• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • مکالمہ کی دوسری سالگرہ پر میرے جذبات۔۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

مکالمہ کی دوسری سالگرہ پر میرے جذبات۔۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

دو سال پہلے میں فیس بک پہ محض سکرولنگ کرتا تھا ۔کوئی بھی تحریر نظر آتی تو پڑھتا رہتا ۔جب تنگ آجاتا تو میرے ساتھ میرا دوست اور کولیگ ارسلان موجود ہوتا تھا ۔ہم دونوں مطالعہ کے شوقین ہیں ۔چنانچہ ہم جب فیس بک پہ ڈھیروں مضمون چٹ کر جاتے تو آپس میں کسی بھی موضوع پر گفت و شنید کا آغاز کر دیتے ۔اب ارسلان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ گفتگو جیسی بھی ہو بھلے لایعنی ہو سنتا انتہائی انہماک اور صبر کے ساتھ ہے ۔اور بولنے والے  کو مکمل توجہ ملتی ہے مگر دو دن کے بعد بولنے والے کی خوش فہمی دور کر دیتا ہے ۔کہ جناب دو دن پہلے آپ نے مسلسل میرے دماغ کی پورے دو گھنٹے دہی بنائی   اور میں ضبط کر کے آپکی فضول باتیں سنتا رہا۔ایک دن اچانک کہنے لگا یار تم لکھتے کیوں نہیں۔تم لکھ سکتے ہو میں نے کہا یار مجھ میں تو کوئی قابلیت نہیں علم اور تجربہ بھی نہیں ۔مگر مجھے کہا نہیں یار سچ میں تم لکھو تم لکھ سکتے ہو ۔خیر اصرار جب حد سے بڑھا تو پہلا مضمون لکھ مارا ۔اور ہم سب ویب سائٹ پر بھیج دیا مگر کافی دن گزر گئے ہم سب کے معیار پہ شاید پورا نہ اتر سکا ۔اس لئے شائع نہ ہو سکا ۔چند دن کے بعد وہی مضمون دلیل پر بھیجا تو 2 دن کے بعد شائع ہو گیا ۔یقین کریں کہ عجیب سی  خوشی ہوئی ۔اور میں بلاتفریق ہر بندے کو جا کے دکھانے لگا یہ دیکھو میرا مضمون چھپا ہے ۔میرے خیال سے کوئی 50 بار تو خود ہی پڑھا پھر دوستوں کو مسیج کر کے پڑھنے پر مجبور کرتا رہا کافی دن یہ سلسلہ جاری رہا ۔

چند مضمون اور لکھے مختلف سائٹس پر   مگر مضمون شائع ہو نے کے بعد   ویوز بہت کم ہوتے ۔اس دوران انعام رانا صاحب نے مکالمہ ویب سائٹ کا آغاز کیا ۔ جو تازہ ہوا کا جھونکا محسوس ہوا۔  جمعہ خان صوفی کی کتاب پڑھ کے ایک مضمون لکھا ۔جس میں ایک جملہ تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز ہر گز مذہبی جماعتوں نے نہیں کیا ۔میری خوش قسمتی کے اس پر انعام رانا صاحب نے کمنٹ کیا lols.یہ میرا انعام بھائی سے پہلا تعارف تھا ۔انعام رانا صاحب نے مجھے ان باکس میں رابطہ کر کے کہا بھائی مکالمہ پر لکھا کرو ۔بس اس ایک لفظ بھائی نے مجھے خرید لیا ۔انعام رانا صاحب کا بھائی کہنا میرے قلب و جاں میں پیوست ہو گیا ۔اور میرا رب جانتا ہے آج تک سمجھ نہیں سکا ۔کہ کیوں اور کیسے اسی لمحے میں انعام رانا کی محبت  میں گرفتار ہوگیا ۔ایسی محبت  جیسی علیم الحق حقی صاحب اپنے ناولوں میں پیش کرتے تھے ۔انعام بھائی نے عمران حیدر مرحوم کی وفات پہ کہا کہ اسے مجھ سے شدید محبت تھی ۔وہ میری تصاویر بناتا میرے ایک بار کہنے سے اپنی محنت ضائع کر دیتا ۔معلوم نہیں مجھے انعام بھائی سے کیوں محبت ہو گئی اور پھر انعام بھائی کے خلوص نے ایک عام سے لکھاری کو پہچان دے دی ہر قدم پر رہنمائی کی ۔

میرے مضامین کو اپنی وا ل پر شئیر کر کے میری حوصلہ افزائی کی انعام بھائی کی بہت سی خوبیوں میں سے ایک خوبی انمول ہے وہ ہے اہل بیت سے محبت اور آل رسول سے یہ محبت میرے قلب کو مسخر کر گئی ۔مکالمہ کی سب سے بڑی خصوصیت ہے۔پوری ٹیم کو ساتھ لے کر چلنا ،مکالمہ کے تمام کرتا دھرتا ہی بہت محبت اور عزت دیتے ہیں ۔احمد رضوان بھائی ،اسماء آپی، حافظ صفوان صاحب عارف خٹک ،طاہر یاسین صاحب سے لے کر اویس قرنی، معاز بن محمود اور مریم مجید ڈار صاحبہ،زرقا اظہر ،حمیرا بہن  تمام کے ساتھ قلبی تعلق محسوس ہوتا ہے ۔یوں لگتا ہے جیسے سب میرے فیملی ممبرز ہیں۔مکالمہ پر ہمیشہ نئے آنے والوں کو خوش آمدید کہا گیا ۔لفظوں کو تراش خراش کے کیسے بامقصد بنانا ہے ۔سب کچھ مکالمہ سے سیکھا ۔مکالمہ نے تعصب سے پاک صحت مند گفت و شنید اور تعمیری تنقید جس کا مقصد ملک و قوم کی ترقی ہو اس کے فروغ کے لیے دو سالوں میں بے شمار کوشیش کیں۔مکالمہ کے روح رواں انعام رانا صاحب نے مکالمہ کے پلیٹ فارم پر مختلف الخیال لوگوں کو محبت کی لڑی میں پرو دیا ہے ۔

مکالمہ کی دی گئی پہچان میرے لئے سرمایہ حیات ہے ۔بہت سی ویب سائٹ والوں نے بندہ ناچیز کو کہا کہ آپ ہمارے لئے لکھیں ۔مگر کوئی میرے دل سے واقف نہیں کہ میں ناچیز تو انعام بھائی کی محبت کا اسیر ہوں ۔جب تک زندگی ہے محبت کم نہیں ہو سکتی لکھنا چھوڑ سکتا ہوں مگر مکالمہ کو کبھی چھوڑ نہیں سکتا ۔مکالمہ کو دوسری سالگرہ پر میری طرف سے نیک تمناؤں کے ساتھ مبارکباد۔مکالمہ ویب سائٹ کے تمام ایڈیٹرز اور تمام ارکان کو دل سے مبارکباد ۔اللہ تعالی مکالمہ ویب سائٹ کو دن دگنی رات چوگنی ترقی عطا فرمائے۔آمین ۔اور ہمارے معاشرے میں محبتوں کا راج ہو نفرتوں کا خاتمہ اور پاکستان میں انتہا پسندی اور جذباتیت عدم برداشت تعصب اور فرقہ واریت کے خاتمہ کے لیے مکالمہ یونہی اپنا کردار ادا کرتا رہے ۔انعام بھائی اور ان کی پوری فیملی ہمیشہ شاد رہے آباد رہے اور جلد ہمیں جونیئر انعام کے آنے کی خوش خبری ملے۔زندگی میں اک خواہش اور بھی ہے کاش انعام بھائی سے ملاقات ہو جائے ۔مکالمہ چلتا رہے ۔سلامت رہے تا قیامت رہے

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *