ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

’’کتھا چار جنموں کی‘‘ کا نیا روپ۔ وزیر آغا (مرحوم) سے بات چیت اور خطوط کا تبادلہ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط44

(گزشتہ قسط میں ہم نے وزیر آغا مرحوم کے گھر میں ہوئی اس بات چیت کا ذکر کیا تھا جو راقم الحروف اور ان کے ما بین دیر رات گئے تک ہوتی رہی تھی اور جس میں ہم دونوں نے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط43

سلسلہ۔۔۔ وزیر آغا (مرحوم) سے بات چیت کا اور ان کے خطوط کا … دسمبر ۱۹۹۹ ۔۔ لاہور میں ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر میرا یہ تیسرا دن تھا۔ گذشتہ رات ہم دونوں تقابلی مذہب کے بکھیڑوں میں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط42

ایڈیٹر نوٹ:یہ اب تک کے  غیر مطبوعہ خطوط ہیں جو ڈاکٹر صاحب کی مکالمہ سے محبت کی وجہ سے پہلی بار مکالمہ کے پلیٹ فارم سے پبلش کئے جارہے ہیں ۔ہم ڈاکٹر صاحب کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط41

حلقہ ارباب ِ ذوق: ایک مختصر تاریخ! ابتدائی نوٹ: اس مختصر مضمون کی تالیف میں درجنوں رسالے، یاداشتیں اور رسالوں میں مطبوعہ مضامین بطور ماخذمیرے رہنما رہے ہیں۔ کچھ بھی میرا اپنا نہیں ہے اس لیے کسی بات کی درستی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط40

ا ردو کی ”نئی بستیاں“  ،کچھ مفروضات،کچھ حقائق، کچھ توقعات! ’اردو کی نئی بستیاں“ اصطلاح کے طور پر ۱۹۹۷ء کے لگ بھگ راقم الحروف نے ”کتاب نما“ دہلی کے مہمان اداریے میں پہلی بار استعمال کی۔ ۱؎ اس سے مراد←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ نئی سیریز/ڈاکٹر ستیہ پال آنند،قسط39

شاعری کی اقسام کیا شاعری مختلف ”اقسام“ میں تقسیم کی جا سکتی ہے؟ کیا اس کی درجہ بندی کر کے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس قسم کی شاعری اعلی ہے اور اس قسم کی اسفل ہے؟ تسلیم کہ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط38

جامعات کی سطح پر میری زندگی کا ایک رُخ تدریس و آموزش۔۔ ایک سکے کے دو رُخ! اپنی کلاسز میں، انیس بیس سالہ لڑکوں اور لڑکیوں کو پڑھاتے ہوئے اگر ملٹن کے حوالے سے (اس کی در پردہ شیطان دوستی)←  مزید پڑھیے

ROGUE POEMS ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 37

لنڈین میں ستر کی دہائی میں ایک شعری وبا  ء  سی انگلینڈ میں 1972-74کے برسوں میں پھیلی جب میں وہاں تھا۔نگریزی میں یہ نظمیں اس قدر مقبول ہوئیں کہ ”دی گارڈین“ سمیت کئی روزانہ اخباروں نے باقاعدگی سے اپنے میگزین←  مزید پڑھیے

میلوڈی کوِین‘ شمشاد بیگم،صرف ایک ملاقات کی لافانی یاد۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

۱۹۵۵ء میں جب میں پہلی باران سے ملا تومیری عمر ۲۵ برس تھی اور میں جانتا تھا کہ وہ مجھ سے سترہ برس بڑی ہیں اور ان کی عمر بیالیس کے لگ بھگ ہے۔ لیکن ان کے چہرے مہرے سے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط36

۵ جولائی ۲۰۱۸ میرا جی کے بارے میں (وزیر آغا مرحوم کے نام میرے خطوط میں سے اقتباسات) (اقتباس۔ مکتوب 13.5.98) ڈاکٹر صاحب قبلہ…..آپ نے درست تحریر کیا ہے کہ دونوں کی رفاقت اور دوستی کو یگانگت کی وہ سطح←  مزید پڑھیے

میری وزیر آغا مرحوم سے بحثا بحثی کی ایک واردات۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 میں جب بھی لاہور جاتا، ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر ہی ٹھہرتا۔ اوپر والی منزل پر ایک طویل و عریض کمرہ اور غسل خانہ میری عارضی املاک تھے۔ شام تک تو احباب (جن میں ڈاکٹر انور سدید اور←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط35

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط34 یورپ میں کچھ آوارگی کے دن! اس سے اگلے برس کا یورپ کا سفر صرف دو وجوہات سے تھا ایک تو یہ تھی کہ ہائیڈل برگ یونورسٹی سے (جس میں کسی زمانے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط34

لندن کے ان برسوں (1972-75)میں میرا تعلیمی، تدریسی اور کسی حد تک ادبی لین دین اپنے ساتھی اسکالرز سے ہی رہا جو انگریزی کے حوالے سے تھا۔ اردو کے احباب سے کبھی کبھی ہی ملاقات ہوئی۔ اور وہ بھی بر←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 33

ایک ناد ر الوجود ڈکشنری لیکن اس سے پہلے کہ میں امریکہ  اور کینیڈا میں نقل مکانی کے بعد کا ”آلاپ“ شروع کروں، مجھے انگلستان میں اپنے ڈیڑھ دو برسوں کے قیام کے دورانیے  کو ایک نظر دیکھنا ہے کہ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط32

ریاض میں قیام کی باقیات! وقت کی تنگی کا شکوہ ہم سبھی کرتے ہیں، لیکن وقت کے وافر مقدار میں ہونے اور اسے گذارنے کے لیے شغل تلاش کرنے کی شکایت ہم کبھی نہیں کرتے۔ میرے پاس اپنے تخلیقی کام←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر31

واقعہ ایک ہندوستانی ناولسٹ سے ملنے کا! لندن میں یا اس کے قریب ہی اپنی یونیورسٹی (برٹش اوپن یونیورسٹی، ملٹن کینز) میں رہتے ہوئے تب تک ایک برس بیت چکا تھا۔ چچا ملک (ڈاکٹر ملک راج آنند) سے اس دوران←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر30

شوکت صدیقی اور میں! پاکستان کے اہل قلم کے حوالے سے جس شخصیت کا ذکر میں اب تک نہیں کر سکا، لیکن اب کرنا چاہتا ہوں، وہ شوکت صدیقی تھے۔ میری ان سے غائبانہ دوستی تیس برسوں تک رہی۔میں انہیں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر29

غزل اور نظم کا بکھیڑا سوال در سوال اور جواب در جواب نوٹ: اپنی چھیاسی برس کی عمر کا ”کتھا چار جنموں کی“ میں لیکھا جوکھا پیش کرتے ہوئے بار بار یہ خیال آتا ہے کہ میں نے اپنی عمر←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر28

ادب کے بارے میں کچھ لیکھا جوکھا آئینہ در آئینہ سے ماخوذ! سوال: ایک شاعرکی زندگی اور موت کی بند عمارت میں دروازے کی درزوں میں سے امکانیات کا سود وزیاں دیکھنے سے عبارت ہے۔ یہ کھلم کھلا آسمانی مشاہدہ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر27

واشنگٹن ڈی سی (امریکا) میں اردو پر کام کی شروعات (ایک یاداشت) ڈاکٹر ٹامس گرےؔ سے میری پہلی ملاقات انڈیا میں ہوئی تھی۔ یہ کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی تشریف لائے تھے، جہاں میں بھی ہندوستانی شرکاء کے←  مزید پڑھیے