• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی وجوہات اور اس کا تدارک۔۔شہباز حسنین بیگ/مقابلہ مضمون نویسی

پاکستانی معاشرہ میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی وجوہات اور اس کا تدارک۔۔شہباز حسنین بیگ/مقابلہ مضمون نویسی

معاشرے میں رہنے والے افراد جب ذہنی اور جسمانی طور پر آسودگی سے محروم ہو جائیں تو بے چینی اور اضطراب پیدا ہوتا ہے ۔افراد کی یہی بے چینی اضطراب اور گھٹن انسانی رویوں میں شدت اور عدم برداشت کا موجب بنتی ہے ۔معاشرے کی تشکیل افراد سے جنم لیتی ہے ۔معاشرے میں رہنے والے افراد کی اکثریت جب ذہنی اضطراب اور گھٹن میں مبتلا ہو تو ایسے معاشرہ میں شدت پسندی اور عدم برداشت تیزی سے پھیلنے لگتی ہے ۔مثالی ترقی یافتہ معاشرے میں بسنے والے افراد آسودگی اور اطمینان کی دولت سے مالا مال ہوتے ہیں ۔انسان اپنی تمام زندگی میں آسودگی پیدا کرنے کا ہمیشہ سے خواہش مند رہا ہے ۔انسان بلوغت میں قدم رکھتے ہی آسودگی کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتا ہے ۔انسان کی بنیادی ضروریات ہی انسان کو آسودگی فراہم کرنے کا ذریعہ بنتی ہیں ۔بہتر خوراک جیون ساتھی اور رہنے کے لئے اچھا سا گھر یہ تین بنیادی عوامل انسان کو آسودگی فراہم کر کے ذہنی دباو اور اضطراب سے نجات دلانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی اور عدم برداشت کے پھیلاو میں بہت سے دیگر عوامل کے ساتھ ساتھ آسودگی اور خوشحالی سے محرومی نے بھی بنیادی کردار ادا کیا ۔پاکستانی معاشرے میں افراد کی اکثریت بہتر خوراک سے محروم چلی آرہی ہے ۔بابا فرید کہتے ہیں ۔۔۔
پنج رکن اسلام دے تے چھیواں فریدا ٹک ۔
جے لبھے نہ چھیواں پنجے ای جاندے مک۔
ترجمہ ۔اسلام کے پانچ ارکان ہیں ۔مگر ایک رکن اور بھی ہے جس کا نام ہے روٹی اور اگر وہ نہ ملے تو باقی سارے رکن بھول جاتے ہیں پاکستان میں عوام کی اکثریت قیام پاکستان سے لے کر آج تک اسی گھن چکر میں پھنسی ہوئی ہے ۔اور تو اور شام کو تھکا ہارا فرد جب خوراک کا انتظام کر کے لوٹتا ہے تو نا تو اسے سکون ملتا ہے اور نہ راحت ایسے میں اگر وہ جسمانی آسودگی کا خواہشمند ہو تب بھی اسے ہجر میں تڑپنا ہوتا ہے ۔وصل کے لئے باقی افراد کے گہری نیند میں جانے کا طویل انتظار کرنا پڑتا ہے ۔کیونکہ گھر میں موجود غربت کے باعث الگ بیڈ روم تو موجود نہیں ہوتا۔نتیجے کے طور پر چڑچڑاپن اعصاب پر ہمہ وقت طاری رہتا ہے ۔اور بات بات پر شدت پسندی اور عدم برداشت پر آمادہ رہتا ہے ۔پاکستان میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی وجوہات میں مندرجہ ذیل عوامل نے اہم کردار ادا کیا ہے ۔
غربت۔
ناانصافی ۔انصاف کے حصول میں درپیش مشکلات۔
تعلیم کا فقدان۔تعلیمی سلیبس میں موجود خامیاں۔
مذہب کا سیاسی استعمال مبلغین کا ضعیف روایات کا بے جا استعمال۔
مدارس کا تعلیمی نظام ۔
آرٹ اور فنون سے عدم دلچسپی۔
آمریت ۔مضبوط جمہوری نظام کا نہ ہونا۔
کتاب کلچراور لائبریری کا خاتمہ ۔
غربت انسان میں احساس محرومی کو جنم دیتی ہے ۔غربت کا مارا انسان بھی شدت پسندی کا آسان شکار ہوتا ہے ۔پاکستان میں غربت کی شرح میں اضافے نے معاشرے میں شدت پسندی اور عدم برداشت کو تیزی سے پھیلنے میں مدد دی ۔معاشرے میں غربت کا خاتمہ ریاست کی ذمہ داری ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان میں حکمران غربت کی شرح میں کمی کرنے میں یکسر ناکام رہے دوسرا معاشی عدم مساوات نے معاشرے کی اکثریت میں شدید احساس محرومی کو جنم دیا ۔پاکستانی معاشرے میں عوام کی اکثریت احساس محرومی اور ذہنی تناو میں مبتلا ہو چکی نتیجے کے طور پر پر شدت پسندی اور عدم برداشت میں اضافہ ہوا۔پاکستانی معاشرے مساوات اور برابری کے تصور کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔معاشرے میں پھیلی غربت اور معاشی ناہمواری جب وافر مقدار موجود ہو تو شدت پسندی اور عدم برداشت کو بڑھانے کے لئے فقط اک چنگاری کی ضرورت پڑتی ہے ۔انصاف بھی معاشرے کے لئے اک بنیادی ضرورت ہے ۔اگر کوئی شخص ظلم و جبر کا شکار ہو اور ریاست کا نظام انصاف متاثرہ شخص کی داد رسی میں ناکام رہے ۔تو متاثرہ شخص اپنے ازالے کے لیے کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہو جاتا ہے ۔مظلوم کے لئے اس کی زندگی بے معنی ہو جاتی ہے ۔اور زندگی کا واحد مقصد ظلم کا بدلا لینا بن جاتا ہے ۔پاکستانی معاشرے میں انصاف کا حصول عام آدمی کے لئے انتہائی مشکل اور صبر آزما ہے ۔انصاف کے حصول میں درپیش رکاوٹیں بھی شدت پسندی اور عدم برداشت کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوئیں۔
ترقی یافتہ معاشرے میں تعلیم پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔جبکہ پاکستانی معاشرہ میں تعلیم ہمیشہ حکمرانوں کی ترجیحات میں آخری درجہ پر شامل رہی ۔تعلیم کے فقدان کی وجہ سے معاشرے میں شعور اور فہم ناپید ہے جس کی وجہ سے عوام کی اکثریت کو سیاسی مقاصد اور مفادات کے لئے استعمال کرنا ہمیشہ سے آسان رہا ہے ۔تعلیم سے محروم عوام کے جذبات کو اشتعال دلانا بالکل مشکل نہیں چنانچہ پاکستانی معاشرہ میں ہر گروہ اپنے مفادات کے حصول کے لیے عوام میں شدت پسندی اور جذباتیت کو فروغ دیتا ہے ۔بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیمی سلیبس میں بے پناہ سقم موجود ہیں ۔اشرافیہ نے پاکستانی معاشرہ میں درسی کتب کے اندر اپنے بیانیے کی ترویج کے لئے تاریخی حقائق میں معمولی ردوبدل تو ہر
2ریاست اپنی قومی بیانیے کے لئے کرتی ہی ہے مگر پاکستان کے قیام کے وقت کی سیاسی قیادت اعتدال پسند اور روشن خیال تھی ۔قائداعظم محمد علی جناح بانئ پاکستان ایک اعتدال پسند اور روشن خیال رہنما تھے ۔برصغیر کی تقسیم کے وقت دوسری جانب بھی گاندھی جیسا اعتدال پسند عدم تشدد کا حامی رہنما موجود تھا ۔اور پاکستان کا قیام بھی ایک سیاسی تحریک کے ذریعے عمل میں آیا۔اور قائداعظم نے سیاسی جدوجہد کے ذریعے پاکستان کو آزاد کروایا۔مگر تقسیم کے وقت دونوں جانب موجود متشدد گروہ اک سیاسی اور پرامن جدوجہد کے بعد حاصل ہونے والی کامیابی کو خون آلود کرنے میں کامیاب ہوگئے ۔اور تقسیم کے دوران خون کی ندیاں بہا دی گئیں ۔لاکھوں لوگ اس سے متاثر ہوئے ۔مزید براں ہمارے خطے کی بدقسمتی کے پرامن اور عدم تشدد اور روشن خیال رہنماؤں کو زندگی نے مہلت نہ دی ۔قائداعظم قیام پاکستان کے ایک سال بعد ہی انتقال کر گئے۔جس کی وجہ سے پاکستان اور پاکستانی معاشرے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ۔قائداعظم کے بعد لیاقت علی خان کو بھی شہید ہوگئے ۔اس کے بعد آنی والی قیادت نے پاکستانی معاشرے کو انتہا پسندی اور جذباتیت کو فروغ دینے والے رہنماؤں کے سامنے اپنے ذاتی مفادات کی وجہ سے گھٹنے ٹیک دیئے ۔حالانکہ قائد اعظم پاکستان کو ایک جدید روشن خیال اور اعتدال پسند ریاست دیکھنا چاہتے تھے ۔جس میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ تمام مذاہب اور اقلیتوں کو یکساں حقوق اور مکمل مذہبی آزادی حاصل ہو۔اور قائد اعظم نے مختلف مواقع پر اپنے عزائم سے آگاہ کیا ۔کہ پاکستان بننے کے بعد اب ہم سب سے پہلے پاکستانی ہیں ۔اور جدید پاکستانی معاشرے میں ہر شخص کو مذہبی آزادی حاصل ہو گی ۔قائداعظم کے فرمودات کی روشنی میں قومی بیانیے کی تشکیل نہ ہو سکی ۔اور ہمارا قومی بیانیہ بتدریج انتہا پسندوں اور عدم برداشت کے پیروکاروں کی بلیک میلنگ کا شکار ہوتا رہا ۔اور اسی بیانیے کا عکس ہمارے تعلیمی سلیبس میں جابجا نظر آتا ہے ۔

پاکستان کے قیام کی تحریک کے دوران مذہبی جماعتوں کی اکثریت پاکستان کے قیام کی مخالفت پر کمربستہ رہیں ۔مگر مسلمانوں کی اکثریت نے قائد اعظم کا ساتھ دے کر مذہبی جماعتوں کے موقف کو شکست دی ۔شکست خوردہ مذہبی قیادت قائداعظم کے انتقال کے بعد سرگرم ہو گئی ۔پاکستان میں موجود مسلمانوں کو اپنی مرضی کا مسلمان بنانے میں مصروف ہو گئی ۔قیام پاکستان کے مخالف اب محافظ پاکستان کا چولا پہن کر پاکستانی معاشرے کی چولیںہلانے پر کمربستہ ہو گئیں۔
مذہب کو اپنی سیاست کے لئے استعمال کر کے معاشرے میں عدم برداشت اور شدت پسندی کو فروغ دینے میں نام نہاد مذہبی رہنماوں کے ساتھ ساتھ حکمران بھی کسی سے کم نہیں ۔نام نہاد مذہبی سیاسی قیادت نے ہمیشہ اپنے موقف کو مقبول بنانے کے لئے پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی اور جذباتیت اور ہیجان کا استعمال کیا۔ذوالفقار علی بھٹو جیسا رہنما بھی شدت پسندی کے سامنے بے بس ہوا ۔بعد ازاں جنرل ضیاءالحق نے اس ملک پر اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لئے مذہب کو معاشرے کے اندر شدت پسندی مذہبی انتہاپسندی فرقہ واریت اور عدم برداشت کو فروغ دینے کے لئے استعمال کیا ۔مبلغین کی اک نئی فوج سرکاری سرپرستی میں تیار کی گئی جنہوں نے ضعیف مذہبی روایات کو شدت پسندی اور عدم برداشت کے فروغ کے لئے استعمال کیا۔بے شمار مدارس قائم کیے گئے جن کا نظام دورحاضر کے تقاضوں سے یکسر مختلف اور مدارس نے معاشرے میں شدت پسند عدم برداشت اور مذہبی جنونی پیدا کئے جو اپنے علاوہ کسی کو مسلمان تو کیا انسان سمجھنے بھی گوارہ نہیں کرتے ۔عدم برداشت کو عروج کی نئی بلندیوں پر ضیاالحق کی آمرانہ حکومت نے پہنچا یا ۔ملک میں شدت پسندی کی آبیاری حکومتی سرپرستی میں جاری رہی ۔اسلام کے نام پر مسلمان ایک دوسرے کی تکفیر کرنے لگے ۔
آرٹ اور فنون لطیفہ پر اعلانیہ اور غیر اعلانیہ پابندیوں نے بھی پاکستان کے معاشرے میں شدت پسندی اور عدم برداشت میں اضافہ کیا۔فنون لطیفہ اور آرٹ معاشرے میں تحمل برداشت اور لوگوں کو سکون فراہم کرنے کا ذریعہ ہیں۔مگر حکومتی سرپرستی اور اعانت کے بجائے فنون لطیفہ اور آرٹ پر تنقید اور مذہب کے نام پر قدغنیں لگائی کر معاشرے میں شدت پسندی اور عدم برداشت کو بڑھاوا ملا ۔موسیقی فلم ڈرامہ انسانی ذہن پر خوشگوار اثرات مرتب کرتی ہے ۔اعصاب کو سکون فراہم کرتی ہے ۔ترقی یافتہ معاشرے آرٹ اور فنون لطیفہ کو خاص اہمیت دیتےہیں۔
ادب اور کتاب بھی اعتدال پسند اور روشن خیال معاشرے کے لئے اک بنیادی ضرورت ہے ۔مگر پاکستان کے معاشرے میں کتاب پڑھنے کا رحجان ناپید ہو چکا۔لائبریریز کا قیام حکومتی ترجیحات میں شامل ہی نہیں ۔حکومتی سطح پر کتب خانے قائم کرنے چاہیے ۔اور بچوں کو ابتدا ہی سے ادب اور کتاب کے مطالعہ کی جانب راغب کرنے کی ترغیب دے کر معاشرے کو شدت پسندی اور عدم برداشت سے پاک کرنا اس وقت پاکستانی معاشرے کی سب سے بڑی ترجیح ہونا چاہیے ۔آج پاکستانی معاشرے میں تعلیمی اداروں میں طلباء کو صرف اچھے گریڈ اور زیادہ نمبروں کی دوڑ میں شامل کر کے طلباء سے ان کا بچپن اور لڑکپن چھین لیا گیا۔آج کے پاکستانی معاشرے میں تعلیمی اداروں میں طلباء شعور سے محروم صرف مارکس کے لئے کوشاں روبوٹ بن چکے ۔کھیل بھی معاشرے میں صحت مندانہ سرگرمیوں کے ضامن ہیں اور شدت پسندی کے سامنے دیوار کا کام کرتے ہیں ۔پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی اور عدم برداشت کے تدارک کے لئے کھیلوں کافروغ
بھی ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے ۔پاکستانی معاشرے میں شدت پسندی اور عدم برداشت کی وجوہات اور ان کا تدارک انتہائی تفصیلی اور طوالت کا متقاضی موضوع ہے ۔مگر سردست اہم وجوہات کا خلاصہ ہی بیان کیا جاسکتا ہے ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *