میں کہاں کہاں سے گزر گیا۔۔۔۔۔ظفرالاسلام سیفی/قسط2

SHOPPING

سکول سے واپسی کے بعدگھر کے معمولات میں انضباط ایک ناسمجھ بچے کا ظاہر سی بات ہے کیا ہوسکتا ہے جو ہمارا ہوتا،کس وقت ہم کیا کرتے تھے متعین طور پر کچھ کہنا مشکل ہے،اس قدر البتہ ضرور یاد ہے کہ والدہ محترمہ نہایت شفقت واہتمام سے کھانا پیش کرتیں  بلکہ خود ہی کھلایا کرتیں ،ہم دوبھائی اور تین بہنیں ہیں،بڑی بہن بچپنے میں جتنی ذی استعداد،لائق اور زیرک وسمجھ دار تھی اسی قدر شرارتی بھی،والدہ محترمہ کی عدم موجودگی میں غیر اعلانیہ طور پر گھر میں ”قائم مقام صدر“ وہی ہوا کرتی بلکہ بن جایا کرتی،اسے گھر میں کھانے پینے کی چیزوں سے  زیادہ دلچسپی اپنے ”اسٹیٹس کا رعب“ قائم رکھنے سے ہوا کرتی تھی، ہم باقی چار بہن بھائی جتنے اب ہوشیار سمجھے جاتے ہیں اسوقت اتنے ہی سادہ لوح واقع ہوئے تھے،باجی جان کے الفاظ حکم بعد میں پورے ہوتے عملدرآمد  پہلے ہوجایا کرتا ،اپنے رعب کا ”موجودہ اسٹیٹس“ جاننے کے لیے وہ ہمیں اکثر ”نہ کرنے کے کام کرنے اور کرنے کے نہ کرنے“ کا حکم بھی کرتی رہتی،تب اسے ہمارے فوری عملدرآمد پر ” اطمینان “ اور اپنے رعب پر ” گر و “ ہواکرتا، وہ ہمیں انعام کے طور پر کبھی کبھار ”پلاسٹک کی چھابڑی “ میں اخبارات کی تہ میں کسی خزانے کی طرح لپٹا وہ پراٹھا بھی دے دیا کرتی جو امی جان ہمارے لیے ہی پکا کر رکھ جاتی تھیں،خدانخواستہ حکم عدولی پر فوری سزاملنے کا گھر میں عام رواج تھا جسکا فیصلہ وہ جج بن کر خود ہی کرتی اور سزا بھی خود ہی دے دیتی۔

میں کہاں کہاں سے گزر گیا۔۔۔۔۔ظفرالاسلام سیفی/قسط1
باجی جان کی جانب سے چلتا یہ ”سلسلہ ء جزاء وسزا“ سردیوں کی اس پہر تک جاری رہا جب ہم بہن بھائی والدہ کی عدم موجودگی میں رم جھم برستے مینہ میں مخصوص طرز پر بنی ”انگھیٹی“ کے پاس تاپنے کی غرض سے بیٹھے تھے،بھائی جان (مولانا فخرالاسلام سیفی) دور رکھی الماری کے نیچے گھسے اپنی جرابوں سے بنی گیند کو نکالنے کی تگ ودو میں تھے،باجی جان نے اس حالت میں انہیں کوئی کام فوری طور پر کرنے کا حکم دیا جو وہ کرسکے نہ کرسکتے تھے،باجی جان نے آنا ً فاناً پلاسٹک کی منہ کٹی چپل اٹھا کر بھائی جان کو زور سے دے ماری،یہ وہ وقت تھا جب بھائی جان لڑنے بھڑنے کے مواقع تلاشتے رہتے، فضا کو خیالی دشمن فرض کرکے انکا کبھی دائیں جانب اچھل کر کسی ”نامعلوم“ کو لات مارنا تو کبھی بائیں جانب آج بھی نگاہوں کے سامنے ہے، کبھی کبھار دیواروں سے ”ڈگ،ڈگاڈگ ،ڈگ “ کی آوازیں بھائی جان کے اپنے تئیں محاذ پرکسی ”فضائی دشمن“ سے نبرد آزمائی کا پتہ بھی دیا کرتی،تب بھائی جان باجی جان کی جانب سے ”انسانی حقوق “ کی یہ سنگین ”خلاف ورزی“ برداشت نہ کرپائے اور انہوں نے پاس ہی پڑی چولہے میں آگ کو پھونکنے والی ” پھوکنی “ اٹھا کر باجی جان  کو اس زور سے دے ماری کہ باجی جان زور زور سے رونے لگی،ہم ”دیوانوں“ کو اسوقت معلوم پڑا کہ باجی جان کو لگتی بھی ہے،وہ روتی بھی ہیں اور انہیں مارا بھی جاسکتا ،بھائی جان ہمارے گھر میں امارات اسلامیہ کے وہ ”طالبان“ ثابت ہوئے جنہوں نے باجی جان کی ”سوویت یونین“ کا فخروغرور خاک میں مٹاڈالاپھر ہم چار بہن بھائیوں کا ”ازبکستان،تاجکستان،ترکمانستان اور آزر بائیجان“ بن جانا ظاہر ہے کہ فطری امر تھا۔

باجی جان کامعاملہ شاید سوویت یونین سے قدرے مختلف تھا،وہ مزاج کی ترشی کے ساتھ ساتھ زبردست اپنائیت و شگفتگی بھی رکھتی تھی،وہ گھر میں کبھی اپنی ظرافت بھرے  چٹکلوں سے اتنے شگوفے کھلا دیتی کہ امی ابو بھی قہقہے مار مار کر ہنس رہے ہوتے،مجھے یہ تو یاد نہیں کہ سکول میں کس استاد نے مجھے لکھنا اور کس نے پڑھنا سکھایا مگر مجھے یہ بہت اچھی طرح یاد ہے کہ مٹی کے خستہ حال صحن میں ننگی زمین پر چوکڑی مارے ہوئے میرے ہاتھوں میں اولاً  قلم باجی جان نے ہی تھمایا اور الفاظ کے ہجے کرنا،جوڑ ملا کر پڑھنا اور ادائیگی الفاظ کا درست تلفظ میری اپنی اسی باجی جان کی قابل قدر کاوش کا نتیجہ ہے جسے ہم ناسمجھی میں اسوقت اپنا دشمن سمجھتے،صرف یہی نہیں تختی کو دھو کر ”گاچی“ ملنا، ” نڑیوں “ کو کاٹ کر قلم بنانا اور ”توے “ کی ”کالک“ سے سیاہی بنانا بھی اکثر باجی جان کے کاموں میں سے سمجھا جاتا۔

اسے ہمارے ستھرے یونیفارم اور ڈھنگ کے حلیے کا بڑا اشتیاق رہتا،بٹن جو اکثر معرکوں میں ٹوٹتے رہتے جب ٹوٹ جاتے تو اسکی جانب سے ملنے والے القابات سننے کے لائق ہوتے، باجی وہ اکلوتی آواز تھی جو ہماری پڑھائی کی کوتاہیوں اور لاابالی پنے پہ سنائی دیتی،وہ مجھے کیا ہم سب بہن بھائیوں کی لکھنے پڑھنے میں رہنمائی کرتی،اسے لکھنے پڑھنے سے دیوانگی کی حد تک لگاؤ تھا،امتحانات میں کلاس میں سب سے آگے رہنا اسکا جنون ہوتا،وہ نہایت فکرمندی وسنجیدگی سے ہوم ورک کرتی،سکول میں اسے ہمیشہ متفکر پایا،امتحانات میں نمبرات کے کم آنے سے بڑھ کر کوئی چیزاسکے نزدیک باعث ننگ وعار نہ ہوتی،مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ میٹرک امتحان میں باجی جان کے نمبر  جب  قدرے کم آئے تو اس پوری رات ہمارے گھر ماتم کا سا سماں رہا،رو رو کر بے حال ہوگئی،ہم سوچتے تسلی دیں بھی تو کیسے؟ ہم نکمے ورطہ حیرت میں تھے کہ یہ بھی کوئی بات ہے جس پر رویا جائے؟ ارے ناشکری ….. پاس ہوکر بھی تو رو رہی ہے؟

اسکے رونے کی وجہ یہ تھی کہ ہمارے پڑوس میں اس کی ایک سہیلی ہوتی تھی،باجی جان اکثر اسکے ساتھ گھر کے لنٹر پر بیٹھ کر گھنٹوں اونچی اونچی آواز میں سبق یاد کیا کرتی تھی،عجب وقت تھاکہ کھیت ہرسو لہلارہے ہوتے،درخت پھلوں سے گویا زمین کو چومنے کی کوشش میں ہوتے،ہریالی ہی ہریالی، معنی خیز خاموشی میں ہمارے ”کسوں“ سے بہتا پانی کسی کے کچھ کرنے کی خبر دے رہا ہوتا،سامنے کھیتوں میں ننگے پاؤں جرابوں کی گیند اور کسی لکڑ سے بیڈ بنا کر ہم اپنا ”شوق وسیم اکرمی“ پورا کرتے اور کھیلتے ہوئے ان دونوں سہیلیوں کو محنت کرتے جب دیکھتے تو دل باغ باغ ہوجاتا کہ کوئی تو ہے جو پڑھائی کے اس فرض کفایہ کو پورا کررہا ہے،اس سہیلی کے نمبر  باجی جان کے نمبروں   کی بنسبت تھوڑے سے  ز یادہ تھے، یہی وہ غم تھا جو انہیں کھا رہا تھا اور نجانے کتنے دن کھاتا رہا، ” تعلیم وتعلم میں سب سے آگے“ کا وہ بیج سب سے پہلے انہوں نے ہی گھر میں بویا جسکی فصلیں بحمد اللہ سارے تعلیمی دورانیے میں اور اب تک ہم سب بہن بھائی کاٹتے رہے اور کاٹ رہے ہیں،جزاھا اللہ عننا،انکی جانب سے یہی وہ کھچا خط تھا جس نے ہم سب بہن بھائیوں کو تعلیم وتعلم میں چلنے کارخ دیا۔

SHOPPING

جاری ہے۔۔۔

SHOPPING

ظفر الاسلام
ظفر الاسلام
ظفرالاسلام سیفی ادبی دنیا کے صاحب طرز ادیب ہیں ، آپ اردو ادب کا منفرد مگر ستھرا ذوق رکھتے ہیں ،شاعر مصنف ومحقق ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”میں کہاں کہاں سے گزر گیا۔۔۔۔۔ظفرالاسلام سیفی/قسط2

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *