​ موت کی آندھی – ایک غصیلی نظم۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

بد صورت، مکروہ چڑیلوں
کی مانند گلا پھاڑتی، بال نوچتی
دھاڑیں مارتی، چھاتی پیٹتی
باہر ایک غصیلی آندھی
پتے، شاخیں، کوڑ کباڑ، کتابیں اپنے ساتھ اڑاتی

مُردہ گِدھوں کے پنجوں سے جھٹک جھٹک کر
زندہ حیوانوں سے ان کی جان چھینتی
کھڑکی پر دستک دیتی
یہ بار بار کہتی ہے مجھ سے
چوہوں کی مانند بلوں میں
چھُپ کر مت بیٹھو، اے شاعر
باہر نکلو

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

باہر نکلو
اور اگر ہمت ہے تو ان گِدھوں کے پنجوں سے
’پنگا‘ لے کر دیکھو’
تم نے شاید سقراطوں کی
نئی نسل کے بارے میں کچھ سن رکھا ہو
گھر کے اندر چھپ کر بیٹھے چوہے ہیں سب

سب کو علم ہے
باہر نکلے تو سب کے سر
نوچ لیے جائیں گے۔۔۔۔چوراہوں پر
بجلی کے کھمبوں سے لٹکائے جائیں گے

Advertisements
julia rana solicitors

کیا سوچا ہے؟
میں البتہ یہی کہوں گی
باہر مت نکلو اے چوہے دانوں کی مخلوق
کہ داناؤں نے کہا ہے!

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply