ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر26

وِلے نیل۔ ایک فرانسیسی صنف۔Oral Literature = Orature اوریچر انگلستان کے 1971-73 کے قیام کے دوران ایک اور شخصیت سے ملاقات ہوئی جو خود چاہتے تھے کہ مجھ سے ملیں۔ یہ والٹر جے اونگؔ Walter J. Ong تھے جو ایک←  مزید پڑھیے

ظفر اقبال کے اعتراضات کا جواب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

جناب ظفر اقبال کا کالم نیچے پوسٹ کیا جا رہا ہے۔ موصوف نے اس بار تو چھ سات نکتوں کو توڑ مروڑ کر صاف بیانی کی جگہ صریحا ً دروغ گوئی  سے کام لیا ہے۔ میں نکتہ بہ نکتہ ان←  مزید پڑھیے

نظم اور غزل کا فرق جان کر جیو۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ظفر اقبال صاحب شاید ابھی تک انیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ مجھے علم ہے کہ وہ انگریزی اور اس کے وسیلے سے یورپ کی دیگر زبانوں کے ادب سے نا آشنا ہیں۔ مجھے یہ باور کرنے میں بھی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط25

اردو کے ایک فرزانہ و دیوانہ کی کتھا! میں جب واشنگٹن ڈی سی کے ایک نواحی قصبے آرلنگٹن میں اقامت پذیر ہو گیا تو اردو کے جن احباب سے میری ملاقات سب سے پہلے ہوئی ان میں دس بارہ کی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط24

  قصہ ڈاکٹر وزیر آغا کو نوبیل پرائز نہ ملنے کا! سکینڈے نیویا کے چھ ملک اور ان کے کلچر کا مرکز سویڈن! جو شخص سویڈن نہیں گیا اور یورپ کا چکر لگا کر واپس آ گیا، تو سمجھیے اس←  مزید پڑھیے

سعودی عرب میں قیام کے شب و روز ۔۔ستیہ پال آنند/قسط23

ریاض پہنچنے  پر کیمپس کے اندر ہی گیسٹ ہاؤس میں عارضی طور پر رہنے کی جگہ مل گئی۔ نصیر احمد ناصر صاحب کو فون کیا تو وہ ملنے آ گئے۔ جسبیسرسرنا صاحب کو فون کیا تو وہ میاں بیوی دونوں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 22

وزیر آغا (مرحوم) سے خط و کتابت! دو تین ہفتوں کے تعطل کے بعد میں نے فون کیا، انہیں میرا خط مل  گیاتھا اور وہ میرے فون کے انتظار میں تھے، لیکن کسی خانگی وجہ سے پریشان سے تھے، زیادہ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 21

کچا چِٹھّا وزیر آغا اور میری خط و کتابت کا (۱) (گذشتہ سے پیوستہ) اگر میں یہ کہوں کہ ڈاکٹر وزیر آغا سے میرے تعلقات ایک بے حد خوشگوار سطح مرتفح پر استوار میری واشنگٹن ڈی سی میں آمد کے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط20

وزیر آغا صاحب (اب جو مرحوم ہیں) سے میری خط و کتابت تیس برسوں کے طویل عرصے پر محیط رہی۔ خدا جانے میں نے کتنے مکتوب لکھے ہوں گے لیکن ان کی طرف سے جو مکتوب مجھ تک پہنچے، ان←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 19

1991 کی شروعات۔۔۔یونیورسٹی میں میری تین برس کی تقرری ختم ہونے کے قریب تھی۔ ساؤتھ ایشیا پوئٹری پراجیکٹ بھی مکمل ہو چکا تھا کہ مجھے سعودی عرب میں آنے کی دعوت ملی۔ کام وہی تھا، نصاب سازی اور کورس پلاننگ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط 18

ڈاکٹر ٹامس گرےؔ سے میری پہلی ملاقات انڈیا میں ہوئی تھی۔ یہ کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی تشریف لائے تھے، جہاں میں بھی ہندوستانی شرکاء کے ساتھ شامل تھا۔ اتفاق سے ہم دونوں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر میں ساتھ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط17

1۔ حنیف اخگر (مرحوم) ملیح آبادی (نیو یارک) 2۔صوفیہ انجم تاج 3۔ بشیر بدر حنیف اخگر (مرحوم) ڈاکٹر عبداللہ خدا جانے کیوں مجھے کھینچ کھانچ کر (کیا ”کھینچ کھانچ“ میں تابع مہمل صحیح ہے؟ نہیں جانتا، لیکن چلنے دیتا ہوں)←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط16

ایک دلچسپ واقعہ جو 1972 میں لندن میں پیش آیا لندن کے ان برسوں (1972-75)میں میرا تعلیمی ، تدریسی اور کسی حد تک ادبی لین دین اپنے ساتھی اسکالرز سے ہی رہا جو انگریزی کے حوالے سے تھا۔ اردو کے احباب←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط15

۰”ادیب کا عندیہ سوائے تخلیق کرنے کے اور کچھ نہیں ہے!“ ۰تخلیقی قوت کی کارکردگی اور خلق ہوتی ہوئی ’اندر کی آوازیں‘ ڈاکٹر وزیر آغا (مرحوم) سے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر 1999ء چار دنوں کی بات چیت←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی(داستان پریم وار برٹنی اور جوش ملسیانی کی) ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط14

پریم وار برٹنی کا نام سنا تھا۔ ان کی نظمیں بھی پڑھی تھیں۔  رومانی، سیاسی، سماجی۔ پُر گو شاعر تھے، لیکن مالیرکوٹلہ کے اتنے قریب ہونے کے باوجود ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ امرت لال عشرتؔ (جو بعد میں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 13

میں پہلے کئی ابواب میں دو سینئر قلمکاروں سے اپنے تعلقات کا ذکر کر چکا ہوں۔ احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر وزیر آغا دونوں عمر میں اور اپنے ادبی قد کاٹھ میں مجھ سے بڑے تھے۔ صرف بڑے ہی نہیں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی،جدید، ما بعد جدید اور موجودہ ادب۔ قسط 12

جدید اور جدیدیت (تحریر1976 ء) گذشتہ برسوں کے کچھ رسائل اور کتب میں مشمولہ مضامین ِ نظم و نثر کی ورق گردانی کے بعددل میں یہ خیال جاگزیں ہوا کہ چالیس اور پچاس کی دہائی میں جس ادب کو ہم←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔نیا روپ /ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔ قسط 11

زبانوں میں اشتمال اور اخراج کا چلن! حیدرآباد میں قیام کے دوران ایک اور خزینہ ہاتھ لگا۔ یہ تھا ولی ؔدکنی کا وہ کلام جو جامعہ میں بسیار محنت اور جانفشانی سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ اس پر اپنا تحقیقی←  مزید پڑھیے

سانحہ پشاور پر دو نظمیں ۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گذشتہ برس آج کے دن میرے لڑکپن کے شہر پشاور کے افسوسناک سانحہ کےبعد تحریر کردہ دو نظمیں۔ میرے ابّو سلامت رہیں!!   “اے خدا، میرے ابو سلامت رہیں” یہ دعا گو فرشتہ بھی کل صبح مارا گیا ظالموں نے←  مزید پڑھیے

نعت رسولِ مقبولﷺ۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند

( ﯾﮧ ﻧﻌﺖ ﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﺳﺘﻐﺎﺛﮧ ﮨﮯ ) ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ اے خاصہ ء خاصانِ رسلؑ،ہادیء برحق حالیؔ نے روا رکھا تھا جو طرزِ تخاطب مجھ جیسے سبک سر کو تو اچھا نہیں لگتا اے سیدِ الابرار۔۔۔ “امت پر تری آ←  مزید پڑھیے