پیشہ ور منجن فروش اور ان کے روایتی طریقے۔۔۔شہباز حسنین بیگ

آج کل تو نان اسٹاپ ایئر کنڈیشنڈ بسوں کا دور ہے ۔لیکن ماضی قریب میں بسیں ہر  سٹاپ پر رک کر تھوڑی دیر وقفے کے بعد چلا کرتی تھیں ۔بس کے لاری اڈے پر رکنے کے وقفے کے دوران بھانت  بھانت کی اشیاء بیچنے والے آتے اور اپنا سامان سواریوں کو فروخت کرنے کی کوشش کرتے۔لیکن ان اشیاء بیچنے والوں میں سے دھماکے دار انٹری منجن فروش کی ہوتی ۔منجن فروش الفاظ کی جادوگر ی سے بس کے اندر اک سماں باندھ  دیتا ۔منجن کے اجزائے ترکیبی گنواتا اور آخر میں  منجن کے فوائد گنوانے میں  اس قدر مبالغہ آرائی سے کام لیتا کہ انسان مبہوت رہ جاتا ۔بیشتر سواریوں کو یقین ہو جاتا کہ ڈینئل سرجن تو بس ایویں جھک مارنے کے لیے بیٹھے ہیں۔دس روپے کے  منجن دانتوں کی تمام جملہ امراض کا تریاق ہے۔منجن فروش اپنی فنکاری  کے جوہر دکھا کر پوری بس پر نظر ڈالتا چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگاتا، جب اس کو محسوس ہوتا کہ منجن کوئی خرید نہیں  رہا تو اپنے ترکش سے آخری ہوائی تیر چلاتا ۔بس کے سب سے پچھلے حصے کی جانب دیکھ کر ہانک  لگاتا جی بھائی جان دو ڈبیاں  چاہیئں ؟ ۔۔بس صبر کریں جی آپکو بھی چاہیے ؟ اچھا جی ایک ڈبی  آپ کو بھی جی میں ابھی آیا ۔اتنے میں اس کے آس پاس موجود سواریاں بھی جو ابھی تک شش و پنج میں مبتلا ہوتیں ۔وہ بھی منجن خرید لیتں۔اب منجن فروش ان سے پیسے لے کر پیچھے والے دروازے سے نکل جاتا جبکہ پچھلے حصے میں اس کے کسی گاہک کا وجود نہیں ہوتا تھا۔

بالکل اس طرح کے منجن فروش پچھلے ستر سال سے ساری عوام کو بے وقوف بنانے میں مصروف ہیں ۔سیاست کے میدان میں  مختلف منجن فروش اپنا منجن لے کر عوام کو اپنی فنکاری سے متاثر کرنے میں مصروف ہیں ۔کوئی زیادہ کامیاب ہے اور کوئی کم ۔مذہبی منجن فروش بھی عرصہ دراز سے اپنی فنکاری سے متاثر کرنے کی کوشش میں لگے ہیں ۔مگر اس منجن کے اجزائے ترکیبی میں سٹیرائڈز اجزاء کی تعداد زیادہ ہے ۔نتیجے کے طور پر مذہبی منجن فروش  اپنا منجن بیچ کر فائدے کی بجائے نقصان زیادہ کر رہے ہیں ۔اور ایک دانت کا درد ٹھیک ہونے کی بجائے قوم کی پوری بتیسی ہل چکی ہے۔اب پھر الیکشن کا موقع ہے ۔منجن فروشوں کی ان گنت تعداد عوام کو اپنے اپنے منجن کے فائدے روایتی طریقے سے گنوا رہی ہے ۔مگر اب کی بار عوام کو درست فیصلے کرنے ہوں گے ۔مذہبی منجن فروش اس بار بھی پوری آب وتاب سے اپنی دوکان سجا چکے ہیں ۔اور اب کی بار ہر بیماری کے لیے الگ الگ منجن تیار کر چکے ہیں ۔سب سے بڑی دوکان مذہبی منجن کی متحدہ مجلس عمل کی صورت میں سامنے آچکی ہے ۔جس کی مثال کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان  متی نے کنبہ جوڑا کی سی ہے۔اپنے منجن کو اسلامی کہہ کر بیچنے والے ان منجن فروشوں سے عوام کو زیادہ ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ ان کی منزل اسلام نہیں اسلام آباد ہے ۔اس منجن کو بیچنے والے اسلام آباد میں اقتدار کے جھولے کے حصول کے لیے روایتی طریقے سے عوام کو دین کے نام پر بلیک میل ماضی میں بھی کرتے رہے اور اب بھی کر رہے ہیں ۔عوام کے حقیقی مسائل کا ادراک نہ ان کو پہلے تھا نہ اب ہے۔

اس بار اک نیا منجن بھی مذہب کے نام پر مارکیٹ میں آیا ہے ۔خادم رضوی کا منجن ۔۔خادم رضوی مذہبی جذباتیت اور مافوق  الفطرت قسم کی خصوصیات بتا کر عوام کو اپنی فنکاری سے متاثر کرنے کی کوشش میں لگا ہے۔ان کے خیال میں موصوف کا منجن اگر بک گیا تو عوام کو نہ بجلی کی ضرورت ہوگی نہ صحت کی سہولیات کی نہ تعلیم کی ۔کیونکہ پورے ملک کی بیماریوں کا علاج جناب خادم رضوی خود کریں گے ۔جیسے انہوں نے اپنے گردوں کا کیا صرف ایک جملے سے چلو سدھے ہو جاو۔اس جملے کو سننے کی دیر تھی گردوں کا ڈائلیسز خودکار طریقے سے ہو گیا ۔زیادہ پیچیدہ امراض کا علاج خادم رضوی طب کے میدان میں اپنی نئی ایجاد۔۔۔گالم گلوچ تھراپی سے کر دیا کریں گے ۔بجلی پانی کے مسائل ان کے حکم سے فرشتے منٹوں میں حل کر کے عوام کو جہنم میں جنت جیسا ماحول فراہم کریں گے۔اس بار فرقہ واریت کا منجن مارکیٹ میں  شاٹ ہے ۔البتہ انتہاپسندی کا منجن رضوی منجن کی صورت میں دستیاب ہے۔لسانیت اور قوم پرستی کا منجن فروخت کرنے والے اس بار آپس میں گھتم  گھتا ہیں ۔اس لیے عوام اس طرف سے محفوظ ہے۔

باقی بچے ہیں  تین بڑی کمپنیوں کے منجن، دو کمپنیاں باری باری 30 سال تک مارکیٹ میں اپنی اجارہ داری قائم رکھ چکی  ہیں ۔اس بار بیانیہ منجن اور نظریاتی منجن کی اجارہ داری کو چیلنج کرنے کے لیے نیا منجن انصافی منجن کے نام سے مارکیٹ میں آچکا ہے۔انصافی منجن کا دعوی ہے کہ پچھلے ستر سال کی تمام بیماریوں کا علاج انصافی منجن چٹکیوں میں حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے  ۔انصافی منجن بیک وقت کرپشن کے تمام ضدی داغ صاف کرنے کے ساتھ نظام کی جڑوں کو بھی مضبوطی فراہم کرےگا ۔بیانیہ منجن فروش کے دعوے کے مطابق اب کی بار اقتدار میں  آکر بیانیہ منجن احتسابی اور عدلیہ نام کے کیڑے کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گا اور وقار نامی بیماری سے ہمیشہ کے لیے اس ملک کو محفوظ کر دے گا۔نظریاتی منجن فروش کے مطابق اب اقتدار میں آکر ہمیشہ کی طرح بھٹو کو زندہ رکھنے کی مکمل کوشش کی جائے گی ۔چاہے اس کے لیے عوام کو ہمیشہ کے لیے مارنا پڑے مگر بھٹو کو زندہ رکھنے کی سر توڑ کوشش کی جائے گی ۔اب عوام کی بتیسی کی سلامتی کا انحصار ان کے اپنے فیصلے پر ہے ۔کہ وہ کس منجن فروش کو موقع فراہم کرتے ہیں ۔انصافی منجن پہلی دفعہ میدان میں  آیا ہے ۔اس لیے ابھی اس کے سائیڈ  ایفکٹس  سے مکمل آگاہی نہیں ہے ۔لہذا عوام سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے۔

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *