Fozia Qureshi کی تحاریر

رقصِ مرگ۔۔۔فوزیہ قریشی/افسانہ

ایک عجیب سی بے بسی کا امڈتا ہوا سمندر اس کی آنکھوں سے عیاں تھا۔ چہرے پر انمٹ صدمات کی دھول عمیق اداسیوں کی مہر ثبت کر چکی تھی۔ اب تو شاید، اس کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں بھی بوڑھی←  مزید پڑھیے

حسن ِنظر ۔۔۔فوزیہ قریشی

’’ارے رکو، سنو تو کائنات۔۔۔ کائنات‘‘ میری آواز آس پاس کے شور میں کہیں دب کر رہ گئی اور وہ اس کا ہاتھ تھامے بس میں سوار ہو گئی۔ ’’وہ کون تھا اور اس کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں←  مزید پڑھیے

سوا نیزے پہ ٹھہرا سورج۔۔۔فوزیہ قریشی

نجانے کتنے برسوں سے آگ برسا رہا تھا ۔ لو کے تھپیڑے اور چلچلاتی گرم دوپہروں نے ہر سانس لینے والے حشرات کا جینا دوبھر کر رکھا تھا ۔ ایک پراسرار سی خاموشی اطراف میں چھا ئی ہوئی تھی۔ پہاڑ←  مزید پڑھیے

می ٹو،میں بھی تو ہوں ۔۔۔۔ فوزیہ قریشی

Harassment کے معنی متشدّدانہ دباؤ، غیر معمولی طور پر اپنے سے نیچا دکھانا، متعصبانہ رویّے، غیر مہذب جسمانی حرکات، جنسی دعوت دینے والے پوشیدہ لین دین، زبانی کلامی و جسمانی حرکات سے کسی کی عزت، غیرت اور حمیت کا تقاضا←  مزید پڑھیے

گہرے گھاؤ۔۔فوزیہ قریشی

نومبر کی وہ وحشت نا ک شام اس کے لا شعور میں کائی کی طرح جم چکی تھی ۔ اسے اپنے ہاتھ لال اور ہرے رنگ کا ایک شاہکار دکھائی دیتے تھے. جیسے کسی آرٹسٹ نے اپنے دل کے رنگین←  مزید پڑھیے

ہاکنگ اور ہمارا رویہ۔۔۔ فوزیہ قریشی

“چھوڑ دو جنت اور جہنم کے فیصلے سونے رب پر” آج اسٹیفن ہاکنگ بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے۔۔۔۔ہر شئے فانی ہے۔ کل کس کی باری ہوگی کون جانے؟ لیکن لوٹ کر ہم نے اسی کی طرف جانا ہے لیکن←  مزید پڑھیے