ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور معیشت۔۔۔۔مرزا شہبا ز حسنین بیگ

معیشت اور اقتصادیات انتہائی پیچیدہ مو ضوعات ہیں۔معیشت پر لکھنا کافی مشکل کام  ہے  ۔مگر معیشت کے متعلق بنیادی معلومات کو سمجھ کر عمل کیا جائے تو معاشی بحران کو سمجھنے کے علاوہ معاشی مسائل کا حل بھی نظر آنے لگتا ہے ۔پاکستان کی معیشت کو کافی عرصہ سے بنیادی اصول و ضوابط کے بغیر چلایا جا رہا ہے ۔جگاڑ ایک اصطلاح ہے جو عام استعمال ہوتی ہے ۔جگاڑ ایک ایسا فارمولہ ہے جو غریب لوگ استعمال کرتے ہیں ۔جس کا فائدہ وقتی ہوتا ہے ۔دیرپا فائدے کے لیے  ہمیشہ اصول اور بنیادی طریقہ کار پہ چل کر ہی کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔عام فہم سی بات ہے کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا ۔اسی طرح جگاڑ بھی وقتی فائدہ دے سکتا ہے مگر دیرپا اور مستقل فائدہ دینے سے قاصر ہے ۔مگر چونکہ ہماری قوم جگاڑ کی اس قدر عادی ہو چکی ہے  کہ اب وہ ہر بحران سے نکلنے کے لیے  فقط جگاڑ پر تکیہ کیے  بیٹھی ہے ۔

بچپن میں عام طور پر آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا سائیکل کی گراری کے دندانے پھسل جاتے تھے ۔جسے عرف عام میں سائیکل کے کتے فیل ہو گئے ،کہا جاتا ہے ۔۔تو جگاڑ کے طور پر  اکثریت سائیکل کھڑا کر کے گراری پر پیشاب کر کے پھر سائیکل پر سوار ہو کے چل پڑتی مگر تھوڑی دیر کے بعد پھر وہی مسئلہ دوبارہ سامنے آ جاتا ،تو سمجھنے کی بات  یہی ہے کہ آخر کب تک پیشاب کر کے کام چلاتے رہو گے ۔معیشت کو درست کرنے کے لیے  اصول پر مبنی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی ۔یہ راستہ مشکل ضرور ہے مگر اس راستے کے بعد ہم منزل پر پہنچ جائیں گے ۔

معیشت کا انحصار دو بنیادوں پر ہوتا ہے ،یا تو ملک کے اندر قدرت کے عطاء کردہ وسائل کی بہتات ہو  اور دوسرا اس ملک کی عوام اپنی آمدن میں سے ٹیکس ادا کرے ۔ان دو طریقوں کے علاوہ کوئی بھی حکومت ملکی معیشت کو بہتر چلانا تو دور کی بات سِرے سے چلا ہی نہیں سکتی ۔وسائل سے مالا مال معیشت کی مثال سعودی عرب قطر کویت اومان اور بحرین جیسے ممالک ہیں۔جبکہ ٹیکس بیس معیشت کے لیے  یورپی ممالک اور ناروے سویڈن اور ڈنمارک جیسے ممالک ہیں ۔

ایک اور طریقہ بھی ہے معیشت کو بہتر انداز میں چلانے کا سیروسیاحت اور تفریحی سہولیات کی فراہمی سے دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنے ملک میں سیاحت اور تفریح کا شاندار ماحول مہیا کیا جائے مگر یہ ہمارے قدامت پرست معاشرے میں ناممکنات میں سے ہے ۔اس طریقے  کی مخالفت شدت پسند عناصر کی جانب سے ہوگی ۔اور سیاح امن پسند اور روشن خیال ممالک کو ترجیح دیتے ہیں۔ سو لے دے کر ایک ہی طریقہ باقی بچتا ہے،کہ عوام سے بالواسطہ اور بلاواسطہ ٹیکس جمع کیا جائے ۔پاکستان میں ہمیشہ ٹیکس جمع کرنے کے سیلز ٹیکس بڑھا کر حکومت کام چلاتی رہی نتیجے کے طور پر معاشی خسارہ بڑھتا رہا ۔اور قرضہ جات میں بھی ہوشربا اضافہ ہوا ۔برآمدات اور درآمدات میں بڑھتی خلیج نے بھی بھی معیشت کے ڈوبنے میں اہم کردار ادا کیا ۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار حکومت سنجیدگی سے ٹیکس نیٹ میں اضافہ چاہتی ہے تاکہ عام آدمی پر بوجھ کم ہو اور ٹیکس نیٹ میں اضافہ کے لیے  ٹیکس ادا کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے ۔

پاکستان میں بے شمار کاروبار کرنے والے ہمیشہ مافیا کی طرز پر حکومت کو بلیک میلنگ کا شکار کرتے رہے ہیں اور کر رہے ہیں ۔مگر تاریخ میں پہلی بار حکومت شاید ان کے ہاتھوں بلیک میل نہیں ہونا چاہتی۔میڈیا کا کردار بھی کسی ریاست میں بہت اہم ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں کا میڈیا ابھی تک فکری بلوغت سے ناآشنا ہے ۔ہمارے معاشرے میں اصولی بنیاد پر ہمدردی ناپید ہے ۔ہمارے معاشرے کی اکثریت ہمدردی کے مفہوم کے متعلق بھی کج فہمی کا شکار ہے ۔کیونکہ آج کے دور کا میڈیا عوامی رائے بناتا اور بگاڑتا ہے ۔عمومی رویہ سمجھنے کے لیے  صرف ایک مثال دیتا ہوں ۔سڑک پر کار کا موٹر  سائیکل سے تصادم ہو تو خبر کچھ یوں ہوتی ہے ۔تیز رفتار کار نے مو ٹر سائیکل سوار تین افراد کو کچل ڈالا ،جبکہ ہماری ہمدردی ہمیشہ مو ٹر سائیکل سوار کے ساتھ ہوتی ہے ۔کبھی بھی ہم اس حادثے کی جُزیات کو دیکھنے کی زحمت نہیں کرتے کہ ہوسکتا  ہے مو ٹر سائیکل سوار اناڑی ہو ، غلطی مو ٹر سائیکل سوار کی بھی ہو سکتی ہے ، چونکہ وہ جانبر نہ ہو سکا  لہذا سارا قصور کار والے کا فرض کر لیا جاتا ہے ۔

میڈیا عوامی ہمدردی کا تاثر بنا کر عوام کو یہ بتانے کے لیے  تیار ہی نہیں کہ ان کی مشکلات کی بنیادی وجہ پُر تعیش زندگی گزارنے والوں کا ٹیکس نہ ادا کرنا ہے ۔بھٹہ خشت والے اینٹ بناتے ہیں ۔یہ کاروبار کروڑوں کا ہے ۔کوئی بتا سکتا ہے یہ وہاں کام کرنے والوں کو کیا اجرت دیتے ہیں ،اور مالکان کتنا سالانہ ٹیکس ادا کرتے ہیں۔بھٹہ مالکان ہمیشہ سے ہی انتہائی کھاتے پیتے لوگ ہوتے ہیں لاکھوں کی ماہانہ آمدن اور ٹیکس ایک پیسہ نہیں دیتے ۔

کنٹرول شیڈ پولٹری کا ایک شیڈ تقریبا 3 کروڑ میں شروع ہوتا ہے آج کل قصبہ کی سطح پر کنٹرول شیڈ قائم ہیں ۔ٹیکس دیتے ہیں؟۔۔ جواب” نہیں” میں ہو گا ۔پاکستان میں گھریلو ملازمین کی تعداد امیر گھرانوں میں چھ سے دس تک بھی ہے ۔آپ پورے یورپ میں چیک کریں وہاں کی ایلیٹ کلاس اتنے ملازمین خدمتگار رکھ سکتی ہے، جواب “نفی” میں ہوگا ۔کیونکہ انہوں نے ٹیکس ادا کرنا ہوتا ہے ۔وہ لوگ اتنے گھریلو ملازمین افورڈہی نہیں کر سکتے ۔

میڈیا اینکرز بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ کے ثمرات بتانے کے بے یقینی اور مہنگائی کی ہولناکیوں سے متعلق پروگرام کرنے میں مصروف ہے ۔ہمارے ہاں لوگ شادیوں میں 30 تولے 50 تولے سونے کے زیورات دلہن کو تحفے کی صورت میں دیتے ہیں ۔مگر کوئی بتا سکتا ہے کہ شادی پر 50 لاکھ خرچ کرنے والے ٹیکس کتنا ادا کرتے ہیں۔سعودی عرب جیسے ملک میں 5 ریال کی گولڈ لیف 16 ریال کی  کر دی  گئی ہے،کس لیے؟ ۔۔۔اس لیے کہ معیشت پر تیل کی کم قیمتوں کا بوجھ نہ پڑے ۔ٹیکس دینا ہوگا معیشت کو سدھرنے کے لیے  ٹیکس ادا کرنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ بہت ضروری ہے تاکہ غریب پر مہنگائی کا بوجھ کم ہو ۔

رمضان میں حکومت کے اربوں روپے سستا رمضان بازار کی نظر ہو جاتے ہیں ۔جبکہ غریب افراد کو ٹی وی چینلز والے کیمروں میں حکومت کے خلاف شکوہ کناں دکھاتے ہیں ۔ابھی رمضان کو گزرے ایک ماہ ہوا ہے ابھی بازار میں آم آلو بخارہ آڑو اور دیگر پھل 50 روپے سے 100 روپے کلو فروخت ہو رہے ہیں ۔جبکہ رمضان مصنوعی مہنگائی کا طوفان برپا کرنے والے کارٹل مافیا کروڑوں غریب کی جیب سے نکال کر مزے کرتے ہیں ۔عام ریڑھی بان سے لے کر بڑے تاجر تک ہر طبقہ اس مصنوعی مہنگائی میں اپنا اپنا حصہ ڈالتا ہے  اور ناجائز منافع خور رمضان کا آخری عمرہ مکہ اور مدینہ شریف میں گزارتا ہے ۔آج کل ہمارے ملک میں ایک سال میں لوگ چار بار عمرہ کرتے ہیں ۔لیکن اگر حکومت ٹیکس کی بات کرے تو وہ ظالم ۔

سب سے پہلے معاشرے کو اس بات کی آگہی ہونی چاہیے کہ جب وسائل نہیں ہوں گے تو گنجی نہائے گی کیا نچوڑے گی کیا۔حکومت کب تک قرضہ جات کے انجیکشن کے ذریعے معیشت کو سہارا فراہم کر سکتی ہے ۔جگاڑ ختم کرنا ہو گا مستقل معاشی خود مختاری کی جانب بڑھنے کے لیے اب انکم ٹیکس بھی دینا ہوگا ۔پراپرٹی اور ویلتھ ٹیکس بھی، غضب خدا کا ایک پلاٹ کی فائل پانچ جگہ پر بِکتی ہے لاکھوں کا منافع کمایا جاتا ہے اور ٹیکس کی بات پر سیاپا شروع ہو جاتا ہے ۔جس شعبہ پر بھی ٹیکس لگانے کی بات کی جائے اسی شعبے کی تباہی کا واویلا مچا کر بلیک میلنگ کی جاتی ہے ۔نقصان صرف غریب کا ہوتا ہے ،جو اشیاء ضرور یہ پر ٹیکس ادا کرتا ہے ۔ان بڑے ٹیکس چوروں کی وجہ سے  پہلی بار خود انحصاری کی طرف قدم بڑھانے کی سنجیدہ کوشش کا مذاق اڑانے کے  بجائے ساتھ دینا چاہیے ۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *