لکڑی کا یہ گلہ ہمارے بچپن میں ہر گھر کے باورچی خانے میں موجود ہوتا تھا۔ ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جو کچن میں لکڑی کے چولہے کے نزدیک پیڑھیوں، چوکیوں اور دریوں پر بیٹھ کر توے← مزید پڑھیے
ہمارا معاشرہ بدقسمتی سے اداسی، غم اور دکھ کو خوشیوں پر ہمیشہ ترجیح دیتا چلا آیا ہے۔ ہماری شاعری نوے فیصد افسردگی، اداسی اور رنج و الم سے مزیّن ہے۔ کہیں فکر معاش ہے تو کہیں فکرِ فردا۔ رہی سہی← مزید پڑھیے
عشق وہ منہ زور بلا ہے جو اپنا آپ منوا کر رہتی ہے۔ اپنے منہ آپ بولتا، کفر تولتا اور محب و محبوب کو مٹی میں رولتا عشق دراصل عشق ہے ہی نہیں، اگر پھٹے ڈھول کی مانند اس کی← مزید پڑھیے
ہمارے شہر میں طوفان آئیڈا نے اتنی تباہی مچائی ہے کہ ہر سمت ٹوٹے ہوئے در و دیوار اور ٹوٹے دل ہی دکھائی دیتے ہیں۔ ٹوٹی چھتوں، گرتے دیوار و بام کی مرمت کروانے کے دام آسمان سے باتیں کرنے← مزید پڑھیے
عجیب اتفاق ہے۔ ابھی ابھی فلاڈیلفیا سے آتے ہوئے ہائی وے 59 ساؤتھ پر البامہ کے ایک ننھے منے چھوٹے سے قصبے کے نزدیک سے گزرے تو اس کے نام Mccalla Bessemer پر ہمیں ہنسی آ گئی ۔ ہم نے← مزید پڑھیے
عزیزم نسیم خان کی انوکھی دلفریب آزاد شاعری کی کتاب “رنگریز” پڑھتے ہوئے جب انگ انگ ان دیکھے رنگوں میں رنگتا چلا گیا تو یوں محسوس ہوا جیسے قدموں تلے بچھے قالین کے دھیمے رنگ دھنک بن کر لہرانے لگ← مزید پڑھیے
بدقسمتی سے نااہلوں اور نکموں کا ٹولہ ملک پر سوار ہے، وہی چہرے بار بار روپ بہروپ بدل کر حکومت کر رہے ہیں اور خون لگا کر شہیدوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ محترم شیخ رشید صاحب اور خالہ فردوس← مزید پڑھیے
ہمارے ہاں باقاعدہ اخبار کا انتظار صبح سویرے باہر بیٹھ کر کیا جاتا تھا۔ جونہی ہاکر اخبار گیٹ کے اوپر سے پھینکتا، اسے جھپٹ لیا جاتا۔ مگر سب سے پہلے پڑھتے اسے والد محترم ہی تھے۔ اخبار ان سے فارغ← مزید پڑھیے
اوئے صاحب جی۔۔۔ ادھر تشریف لیاؤ لائسنس ہے؟ موٹر سیکل کے کاغذ دکھاؤ۔۔۔ آپ کو پتہ ہے آج رمضان المبارک شریف ہے، آپ نے روزہ رکھا ہے؟ رکھا ہے تو آخر کہاں رکھا ہے؟ شکل سے تو نہیں لگتا کہ← مزید پڑھیے
ہمارے بچپن میں ماہ رمضان کا خاص اہتمام و انتظام ہمیں اب تک یاد ہے۔ ہمیں بچپن سے ہی چاولوں کی کھیر پسند تھی۔ والدہ محترمہ ہر روز سحری میں ہمارے لیے کھیر بنا دیتی تھیں تو ہم خوشی خوشی← مزید پڑھیے
تنقید لکھنے والے بھی تو ایسے ایسے پاپڑ بیچتے ہیں، وہ بھی تھوک کے بھاؤ اور تھوک میں تلے ہوئے۔۔۔ کہ توبہ ہی بھلی۔ چوہا لنڈورا ہی بھلا۔ اس سے بھلے تو انسان پانی کا گلاس توڑ کر ریستوران سے← مزید پڑھیے
پاکستان میں ایک زمانے میں فلمی انڈسٹری پر بہاریں تھیں۔ ہر شہر قصبے میں لاتعداد سینما گھر موجود ہوا کرتے تھے۔ نت نئی شاندار فلمیں بنتیں اور کامیابی سے ہمکنار ہوتیں۔ خواتین گھریلو فلمیں دیکھنے جایا کرتیں اور زار← مزید پڑھیے
سن اکتر کی جنگ میں وہ سبز پوش بابے کہیں نظر نہ آئے جو پینسٹھ کی جنگ میں بھارت کی طرف سے پھینکے بم کیچ کر کے انھیں ناکارہ کر کے ندی نالوں میں پھینک دیتے تھے۔ میریا ڈھول سپاہیا← مزید پڑھیے
قومی ترقی کے نام پر ہمارے ہاں جو مذاق کیے جاتے ہیں، کم از کم ہمیں تو ان پر کوئی ہنسی نہیں آتی۔ ہمارے ہاں دکھاوے، شو شا، افتتاحی تقریبات، نقاب کشائی، ربن کٹائی ہر بات میں اتنی ہوتی ہے← مزید پڑھیے
شاوا اوئے۔۔۔۔ لڑکی کو اپنے جیون ساتھی کے چناؤ کا مکمل اختیار تو اسلام دیتا ہی ہے۔۔۔ نزلہ صرف اس لیے گر رہا ہے کہ وچولوں اور ملا، نکاح خواہوں کا کاروبار کہیں ٹھپ نہ ہو جائے۔ سماج کی چڑھی← مزید پڑھیے
خواتین کا عالمی دن منایا گیا۔ گھر کی خواتین سمیت دنیا بھر کی صنف نازک خوشی سے پھولی پھٹی پڑتی ہیں۔ دن ڈھلا اور اللہ اللہ خیر صلا۔۔۔ پھر وہی چولہا روٹی، بک جھک اور زندگی کے عذاب ۔ عورت← مزید پڑھیے
اللہ میاں کا بنایا ہوا کمپیوٹر “انسان”، خود انسان کے اپنے بنائے کمپیوٹر سے زیادہ دیر پا ہے۔ خدائی کمپیوٹر کو صرف خوراک اور پانی درکار ہے۔ اس خوراک میں کیا شامل ہو، اکثر اوقات انسان کی اپنی فطرت خود← مزید پڑھیے
مگر یہی بات لکهی کہانی اور بهوگی کہانی کا مشترک درد بن کر کانوں میں انڈیلا رہ جاتا۔ یہ سارے الفاظ بهی دهندلے ہو کر کهو جاتے، صرف مفہوم کی بجلیاں گونجتی کڑکتی رہ جاتیں۔۔ کہانی لکهنے والی نے کئی← مزید پڑھیے
ایک کہانی وہ تهی جسے وہ لکھتی تهی اور ایک کہانی وہ تهی جس کا لکھا وہ بهوگتی تهی، دونوں کہانیاں بالکل مختلف تهیں مگر گڈ مڈ ہو ہو جاتی تهیں۔ پهر جو وہ لکهنا چاہتی تهی، اس سے لکها← مزید پڑھیے