دلِ امید توڑا ہے کسی نے۔۔۔۔مرزا شہباز حسین

امید کے دم سے کاروبار زندگانی رواں ہے ۔امیدیں دم توڑ جائیں تو زندگی بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے ۔امید دم توڑ جائے تو مایوسیاں ڈیرے ڈال لیتی ہیں ۔مایوسی انسان سے بھلائی چھین لیتی ہے۔امیدیں قائم رہنی چاہئیں  ۔پہلی بار جب یہ غزل سنی جس کا مطلع میری آج کی تحریر کا عنوان بنا تو دلی کیفیت عجیب تھی ۔اور میں نے اس غزل کو فقط رومانوی غزل ہی سمجھ کر اس کا لطف محسوس کیاتھا۔مگر پچھلے چند دنوں سے دوبارہ اس غزل کو سنا تو صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی تھی اس مرتبہ اس غزل نے اپنا رنگ بدلا اور اب اس کا ہر شعر رومانویت سے جڑنے کی بجائے سیاست سے ہم آہنگ نظر آ رہا ہے ۔۔بعض اوقات شاعر شاعری میں انسان اور انسانی کیفیات کو بیان کرتا ہے ۔مگر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد وہی شاعری انسان کے معاشرے کی کیفیات بھی بیان کرنے لگتی ہے

دل امید توڑا ہے کسی نے ۔
سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے
نہ منزل ہے نہ منزل کا نشاں ہے
کہاں پہ لا کے چھوڑا ہے کسی نے
میں ان شیشہ گروں سے پوچھتا ہوں
کہ ٹوٹا دل بھی جوڑا ہے کسی نے
دل امید توڑا ہے کسی نے ۔۔

اب یا تو میں تبدیل ہو چکا یا پھر اس غزل کے اشعار کی معنویت تبدیل ہو گئی فیصلہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔آج سے چند سال قبل پہلا شعر پڑھتے ہی محبوب کا چہرہ آنکھوں کے سامنے رقصاں تھا مگر اب وزیر اعظم عمران کی شبیہ سامنے آجاتی ہے ۔اب دل امید توڑنے کا سارا الزام خان صاحب کو دینے کو جی چاہتا ہے۔عوام کے دل میں امیدوں کے چراغ جلانے کے بعد اب آہستہ آہستہ سارے چراغ بجھتے جارہے ہیں۔میرے ملک کی سادہ لوح عوام تو ہمیشہ سے عملیت پسندی سے دور خوابوں کی دنیا آباد رکھتی ہے ۔ایسے میں خان صاحب نے امید کی جوت جگائی۔اب ہم لوٹ کا پیسہ واپس لائیں گے ۔سوئس بنکوں کی رقم واپس لا کر قرض سے جان چھڑائیں گے ۔مگر یہ امید بھی اقتدار نے اپنے پاوں تلے بے دردی سے کچل ڈالی ۔کتنی امیدیں وابستہ تھیں جناب عمران خان کی شخصیت سے ۔قرضوں کا خاتمہ۔ انصاف کی فراہمی۔ پولیس کلچر میں بہتری ۔غیر جانبدارانہ اور تیز ترین احتساب ۔مسنگ پرسنز ماورائے عدالت قتل کا خاتمہ ۔مگر ان تمام معاملات پر امیدیں دم توڑ رہی ہیں ۔مہنگائی کا خاتمہ کرنے کی امید دلا کر گیس بل کے ذریعے عوام سے خسارہ پورا کرنے کا سنہری کارنامہ بھی امیدیں جگانے والی سرکار پوری دلجمعی سے سرانجام دے رہی ہے۔امیدیں جس قدر زیادہ ہوں۔دم توڑنے پر ردعمل بھی انتہائی شدید پیدا کرتی ہیں۔مگر کاش کوئی سوچے اور سمجھے ۔کہاں پہ لا کے چھوڑا جارہا ہے ۔عوام کو ایسی تنگ گلی میں دھکیلا جارہا ہے جس کا آخری کونہ بند ہے ۔۔
بند گلی میں امیدیں دم توڑ رہی ہیں ۔مایوسی سے دم گھٹنے لگا ہے ۔ایسی مشکل ترین صورتحال میں بھی اگر سامنے منزل نظر آ رہی ہو تو انسان اپنی کوشش اور ساری توانائیاں جھونک کر منزل تک رسائی کے لیے بازی لگا دیتا ہے ۔مگر نہ منزل ہے نہ منزل کا نشاں ہے ۔کہاں پہ لا کے چھوڑا ہے ۔دماغ سائیں سائیں کر رہا ہے ۔دیکھا تھا جس کا خواب یہ وہ سحر تو نہیں ۔سانحہ ساہیوال میں مقتولین کے ورثا بے بس ہو کر سڑکوں پر دھکے کہاں رہے ہیں ۔انصاف کی دہائیاں دی جا رہی ہیں ۔اسی غزل کا اک اور مصرعہ ہے ۔
قفس کی تیلیاں رنگین کیوں ہیں؟
یہاں پہ سر کو پھوڑا ہے کسی نے

ابھی تک عوام اپنا سر پھوڑنےمیں مصروف ہے ۔ڈرنا چاہیے اس وقت سے جب   تاج اچھالے جائیں گے سر کو پھوڑ کر ان کا مغز نکال کے پاوں میں کچلا جائے گا ۔ردعمل کی آگ جلا کر راکھ کر دیتی ہے ۔سو امیدیں قائم رہنی چاہیے مایوسی ختم کرنے کی تدبیر جتنی جلدی ممکن ہو کرنی چاہیے ۔جناب عمران خان ۔آپ نے اس قوم کے جذبات میں امید کی شمعیں نہیں برقی قمقمے روشن کیے ہیں ۔ان کو بجھنےسے پہلے کچھ کیجئے ۔ورنہ مایوسی کی آگ سب کچھ راکھ کر دے گی ۔آپ نے قوم کو بتایا ۔
اے جذبہ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آجائے
منزل کے لئے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
اب منزل دو قدم کی دوری پر ہونی چاہیے ۔صدیوں کی دوری پر نہیں ۔۔
لوگو مجھے معاف کرنا آج میری ذہنی رو بہک گئی ۔ اچھی خاصی شاعری کی سیاسی توجیحات بیان کرنے پر اسے میری ذہنی اختراع سمجھ کر جان بخشی کی جائے ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دلِ امید توڑا ہے کسی نے۔۔۔۔مرزا شہباز حسین

  1. اپنی کہانی کیسے کہیں گے
    اپنی کہانی کیسے کہیں گے

    دلِ امید توڑا ہے کسی نے
    سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے

    اپنی کہانی کیسے کہیں گے
    اپنی کہانی کیسے کہیں گے

    نہ منزل ہے نہ منزل کا نشاں ہے
    کہاں پہ لا کے چھوڑا ہے کسی نے

    دلِ امید توڑا ہے کسی نے
    سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے

    قفس کی تیلیاں رنگین کیوں ہیں
    یہاں پہ سر کو پھوڑا ہے کسی نے

    دلِ امید توڑا ہے کسی نے

    شب غم کی صحر نہی ہوتی
    ہو بھی تو میرے گھر نہی ہوتی

    زندگی تو ہی مختصر ہو جا
    شب غم مختصر نہی ہوتی

    میں اِن شیشہ گروں سے پوچھتا ہوں
    کہ ٹوٹا دِل بھی جوڑا ہے کسی نے

    دلِ امید توڑا ہے کسی نے

    اپنی کہانی کیسے کہیں گے
    اپنی کہانی کیسے کہیں گے
    اپنی کہانی کیسے کہیں گے
    اپنی کہانی کیسے کہیں گے
    پیار کی آگ میں جلتے رہیں
    اپنی کہانی کیسے کہیں
    اپنی کہانی کیسے کہیں
    محبت میں مجھے برباد کر کے
    لہو کا دل نچوڑا ہے کسی نے

    دلِ امید توڑا ہے کسی نے
    سہارا دے کے چھوڑا ہے کسی نے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *