محاورے،ہم اور محض تنقیدی دانشور۔۔۔۔مرزا شہباز حسنین بیگ

ہم پاکستانی من حیث القوم عجیب و غریب رویوں اور خامیوں کا شکار ہیں ۔دنیا بھر کی خامیاں ہمارے ہاں وافر موجود ہیں ۔خوبیاں مگر آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔اس لئے خوبیاں چھوڑ کے خامیوں پہ بات کر لی جائے تو بہتر ہے۔ہمارے سماج میں حسد، بھیڑ چال، تنقید برائے تنقید جیسے رویے عام ہیں۔ہمارے بزرگوں نے ہر سماجی برائی کے متعلق برسوں کی ریاضت کے بعد بہت شاندار کہاوتیں تخلیق کیں ۔ہر کہاوت اور محاورے میں سماج کی بھلائی کے لیے سبق موجود ہیں ۔ہر کہاوت ،ہر محاورہ ہمیں اصلاح کی جانب متوجہ کرنے کا سامان مہیا کرتا ہے ۔لیکن ہم پاکستانی ان کہاوتوں سے کچھ سیکھنے کی بجائے ان محاروں اور کہاوتوں کو سن کر محض مسکرا کر نظرانداز کر دیتے ہیں۔
مجال ہے جو اپنی دانش کا استعمال کر کے کچھ سیکھ لیں۔محاورہ کسی بھی زبان کا ہو اپنے اندر عقل و خرد کا اک جہاں اور ابلاغ کی بے پناہ قوت رکھتا ہے ۔مگر چونکہ ہمارے ہاں محاوروں کا کوئی مصرف نہیں۔یہاں میں اردو اور پنجابی کے کچھ محاورے قارئین کی دلچسپی کے لیے تحریر کررہا ہوں ۔۔

کوا چل ہنس کی چال اپنی چال بھی بھول گیا۔
ذات دی کوڑ ھ کرلی تے شہتیراں نوں جپھے۔
آٹا گنندی ہلدی کیوں اے۔
ہاتھ کنگن کو آر سی کیا۔

الغرض بے شمار محاورے موجود ہیں ۔لیکن آپ غور کریں ان محاوروں میں پوشیدہ حکمت سے ہم نے کتنا سبق سیکھا ہے ۔پنجابی زبان کے اس محاورے کو ہی لے لیں  کہ آٹا گوندھنے کے عمل میں ہلنا حرکت کرنا لازم ہے ۔اس کے بغیر آٹا گندھ نہیں سکتا مگر روایتی ساس اس پر بھی بہو کو تنقید کا نشانہ بنائے گی جو کہ بلاجواز ہے ۔یعنی بلاجواز تنقید برائے تنقید کو آشکار کرنا ہو تو یہ محاورہ آٹا گنندی ہل دی کیوں اے بطور مثال پیش کیا جا سکتا ہے ۔

ہمارے معاشرے میں اول تو کوئی سہولت ملتی نہیں اگر غلطی سے مل جائے تو ہم اس کا اس قدر بے دریغ اور غلط استعمال کرتے ہیں  کہ خدا کی پناہ ۔
ملک میں چند سال قبل صرف پرنٹ میڈیا موجود تھا ۔جو چند اخبارات اور رسائل تک محدود تھا ۔اظہار رائے پر قدغنیں موجود تھیں ۔پھر مشرف کی آمریت کے دوران الیکٹرانک میڈیا وجود میں آیا اور مشرف کی بے شمار خامیوں کے باوجود ایک خوبی جس کی داد بنتی ہے ۔اظہار رائے کی آزادی کو بلاشبہ پرویز مشرف کے دور میں پر لگے ۔برساتی کھمبیوں کی طرح بے شمار چینل اگنے لگے  اور آج کل تو ان چینلز کی تعداد بہت زیادہ ہو چکی ۔مگر چونکہ ہمارے ہاں معیار کی بجائے تعداد کو اہمیت دی جاتی ہے  تو بلاشبہ تعداد سینکڑوں میں ہونے کے باوجود معیاری صحافت کا حال بھی برا ہے ۔الیکٹرانک میڈیا کے آتے ہی پاکستان چند شعبوں میں اس قدر خود کفیل ہو گیا کہ دنیا حیرت سے دانت میں انگلیاں دبائے دیکھ رہی ہے ۔

پاکستان میں تجزکار پیدا ہوئے مگر اس میدان میں اس قدر حیرت انگیز اضافہ ہوا ۔اب صرف سینئر تجزیہ کاروں کی تعداد بھی شمار نہیں ہو سکتی ۔ ممتاز دانشور اور سکالرز میں خود کفالت بھی الیکٹرانک میڈیا کی مرہون منت ہے ۔دانشور اور دانشوری کی پیدوار میں ناقابل یقین اور انتہائی  حیرت انگیز اضافہ ہوا  مگر اب پاکستان میں ماضی کے تمام ریکارڈ  ٹوٹ چکے،اور یہ سب کچھ ممکن ہوا اک نوجوان مارک زکر برگ کی بدولت ۔
جس نے فیس بک نامی چیز بنا کر بعد ازاں اس کو سوشل میڈیا کا نام دے دیا ۔ویسے تو یہ فیس بک نامی سوشل میڈیا دنیا کے ایک ارب سے زائد انسان استعمال کرتے ہیں ۔مگر چونکہ ہم پاکستانی جس کام میں ہاتھ ڈال دیں  اس کا انتم سنسکار ہونے سے بچ نہیں سکتا لہذا اب جتنے دانشور اور تنقید نگار پاکستانی سوشل میڈیا نے پیدا کئے ہیں  اس کا مقابلہ پوری دنیا کرنے سے قاصر ہے ۔سوشل میڈیا کی بدولت آج پاکستان میں دانش وروں کی تعداد یوں معلوم ہوتی ہے کہ 15 کروڑ سے بھی تجاوز کر چکی ہے ۔

ہمارے سماج میں دانش ور ہونے کے لیے ہر بات پر تنقید کرنا بنیادی ضرورت ہے ۔دانشوری اور تنقید لازم و ملزوم ہو چکے  ہیں ۔یوں سمجھیں کہ بندر کے ہاتھ ماچس لگ چکی ہے ۔اور اب پورا جنگل بندر کے ہاتھوں آگ لگنے سے بچنے کی کوشش میں ہلکان ہے ۔تنقیدی دانش ور ہمیشہ ہر بات ہر مسئلے پر تنقید کو فرض عین سمجھتے ہیں ۔فیس بک پر ہر دوسرا بندہ دانش ور بننے کی کوشش میں مصروف ہے ۔اور دانشوری کی دھاک بٹھانے کا آسان طریقہ تنقید برائے تنقید سمجھ لیا گیا ہے ۔جبکہ حقیقی دانش ور ہمیشہ مسائل کی وجوہات تلاش کر کے اس کا قابل عمل حل اپنے سماج کو شعور دینے کے لیے پیش کرتا ہے ۔ابھی کل ایک ویڈیو سوشل میڈیا پہ پر وائرل ہوئی ۔جس میں شیخ رشید کی گاڑی کو گزارنے کے لیے سڑک پر موجود بے شمار مو ٹر سائیکلز کو پیچھے کرنے کے لیے پولیس اہلکار مصروف ہیں  ۔۔اس ویڈیو  پر  محض تنقیدی دانش ور ہمیشہ کی طرح صرف تنقید کیے جا رہے ہیں ۔کہ شیخ رشید کے پروٹو کول کو گزارنے کے لیے موٹر سائیکل کو گرایا جا رہا ہے بدتمیزی کی جا رہی ہے وغیرہ وغیرہ ۔جبکہ حقیقی دانش کا تقاضا  ہے کہ اس ویڈیو کو سمجھا جائے کہ اصل مسئلہ کیا ہے اور اس کا قابل عمل حل تلاش کیا جائے ۔

پاکستان کے تمام شہر گنجان آباد ہیں خاص طور پر اندرون شہر صورتحال زیادہ گھمبیر ہے ۔بازاروں کے باہر سڑک کے دونوں اطراف میں لوگوں نے موٹر سائیکل اور گاڑیاں پارک کی ہوتی ہیں ۔وہاں سے پیدل گزرنا بعض اوقات نا ممکن ہو جاتا ہے ۔اور پھر سڑک پر ،جس کی لاٹھی اس کی بھینس والا محاورہ حقیقت کا روپ دھار کر منظر عام پر آتا ہے ۔پاکستان کے تمام شہروں کی صورتحال ایک جیسی ہے سرگودھا شہر میں شاہین چوک گول مسجد سے اردو بازار تک کا تمام علاقہ موٹرسائیکل اور گاڑیوں کی پارکنگ نے مکمل طور پر مفلوج کیا ہوتا ہے ۔وہاں پیدل چلنا دشوار ہوتا ہے ۔ایمبولینس میں مریض دم توڑ دیتا ہے ۔مگر راستہ نہیں ملتا تمام شہروں میں کم و بیش اسی صورتحال کا سامنا ہے ۔اس مسئلے کا دیرپا حل یہی سمجھ میں آتا ہے کہ کثیر المنزلہ پارکنگ پلازے تعمیر کئے جائیں ۔اس کی پارکنگ فیس سے لاگت بھی پوری ہو جائے گی  اور ٹریفک میں روانی بھی آ جائے گی ۔

ویسے اگر دیکھا جائے تو بہت سے ایسے معاملات ہیں  جن کو حقیقی دانش بروئے کار لاتے ہوئے بہتر کیا جا سکتا ہے ۔عید قربان پر جانوروں کی آلائشوں سے تعفن اور بیماریاں جنم لیتی ہیں ۔اس کا حل محض حکومتی اداروں پر تنقید سے نہیں نکل سکتا ۔ہر شہر میں مویشی منڈیاں موجود ہیں وہیں پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت جدید سلاٹر ہاؤس  تعمیر کیے جا سکتے ہیں ۔قربانی کا اجتماعی انتظام وہیں موجود ہو ۔تنقیدی دانش وری سے محض خانہ پری ہو جاتی ہے ۔مسائل اور مشکلات ختم نہیں ہوتیں ۔اس بات کا ادراک جتنا جلد ہوجائے،ہمارے لیے بہتر ہے ۔ضرورت ہے اپنی دانش مندی کا ازسر نو جائزہ لینے کی تب جا کر بہتری کی امید کی جا سکتی ہے

مرزا شہبازحسنین
مرزا شہبازحسنین
علم کا متلاشی عام سا لکھاری

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *