مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

زوال کی کہانی۔۔رؤف کلاسرا

کیا یہ پاکستانی سیاست اور سیاستدانوں کا آخری دور ہے؟ جتنی سیاست کرنی تھی کر لی ‘جتنی عزت کمانی تھی کما لی‘ جو عروج پانا تھا‘ پالیا ہے۔ اب زوال کا وقت ہے۔ کیااب سیاست اور سیاستدان نیچے ہی جائیں←  مزید پڑھیے

ہمارے علمی جمود کی بڑی وجہ۔۔پروفیسر ساجد علی

بیسویں صدی کے ایک بہت ممتاز فلسفی کارل پوپر نے دو روایات کا تذکرہ کیا ہے۔ ایک انتقاد فکر کی روایت اوردوسری مذہبی روایت۔ (یعنی ایک رویہ ہے کسی بات کی جانچ پرکھ کرنا اور دوسرا رویہ ہے بات کو←  مزید پڑھیے

کالیاں اِٹاں کالے روڑ۔۔محمد جمیل احمد

وہ ریلوے اسٹیشن کے قریب ایک پرانے کھنڈر میں ایک ٹھوٹی چھت کے نیچے ٹاٹ پر لیٹ گیا ۔ اسکا دوست اسکے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔۔۔ “ایسے جیسے تمہارے ماتھے پر حشرات بھنبھنا رہے ہوں”۔۔ “تم میرے لئے←  مزید پڑھیے

تاجروں کی حمایت میں۔۔محمد اظہار الحق

تاجر برادری نے ایک بار پھر قوم کے دل جیت لیے ہیں۔ اللہ اللہ۔ افراتفری اور نفسا نفسی کے اس دور میں ‘ مادہ پرستی کے اس چیختے ‘ چنگھاڑتے‘ بھنبھوڑتے زمانے میں‘ ایسے بے غرض افراد ‘ ایسے دھُن←  مزید پڑھیے

نئے دورمیں داخلے کا دروازہ۔۔پروفیسر ساجد علی

1- قبل ازتاریخ کا انسانی معاشرہ جسکی بنیاد”عصبیت اورایثار” پر تھی- اقتصادیات میں نوبل انعام یافتہ اور بیسویں صدی کے عظیم سیاسی مفکر ایف۔ اے۔ ہائک کا کہنا ہے حیات انسانی کا کئی لاکھ سال پر محیط ایک دور وہ←  مزید پڑھیے

تلاشِ گمشدہ۔۔عنبر عابر

وقت بدل گیا تھا اور فنِ اداکاری اپنے عروج پر تھا۔ڈرامہ و فلم انڈسٹری سے منسلک کالجز دھڑا دھڑ اداکار پیدا کر رہے تھے اور روز بروز نئی فلموں، نئے ڈراموں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا تھا ۔تفریح کے←  مزید پڑھیے

جانے یہ سب کدھر گئے ۔۔سیّد مہدی بخاری

سکول کے باہر ٹھیلے پر ایک بڑا سا جستی دیگچہ دھرا رہتا جس میں تخمِ ملنگ کا برفیلا شربت ٹھاٹھیں مارتا۔یہ تخم چھوٹے چھوٹے سیاہ بیج سے ہوتے جو مچھلی کے نوزائیدہ بچوں کی طرح شربت میں تیرتے رہتے۔ اتنے←  مزید پڑھیے

ظلمت سے نور کا سفر(قسط15)۔۔۔محمد جمیل آصف ،سیدہ فاطمہ کی مشترکہ کاوش

سیر کر دنیا کی غافل زندگانی پھر کہاں زندگی گر کچھ رہی تو یہ جوانی پھر کہاں “اے ریشمہ سن میری بات” ضحی کی اماں نے چھوٹی بیٹی کو آواز دی ۔ “جی اماں کیا ہے؟” اور وہ ضحی کے←  مزید پڑھیے

نون لیگ اور پی ڈی ایم۔۔خورشید ندیم

نوازشریف اورمریم نواز نے جب اس سفر کا آغاز کیا تھاتو یہ جان کر کیا ہوگا کہ انہیں کن راہوں سے گزرنا ہے۔ اگر حوصلہ نہ ہوتا تو کب کے لوٹ چکے ہوتے:؎ یہ قدم قدم بلائیں، یہ سواد کوئے←  مزید پڑھیے

سینیٹ الیکشن ،کیا حلال اور کیا حرام۔۔محمد فیصل

جانوروں سے عشق شاید میری گھٹی میں پڑا ہے ۔عیدالاضحی کے لیے ہی قربانی کاخوبصورت جانورتلاش کرنا بھی میرا پسندیدہ مشغلہ ہے ۔بات صرف قربانی کے جانوروں کی ہی نہیں میں ہر قسم کے پالتو جانوروں کو  اپنے دل سے←  مزید پڑھیے

ہمارے لوکل سائنسدان۔۔گل نوخیز اختر

مجھے بہت دکھ ہوتا ہے جب کوئی کہتا ہے کہ ساری ایجادات انگریز کر رہے ہیں، حالانکہ جس قسم کی ایجادات پاکستان میں ہورہی ہیں ایسی انگریزوں کا باپ بھی نہیں کر سکتا۔ الحمدللہ ہمارے ہاں چٹے ان پڑھ لوگ←  مزید پڑھیے

کیپٹلزم اور اسلام۔۔محمد اشفاق

کیپیٹلزم کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اسے اپنانے والے اور اس کی مخالفت کرنے والے، دونوں اسے ایک معاشی نظام سمجھ کر رد یا قبول کرتے ہیں۔ میں ایسا نہیں سمجھتا اور ایسا سمجھنے والوں←  مزید پڑھیے

مُحمّد علی سدپارہ کا حقیقی جاں نشیں کون؟۔۔عمران حیدر تھہیم

بہت مشہور بات ہے کہ ایران میں جاڑے کے موسم میں جب بھیڑیوں کو شکار نہیں ملتا اور برف کی وجہ سے خوراک کی قِلّت پیدا ہو جاتی ہے تو بھیڑیے ایک دائرے میں بیٹھ کر ایک دوسرے کو گُھورنا←  مزید پڑھیے

مثالیت پسندی اور حقیقت پسندی کی جنگ: عمران خان اور پیروکار۔۔عرفان شہزاد

ہر شخص میں مثالیت پسندی اور حقیقت پسندی دونوں رجحانات کسی نہ کسی درجے میں ایک تناسب سے موجود ہوتے ہیں۔ کسی ایک رجحان کا غلبہ انسان کو مثالیت پسند یا حقیقت پسند بنا دیتا ہے۔ مثالیت پسندی دستیاب ذرائع←  مزید پڑھیے

کائنات، اک بحرِ بیکراں(1)۔۔محمد نصیر

جاننے کی جستجو انسان کے اندر بہت گہرائیوں میں موجود ہے۔ انسان نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اس نے مشاہدے میں آنے والی ہر شے کی حقیقت کو جاننے کی جستجو میں طویل سفر کئے۔ یہ سفر صدیوں پر←  مزید پڑھیے

اب چراغ جن کے ہاتھ میں ہے۔۔سیّد مہدی بخاری

میری عمر کے لوگ گواہی دیں گے کہ جب ہم بچے تھے تو ہمارے روز و شب کیسے تھے۔ پہلی بات تو یہ کہ ہم سورج غروب ہونے کے بعد باہر نہیں کھیل سکتے تھے۔ مغرب کے وقت ہر حال←  مزید پڑھیے

پاک بھارت فائر بندی: توقعات اور اندیشے۔۔افتخار گیلانی

ویسے تو جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے والی خونی لکیر یعنی لائن آف کنٹرول پر تو 2008کے بعد ہی سے توپوں اور مارٹرز کی گھن گرج جاری تھی، مگر 2019میں پلوامہ حملہ اور بالا کوٹ پر فضائی حملوں کے←  مزید پڑھیے

یہ بھی وہی ہیں۔۔محمد اظہارالحق

لکھ لکھ کر قلم گھِس چُکے۔ رِم کے رِم کاغذ کے سیاہ ہو چکے۔ روشنائی اتنی خرچ ہو چکی کہ چہروں پر ملی جاتی تو جتنی تعداد کالے دلوں کی ہے، اتنے ہی سیاہ رُو میسر آ جاتے! ٹائپ کر←  مزید پڑھیے

شدنی۔۔ربیعہ سلیم مرزا

“میں نوراں ہوں” .ماں کہتی ھے، اپنے نام کی طرح سوہنی ہوں ۔ سارا پنڈ اور فضل دین بھی تو کہتا ہے ۔میں جن دنوں،فضل دین کو دل وجان سے دیکھ رہی تھی تب کسی ویاہ میں نذیر نےپہلی بار←  مزید پڑھیے

باعزت قاتل۔۔ثوبیہ چوہدری

وہ مجھے قتل کر دیں گے ۔نہیں چھوڑیں گے۔۔ فون سے اس کی اندیشوں بھری آواز آ رہی تھی ۔مارے خوف کے اس سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی ۔ ایسے تھوڑی مار دیں گے ۔اتنا آسان نہیں ہوتا←  مزید پڑھیے