مرزا شہبازحسنین کی تحاریر
مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

ایک محبِ وطن پاکستانی عاشر عظیم کی پاکستان سے ہجرت۔۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

عہدِ  کم سنی  کی  بے شمار حسین یادوں میں  سے ایک   پی ٹی وی کے ڈرامے  بھی  ہیں ۔ہم اس ایج گروپ سے تعلق رکھتے ہیں  جنہوں نے اپنی زندگی میں بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی سے  ایچ ڈی←  مزید پڑھیے

دولے شاہ کے چوہے اور ہمارے سماج میں پائی جانے والی مماثلت۔۔۔شہباز حسنین بیگ

سید کبیرالدین شاہ کا مزار گجرات شہر کے درمیان میں واقع ہے ۔اس کی وجہ شہرت اس مزار پر پائے جانے والے معصوم اور انتہائی مظلوم انسان ہیں ۔جو کہ آپ کو گجرات میں  دربار کے اردگرد اور مختلف جگہوں←  مزید پڑھیے

پیشہ ور منجن فروش اور ان کے روایتی طریقے۔۔۔شہباز حسنین بیگ

آج کل تو نان اسٹاپ ایئر کنڈیشنڈ بسوں کا دور ہے ۔لیکن ماضی قریب میں بسیں ہر  سٹاپ پر رک کر تھوڑی دیر وقفے کے بعد چلا کرتی تھیں ۔بس کے لاری اڈے پر رکنے کے وقفے کے دوران بھانت ←  مزید پڑھیے

فلم ریویو:لکشمی !غیر اخلاقی انسانی سمگلنگ۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

لکشمی ہندی زبان کا لفظ ہے،جس کا مطلب ہے ،دولت یا دھن۔۔ہندو دھرم  میں لکشمی دیوی بھی موجود ہے ۔جس کی پوجا عقیدت سے کی جاتی ہے۔انسان کی بنیادی ضرورت آج کے دور میں  لکشمی ہے۔انسان لکشمی کے حصول کے←  مزید پڑھیے

شخصیت پرستی کے تباہ کن اثرات۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

آج پاکستانی سماج کے خطرناک ترین مسائل مذہبی انتہا پسندی، شدت پسندی کے ساتھ ساتھ دہشتگردی اور جہالت ہیں۔مذکورہ تمام مسائل کسی بھی سماج کے لیے انتہائی مہلک اور تباہ کن ہیں ۔ان تمام مسائل کی مختلف وجوہات ہیں ۔مگر←  مزید پڑھیے

شکر کریں آپ لڑکی ہیں ۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

حسنین جمال صاحب نے کل “شکر کریں آپ لڑکی نہیں ہیں”کے عنوان سے مضمون لکھا ہے۔حسنین جمال جب بھی لکھتے ہیں کمال لکھتے ہیں ۔ان کی تحریر ادبی چاشنی اور معیار کا اعلی نمونہ ہوتی ہے۔سماج میں موجود برائیوں کی←  مزید پڑھیے

ماتر بھومی۔۔۔مرزاشہباز حسنین بیگ

خالق کائنات نے اس جہان رنگ و بو میں ہر جاندار کو جوڑے کی شکل میں تخلیق کیا۔تمام مخلوقات میں سے انسان  کو عقل و خرد سے نواز کر افضل ترین مخلوق کا درجہ دیا۔۔پھر جوڑے بنائےاور    دونوں  کے←  مزید پڑھیے

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں ۔۔۔مرزا شہباز حسنین

جون ایلیا نے برسوں پہلے فرمایا تھا۔۔۔ جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں میں اس شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں !! آج بیٹھے بیٹھے خیال آیا کیوں نہ میں بھی فسادی بن جاؤں۔ہمارے معاشرے کی اس←  مزید پڑھیے

عمران خان کے لیے مشورہ۔۔ مرزا شہباز حسنین

عمران خان اس وقت پاکستان کے  بڑے  لیڈروں میں  تو شامل ہوچکے۔بلاشبہ پاکستان کی سیاست میں اب عمران خان کا نہایت کلیدی کردار ہے۔نوجوان نسل کی اکثریت عمران خان کی حمایت میں کمر بستہ ہے۔خان صاحب نے پچھلے پانچ سال←  مزید پڑھیے

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن۔۔۔مرزا شہباز حسنین

تغافل اک معمولی سا لفظ ہے ۔مگر اپنے اندر بے پناہ وسعتوں کا حامل ۔ ۔بظاہر یہ بہت چھوٹا سا لفظ اک کیفیت کا اظہار ہے ۔مگر اس کیفیت کی ہلاکت خیزیاں انتہائی طویل ہیں۔تغافل کے بد اثرات اس قدر←  مزید پڑھیے

ذمہ دار کون؟؟عدلیہ اور فوج یا حکمران؟۔۔۔مرزا شہباز حسنین

ویسے  تو بحثییت قوم ہم بے شمار خامیوں کا شکار ہیں ۔کس کس کا رونا رویا جائے۔آج کل سوشل میڈیا کی وجہ سے ہر دوسرا شخص ان خامیوں کی نوحہ گری میں مصروف ہے۔مگر حیرت ہے ہم پھر بھی سدھرنے←  مزید پڑھیے

ہم بھی کتنے عجیب ہیں؟۔۔مرزا شہبا ز حسنین بیگ

 بحیثیت قوم ہم اس قدر تضادات کا شکار ہیں  کہ سمجھ نہیں آتا اس صورتحال پہ رویا جائے یا ہنسا جائے۔ہمارا ہر عمل  دوسرے سے جدا اور انوکھا ہے جس کی شاید ہی کوئی دوسری مثال نظر آئے۔ہم جو کہتے←  مزید پڑھیے

بت پرستی سے شخصیت پرستی تک۔۔شہباز حسنین بیگ

تمام الہامی مذاہب نے خدا کی وحدانیت کا درس دیا۔شرک خدا کے نزدیک سب سے زیادہ نا پسندیدہ عمل ہے۔خدائے بزرگ و برتر نے انبیاء کرام کو توحید کا سبق  مخلوق کو ازبر کروانے کے لیے مبعوث فرمایا۔ظہور اسلام سے←  مزید پڑھیے

نان ایشوز کی سیاست سے نان ایشوز کی صحافت تک۔۔ مرزا شہباز حسنین بیگ

سیاست کو عبادت اور عوام کی خدمت کا عمل قرار دینے والے رہنماؤں کی فوج ظفر موج عرصہ دراز سے عوام کو بیوقوف بنانے میں مصروف ہے۔قیام پاکستان سے لے کر لمحہ موجود تک عوام کی خدمت کے دعویدار دن←  مزید پڑھیے

معاشرتی بنیادی ترجیحات کا درست تعین کیوں ضروری ہے۔۔۔شہباز حسنین

کسی بھی معاشرے کو فلاحی اور ترقی یافتہ بنانے کے لیے مسائل کی درست نشاندہی از حد ضروری ہے۔جس طرح کسی بھی مرض کا علاج کرنے کے لیے بنیادی ضرورت مرض کی بروقت اور درست تشخیص ہے۔بالکل اسی طرح معاشرے←  مزید پڑھیے

صنفِ نازک کے متعلق ہماری ذہنیت۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

عنوان پر نہ جائیے۔عورت بھی مرد کی طرح مضبوط اور توانا اک جیتا جاگتا وجود ہے۔مگر،سمجھ نہیں آتا صنف نازک کا لفظ کس ذہنیت کے تحت رائج کیا گیا۔ہمارے معاشرے میں خواتین کو نازک اندام اور کمزور تصور کر کےاسے←  مزید پڑھیے

مسلمانوں کا شعوری سفر کیوں رک چکا؟۔مرزا شہباز حسنین بیگ

عمومی طور پر تاریخ انسانی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ بنی نوع انسان نے اپنی تخلیق  سے لے کر آج تک ایک طویل شعوری سفر کیا ہے۔شعور کے اس سفر میں انسان نے اس کائنات کی←  مزید پڑھیے

جھوٹا سچ اور جھوٹے مبلغ۔۔۔ مرزا شہباز حسنین

جب سے ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی وارد ہوئی ہے۔تب سے آج تک ہم پر جھوٹا سچ بھی مسلط کیا جا رہاہے۔شاید میں سمجھا نہ سکوں ۔مگر کوشش کرنے میں ہرج ہی کیا ہے۔میری ناقص عقل کے مطابق جس سچ←  مزید پڑھیے

نبی کے نور عین کی محبت اور ہمارے رویے۔مرزاشہبازحسنین

نبی محترم آقائے دو جہاںﷺ کے نور عین زہرہ سلام اللہ علیہ کے دل کے چین ،مظلوم کربلا جنت کے مالک و مختار امام حسین علیہ السلام آج دیکھیے ہم اسلام کا نام جپنے والوں کو ۔ہم کیا تھے اور←  مزید پڑھیے

آئمہ کرام کو سرکاری تنخواہ کی ادائیگی ،دین کی سماجی حیثیت متاثر نہیں ہو گی۔۔۔مرزا شہباز حسنین

کل ایک آرٹیکل آئمہ کرام کو سرکاری تنخواہیں دینے سے دین کی سماجی حثیت کیا ہوگی ؟۔مکالمہ پر شائع ہوا۔مجھے صاحب مضمون سے کامل اختلاف ہے۔مضمون نگار نے مختلف النوع مفروضوں کی بنیاد پر اس فیصلے پر تنقید باندھی ۔اور اس فیصلے کو دین کی سماجی حیثیت پر قدغن لگانے کی گہری سازش قرار دیا۔صاحب مضمون پر دلیل کی بنیاد پر واضح کرنا چاہوں گا کہ محترم آئمہ کرام کو سرکاری تنخواہ کی ادائیگی سے دین کی سماجی حیثیت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ۔مضمون نگار نے باور کرایا کہ آئمہ کرام کو سرکاری تنخواہ کی ادائیگی کے ذریعے حکومت کے پس پردہ عزائم میں مساجد کو ریاستی نظم کے تابع کر کے آزادانہ دینی خدمات پر قدغن لگانا اور سیاسی مفادات کا حصول ہے ۔ پاکستان کے حالات  پر ایک نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے ،کہ پاکستان دہشت گردی کا عشروں سے شکار ہے۔فرقہ واریت انتہا پسندی عدم برداشت پورے معاشرے میں سرایت کر چکی ہے۔جس کی قیمت معصوم  اور بے گناہ عوام دہائیوں سے چکا رہی ہے۔مذہب کا استعمال فلاح کی بجائے تخریب  کے لیے کیا جا  رہا ہے ۔دہشتگردی نے معاشرے میں تباہی کا رقص جاری رکھا اور مذہبی قیادت اس قدر آزاد رہی کہ کھل کر انسانیت دشمنوں کے خلاف قوم کو یکسو  کرنے کی بجائے خونی درندوں  کے حق میں  تاویلیں پیش کر کے گمراہ کرتی رہی۔پھر اس ملک میں معصوم نو نہالوں  کے خون سے ہولی کھیلی گئی۔آرمی پبلک سکول میں  قیامت سے پہلے قیامت پربا  کی گئی ۔ہر  آنکھ اشکبار  ہر دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔تب ریاست نے بھی سنجیدگی سے اس عفریت کو ختم کرنے کی ٹھانی ۔ سرکار نے دہشتگردی کا قلع قمع کرنے کے لیے مشکل فیصلے کیے ۔مساجد کو ہمارے معاشرے میں ریاست کی جانب سے آج تلک کسی بھی قسم کی مداخلت کا سامنا ہر گز نہیں  رہا۔سوائے لاوڈ سپیکر پر پابندی جیسے حکم ناموں کے ۔ سرکار نے مساجد کے متعلق کبھی سنجیدگی سے مسائل کو سمجھنے کی کوشش ہی نہیں  کی ۔مساجد میں آئمہ کرام شدید معاشی مشکلات کا شکار ہیں←  مزید پڑھیے