائدہ، اس خط کو← مزید پڑھیے
جب اِمداَد اپنی لاکھ کوششوں کے باوجود صنم کی قربت سے محروم رہا تو بالاخر اُس نے روائیتی معاشرتی طریقہ کا سہارا لینے کا سوچا اور صنم کا ہاتھ مانگنے کے لئے اپنے بھائیوں اور علا قے کے چند معتبر← مزید پڑھیے
یہ اسّی کی دہائی کا قصبہ تھا ، جو کہ شہر سے زیادہ دُور نہیں تھا۔آبادی بھی زیادہ نہیں تھی۔ سادہ لوح اور محنت کش لوگ اس قصبہ میں آباد تھے۔ اکثریت ملحقہ کھیتوں میں مزارعوں کی حیثیت سے کام← مزید پڑھیے
رشنو یمنا کنارے شُکری کے مقام پر پیدا ہوئی۔ اس کا پِتا دیوتاؤں کی دھرتی کا سب سے بڑا راجہ تھا۔ اس کی رحم دلی، انسان دوستی اور عدل کی کہا نیاں دوردور تک پھیلی ہوئی تھیں۔ دیوتاؤں کی دھرتی← مزید پڑھیے
آج میں گھنٹوں اپنے کھلونوں کے ساتھ باہر کھیلتی رہی۔ آج بھی سکول بند تھا، میرا چھوٹا سا سکول، میرا پیارا سکول۔ یہ تو اب تقریباً بند ہی رہتا ہے، بس کبھی کبھی کھلتا ہے کچھ دنوں کے لئے اور← مزید پڑھیے
شدید گرمی کا موسم اور گرم ہوا چل رہی تھی۔ سب لوگ اپنے اپنے کاموں کی طرف گامزن تھے۔ سڑکوں پر چلتے رکشے اور گاڑیاں اپنے دھویں سے فضا کو آلودہ کر رہے تھے ۔ ان سب کو کوئی پوچھنے← مزید پڑھیے
افسانے پر تبصرہ۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل اصحاب کہف گہری نیند سے جاگے اور کچھ خریدنے بازار گئے تو انہیں شہر کے لوگوں نے بتایا کہ ان کے سکے پرانے اور متروک ہو چکے ہیں۔یہ بات سن کر اصحاب کہف کو اندازہ← مزید پڑھیے
بلال بلال جلدی اٹھو! میں نے پریشانی میں، بخار میں بے سدھ سوتے بلال کو بے اختیار جھنجوڑ دیا۔ بلال ہڑبڑا کر اٹھ تو گیا مگر کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا۔ میں نے اپنے آپ پر قابو رکھتے ہوئے← مزید پڑھیے
اعلان ہوا کہ شہر کو آزاد کرا لیا گیا ہے، دشمن کو مار بھگا دیا گیا ہے، بارودی سرنگیں شہر کا ہر کونہ ہر عمارت چھان چھان کر نکال دی گئیں ہیں۔ سخت جان مگر نرم چہرے کی حامل چالیس← مزید پڑھیے
کیوپڈ کے ساتھ ساتھ قسمت کی دیوی بھی مہربان تھی سو یہ سنجوگ ہو کر رہا۔ ممی میری فطرت سے واقف تھیں، انہیں علم تھا کہ مجھے دیوار سے لگانے کا انجام کورٹ میرج کی صورت میں سامنے آئے گا← مزید پڑھیے
آج میں نے صبح تڑکے بچوں کو سکول روانہ کرتے ہی دن کے کھانے کی تیاری شروع کر دی کہ مصمم ارادہ یہی تھا کہ دنوں سے ٹلتے افسانے کو پایہ تکمیل تک پہنچاؤں۔ آج آسانی یوں بھی تھی کہ← مزید پڑھیے
پیار کی تعریف کیا ہے؟ پیار یہ ہے کہ آپ صبح اٹھیں تو آپ کی پہلی سوچ وہ شخص ہو اور شام کو سوئیں تو آخری سوچ وہ ہو، وہ جسے دیکھ کر آپ چاہے جتنا مرضی خفا ہوں اسے← مزید پڑھیے
ریحانہ نے اپنے ماسک کو سیدھا کیا۔ پھولدار سکارف کی گرہ کو مضبوطی سے باندھا، عبایہ پہنا اور چل پڑی۔ باہر گھپ اندھیرا تھا۔ پورا ملک کئی دنوں سے دھند کی لپیٹ میں تھا۔ بجلی کی فراہمی میں تعطل معمول← مزید پڑھیے
کمدار دبے پاؤں چلتا ہوا آیا جھک کر میرے کان میں سرگوشی کی کہ سائیں تھانیدار آیا ہے. میرے منہ کا مزہ کڑوا ہو گیا. اس وقت؟ تھانیدار ہاتھ باندھے اوطاق میں داخل ہوا اور میرے گھٹنوں کو عقیدت سے← مزید پڑھیے