سالگرہ مبارک بھگت۔۔۔ انعام رانا

آج بھگت سنگھ کی سالگرہ ہے۔ ہمارے ہاں ہیرو کم ہی پیدا ہوتے ہیں اور ہو جائیں تو ہم زندہ نہیں رہنے دیتے۔ سوچتا ہوں بھگت کو اس کی سالگرہ پہ کیا پیش کروں؟

بھگت کلمہ گو نہیں تھا، بھگت مذہب یا قومیت کی تقسیم نہیں مانتا تھا، بھگت آزاد ہندوستان چاہتا تھا، متحدہ ہندوستان۔ مگر بھگت اس علاقے سے تھا جو آج پاکستان ہے، بھگت آزادی کا پروانہ تھا اور اس پہ جان وار کر امر ہو گیا۔ رہا کہ کیا وہ پاکستان کا مخالف ہوتا یا متحدہ ہندوستان کی جدوجہد کر رہا تھا، تو اگر آزاد اور بہت سے اکابر کا یہ “جرم” معاف کیا جا سکتا ہے تو بھگت کو بھی معاف کر دیں۔ آئیے اپنی دھرتی کے بیٹے کو سالگرہ مبارک کہیں۔ اور تو کچھ نہیں بس میری طرف سے یہ ایک پرانی تحریر حاضر ہے۔ 

“بھگت سنگھ کو زندہ رکھیں

گو ایک عرصے سے میں نے اپنی سوشل لائف کو حقیقی سے زیادہ آن لائن کر رکھا ہے اور اپنی گپاہ میں بیٹھا فیس بک کی راہ سلوک کی منزلیں طے کرتا ہوں، مگر کبھی کبھی طوعا کرہا اس غار سے باہر نکلنا پڑتا ہے۔ اور اگر کامریڈ عاصم شاہ بلائے تو میرا وہی حال ہوتا ہے جو برسوں سے تپسیا کرتے سادھو کا نرتکی کو دیکھ کر ہوا؛ مراقبہ ٹوٹ جاتا ہے۔ کامریڈ سارا دن سرکاری ملازمت کر کے رات بھر اس پریشانی میں رہتا ہے کہ اس کے ہونے کا کیا فائدہ اگر وہ دنیا میں ایک شخص کو بھی سوشلسٹ نہ بنا کر مرا۔ اور مجھ پر تو اس کی توجہ ایسی ہی ہے جیسے بجرنگ کی “گھر واپسی” مہم۔ تفنن برطرف عاصم ان بے لوث لوگوں میں سے ہے جو آج بھی نظرئیے کی پیروی اپنے بجائے سماج کے فائدے کیلیے کرتے ہیں۔ سو بلاوا آیا اور اس بار کامریڈ کے جنون نے ہندوستانی کامریڈ کنول کے ساتھ مل کر بھگت سنگھ کا میلہ سجایا تھا SOAS یونیورسٹی میں۔ بھرے کمرے میں انڈیا پاکستان کے بہت سے اور گورے کالے ملکوں کے کچھ مرد و عورت نوجوان و پیر یوں جمع تھے کہ لگتا تھا ابھی بھگت سنگھ خود بھی آتا ہی ہو گا۔

بھگت سنگھ میری پنجاب دھرتی کا ایک ایسا بیٹا جو مذہب، قومیت اور زبان کی تقسیم سے ماورا ہو کر ایک ایسا لوک کردار بن گیا جو ہر اس شخص کا اپنا ہے جو کسی بھی جبر کے خلاف جدوجہد میں مصروف ہے۔ سن انیس سو سات میں لائل پور میں پیدا ہونے والا سردار بھگت سنگھ سندھو فقط تئیس چوبیس برس کی عمر میں ایسا تاثر چھوڑ گیا کہ آج پچھتر برس بعد بھی شہید بھگت سنگھ دلوں میں زندہ ہے۔ ہمیں تو عادت ہے کہ کوئی مقامی ہیرو ہم مانتے ہی نہیں۔ مگر جانتے ہیں تامل اور ناگا زبان میں بھگت کیلیے لوک گیت موجود ہیں۔ پچھتر برس بہت زیادہ ہوتے ہیں تاریخ میں کسی کے مٹ جانے کیلیے۔ زرا نوجوان نسل سے پوچھیے، انکو آزادی کے کتنے ہیروز یاد ہیں؟ دو ہزار آٹھ میں ایک ہندوستانی سروے میں عظیم ترین ہندوستانی جانتے ہیں کس کو چنا بھارتی جنتا نے؟ گاندھی یا نہرو کو نہیں، کامریڈ بھگت سنگھ کو۔ گاندھی جی نے جس سنگھاسن کو بچانے کیلیے بھگت اور اسکے رفقا کے کردا کو جھٹلایا، افسوس عوام نے برسوں بعد انھیں اسی سنگھاسن سے اتار دیا۔ صاحبو کتابیں، حکومتی تاریخ بت تو بنا سکتی ہیں۔ مگر عوام کے دل میں انکی تعظیم پیدا نہیں کر سکتیں۔ ہندوستان چاہے بھگت کو سکول ٹیکسٹ سے نکالنے کی سوچے یا پاکستان بھگت سنگھ چوک بنانے پر متذبذب ہو، بھگت ہر اس شخص کے دل میں بستا ہے جو آج بھی اس آزادی کی تلاش میں ہے جسکا خواب ہمارے پرکھوں نے دیکھا۔ بھگت نے کہا تھا، ہم گورے سے آزادی اور بھورے کی غلامی نہیں چاہتے، ہماری جدوجہد اس نظام کے خلاف ہے جو استحصالی حکمران طبقہ پیدا کرتا ہے۔

 بہت دفعہ سوچتا ہوں کہ کیا بھگت کی قربانی فقط ایک نوجوان کا جذباتی قدم تھا؟ ایک نوجوان جو گاندھی کی دورخی سے تنگ آ چکا تھا، جو مذہب کے نام پر تقسیم ہندوستانی قوم کو جگانا چاہتا تھا اور جو سیاسی جماعتوں کی مفاہمتی سیاست کے برخلاف مزاحمت کا حامی تھا اور بس بے خبر کود پڑا آتش نمرود میں عشق۔ مگر پروفیسر پریتم سنگھ صحیح کہتے ہیں، ہم نے بھگت کو بطور ایک سوشلسٹ مفکر کے ابھی دریافت ہی نہیں کیا۔ اس کا کوئی بھی قدم خواہ شادی سے بھاگنا ہو، ہندوستان ریپلک پارٹی اور بعد ازاں ہندوستان سوشلسٹ ریپلک آرمی سے منسلک ہونا ہو، بھوک ہڑتال ہو یا چوم کر پھندے کو گلے میں ڈال لینا، کچھ بھی جذباتی نہیں بلکہ اس نظریہ سے مظبوط لگاو کا اظہار تھا جسے وہ حقیقی آزادی کا راستہ سمجھتا تھا۔ آپکو یاد دلاؤں کے قائد اعظم نے کہا تھا اس کے بارے میں ” جو انسان بھوک ہڑتال کرتا ہے وہ ایک نظریاتی روح رکھتا ہے اور وہی روح اسے متحرک کرتی ہے اور وہ اپنے نظرئیے کی سچائی پر یقین رکھتا ہے۔ آپ ان کو جتنا برا اور گمراہ سمجھیں، مگر یہ مکروہ نظام حکومت ہے کہ عوام جسکی مزاحمت کر رہی ہے” (سنٹرل اسمبلی 29 ستمبر 1928 کی تقریر)۔ جب گاندھی جی انکو گمراہ نوجوان پکار رہے تھے جناح نے اگلے اجلاس میں پھر اسی معاملے کو اٹھایا اور اس مقدمے کے طریقے کو ہدف تنقید بنایا۔ قائداعظم جیسا ریشنل انسان ایک جذباتی نوجوان کیلیے کبھی آواز نہ اٹھاتا۔ سوچئے ایک بیس بائیس برس کو نوجوان جو اقبال کو اپنا پسندیدہ ترین انقلابی شاعر کہتا تھا فکر کے کس مقام پر تھا کہ کانگریس کے بڑے بڑے نام اس کی مقبولیت سے خائف تھے۔ سوائے سبھاش چندرابوس کی بلند آواز اور نہرو جی کی دبی دبی سرگوشیوں کے ہمیں کچھ بھی سنائی نہیں دیتا۔ اس نے فقط اٹھارہ انیس برس کی عمر میں ہی یہ نکتہ پا لیا کہ ہندوستان کی کثیر مذہبی عوام کو تحریک آزادی کی راہ میں تقسیم سے بچانے کیلیے سوشلزم جیسے نظرئیے کی ضرورت ہے جو جوڑے اور متحدہ جدوجہد کو فروغ دے۔ سیاست میں مذہب کا تڑکا اتحاد کی دال کو کالی کر دے گا۔ کیا گاندھی جی کو تب کے بیرسٹر جناح نے یہی تنبیہ نہیں کی تھی جب وہ ہندوستان میں مذہبی روحانی سیاست کی داغ بیل ڈال رہے تھے۔ بھگت کے مضامین، اسکی جیل کی ڈائری اور اس کے مقدمات میں بیان پڑھیں تو جذباتی نہیں ایک ایسا بھگت سامنے آتا ہے جو عوام کی ایکتا، نظام کے بدلاؤ اور سچی آزادی کے نظرئیے کا ایک مفکر بھی ہے،مجاہد بھی اور شہید بھی۔ اور اسی لیے وہ زندہ ہے کہ شہید مرا نہیں کرتے۔

آج جب پورے برصغیر میں آزادی فقط حکمرانوں کے چہرے بدلنا ثابت ہوئی ہے۔ جب ظالم مظلوم پر حاوی ہے اور حکومتی نظام جبر، کرپشن اور بد عملی کا نمونہ ہے۔ جب ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے عوام ہندو اور مسلم مذہبی جنونیت کا شکار ہو رہے ہیں۔ جب طبقاتی تقسیم خوفناک حد تک بڑھ چکی اور مڈل کلاس غائب ہوتی جا رہی ہے۔ جب حب وطن دوسرے سے نفرت کا نام بن گئی ہے۔ تو بھگت سنگھ کے زندہ رہنے کی ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے۔ اس کا نظریہ کسی ایک ملک یا مذہب کا نہیں ہے۔ وہ ہندوستانی کا بھی ہیرو ہو سکتا ہے اور پاکستانی کا بھی، فلسطینی کا بھی اور افغانی کا بھی۔ وہ ملحد تھا مگر اس کی جدوجہد ایک استعارہ ہے ان کیلیے بھی جو کسی مذہب کو مانتے ہیں مگر جبر کا شکار ہیں۔ اور بھگت ایک پل ہے مختلف ملکوں کے عوام کے درمیان خصوصا ہندوستان اور پاکستان کے درمیان۔ کیا آپ ایک ہندوستانی اور پاکستانی کو گاندھی جی کے یا قائداعظم کے نام پر اکٹھا کر سکتے ہیں؟ کیا ایک ہندو،سکھ اور مسلمان مذہب کے نام پر اکٹھا ہو سکتا ہے؟ کبھی نہیں۔ مگر بھگت اور اس کے مساوات کے نظرئیے کے نام پر ہم اکٹھے ہو کر اپنے اپنے ظالم کے خلاف مشترکہ جدوجہد ضرور کر سکتے ہیں۔ آپ جس بھی مذہب کو مانیے، ظلم کے خلاف جدوجہد میں اس مذہب کی وجہ سے باہمی تقسیم کا شکار مت بنیے۔”

یہ کالم اس سے پہلے “ہم سب” پر چھپ چکا ہے۔ 

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *