مکالمہ سالگرہ مبارک۔۔۔۔۔ حسام درانی

یہ کیا مکالمہ کو آج دوسال ہو گئے۔ اچھا یار ابھی کل کی ہی تو بات ہے کہ اسکی سالگرہ منائی تھی۔ یار یہ انعام بھی عجیب سا بندہ ہے کوئی سمجھ نہیں آتی اسکی، ایک ایسی شدنی چھوڑ دی ہے کہ  اب ہر بندہ اسی کام پر شروع ہو گیا ہے۔ بقول میرے ایک انتہائی کٹر انصافی بھائی کے، جن کو گھر والے نمک مرچ خریدنے کے علاوہ کسی اور چیز کے پیسے بھی نہیں دیتے وہ بھی لکھاری بن گئے ہیں۔
اور ایسے لوگوں کو بگاڑنے میں عمران سے زیادہ انعام رانے کا ہاتھ ہے۔ بس فرق اتنا ہے کہ  ایک نے سوشل میڈیا اور عام زندگی میں کھلی گالی دینے کی عادت ڈالی اور دوسرے نے، ادب کے دائرے میں رہ تے ہوئے بولنے کے لیے ایک پلیٹ فارم دیا۔

بھیا ایسا تو ہونا ہی تھا آخر رانا بھی تو ایک پکا انصافی ہے، چلو خیر کوئی بات نہیں ہے تو اپنا جگر ہی، اور مکالمہ کو بھی وہ اپنے ہی خون جگر سی چلا رہا ہے، ایک وقت تھا کہ  جب میں نے لکھنا شروع کیا تو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ  کس بلاگ سائیٹ کے ساتھ لکھوں، کیونکہ ایک طرف جاو تو اسلامی بھائی جان اور دوسری طرف کھلا ماحول، مطلب دوبوں طرف کی انتہا۔۔۔۔

اسی دوران مکالمہ کانفرنس کا شور اٹھا اور میری پہلی ملاقات موسیو سے ہوئی اور درمیان میں جب سوٹا لگانے کے لیے باہر نکلا تو گرے کلر کے سوٹ میں ملبوس ایک بندہ دھڑا دھڑ سگریٹ پی رہا تھا، قریب گیا تو معلوم ہوا کہ  رانا صاحب ہیں۔ سلام دعا کے بعد پوچھا کیا کرتے ہو ،میں بولا کہ  جیسے کبھی کبھار گھر والوں سے چھپ کر باہر گلی کے نکٹر پر جا کے سوٹا لگاتا ہوں اسی طرح کبھی کبھار لکھ بھی لیتا ہوں، رانا جی بولے پائین فیر مکالمہ تے لخیا کرو، اور اس دن سے ہم بھی چیچی کٹا کے شہیدوں معذرت لکھاریوں میں شامل ہو گئے۔

آج الحمد اللہ مکالمہ اپنی دوسری سالگرہ منا رہا ہے اور مجھے چند لوگ جو ایک لکھاری کی پہچان سے جانتے ہیں وہ مکالمہ کے  مرہون منت ہی ہے، اس کی  بابت میں انعام رانا، موسیو اور مکالمہ کا جتنا بھی شکریہ ادا کروں وہ کم ہے، مکالمہ نے میرے جیسے بہت سے نوواردوں کو اس بزم میں پہچان دی اور ہر قسم کی  فرقہ واریت سے ہٹ کر تمام مکتبہ فکر کی آوازو الفاظ کو اپنے پلیٹ فارم پر جگہ دی۔
مکالمہ کی دوسری سالگرہ کے موقع پر میں انعام رانا اور مکالمہ کی تمام ٹیم کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ  تیسری سالگرہ پر ہم مکالمہ کے ساتھ ساتھ رانا جی کو اپنے بھتیجے یا بھتیجی کی مبارک باد بھی دیں گے انشاءاللہ۔۔

 

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *