روزہ ڈھال ہے۔۔ناصر خان ناصر

اوئے صاحب جی۔۔۔ ادھر تشریف لیاؤ
لائسنس ہے؟
موٹر سیکل کے کاغذ دکھاؤ۔۔۔
آپ کو پتہ ہے آج رمضان المبارک شریف ہے، آپ نے روزہ رکھا ہے؟
رکھا ہے تو آخر کہاں رکھا ہے؟
شکل سے تو نہیں لگتا کہ روزہ رکھا ہو گا۔
کوئی  ثبوت دکھائیں کہ روزہ رکھا ہوا ہے۔
شناختی کارڈ!
او کے۔ ادھر دکھائیں۔
اس پر کہاں لکھا ہے کہ آپ روزہ دار ہیں؟
اچھا۔ آپ حلفیہ قسم اٹھاتے ہیں کہ آپ نے سحری کھائی  تھی۔
منہ سنگھاؤ۔۔
اوئے یہ تو تازہ لسی کی بو ہے۔
تم کہتے ہو تم نے پراٹھا کھایا تھا۔
حوالدار انوار۔۔۔
ذرا ادھر تو آنا۔۔۔ صاحب جی کی مہمانی کرنی ہے۔
ایک ذرا ہلکی سی مالش ۔۔۔
منہ کیا تکتے ہو۔
چھترول شروع کرو۔
چلیں اب بتائیں آپ۔
بسم اللہ۔۔۔
شروع ہو جائیں۔۔۔
سحری میں پراٹھا کیوں کھایا ، کیسے کھایا، کہاں کھایا اور کتنا کھایا؟
کہاں بیٹھ کر کھایا، کس کے سامنے، کسی کی اجازت سے اور کس کی غیر موجودگی میں کس کے ساتھ بیٹھ کر کس وقت کون سے کپڑے پہن کر کھایا؟۔
سحری کھاتے ہوئے جوتوں کا رنگ، موزوں کا رنگ کیا تھا؟۔
موزے پہنے ہوئے تھے کہ نہیں؟ پہنے ہوئے تھے تو آخر کیوں؟
کیا موزے ایک سائز کے تھے؟ کب اتارے، کہاں اتارے اور کیوں؟
کیا وہ بدبو دار تھے؟
ان کا رنگ آپس میں ملتا تھا۔۔۔۔؟
کھاتے ہوئے چمچ استعمال  کیا کہ چھری کانٹے، کانٹا گلے میں پھنس تو نہیں گیا؟
کانٹا پھنس جائے تو کیا کرتے ہیں؟
مچھلی پھنس جائے تو کیا نہیں کرتے؟
حولدار صاحب! اسے لے جاؤ۔ اس سے سارے سوال پوچھو!
تسلی بخش جواب نہ دے تو پاسے سیک دو۔
سو چھتر مارو اور گنو ایک!
دیکھو !
ذرا سڑک سے نیچے کچے میں اتر جاؤ۔
کسی نے فوٹو شوٹو، مووی شووی بنا لی تو بہوت غضب ہو جائے گا۔
اگر مجرم دس منٹ میں اقرار کر لے کہ اس نے روزہ نہیں رکھا تو اسے جرمانہ لگا کر چھوڑ دینا ورنہ حوالات میں بند کر دینا۔ موٹر سیکل بھی لے جانڑاں۔۔۔
جب تک بھلی تگڑی رقم نہ دے دے، ہرگز مت چھوڑنا۔
ہم دو سپاہوں کے ساتھ اور مچھلیاں پکڑنے جاتے ہیں۔
دوپہر سے پہلے پہلے ڈھائی  لاکھ روپے کا بندوبست کرنا ہے۔ مذاق تھوڑا ہے۔
اپنڑے تھانے دار صاحب  نے آج روزہ کشائی  کروانی ہے۔ وڈے ڈپٹی کمشز صاب جی نے آنڑاں ہے۔
اور بھئ ہم نے بھی تو آخر رمضان شریف کی برکات سے مستفیض ہونا ہے پیارے۔۔۔۔ اپنڑیاں وی تے موجاں ای موجاں۔۔۔
صاحب جی۔ غضب ہو گیا۔ ابھی ابھی تھانیدار صاحب کا فون آیا ہے۔
یہ کاکا ان کا بھانجھا ہے صیب۔ ترنت اسے چھوڑ دو۔۔۔
اوئے ہوئے، غضب ہو گیا۔ بڑی سخت غلطی ہو گئی ۔۔۔
اے بیٹا!
پیارے بچے۔ آپ کا تو پکا روزہ ہے، شکل سے ہی صاف دکھ رہا تھا مگر کیا کریں؟
نوکری تو ایمانداری سے کرنی پڑتی ہے ناں۔
کسی ظالم نے غلط مخبری کی تھی۔۔۔
آپ تو ماشا اللہ سے شریف خاندان کے بچے ہیں۔ ہماری خطا معاف کر دیں۔
یہ لیں میں ہاتھ جوڑتا ہوں، میرے نکے نکے بچے ہیں، اپنے روزے کے صدقے معاف کرنا۔
روزہ ڈھال ہے۔۔۔
جاو میرے بچے۔۔۔ جگ جگ جیو۔ تھانیدار صیب کو میرا سلام بولنا۔ کہہ دینا ہمارے سے سخت غلطی ہو گئی ۔۔۔ اللہ معافی۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply