ستیہ پال آنند کی تحاریر
ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط36

۵ جولائی ۲۰۱۸ میرا جی کے بارے میں (وزیر آغا مرحوم کے نام میرے خطوط میں سے اقتباسات) (اقتباس۔ مکتوب 13.5.98) ڈاکٹر صاحب قبلہ…..آپ نے درست تحریر کیا ہے کہ دونوں کی رفاقت اور دوستی کو یگانگت کی وہ سطح←  مزید پڑھیے

میری وزیر آغا مرحوم سے بحثا بحثی کی ایک واردات۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 میں جب بھی لاہور جاتا، ڈاکٹر وزیر آغا کے دولت کدے پر ہی ٹھہرتا۔ اوپر والی منزل پر ایک طویل و عریض کمرہ اور غسل خانہ میری عارضی املاک تھے۔ شام تک تو احباب (جن میں ڈاکٹر انور سدید اور←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط35

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط34 یورپ میں کچھ آوارگی کے دن! اس سے اگلے برس کا یورپ کا سفر صرف دو وجوہات سے تھا ایک تو یہ تھی کہ ہائیڈل برگ یونورسٹی سے (جس میں کسی زمانے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط34

لندن کے ان برسوں (1972-75)میں میرا تعلیمی، تدریسی اور کسی حد تک ادبی لین دین اپنے ساتھی اسکالرز سے ہی رہا جو انگریزی کے حوالے سے تھا۔ اردو کے احباب سے کبھی کبھی ہی ملاقات ہوئی۔ اور وہ بھی بر←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 33

ایک ناد ر الوجود ڈکشنری لیکن اس سے پہلے کہ میں امریکہ  اور کینیڈا میں نقل مکانی کے بعد کا ”آلاپ“ شروع کروں، مجھے انگلستان میں اپنے ڈیڑھ دو برسوں کے قیام کے دورانیے  کو ایک نظر دیکھنا ہے کہ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط32

ریاض میں قیام کی باقیات! وقت کی تنگی کا شکوہ ہم سبھی کرتے ہیں، لیکن وقت کے وافر مقدار میں ہونے اور اسے گذارنے کے لیے شغل تلاش کرنے کی شکایت ہم کبھی نہیں کرتے۔ میرے پاس اپنے تخلیقی کام←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر31

واقعہ ایک ہندوستانی ناولسٹ سے ملنے کا! لندن میں یا اس کے قریب ہی اپنی یونیورسٹی (برٹش اوپن یونیورسٹی، ملٹن کینز) میں رہتے ہوئے تب تک ایک برس بیت چکا تھا۔ چچا ملک (ڈاکٹر ملک راج آنند) سے اس دوران←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر30

شوکت صدیقی اور میں! پاکستان کے اہل قلم کے حوالے سے جس شخصیت کا ذکر میں اب تک نہیں کر سکا، لیکن اب کرنا چاہتا ہوں، وہ شوکت صدیقی تھے۔ میری ان سے غائبانہ دوستی تیس برسوں تک رہی۔میں انہیں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر29

غزل اور نظم کا بکھیڑا سوال در سوال اور جواب در جواب نوٹ: اپنی چھیاسی برس کی عمر کا ”کتھا چار جنموں کی“ میں لیکھا جوکھا پیش کرتے ہوئے بار بار یہ خیال آتا ہے کہ میں نے اپنی عمر←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر28

ادب کے بارے میں کچھ لیکھا جوکھا آئینہ در آئینہ سے ماخوذ! سوال: ایک شاعرکی زندگی اور موت کی بند عمارت میں دروازے کی درزوں میں سے امکانیات کا سود وزیاں دیکھنے سے عبارت ہے۔ یہ کھلم کھلا آسمانی مشاہدہ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر27

واشنگٹن ڈی سی (امریکا) میں اردو پر کام کی شروعات (ایک یاداشت) ڈاکٹر ٹامس گرےؔ سے میری پہلی ملاقات انڈیا میں ہوئی تھی۔ یہ کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے دہلی تشریف لائے تھے، جہاں میں بھی ہندوستانی شرکاء کے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی ۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/ قسط نمبر26

وِلے نیل۔ ایک فرانسیسی صنف۔Oral Literature = Orature اوریچر انگلستان کے 1971-73 کے قیام کے دوران ایک اور شخصیت سے ملاقات ہوئی جو خود چاہتے تھے کہ مجھ سے ملیں۔ یہ والٹر جے اونگؔ Walter J. Ong تھے جو ایک←  مزید پڑھیے

ظفر اقبال کے اعتراضات کا جواب۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

جناب ظفر اقبال کا کالم نیچے پوسٹ کیا جا رہا ہے۔ موصوف نے اس بار تو چھ سات نکتوں کو توڑ مروڑ کر صاف بیانی کی جگہ صریحا ً دروغ گوئی  سے کام لیا ہے۔ میں نکتہ بہ نکتہ ان←  مزید پڑھیے

نظم اور غزل کا فرق جان کر جیو۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ظفر اقبال صاحب شاید ابھی تک انیسویں صدی میں سانس لے رہے ہیں۔ مجھے علم ہے کہ وہ انگریزی اور اس کے وسیلے سے یورپ کی دیگر زبانوں کے ادب سے نا آشنا ہیں۔ مجھے یہ باور کرنے میں بھی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط25

اردو کے ایک فرزانہ و دیوانہ کی کتھا! میں جب واشنگٹن ڈی سی کے ایک نواحی قصبے آرلنگٹن میں اقامت پذیر ہو گیا تو اردو کے جن احباب سے میری ملاقات سب سے پہلے ہوئی ان میں دس بارہ کی←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط24

  قصہ ڈاکٹر وزیر آغا کو نوبیل پرائز نہ ملنے کا! سکینڈے نیویا کے چھ ملک اور ان کے کلچر کا مرکز سویڈن! جو شخص سویڈن نہیں گیا اور یورپ کا چکر لگا کر واپس آ گیا، تو سمجھیے اس←  مزید پڑھیے

سعودی عرب میں قیام کے شب و روز ۔۔ستیہ پال آنند/قسط23

ریاض پہنچنے  پر کیمپس کے اندر ہی گیسٹ ہاؤس میں عارضی طور پر رہنے کی جگہ مل گئی۔ نصیر احمد ناصر صاحب کو فون کیا تو وہ ملنے آ گئے۔ جسبیسرسرنا صاحب کو فون کیا تو وہ میاں بیوی دونوں←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 22

وزیر آغا (مرحوم) سے خط و کتابت! دو تین ہفتوں کے تعطل کے بعد میں نے فون کیا، انہیں میرا خط مل  گیاتھا اور وہ میرے فون کے انتظار میں تھے، لیکن کسی خانگی وجہ سے پریشان سے تھے، زیادہ←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط 21

کچا چِٹھّا وزیر آغا اور میری خط و کتابت کا (۱) (گذشتہ سے پیوستہ) اگر میں یہ کہوں کہ ڈاکٹر وزیر آغا سے میرے تعلقات ایک بے حد خوشگوار سطح مرتفح پر استوار میری واشنگٹن ڈی سی میں آمد کے←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند/قسط20

وزیر آغا صاحب (اب جو مرحوم ہیں) سے میری خط و کتابت تیس برسوں کے طویل عرصے پر محیط رہی۔ خدا جانے میں نے کتنے مکتوب لکھے ہوں گے لیکن ان کی طرف سے جو مکتوب مجھ تک پہنچے، ان←  مزید پڑھیے