ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

تین مختصر نظمیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ناگ پھنی(کیکٹس) ناگ پھنی کے پھول بہت شوبھا دیتے ہیں لیکن ناگ پھنی کی سندرتا پر مرنے والو، سوچو اس کے اُٹھے ہوئے ہاتھوں پر بِچھی ہوئی آنکھوں کے پیچھے اس کی کانٹوں والی پلکیں اپنی چبھن کے  زہر کی←  مزید پڑھیے

نور کیا ہے؟۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بھاپ سی اٹھتی ہے میرے ذہن کے تحت الثرا سے دھند کا محلول بادل الکحل کی نشہ آور گرم چادر سا مجھے چاروں طرف سے ڈھانپ کر للکارتا ہے ’’گہری نا بینائی کے عالم میں آنکھوں کے دیے بجھنے سے←  مزید پڑھیے

​ موت کی آندھی – ایک غصیلی نظم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بد صورت، مکروہ چڑیلوں کی مانند گلا پھاڑتی، بال نوچتی دھاڑیں مارتی، چھاتی پیٹتی باہر ایک غصیلی آندھی پتے، شاخیں، کوڑ کباڑ، کتابیں اپنے ساتھ اڑاتی مُردہ گِدھوں کے پنجوں سے جھٹک جھٹک کر زندہ حیوانوں سے ان کی جان←  مزید پڑھیے

ہست اور نیست۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(ایک) پس منظر سانپ کے ڈسنے سے جب آنند نیلا پڑ گیا، تو بھکشوؤں نے ماتمی چادر سے اس کو ڈھک دیا تھا پھر یکا یک اُس نے آنکھیں کھول دیں تھیں اور واپس آ گیا تھا زندہ لوگوں کے←  مزید پڑھیے

یسوع۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اور پھر ایسے ہوا کہ بھیڑ ساری چھٹ گئی ۔۔۔ اور آخری بھکشو بھی’’گچھّامی‘‘ کا منتر جاپ کرتا لوٹ آیا اپنے کُش آسن پہ بیٹھے بُدھّ اپنی آتما کی آنکھ کھولے دھیان میں اگلے جنم کو دیکھنے میں محو تھے←  مزید پڑھیے

کتبہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اور پھر جب میرے پیچھے اپنا پھاٹک بند کر کے اور اس پر ’’داخلہ ممنوع ہے” کے امتناعی حکم کا نوٹس لگا کر مجھ کو باہر برف زا موسم کی سردی میں اکیلا چھوڑ کر (اگلے پڑاؤ  پر پہنچنے کے←  مزید پڑھیے

قصہ وِیپنگ وِلّو کا ۔ اور میرا۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

’ٗٗقصّے سناتے رہو کہ لوگ شاید سوچ بچار کریں ۔‘‘ قال الملاٗرکوع ۱۱، الاعراف ۶، (القران) پہلا قصہ بارش ہے اور میں ویپنگ وِلّو کے ساتھ جُڑا بیٹھا ہوں ٹپ ٹپ اشک بہاتی وِلّو، اور میں، دونوں بچپن سے اک←  مزید پڑھیے

غالب- پیش و پس آگاہی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ایک دوست نے اس آزاد نظم کو “مُو کش جراحی”۔۔(“بال توڑ”) کے طنزیہ خطاب سے نوازا۔ یک الف بیش نہیں صیقلِ آئینہ ہنوز چاک کرتا ہوں میں جب سے کہ گریباں سمجھا (نسخۂ حمیدیہ سے ماخوذ) ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یک الف ؟بیش←  مزید پڑھیے

1957 میں کہی گئی دو غزلیں ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں اک شاہپارہ ء قدرت ہوں ، یعنی آدمی ہوں میں جسے انسان کہتے ہیں، وہ فخر ِِ زندگی ہوں میں گناہوں میں چڑھی پروان، وہ دوشیزگی ہوں میں ہر اک شاعر کی فطرت میں ہے جو آوارگی، ہوں میں←  مزید پڑھیے

بائی زنب ِ قُتلَت۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

(کس جرم کی پاداش میں مارا گیا ہوں) اک سر جو معلق ہے سوا نیزے پر اک سر جو کسی جسم سے کاٹا گیا تھا اک سر کہ ٹپکتے ہیں ابھی تک جس سے لو دیتے ہوۓ گرم لہو کے←  مزید پڑھیے

اے ساون کے اندھے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہند سے آئے اے ساون کے اندھے، ہرا نہ دیکھ ۔۔ یہاں پر کچھ بھی تو سر سبز نہیں ہے بادل ہے بے فیض، زمیں بے آب کہ اس کی بنجر کوکھ فقط جنتی ہےریت کے ٹیلے ہریالی کا نام←  مزید پڑھیے

​اختر الایمان اور خاکسار۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اختر الایمان تب باندرہ میں کین روڈ پر بینڈ اسٹینڈ بلڈنگ میں رہتے تھے۔ ہم ، یعنی میں اور فلم فوٹوگرافر شیام چڈھا صاحب، بلڈنگ کے نمبر 55 کے اپارٹمنٹ میں پہنچے، تو چڈھا صاحب کو دیکھ کر خوش ہوئے۔←  مزید پڑھیے

منظر نامہ، میری موت کے بعد کا ۔۔۔ ستیاپال آنند

صحن میں رینگتی، مسکین سی، مَیلی سی دھوپآ اور منڈیر پر اک کوے کی کائیں کائیں عود، اگر بتّی جلاتا ہوا بوڑھا پنڈت زیر لب باتوں میں مصروف کچھ گائوں کے لوگ←  مزید پڑھیے

​برق ہنستی ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اوّلون و التمش۔۔۔ابداع، ابجد، الفا ، بِیٹا اور پھر یکلخت ختمہ، ٹرمینل، التام، القط عشق پیدا میشود در لمحۂ گزران و استعجال شاید اور غالب زندگی اور عشق کے دورانیے کو شعشعہ میں ڈھالتا ہے۔۔ برق ہنستی ہے کہ فرصت←  مزید پڑھیے

الفاظ -ایک استغاثہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

رن آن سطور میں لکھی گئی ایک نظم مستغیث ایک میں الفاظ کا بخیہ گر ہوں، مجھے اچھا لگتا ہے حرف و سخن کا توازن مقفیٰ، مسّجع، وہ الفاظ جن سے ترنم کی چشمک ، تغزل کا جادو سریلی، مدھُر،←  مزید پڑھیے

ترقی پسند تحریک اور میں ۔۔۔ ڈاکٹر ستیاپال آنند

ہیری گولڈ پر الزام تھا کہ اس نے دوسری عالمی جنگ کے دوران امریکا کے ایٹمی راز روس کو فراہم کیے۔ ہیری گولڈ نے الزامقبول کیا اور کہا کہ اس مہم میں اس کی معاونت ڈیوڈ گرین گلاس نامی ایک شخص نے کی تھی۔ یہ شخص امریکی فوج میں مشین مینتھا اور لاس الاموس میں اٹامک مینوفیکچرنگ کمپنی سے وابستہ تھا۔←  مزید پڑھیے

انا ابھی فعال ہے۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

نہیں، نہیں کہ جان کا خروج نا گزیر ہو تو ہو مگر مری انا کا ذات سے خروج ایک جھوٹ ہے بتا چکا بتا چکا، نجومیوں کو، غیب دان کاہنوں کو ہاتفوں کو، کااشفوں کو جوگیوں کو، راہبوں کو لاکھ←  مزید پڑھیے

جدیدیت‘‘ پر ایک نوٹ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

اردو میں ’جدیدیت‘ اوّل اوّل تو ترقی پسند تحریک کے ردِّ عمل کے طور پر ہندوستان میں وارد ہوئی۔ اسے تاریخی استدلال کی سطح پر، ’قبولِ عام‘ کی بجائے ’قبولِ خاص‘ کے طور پر شناخت دینے میں شمس الرحمن فاروقی←  مزید پڑھیے

میری نظریہ سازی میں کیا کچھ محرک ثابت ہوا۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گزشتہ صدی کی چھٹی دہائی میں میرے مطالعہ کی رفتار بہت تیز تھی۔ یونیورسٹی میں دو پیریڈ پڑھانے کے بعد میرا معمول دوپہر کو قیلولہ کرنا نہیں تھا، لائبریری میں بیٹھ کر کتابیں پڑھنا تھا۔انہی برسوں میں میں نے کروچےؔ←  مزید پڑھیے

سِکّہ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں آج بد نما، گھسا پٹا ہوا پُرانا، مَیل خوردہ سکّہ ہوں۔۔ مجھے چھُوا ہے سینکڑوں غلیظ انگلیوں کے مَیل نے مجھے بھرا گیا ہے گندی تھیلیوں میں بٹوؤں میں ٹھونس ٹھونس کر سدا مجھے دیا گیا ہے کاروبار، لین←  مزید پڑھیے