ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

کتھا چار جنموں کی(داستان پریم وار برٹنی اور جوش ملسیانی کی) ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط14

پریم وار برٹنی کا نام سنا تھا۔ ان کی نظمیں بھی پڑھی تھیں۔  رومانی، سیاسی، سماجی۔ پُر گو شاعر تھے، لیکن مالیرکوٹلہ کے اتنے قریب ہونے کے باوجود ان سے ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ امرت لال عشرتؔ (جو بعد میں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 13

میں پہلے کئی ابواب میں دو سینئر قلمکاروں سے اپنے تعلقات کا ذکر کر چکا ہوں۔ احمد ندیم قاسمی اور ڈاکٹر وزیر آغا دونوں عمر میں اور اپنے ادبی قد کاٹھ میں مجھ سے بڑے تھے۔ صرف بڑے ہی نہیں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی،جدید، ما بعد جدید اور موجودہ ادب۔ قسط 12

جدید اور جدیدیت (تحریر1976 ء) گذشتہ برسوں کے کچھ رسائل اور کتب میں مشمولہ مضامین ِ نظم و نثر کی ورق گردانی کے بعددل میں یہ خیال جاگزیں ہوا کہ چالیس اور پچاس کی دہائی میں جس ادب کو ہم←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔نیا روپ /ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔ قسط 11

زبانوں میں اشتمال اور اخراج کا چلن! حیدرآباد میں قیام کے دوران ایک اور خزینہ ہاتھ لگا۔ یہ تھا ولی ؔدکنی کا وہ کلام جو جامعہ میں بسیار محنت اور جانفشانی سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ اس پر اپنا تحقیقی←  مزید پڑھیے

سانحہ پشاور پر دو نظمیں ۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

گذشتہ برس آج کے دن میرے لڑکپن کے شہر پشاور کے افسوسناک سانحہ کےبعد تحریر کردہ دو نظمیں۔ میرے ابّو سلامت رہیں!!   “اے خدا، میرے ابو سلامت رہیں” یہ دعا گو فرشتہ بھی کل صبح مارا گیا ظالموں نے←  مزید پڑھیے

نعت رسولِ مقبولﷺ۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند

( ﯾﮧ ﻧﻌﺖ ﺑﺼﻮﺭﺕ ﺍﺳﺘﻐﺎﺛﮧ ﮨﮯ ) ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ اے خاصہ ء خاصانِ رسلؑ،ہادیء برحق حالیؔ نے روا رکھا تھا جو طرزِ تخاطب مجھ جیسے سبک سر کو تو اچھا نہیں لگتا اے سیدِ الابرار۔۔۔ “امت پر تری آ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔نیا روپ /ڈاکٹر ستیہ پال آنند ۔ قسط 10

چونکہ گرمیوں کی چھٹیوں میں کوٹ سارنگ جانے کا فیصلہ ہو چکا تھا، جہاں بقول ماں کے،سبھی مسلمان ان کے بھائی بہنیں تھے اور کوئی واردات نہیں ہو سکتی تھی، اس لئے یہی طے کیا گیا کہ آریہ محلے کے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط9

راولپنڈی میں، جہاں میں مشن ہائی سکول میں میٹرک کی تعلیم حاصل کر رہا تھا، مارچ ۱۹۴۷ء کو فسادات پہلے شروع ہوئے۔ کچھ لوگ مارے گئے، کچھ گھر جلا دئے گئے۔ میرا پنجاب یونیورسٹی کا میٹرک کا امتحان ۴ /←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط8

میں استاذی منشی تلوک چند محروم سے ملنے کے لیے دوسرے دن وقت سے پہلے ہی پہنچ گیا۔ ابھی کوئی کلاس پڑھا رہے تھے۔ چپڑاسی کواب میری آمد شاید قبول تھی کہ وہ مجھے ان کا بھتیجا یا بھانجا سمجھ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔ ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط7

1946عیسوی۔ (جنوری تا مارچ) اس دوران میں استاذی تلوک چند محروم صاحب کی خدمت میں حاضرہونا میرا معمول سا بن گیا۔ راولپنڈی کا موسم سرما جنوری میں شدید تر ہو تا ہے اس لیے میں دو دو اُونی سویٹر منڈھ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط6

سن چھیالیس کے آخری مہینے میں جگن ناتھ آزاد ایک دن راجہ بازار میں تیز تیز قدموں سے جاتے ہوئے نظر آ گئے۔ میں پیچھے ہو لیا، کہ کہیں ٹھہریں گے تو بات کروں گا۔ جاتے جاتے بازار تلواڑاں کی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ قسط 5۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں گورڈن کالج راولپنڈی میں منشی تلوک چند مرحوم سے ملنے کے لیے ایک مذہبی فریضے کی طرح جانے لگاَ میں ہر دوسرے تیسرے دن، اسی وقت جب وہ لان میں کرسی پر بیٹھے ہوئے اخبار پڑھ رہے ہوتے۔ مجھے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی،نیا روپ .ڈاکٹر ستیہ پال آنند۔ قسط4

1945ء تک نوشہرہ ایک برس، پھر دو برس راولپنڈی، پھر ایک برس نوشہرہ اور پھر آخری دو برس راولپنڈی۔۔اس طرح یہ ہجرتوں کا سلسلہ جاری رہا۔تین برسوں کے اس عرصے کے دوران میں کوٹ سارنگ صرف دو بار جا سکا،←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط3

تب پہلی بار دس برس کے بچے یعنی مجھے یہ غیر مرئی طور پر محسوس ہوا کہ یہ سفر ہجرتوں کے ایک لمبے سلسلے کی ابتدا ہے۔ میں کوٹ سارنگ آتا جاتا رہوں گا، لیکن اب میں پردیسی ہو چکا←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی کا نیا روپ۔قسط2/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

1939ء گاؤں کے باہر مائی مولے والی بنھ (پانی کے باندھ کا پنجابی لفظ)۔ ایک جھیل ہے جس میں آبی پرندے تیرتے ہیں۔ میں کنارے کے ایک پتھر پر پانی میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں۔ مرغابیاں بولتی ہیں، تو میں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی، کانیا روپ،قسط1۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

1937ء مجھے چاچا بیلی رام اسکول داخل کروانے کے لیے لے جا رہے ہیں۔ میں سفید قمیض اور خاکی رنگ کا نیکر پہنے ہوئے ہوں۔ ایک ہاتھ میں گاچی سے پُچی ہوئی تختی ہے، دوسرے میں ایک پیسے میں خریدا←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (32)ہست اور نیست

ہست اور نیست (ایک) پس منظر سانپ کے ڈسنے سے ج�آانند نیلا پڑ گیا، تو بھکشوؤں نے ماتمی چادر سے اس کو ڈھک دیا تھا پھر یکا یک اس ن�آنکھیں کھول دیں اور واپس آ گیا تھا زندہ لوگوں کے←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (31)…….سلسلہ سوالوں کا

سلسلہ سوالوں کا (آنند : بھوج پتر پر کیوں لکھتے ہی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بھوج پتر: (درخت کی چھال سے بنائے گئے مخطوطات اپنے دھرم گرنتھ ہم سارے؟ تھاگت : تا کہ آنے والی نسلیں ان کو پڑھ کر سیکھ سکیں وہ سب←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم(29)…زنخا بکھشو 2

زنخا بھکشو دوسری اور آخری قسط گزشتہ قسط کا آخری بند یہ تھا ………………………………….. رو پڑا وہ سسکیوں کے بیچ میں اتنا کہا پھر پچھلے دو جنموں میں بھی میں اک نپُنسک ہی تھا ، سوامی ن پُ ن س←  مزید پڑھیے

تتھاگت نظم (28)۔۔۔۔زنخا بھکشو

اور پھر جس شخص کو آنند اپنے ساتھ لے کر بُدھّ کی خدمت میں پہنچا اُس کا حلیہ مختلف تھا سر پہ لمبے بال تھے، ہاتھوں میں کنگن اور کانوں میں جھمکتی بالیاں تھیں صنفِ نازک کی طرح ۔۔ پر←  مزید پڑھیے