پاکستان، ہندوستان۔۔ناصر خان ناصر

دلت، جھبیل، پکهی واس، شودر، کمی، اوڈر، تیلی، مراثی، چنگڑ، نیارئیے، ملیچ، وان کٹ، چوہڑے، چمار، شہودے، بردے کوہنے، مردے شوہنے، ملنگ ملنگے، آچهوت، منگتے، سانسی، پانسے، جهانگڑ، بهنگی، بھگ منگے، فقیر، مزارعے، ہاری، مصلی، آدی واسی، نائی ، موچی، چمڑے واسی، جولاہے، کٹانڑے، بہشتی، داسی پتر، حلال خورے، چکیاڑے، مہتر، ادهوڑی، چرم دوز، خانہ بدوش، مزدور، دیہاڑی دار ، لونڈے ، نوکر، محکوم اور غلام۔۔
ایک ہی انسان کے اتنے سارے نام۔۔۔ ایک دیش کے دو بنے، دو سے تین ہو گئے۔۔۔
مگر بھوکے ننگے غریب انسان کی حالت کہیں نہ بدلی۔

اے بھگوان، اے رام، اے اللہ، اے رحمان، اے بدھاتا، اے جیسس کرائسٹ، یہوہ۔۔ وہ جس کا نام لیا نہیں جا سکتا، ہا شم۔۔ اہور مزدا۔۔فروا ہار۔۔۔
ہائے رے میرے پالن ہار۔۔۔
تیرے۔۔۔۔۔ تیور سر یکدم کیسے کومل سروں کی مٹهار اترتے ہیں؟
کیوں دریا اوپر سے نیچے بہتے ہیں؟
پانی کیوں نشیب میں کهڑا رہ جاتا ہے؟

tripako tours pakistan

اری انوری۔۔۔۔آ گئی تو۔۔۔الله ماری ، کمبخت۔۔۔دن چڑهے پہنچی یہاں۔۔۔۔
صبحو سے برتن سڑ رہے ہیں۔۔۔
بیگم صاحب بس نکل گئی۔۔کیا کرتی؟
پیدل آ رہی ہوں دو میل سے۔

( اری نیک بخت ذری بچوں کو اٹها کر ناشتہ کروا کر کام پہ جائیو۔۔۔۔مجھ بڑهیا سے تیرے جنے سنبهلیں ناہیں۔۔کچھ کہوں گی تو بولے گی۔۔ ظالم ساس ہے، کما کے کهلاتی ہوں، تبهی مرتی بهی نہیں ہے۔
نہیں اماں جان ابهی لیجیے۔
پہلے آپ کے لیے دلیہ بنا لوں پهر سب کو ناشتہ کرا کر ہی جاؤں گی۔۔خیر سے)

ماسی باتیں مت بنا ۔۔اچها چل ،برتنوں کے بعد یہ کپڑے بهی دهو دینا۔۔۔۔آج قیمہ بهرے کریلے پکانے ہیں، جلدی ہاتھ چلانا۔۔۔۔سرف کا ڈبہ یہ رہا۔ بالٹی نلکا چلا کر بهر لینا۔

(انور خاتون۔۔۔ آج کام پہ جانے سے قبل میرے کپڑے،میرے کپڑوں سے بو آنے لگی ہے۔۔جان۔۔۔ دهو دینا، کاش میں لنگڑا نہ ہوتا تو تم کو سات گهروں میں یوں در در کام نہ کرنے جانا پڑتا۔۔۔۔۔کاش میں۔۔

ایسے تو مت کہیے آپ۔۔۔ابهی دهوئے دیتی ہوں۔ آپ یہ بنیان اور لنگی پہن لیجیے اور یہ قمیض اتار دیجیے۔۔۔
اللہ اسکے تو بٹن ہی ٹوٹ گئے۔
کاش میں اپنی آنکهیں یہاں ٹانک سکتی۔۔۔

انوری آ گئی  تم۔۔۔ذرا بلی کو دودھ ڈال دو تو پهر کارپٹ ویکیوم کرنا۔
جی بیگم صاحب۔۔۔ابهی لیجیے
(ننها تین دن سے بهوکا ہے۔۔۔دودھ کہاں سے لاؤں؟ )

(انور جہاں خاتون۔۔۔۔میری لاڈلی بچی جگ جگ جیو۔۔۔ سدا سہاگن رہو میری بیٹی۔
پهولوں کی سیج پہ راج کرے میری شہزادی۔۔

ارے پیارے ابا، خدا تمہیں  کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، شکر ہے تم اپنی شہزادی کا حشر نشر دیکهنے سے قبل ہی رحلت فرما گئے

اری آ گئی  شہزادی۔۔
کب سے راه دیکھ رہی ہوں تمہاری۔۔۔ آج ان کے دوستوں اور باس نے یہاں آنا ہے۔۔۔ دعوت پر بلایا ہے اور تو نے اتنی دیر کر دی۔۔۔۔ اللہ ماری۔۔۔۔
تجھے  بتایا تو تها۔۔۔۔ یوں دیر سے آؤگی تو بی بی۔۔۔۔ بهلے مت آؤ۔
ماسیاں بہت۔۔۔۔ اری اینٹ اٹهاؤ  تو دو دو نکلتی ہیں۔۔
آج ابھی اپنا حساب چکتا کرو اور دفع دفعان۔۔۔۔ منہ کالا کرو۔

بیگم صاحبہ!
غلطی ہو گئی ۔ معافی دے دیں۔ ابهی چٹکیوں میں سارا کام نبٹاتی ہوں۔
ادهر لائیے تهوم، پیاز اور ادرک۔۔۔۔
اللہ! چار گهروں کو بهگتا لیا۔
ابهی تین اور گهروں کی گهرکیاں باقی ہیں۔ ہمت کرو انور جہاں بیگم!
ہونہہ۔۔۔
کہاں کی بیگم؟ ننگی۔ بهوکی پیاسی۔
آج تو کسی گهر سے باسی کهانا بهی نہ ملا۔

بیگم صاحبہ۔ یہ رضائی  کل ذرا جلدی آ کر سی دوں گی۔ آج میرا بیٹا گهر پر بیمار پڑا ہے۔ تهوڑا سا جلدی جانے دیں۔ بڑی مہربانی

آج پهر آخری بس بهی نکل گئی۔
یا اللہ تیرا آسرا۔
جوتی کم بخت کو بهی آج ہی ٹوٹنا تها۔ شکر ہے یا اللہ تیرا۔
ابھی گهٹنے سلامت ہیں اور ہاتھ پیر بهی۔

اری آ گئی بنو۔ گهر کی یاد لے آئی  تجھے  واپس۔ بچے سارے صبو سے بهوکے بیٹھے ہیں۔
ہائے میرا لعل بهی بهوکا ہی سو گیا۔ آج بهی کچھ لائ کهانے کو۔۔۔ یا سب کچھ خود راستے میں ہی چٹور گئی  مالزادی؟

اری تو تو آتے ہی دهڑم سے گر پڑی۔ بچوں کو کهانا کیا تیری اماں کهلائے گی؟
مجھ بڑهیا کا تو بدن ٹوٹتا ہے۔۔۔۔۔
اے بھگوان تو نے دھرتی پر لکریں ڈالے بنا ہندوستان پاکستان کر دیا، مگر دھرتی پر غریبوں کے دکھوں کا بٹوارہ کبھی نہ کیا۔۔۔
اے رام دئی، اللہ ماری تو ابھی لوٹی یا نہیں؟
اے رگھو ناتھ۔۔۔ کن پاپوں کی سزا دئیے رہن مجھ نگوڑی لنگڑی کو۔۔۔
اے بھگوان تمری اکھیاں بھی پھوٹی روت کیا؟
ہمرے ٹوٹے ہاتھ تمھیں دکھیں ناہیں ہیں ناں پچکا پیٹ۔
اے کیا تم بھی اندھے گونگے اور بہرے ہوئی  گوو؟ ۔۔۔
رام دئی  تو کبھی کی لوٹ آئی  تھی اور بے آواز دبے پاؤں آ کر جھلنگا سی چارپائی  پر لیٹ رہی تھی۔
وہ ماں کو کیسے بتائے  کہ آج تو اسے زندگی نے اپنا نیا تحفہ دے کر کنگال کر دیا، کتنے سپنے سجائے وہ کام کاج کی تلاش میں نکلی تھی۔۔۔ مگر گجرا گاؤں میں نوکری کہاں؟
دو چار ملیچوں کے گھر تھے، چند کھتری گھرانے اور باقی سب برہمن پانڈے۔۔۔ پنڈت لکھو رام یوں تو بڑے دیالو تھے مگر دھرم کرم کے معاملے میں وہ بھی بڑے کھرے تھے۔۔۔
‘چھوکری کو دان پن دینا ہو تو چوکھٹ پر ہی ہاتھ بڑھائی  کے دینے کا۔۔۔
لے کر سارا انگن بھرشٹ مت کرائی  دیو۔۔۔
لالائن کو وہ کئی بار مت دے چکے تھے مگر سالی الٹی کھوپڑی ہو تو اس کا کیا علاج؟
لالائن نے کبھی سن کر نہ دیا۔ انھیں نئے زمانے کی ہوا لگی تھی۔۔۔ کلجگ ہے، نہ دین کا النگھن نہ دھرم کا اپاسن، نہ ریت رسموں کا وچار و خیال۔ ذات پات کے لفڑے۔۔۔۔ ان ٹنٹوں کا کسے دماغ ہے؟
وہ کلموہی بھی جب دیکھتی کہ پنڈت جی گھر پر نہیں ہیں تو فوراً  آن براجتی۔
بیٹھتی تو وہ ہمیشہ ننگے فرش پر ہی تھی کہ اپنی ذات کو وہ آپ خود بھی پہچانتی تھی مگر کلمہ لالائن کا ہی پڑھتی تھی۔۔۔
لالائن بھی ترس کھا کر اسے کولہو کے بیل کی طرح کہیں نہ کہیں جوت ہی لیتی۔ بھلے گرمی اور مشقت سے اس کا خون پسینہ ایک ہو جاتا مگر کچھ نہ کچھ بھوکے پیٹ کا سہارا ضرور ہو جاتا۔
لنگڑی کٹو کو تنکے کا سہارا بہت۔

آج چوکے میں کچھ بھی نہیں تھا۔ بدقت اٹھ کر دھویں کی لکیر سی کبڑی بڑھیا ماں نے کٹیا کے سارے کونوں کھدروں میں دیکھ لیا، خالی ڈبے، ٹوٹی ہانڈیاں، کچا مرتبان کہیں بھی کوئی شے نہیں تھی۔
صبح سے کوئی کھیل بھی اُڑ کر منہ میں نہیں گئی  تھی۔
رام دئی  کو بہت منت سماجت سے بمشکل راضی کر کے پنڈت جی کے گھر بھیجا۔
خوش نصیبی سے پنڈت جی چوپال پر گئے تھے۔ لالائن نے پہلے تو سارے آنگن میں جھاڑو دلوایا پھر تندور جھنکوائے، تھئ کی تھئ روٹیاں پکوانے کے بعد میلے کپڑوں کا ڈھیر سامنے لا کر رکھ دیا۔
الٹے ہاتھ سے نلکا چلا کر اس نے پانی سے بالٹی بھری۔ اب وہ تھک کر چور ہو چکی تھی۔ سالن کے دیگچے کے نیچے سلگتی آنچ دھیمی پڑ چکی تھی۔ اکڑوں بیٹھ کر پھکنی کو منہ سے لگا کر اس نے زور زور سے پھونکیں مارنا شروع کیں۔
سارا منہ پسینے سے شرابور لال بھبکا ہو گیا۔ ہاتھ راکھ سے اٹ گئے۔ دھویں سے گلابی شربتی ہوتی آنکھوں سے پٹ پٹ آنسو بہنے لگے۔ ماتھے سے شرارتی بالوں کی لٹ ہٹاتے ہوئے کالک سے اٹے ہاتھ نادانستہ طور پر گالوں کو چھو گئے اور وہاں بڑا سا ایک کالا دھبہ چھوڑ گئے۔

لالائن اس کی اتری صورت دیکھ کر زور سے ہنسی۔
پھر اسے پنڈت جی کو بلانے کے لئے چوپال پر بھیجا۔
پنڈت جی وہاں تنہا بیٹھے تھے۔ چوپال خالی تھا۔
شاید سبھی لوگ جا چکے تھے۔
وہ اسے دیکھ کر زیر لب مسکرائے۔
کافی دیر کے بعد اسے پر مژدہ آہستہ آہستہ تنہا گلی سے واپس آتے دیکھ کر لالائن کا ماتھا ٹھنکا۔
اس کے گال پر لگا دھبہ غائب تھا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *