بھگت سنگھ کی سالگرہ پر۔۔۔۔ آصف محمود

جس معاشرے کے فکری انحطاط کا یہ عالم ہو کہ وہ مخیر ہندوؤں کے بنائے گئے خیراتی ہسپتالوں کے نام بھی تبدیل کر کے عمارات کو مسلمان بنانا چاہتا ہواس معاشرے میں کوئی بھگت سنگھ کے لیے کلمہ خیرکہنے پر معترض ہوتا ہے تو یہ ایک فطری امر ہے۔آدمی اپنی افتاد طبع کا اسیر ہوتا ہے۔اور اس اسیری سے رہائی کے لئے جو لوازمات درکار ہیں اپنے سماج میں ان کی تلاش وہ کوہ کنی ہے جس کے تصور ہی سے زہرہ آب ہو جاتا ہے۔لیکن اگرٹھنڈے دل کے ساتھ جائزہ لیں تو ہم اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ ہمارے تعصبات بے معنی ہیں۔

کیا ہم جانتے ہیں کہ بھگت سنگھ کے حق میں سب سے پہلے اٹھنے والی بھر پور اور توانا آواز کس کی تھی؟بھارت کے سابق وزیرِ خارجہ جے۔این۔ڈکشت کو بھی تسلیم کرنا پڑا کہ ’’ سب سے توانا ،مظبوط اور بے خوف آواز جو بھگت سنگھ کے حق میں اٹھی ،محمد علی جناح کی تھی‘‘۔سید شریف الدین پیرزادہ کی گواہی ان کے مقالے ’قائد اعظم محمد علی جناح اینڈفنڈامنٹل رائٹس‘ میں موجود ہے۔وہ لکھتے ہیں ،قائد اعظم نے اس ٹرائل کو ’انصاف کا مذاق‘ قرار دیا تھاانہوں نے اس مقدمے کو ” Travesty of Justice”کانام دیا تھا۔قانون ساز اسمبلی میں قائد اعظم نے 12ستمبر اور 14ستمبر1929کو اس معاملے پر تفصیل سے بات کی۔اپنی تقریر میں انہوں نے کہا:

. “He was not an ordinary criminal who is guilty of cold blooded sordid wicked crime………The money of the tax payers will not be wasted in prosecutin men,nay citizens,who are fighting and struggling for the freedom of their country”.

ماضی قریب میں ایک بحث چلی کہ بھگت سنگھ کے نام سے کوئی جگہ منسوب کی جانی چاہیے تو اس پر بہت نقد ہوا۔ میرے نزدیک یہ بلاجواز تھا۔جس آدمی کو قائد اعظم خود آزادی کا سپاہی قرار دے رہے ہوں اس سے اگر کوئی عمارت یا چوک منسوب ہو جائے تو اس میں قباحت ہی کیا ہے؟بھگت سنگھ کی لڑائی کس سے تھی؟مسلمانوں کے ساتھ یا انگریز کے ساتھ؟انگریز کے ساتھ لڑنے والے بھگت سنگھ سے ،جسے قائد اعظم بھی آزادی کا سپاہی قرار دے رہے ہوں ،ہمارا کیا جھگڑا ہے؟حقیقت تو یہ ہے کہ اس خطے سے ہمارا اقتدار ختم کرنے والے ہندو یا سکھ نہیں تھے بلکہ انگریز تھے۔یہ الگ بات کہ جاتے جاتے انگریز نفرتوں کا ایک نیا بیج بو گئے اور آج ہم انگریزوں سے ڈالر لے کر اپنے بچوں کو ڈرون سے مرواتے ہیں لیکن بھگت سنگھ کے نام پر ایک عمارت یا چوراہے کا نام ہماری غیرت مند سماعتوں پر گراں گزرتا ہے۔انگریز کے خلاف جدوجہد ہمارا مشترکہ ورثہ ہے۔اس سے انکار تاریخ سے لڑنے کے مترادف ہے اور تاریخ کو کوئی نہیں بدل سکتا۔سلطان ٹیپو بھی انگریز سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔کیا ہمیں علم ہے بھارت میں ٹیپو کا کیا مقام ہے؟کرناٹکا کی نصابی کتابوں میں ہمارے شہید سلطان کا ذکر آزادی کے مجاہد کے طور پر درج ہے۔میں نے نیپال میں ’تری بھون یونیورسٹی‘ میں یہ کتابیں خود دیکھی ہیں۔کرناٹکا کے ضلع ’منڈیا ‘میں سلطان شہید کی یاد میں دو کالج اور ایک میوزیم بنایا گیا ہے۔اس میوزیم میں جس محبت سے سلطان سے منسوب چیزیں جمع کی گئی ہیں وہ جذبہ قابل قدر ہے۔سلطان ٹیپو کی تلوار جو سکاٹ لینڈ کے ایک جرنیل کے پاس تھی بھارت کا ایک تاجر وجے مالیا ایک غیر معمولی رقم ادا کر کے دو سو سال بعد واپس بھارت لایا۔اس نے بھارت پہنچ کر اسے چوما اور فخر سے لہرایا۔غیر ملکی صحافی نے سوال کیا :اتنی بھاری رقم آپ نے ادا کر دی؟وجے مالیا نے جواب دیا: یہ شیر کی تلوار ہے،ہماری قومی غیرت کا نشان۔سٹیٹس مین جیسے اخبار نے سرخی جمائی’’ شیر کی تلوار واپس آ گئی‘‘۔دی ہندو نے لکھا: ہمارے ٹائیگر کی یہ نشانی ہمارے پاس ہی ہونی چاہیے تھی۔ایس۔کے گڈوانی نے اس پر ایک ناول لکھا جس کا نام تھا’’ سورڈ آف ٹیپو سلطان‘‘۔اس ناول کی دو لاکھ کاپیاں صرف بھارت میں فروخت ہوئیں۔یاد رہے ہمارے ہاں اچھی کتاب کا ایڈیشن بھی ایک ہزار کی تعداد میں چھپتا ہے۔ٹیپو پر لکھے ناول کی دو لاکھ کاپیاں اگر فروخت ہوئیں تو کیا یہ اس بات کا ثبوت نہیں کہ سماج میں بھی ٹیپو سلطان کو ایک غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ موسم گرما میں ٹیپو سلطان بنگلور کے جس محل میں جا کر قیام کرتے تھے اسے بھارت نے قومی ورثہ قرار دیا ہوا ہے اور اس محل کے داخلی دروازے پر لکھا ہے”The Tiger comes to Town” ۔چنائی میوزیم میں ٹیپو سلطان کی ایک ایک چیز دنیا بھر سے اکٹھی کر کے رکھی گئی ہے، ٹیپو سے ان کی محبت کا عالم یہ ہے کہ جو چیزیں نہیں مل سکیں ،پیرس سے ان کی نقل تیار کروا کے رکھی گئی ہے۔ڈاکٹر کلام ،جو بھارت کے صدررہ چکے ہیں، بھارت کے قومی دن کے موقع پر یہ کہہ کر سلطان کو خراج تحسین پیش کر چکے ہیں کہ دنیا کا سب سے پہلا جنگی راکٹ ٹیپو نے بنایا تھا۔1990 میں اس ناول پر ڈراما بنا جو دور درشن پر چلا،اس کے بعد یہی ڈرامہ سٹار پلس پر چلا۔بنگالی زبان میں اس کا ترجمہ ہوا اور یہ بنگال ٹی وی پر بھی چلا۔پھر اس کا تامل زبان میں ترجمہ ہوا اور اسے دور درشن کے تامل زبان میں چلنے والے ٹی وی ’پوڈ گھئی‘ پر بھی دکھایا گیا۔اس ڈرامے کی شوٹنگ کے دوران حادثے کی وجہ سے 62لوگ مارے گئے مگر ریکارڈنگ جاری رکھی گئی۔

12نومبر2012کو بھارتی حکومت نے ایک اور اعلان کر دیا۔سرنگا پٹم میں سلطان ٹیپو یونیورسٹی بنائی جائے گی۔بھارتی وزیر اعظم نے اس کی منظوری دے دی اور متعلقہ محکموں کو ہدایت کر دی کہ اس منصوبے کو جلد پایہِ تکمیل تک پہنچایا جائے اور چند سال قبل جب ہم اس بات پر برہم ہو رہے تھے کہ ایک چوک کو بھگت سنگھ سے کیوں منسوب کیا جا رہا ہے ،’دکن ہیرالڈ‘ میں کرناٹکا کے سابق وزیر اعلی کمار سوامی کا بیان شائع ہوا کہ میری پارٹی جیت گئی تو دیوان ہالی روڈ کا نام ٹیپو سلطان روڈ رکھ دیا جائے گا۔

میں ’دکن ہیرالڈ‘ کے اس شمارے پر نظریں جمائے سوچتا رہا:ہمارے دودھ کے دانت کب گریں گے؟

ہمیں یہ جاننا چاہیے کہ جذبہ حریت ایک آفاقی جذبہ ہے اور اس کی قدر کی جانی چاہیے۔میں سیکولر نہیں لیکن بھگت سنگھ کے جذبہ حریت کو سلام پیش کرتا ہوں۔لیکن یہاں ایک اور سوال ہے۔اور سوال یہ ہے کہ میرے سیکولر احباب جن کا مذہب ہی انسانیت ہے برہان وانی اور علی گیلانی کے جذبہ حریت کو سلام کیوں نہیں کرتے؟

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *