امتل۔۔۔۔فوزیہ قریشی/افسانہ

تالیوں کی گونج نے سیمینار کے اختتام کا اعلان کیا تو وہ اپنا بیگ اٹھا کر سُست روی سے قدم بڑھاتی ہوئی ہال کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ دروازے سے چند قدم دوری پر تھی کہ کسی نے اسے پیچھے سے پکارا۔ وہ ٹِھٹھک کر رُکی اور مُڑ کر دیکھا تو پروفیسر فصیح چوہدری کچھ کہتے ہوئے تیزی کے ساتھ اُس کی طرف بڑھ رہے تھے۔
تم ہُو بہُو اَمتل جیسی ہو۔
سُن رہی ہو نا۔۔۔۔؟
تم سے بات کر رہا ہوں۔۔
سوچنے،سمجھنے،دیکھنے سننے،بولنے اور پرکھنے کے انداز بھی ایک عام عورت سے ہٹ کر ہیں۔۔۔وہ بولے جارہا تھا۔
تم سچ میں عجیب ہو بلکہ عجیب و غریب ہو، لاپرواہ ، بے فکر، مست سی!”
میں جب بھی تم سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہوں تم سُنی اَن سُنی کرکے چلی جاتی ہو۔۔
اُسے ایسا لگتا تھا کہ سارہ کی پیدائش میں شاید اُس کے والدین کی مرضی شامل نہیں تھی۔
جس کا اظہار آخر اُس نے سارہ سے کرہی دیا۔
یہی وجہ تھی کہ وہ نہ چاہتے ہوئے بھی وہیں ٹھہر سی گئی۔
“کیا بکواس کر رہے ہیں؟ مسٹر فصیح چوہدری”۔۔
“پلیز بات کو غلط مت سمجھو۔ میرا تجزیہ غلط نہیں ہو سکتا۔ صرف میرے سوال کا جواب دو۔۔
کیا تمہارے والدین کو زبردستی ایک دوسرے کے ساتھ باندھ دیا گیا تھا؟”
“مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی۔ پلیز آئندہ  مجھے اِس طرح مخاطب کرنے سے احتیاط کیجئے گا۔”
“ٹھیک ہے اِس پر پھر کبھی بات کرلیں گے۔
دیکھو میں جتنا تمہارے قریب آنا چاہتا ہوں۔ تم اتنے ہی فاصلے بڑھا دیتی ہو۔۔۔۔
محبت سے اتنی نفرت کیوں ہے؟”
وہ ناگوار سے لہجے میں جواب دیتے ہوئے۔” آپ سے کس نے کہہ دیا ؟”
“مجھے “محبت سے نفرت” ہے۔۔۔ پھر تو آپ کا تجزیہ بھی اسی بنیاد پر ہی ہوگا۔.
نہیں جناب! اب ایسا بھی نہیں ہے. “وہ اُس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولا۔
محبت کو مجھ سے بہتر کون جانتا ہوگا؟۔۔۔
وہ کچھ یوں گویا ہوئی۔ جاننا چاہیں گے کہ محبت کیا ہوتی ہے؟
تو سُنیے  جناب۔۔
“محبت امربیل کی طرح ہوتی ہے۔ کبھی دھیمے سے دل کی منڈیروں پر چڑھ جاتی ہے تو کبھی چپکے سے کواڑوں میں اُلجھ جاتی ہے۔ کبھی چاندنی راتوں میں چاند سے شرما جاتی ہے تو کبھی شبنم کے شفاف قطروں کی طرح چمکتی دمکتی دکھائی دیتی ہے۔”۔
ہائے یہ کم بخت حسین محبت۔
جو تتلی کے رنگوں کی طرح رنگین ہوتی ہے۔ بنفشی، سرمئی،عنابی، گلابی تو کبھی زعفرانی۔
آپ نے نجانے یہ اندازے کیسے لگا لئے؟” وہ مسکراتے ہوئی بولی
“ہم دونوں گزشتہ دو برسوں سے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ میں لیکچر دیتا ہوں اور تم اسی پروگرام کی ہوسٹنگ کرتی ہو۔۔۔۔ بارہا جی چاہا تم سے تفصیلی گفتگو ہو سکے لیکن تم نے ہمیشہ ناگواری کا اظہار کیا۔ میں تمہاری شخصیت کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی اب وثوق سے کہہ سکتا ہوں۔۔ کہیں کچھ گڑ بڑ ہے۔۔۔۔”
“پھر آپ کے اندازے صرف اندازے ہی ہیں۔ ۔مسٹر فصیح چوہدری! اس نے بات دہرائی۔
ہاں یہ ضرور ہے کہ میں نے اپنے ارد گرد ایک دیوار بنا رکھی ہے جس کو توڑنا یا عبور کرنا آسان نہیں ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ میرے لوگوں سے برتے گئے رویوں سے یہ اندازے لگانے شروع کر دیئے جائیں یا پھر ایسا سمجھنے لگیں کہ میں صرف نفرت ہی کر سکتی ہوں۔۔اس نے عجیب نظروں سے فصیح کی طرف دیکھا اور پھر محبت کی وادی میں کھوگئی۔
وہ ایسے بولے جارہی تھی کہ جیسے محبت کی کوئی دیوی اسے محبت کے اُتار چڑھاؤ سمجھا رہی ہو۔
سنو!! فصیح چوہدری میری نظر میں یہ جو محبت ہے نا بہت خاص ہے اور یہ خاص لوگوں کو ہی عطا ہوتی ہے۔۔۔
“تمام تر ریا کاریوں سے پاک ہے۔۔ ہرغرض سے بے نیاز، اونچ نیچ سے مُبّرا، ذات پات ، عقائد اور رنگ ونسل سے با لا تر جو آج کے دور میں ناپید ہے۔”
بولو ! پھر مجھے محبت سے نفرت کیسے ہو سکتی ہے؟
اور میں کیوں کروں گی نفرت ؟
یہ تو ایک آسمانی تحفہ ہے۔ جو مہکنا اور مہکانا جانتا ہے۔۔۔ ایک ایسی خوشبو ہے جو رگ و پے میں اُتر کر آپ کو غنی کر دیتی ہے۔ محبت صرف دینا جانتی ہے۔۔ لُٹانا جانتی ہے۔۔۔۔۔ طلب یا حاصل سے بے نیاز۔۔۔”
“اچھا ! پھر شاید تمہیں تعریف پسند نہیں۔ وہ بولا
تم اس دنیا کی پہلی عورت ہو جو تعریف سے چِڑ جاتی ہے۔۔۔
“تعجب ہے” فصیح چوہدری، اس وقت تو  آپ  مجھے عجیب  لگ رہے ہیں۔۔۔”
“دیکھا !! مجھے اسی جواب کی امید تھی۔۔۔۔ اسی لئے تو کہہ رہا ہوں کہ تم امتل جیسی ہو۔”
“کون امتل؟ آپ اس کی تلاش میں کیوں بھٹک رہے ہیں؟”
“تم مجھے بہت دیر سے ملی ہو۔
کہاں تھیں تم اب تک ؟”
“آپ کا دماغ چل گیا ہے۔۔ اس نے غصے میں بڑبڑاتے ہوئے قدم آگے بڑھا دیئے۔”
“چلو اس پر بھی تفصیلی بات ہوگی۔ تب تک کے لئے ۔اللہ حافظ!”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“شکر ہے سمینار ختم ہوا ۔ اب آگے کچھ دن آف ہیں۔ کافی دنوں کے بعد خود کو وقت دے پاؤں گی۔” وہ خود سے گویا ہوئی۔۔
“رات گئے تک جاگوں گی کتابوں کے راستے دنیا بھر کی سیر کروں گی۔ آسمانوں میں اُڑان بھروں گی۔۔۔۔۔ سمندر کی تہوں میں کہیں کھو جاؤں گی۔ شاعری میں بسی پھولوں، تتلیوں، خواہشوں ،چاہتوں اور پیڑوں کی خوشبوؤں کو محسوس کروں گی۔ حسین وادیوں کی سیر کو نکل جاؤں گی۔ جہاں صرف میں، میری کتابیں اور میری بنائی دنیا ہوگی۔
ظلم ، جبر ، بربریت اور نفرت سے پاک ۔۔۔۔!”
وہ دل ہی دل میں خوش ہوتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔
وہ روز رات کو ایک کتاب کھولتی اور نئے سفر پر نکل جاتی۔ بچپن سے آج تک کتابیں ہی اس کا سب کچھ تھیں۔ماں باپ، بہن بھائی ، سہیلیاں اور رشتے دار۔
اپنوں کی محبت تو اسے کبھی نصیب ہی نہ ہو سکی۔ والدین کا اپنا ایک سوشل سرکل تھا۔ جب وہ سو کر جاگتی تو وہ سورہے ہوتے۔ کبھی کبھار ہی ملاقات ہو پاتی۔ ایک ہی گھر میں اپنوں سے دور اور غیروں کے قریب تھی۔ انہیں کتابوں نے اسے محبت کا مطلب سمجھایا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ دن بعد
کال رسیو کرتے ہوئے۔۔
جانی پہچانی آواز نے اسے چونکا دیا۔۔۔ “کیسے مزاج ہیں تمہارے؟”
اوہ آپ! میرا نمبر کہاں سے ملا آپ کو؟
“محترمہ انسان ڈھونڈنا چاہے تو خدا بھی مل جاتا ہے۔ ۔یہ تو ایک فون نمبر تھا۔ لگتا ہے امتل مجھے نہیں ملنے والی۔۔۔۔۔۔۔ چلیں امتل جیسی ہی سہی۔۔”
“امتل جیسی ہی کیوں چاہیے؟”
“کیونکہ مجھے اس کی تمام بے چینیاں جن کی وجہ سے وہ منتشر ہے، اپنے اندر سمیٹنی ہیں اور اپنی ساری آسودگیاں اس کے دامن میں بھرنی ہیں۔”
“لگتا ہے بیگم سے خوش نہیں ہیں، ورنہ اِدھر اُدھر نہ بھٹک رہے ہوتے۔۔”
“جی نہیں! ایسا ہرگز نہیں ہے۔ وہ بولا
میری جان، میرے پیارے بچوں کی ماں۔ گھر اور باہر کی ذمہ داریاں بڑی خوبصورتی کے ساتھ نِبھا رہی ہے۔
لیکن!! ایک کمی ہے کہ وہ امتل نہیں ہے۔ بس یہی ایک تشنگی ہے۔۔
انیس برس کا تھا جب آغا جی نے زیبی کے ساتھ میری شادی کرنے کا فیصلہ کر دیا تھا۔ اس وقت بھی میں امتل ہی کی تلاش میں تھا۔ شائد امتل میرے نصیب میں ہی نہیں تھی لیکن پھر بھی میں نے شادی سے انکار کر دیا۔
آغا جی نے میرے آگے ہاتھ جوڑے، واسطے دیئے اور میں نے شکست تسلیم کر لی۔ پھر ہماری شادی ہو گئی۔
وقت نے ثابت کیا کہ آغا جی کا فیصلہ درست تھا۔ زیبی نے مجھے کسی چیز کی کمی محسوس نہیں ہونے دی۔ بھر پُور محبت، چاہت، عزت واحترام اور وفا سبھی کچھ دیا۔ میں اس سے بے پناہ محبت کرتا ہوں لیکن عشق ہمیشہ امتل سے ہی کیا ہے۔ وہی میرا پہلا اور آخری عشق ہے۔
تب سے آج تک، میری زندگی میں لاتعداد لڑکیاں آئیں پر مجھے ان میں امتل کی جھلک کبھی دکھائی نہ دی۔ پہلی بار مجھے وہ جھلک تم میں دکھائی دی۔
ایک کشش ہے جو مجھے تمہاری طرف کھینچتی ہے۔۔
گزشتہ دو برسوں سے تمہاری شخصیت کے اتار چڑھاؤ کا اندازہ لگا رہا ہوں۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں تم بالکل ویسی ہو۔ مجھے تمہاری شخصیت میں وہ بے چینی دکھائی دیتی جو امتل میں تھی۔ اسی لئے میں نے تم سے بات کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہر بار تمہاری اس بے مروتی، لاپرواہی اور بد لحاظی نے میرا یقین مزید پختہ کر دیا کہ تم ہی امتل ہو۔”
“اوہ اچھا!! یعنی آپ مجھ پر اور میری شخصیت پر تحقیق کر رہے تھے۔۔
جانتے ہیں یہ ایک خول ہے جو ہر دوسرے انسان نے اپنے اوپر چڑھا رکھا ہے۔ آپ کیسے ایک انسان کی مکمل شخصیت کو شناخت کر سکتے ہیں؟
کبھی کبھی جو دکھائی دیتا ہے ویسا ہوتا نہیں۔”
“مس سارہ خان تم سے کچھ حد تک اتفاق کرتا ہوں لیکن ہم زیادہ دیر   اس خول میں چھپ نہیں سکتے۔ لاکھ چھپانے کے باوجود بھی ہماری شخصیت کہیں نہ کہیں سے جھلک ہی جاتی ہے۔ تم مانو یا نہ مانو، میں بس اتنا جانتا ہوں کہ تمہاری شخصیت میں بے چینی کے ساتھ ساتھ عجیب سی کشش بھی ہے یا یوں کہہ لو کہ جادو ہے۔”
وہ کِھلکھلا کر ہنستے ہوئے بولی۔ “بنگال کا جادو۔۔۔۔ ہیں نا؟”
“نہیں! اُس سے بھی “خطرناک ” تمہارا جادو۔”
وہ زور دار قہقہ لگاتے ہوئے، “کوئی بات نہیں جلد اُتر جائے گا۔”
“ایک بات پوچھوں برا تو نہیں مانو گی؟”
جی پوچھیے۔
“محبت کے بارے میں تمہارے خیالات اتنے دلفریب اور موہ لینے والے ہیں کہ لگتا ہے تم کو بھی کسی سے محبت ضرور ہوئی ہوگی۔”
“نہیں جناب! ہمارے ایسے نصیب کہاں؟”
“میں مان ہی نہیں سکتا۔۔ اتنی خوبصورت عورت کو محبت نہ ہوئی ہو۔”
“یہ کیا بات ہوئی بھلا؟ نہیں ہوئی تو نہیں ہوئی۔
محبت ہونا یا کرنا دو مختلف نظریے ہیں۔
محبت ایک احساس ہے اور یہ ہر ذِی روح کے اندر موجود ہے۔۔ میرے اندر بھی موجود ہے۔ میں اسے محسوس کرتی ہوں لیکن ضروری نہیں ہم جن سے محبت کریں انہیں بھی ہم سے محبت ہو۔
آپ یہ تو جانتے ہی ہونگے کہ محبت میں جب اغراض و مقاصد کی ملاوٹ ہو جائے تو یہ مُرجھانے لگتی ہے۔ اس کا رنگ روپ ماند پڑنے لگتا ہے۔ اس کی مہکار سمٹنے لگتی ہے اور یہ رفتہ رفتہ دم توڑ دیتی ہے۔”
“سارہ خان تمہاری ایسی سوچ اور خیالات کا کیا فائدہ، جب تمہیں کبھی کسی سے محبت ہی نہیں ہوئی؟”
“عجیب بات کرتے ہیں آپ !! ۔محبت کوئی کاروبار نہیں ہے کہ جس میں فائدہ و نقصان کی فکر کی جائے۔
محبت تو بس دینے کا نام ہے۔ حاصل ہو جائے تواس کی قدر کرو۔ لا حاصل ہو تو اپنی روح کی گہرائی میں اسکو محسوس کرو۔
یہی بات تو تمہاری مختلف ہے کہ تم پہلے سے ہی جواب کے لئے تیار ہوتی ہو۔
تم بہت زیادہ خوبصورت نہیں ہو کہ کوئی بھی پلٹ کرتم کو دیکھے لیکن کچھ ہے جو خاص ہے یا الگ ہے۔
پتا نہیں تم مجھے کیوں اچھی لگتی ہو؟
تمہارے ساتھ بات کرنا بھی اچھا لگتا ہے۔”
“بس، بس زیادہ تعریف مت کیجئے۔ نہ تو میں امتل ہوں اور نہ ہی آپ کی کوئی محبوبہ۔
مِس سارہ مجھے نہیں پتا کس کی تعریف کی جاتی ہے یا کیسے کی جاتی ہے؟
تم اچھی لگتی ہو تو کہہ دیا لیکن تم میں ذرا بھی مُروت نہیں ہے اور نہ ہی تمہیں دل رکھنا آتا ہے۔
تمہارے رویے میں بالکل بھی لچک نہیں ہے۔ کافی تُرش اور کڑوا لہجہ ہے۔
اگر میرے لہجے میں اتنی ہی کرواہٹ ہے تو امتل جیسی کی تلاش کیوں ہے آپ کو؟
ایک مکمل گھر ،بیوی، بچے ، بھرپور ساتھ، پیار۔ کس چیز کی کمی ہے آپ کے پاس؟
کیوں آپ روز کشکول اٹھائے میرے در پر آ جاتے ہیں؟ کیوں دو برس سے میرے تعاقب میں ہیں؟”
“اپنا ایک اصول ہے محترمہ ہم اپنوں سے بحث نہیں کرتے۔ تم بس اِس حسبِ حال شعر پر غور کرو۔
“جسے توجہ سے وحشت ہو دلبری سے گریز
تمام شہر میں کوئی تجھ سا بھی سر پھرا ھوگا”
اس لئے چھوڑو یہ بیکار کی بحث اور ہو سکے تو اپنے بارے میں کچھ بتاؤ۔
یہ چوٹ کب لگی تھی تمہارے اس ننھے دماغ پر؟”
“کیا کریں گے جان کر؟ فصیح چوہدری!!”
“یہ تمہارا مسئلہ نہیں ہونا چاہیے کہ میں کیا کروں گا؟
مجھے کرنے دو جو میں چاہتا ہوں۔۔ مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے صرف جاننا چاہتا ہوں ، اچھی دوستی چاہتا ہوں اور محبت کی اجازت نہیں مانگوں گا لیکن تم سے کبھی یہ بھی نہیں کہوں گا کہ تم بھی مجھ سے محبت کرو۔ پھر بھی میں آخری دم تک انتظار کروں گا۔”
“کیوں کرنا چاہتے ہیں انتظار؟
مس سارہ !! تم نے مجھے کیا سمجھ رکھا ہے؟”
“تم میری تذلیل کر رہی ہو۔ تمہیں یہ حق کس نے دیا؟”
“مجھے یہ حق آپ نے ہی دیا ہے۔ نہ آپ میرے قریب آئیں اور نہ آپ کو تکلیف پہنچے۔ میں ایسی ہی ہوں۔ میں کسی کے کہنے سننے سے بدلنے والی نہیں۔ جس نے ساتھ رہنا ہے، رہے۔۔ جانا ہے، چلا جائے۔ مجھے کسی کے آنے اور جانے سے فرق نہیں پڑنے والا۔”
“جانتا ہوں تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن وسیم کو ضرور فرق پڑے گا۔ آخری دم تک ہار نہیں مانوں گا۔”
“وسیم ! آپ مجھے کنفیوز کر رہے ہیں۔ آپ تو فصیح چوہدری ہیں پھر یہ وسیم کون ہے؟”
“جنت کی تلاش میں نکل جاؤ۔ جیسے تم امتل جیسی ہو۔ ویسے ہی میں وسیم جیسا ہوں۔”
“یعنی ” ڈھیٹ”۔۔۔وہ مسکرائی۔
بالکل وہی مسکراہٹ، امتل جیسی اور یہ جو تمہارا نچلا ہونٹ ہے مسکراتے ہوئے اور بھی حسین لگتا ہے۔ سارے جہاں کا فساد اسی میں چھپا ہو جیسے۔”
“فون پر آپ کو میری مسکراہٹ بھی دکھائی دے رہی ہے۔ ارے واااہ۔”
“تم یقین نہیں کرو گی لیکن مجھے محسوس ہورہا ہے تم میرے سامنے بیٹھی ہو۔ میں نہ صرف تمہیں محسوس کر سکتا ہوں بلکہ تمہاری ہر ادا کو دیکھ بھی سکتا ہوں۔ تمہاری مسکراہٹ، ناگواری، سب کچھ۔
ایک بات کہوں۔ ۔پلیز مان لینا۔”
“جی کہیئے۔”
“دنیا میں تم مجھے ملو نہ ملولیکن جنت کی کمٹمنٹ میرے ساتھ کرلو۔۔۔۔
کبھی کسی کے ساتھ عہدو پیمان مت کرنا۔”
“اوہو “خوش فہمیاں”۔۔۔۔۔۔ لمبی پلاننگ ۔۔واؤ” وہ ہنستے ہوئے بولی
“خوش فہمی نہیں ہے۔ محترمہ، میں حافظ قرآن ہوں۔۔
جنت میں ہی جاؤں گا۔ یہ میرا ایمان ہے اور میرے رب کا وعدہ بھی۔ دس لوگوں کو ساتھ لے کر جا سکتا ہوں۔”
“لیکن ! دس لوگوں والی بات ایک ضعیف حدیث ہے۔” جناب
“چلو اگر تمہیں ایسا لگتا ہے تو یونہی سہی۔۔۔۔ تم مجھے اس دنیا میں نہ بھی ملی۔ میں جنت میں تمہاری خواہش کروں گا۔”
“اگر میں نہ آنا چاہوں پھر بھی۔۔ فصیح چوہدری!”
“ٹھیک ہے پھر یہاں مجھے اپنا وقت اور ،ساتھ دے دو۔ میرا وعدہ ہے میں تمہارے دامن کو خوشیوں سے بھر دوں گا۔”
“فصیح چوہدری! کیا آپ میرے لئے پل صراط سے گزر سکتے ہیں؟
دودھ کی نہر کھود سکتے ہیں، مجنوں کی طرح دیوانے ہو سکتے ہیں یا میری زندگی میں ہی میرے لئے ایک تاج محل بنوا سکتے ہیں؟”
“یہ سب تو میں نہیں کر سکتا لیکن نکاح کرکے تمہیں وہ سب خوشیاں دے سکتا ہوں۔ جس کے نہ ہونے کی وجہ سے آج تم ایک بے چین روح ہو۔”
“وہ ہنستے ہوئے، آپ میرے بارے میں جانتے ہی کیا ہیں؟”
“جاننا ہی تو چاہتا ہوں۔ تمہاری فیملی کہاں ہے؟”
“میرا کوئی نہیں ہے۔ سب میرے لئے مر چکے ہیں۔ میں نے گھر چھوڑنے کا فیصلہ اس وقت کیا تھا۔۔۔ جب مجھے پہلی بار محسوس ہوا یہ مکان ہے اور ہم صرف مکین۔
میرے والدین اپنی عیاشیوں میں گم رہے اور میں کبھی آیا میں ممتا تلاش کرتی رہی تو کبھی مالی ، ڈرائیور اور چوکیدار میں باپ کی محبت اور وہ سب مجھ میں صرف ہوس تلاشتے رہے۔
اپنے گھر میں آنے والے اِس اندوہناک زلزلے سے بچ نکلنے کا میرے پاس اِس سے بہتر کوئی راستہ نہ تھا۔
آج میں خوش اور مطمئن ہوں۔ مجھے اب کسی کے ساتھ کی ضرورت نہیں ہے۔”
“چلو پھر بات ہوگی۔ بہت شکریہ تم نے مجھے اس قابل سمجھا اور اپنے بارے میں کچھ تو بتایا۔ اپنا بہت سا خیال رکھنا۔ اللہ حافظ۔”
کچھ دن سکون سے گزر گئے۔ اس نے بھی شکر ادا کیا کہ بلا ٹل گئی۔۔۔
لیکن شائد یہ بلا ٹلنے والی نہیں تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔َََََ
کچھ دن بعد پھر سے میسج آیا۔
“کیسی ہو؟ جب پوچھوں میں ہی پوچھوں حال و احوال۔ تمہیں تو کبھی توفیق نہیں ہوگی۔۔۔۔۔ ہیں نا؟
ناول پڑھا؟”
“نہیں جناب!”
“کیوں نہیں؟ ویسے تمہارے اندر عمومی خواتین کی طرح تجسس کی عادت بالکل بھی نہیں ہے۔ تمہاری جگہ کوئی اور عورت ہوتی تو اب تک پڑھ بھی چکی ہوتی۔ تبھی تو کہتا ہوں تم مختلف ہو۔
میں اکثر سوچتا تھا ایسی بھی کوئی لڑکی اس جہاں میں ہو سکتی ہے؟
عجیب و غریب سی۔۔۔ اور ہاں میں تمہاری جان اتنی آسانی سے چھوڑنے والا نہیں جب تک تم بدل نہیں جاتی۔ زیادہ توں تڑا کی تو میں نے مار دینا ہے۔”
“جان نہ پہچان عزرائیل سلام ۔۔۔۔” وہ ہنستے ہوئے۔
“محترمہ !! عزرائیل کو سلام کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ جب آنا ہو گا آجائے گا۔ چلو دسمبر تک کا وقت دیتا ہوں، جی لو اپنی زندگی۔”
“یہ دعا ہے یا بد دعا۔۔۔۔ یہ بتائیے مجھے مار کر کیا ملے گا؟”
“اگر تم اپنا وقت اور ساتھ دو تو معافی کا بھی سوچ سکتا ہوں۔”
“آپ بچپن سے ہی اتنے ڈھیٹ ہیں یا شادی کے بعد کے اثرات ہیں؟”
“تمہاری اطلاع کے لئے عرض ہے ! شادی نے اتنے مثبت اثرات مرتب کئے ہیں کہ ایک اور کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اچھا چلتا ہوں۔۔۔۔ اپنا خیال رکھنا اور مجھ سے رابطہ بھی۔ پھر بات ہوگی۔ اور ہاں مجھے بھولنا مت۔۔ اللہ حافظ۔”
“مسٹر شیخ چلی بھولنے کے لئے یاد آنا ضروری ہے۔ جب آپ یاد ہی نہیں آئیں گے تو بھولنے کا سوال ہی بے کار ہے۔”
“نفرت منفی چیز ہے۔۔۔۔ نہ کیا کریں۔۔سارہ جی”
“نفرت کرتا کون ہے؟ فصیح چوہدری!
یہ تو آپ جیسوں کی حرکات دیکھ کر ہو ہی جاتی ہے۔
اور ہاں! میری نظر میں عزت ہمیشہ رہنی چاہیے۔ محبت کا کیا ہے؟ کب نفرت کا روپ دھار لے؟”
“کمبخت” کس قدر خطرناک جملے بول دیتی ہو؟ مجھے واک  پر جانا ہے۔ باہر بارش ہو رہی ہے۔ مجھے بارش اور واک سے عشق ہے۔۔۔
اپنا بہت سا خیال رکھنا۔
ذرا سا تم بدل جاؤ۔
ذرا سا ہم بدلتے ہیں۔
اللہ حافظ۔”
“لیکن! ہم بدلنے والے نہیں۔ آپ انتظار میں ہی بیٹھے رہ جائیں گے۔”
“تم کیوں چاہتی ہومیں بیٹھا رہوں؟ رحم کی اپیل ہے۔۔۔۔ ملکہِ عالیہ!
کیوں اپنے جرم بڑھا رہی ہو؟”
“کونسے جرم ؟”
“کچھ نہ سمجھے۔۔ خدا کرے کوئی۔”
“کیا اول فول بک رھے ہیں آپ؟ خدا حافظ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب اُسے بھی ایک عادت سی ہوگئی تھی۔ کچھ دن گزر گئے کوئی میسج نہیں آیا ۔اسے بھی بے چینی ہوئی کیا وجہ ہو سکتی ؟
وہ بھی اب کچھ کچھ دلچسپی لینے لگی تھی۔ جب بے چینی بڑھنے لگی تو نہ چاہتے ہوئے بھی اس نے میسج کر دیا۔
“خیریت ہے، زندہ ہیں یا بھاگنے کے ارادے ہیں ”
بھاگنے والوں میں سے ہم نہیں جناب۔
تم سے دور رہنا میری آخری سیاست تھی۔”
“اوہو!! محبت میں بھی سیاست۔۔”
“وہ والی سیاست نہیں۔۔۔ اپنے ننھے دماغ پر اتنا زور مت ڈالا کرو۔
یہ بتاؤ کیسے یاد کیا؟
“وہ آج مجھ پر مہرباں کتنا ہے؟
مجھے یقین ہے کہ پھر داؤ دینے والا ہے”
“بکیے مت! وہ مجھے جنت کی تلاش کا پی ڈی ایف نہیں مل رہا۔ اگر آپ کے پاس لنک ہے تو بھیج دیجئے۔”
“تھوڑا وقت دو۔ بھیج دوں گا اور ہاں ابھی تمہارے ساتھ بات نہیں ہو سکتی۔”
“زیادہ خوش فہمی میں مبتلا مت ہو جائیے گا۔
واللہ یہ خوش فہمیاں !! منہ کیا لگا لیا۔ جناب سر پر ہی سوار ہو گئے وہ بھی جوتوں سمیت۔”
“ہائے !! ہمارے ایسے نصیب کہاں کہ سوار ہوں؟”
“اف۔۔لگ نہیں رہا ۔ آپ ایک پروفیسر ہیں اور یونیورسٹیز میں لیکچر دیتے ہیں۔، کسی نے سچ کہا ہے اس محبت میں بڑے سے بڑا دانشور بھی گدھا بن جاتا ہے۔”
“مطلب تم ماننے لگی ہو ہماری محبت کو، وہ بولا
“بہت عجیب ہیں یہ بندشیں محبت کی
تم نے قید میں رکھا نہ ہم فرار ہوئے”
“اوہو بڑی آمد ہو رہی ہے پروفیسر صاحب کو۔”
وہ کیا ہے نا!
“اس سے پہلے محبت میں مبتلا تھا میں
یہ شاعری تو میری دوسری حماقت ہے”
“اف خدایا ! اگر یہ سارے شعر آپ کے ہیں تو آپ کافی نا معقول، دل پھینک ٹھرکی قسم کے شاعر ہیں۔”
“دیکھو محترمہ، اسلامک سٹڈی میں پی ایچ ڈی کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں ہنسنا بولنا چھوڑ دوں۔۔ رہی بات ادبی ذوق کی تو یہ وراثت میں ملی ہے۔ اور اتنا فارغ نہیں ہوں کہ ہر لڑکی کے پیچھے دُم ہلاتا پھروں۔
تم امتل جیسی نہ ہوتی۔۔۔ تو میں نے پوچھنا بھی نہیں تھا۔ ہر وقت سڑی ہوئی رہتی ہو ۔کبھی تو میٹھے بول، بول لیا کرو
“کبھی کانوں میں رس گھول نا
میرے کم سخن کبھی بول نا”
ہائے کمبخت !! تم خود نہیں جانتی تم کیا ہو؟”
“میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ میں کیا ہوں؟
آپ اپنی یہ محبتیں معصوم بیگم پر بھی نثار کیجئے۔ جو اِدھر اُدھر بانٹتے پھررہے ہیں۔”
“ہاں ہاں بالکل کرتا ہوں بلکہ دن رات کرتا ہوں۔ میں اُن کو شکایت کا موقع نہیں دیتا۔ تم بے فکر رہو تمہیں بھی کبھی شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔ بس ایک چانس دے کر دیکھو۔”
“یعنی میں ایک راہ چلتے کو موقع دے دوں؟”
“یہ میں نے کب کہا؟
مجھے جاننے کی کوشش کرو، مجھ سے ملو، ساتھ وقت گزارو۔ لیکن تم تو خود کبھی بھی پہل نہیں کرو گی۔۔ یہ کام بھی مجھے ہی کرنا پڑے گا۔۔ اس لئے میں ہی پہل کر رہا ہوں۔
میں نہیں جانتا تمہارے ساتھ ایسا کیا ہوا ہے جو تم رشتوں سے، محبت سے، اس قدر دُور ہو گئی ہو۔ اگر یہ کچھ دن کی قُربت نہ بھی ہوتی تب بھی تمہارے بارے میں وثوق سے یہی کہتا کہ تم ایک با کردار،عمدہ عورت ہو جس کے ساتھ زندگی آسودگی سے گزاری جا سکتی ہے۔
“جہاں پر ہاتھ تُو رکھ دے
وہاں پر درد بڑھ جائے
محبت سرد پڑ جائے-”
“اوہو !! محبت کا یہ عالم تو عشق میں ہوتا ہے۔”
۔”کمبخت تم جیسی عورت سے تو عشق ہی کیا جا سکتا ہے۔ محبت تو ہزاروں سے ہو جاتی ہے۔”
“اچھا! پھر آپ کر لیں عشق۔”
“کر ہی تو رہا ہوں۔ بات آگے بڑھ سکتی ہے۔ دماغ کبھی بھی خراب ہوسکتا ہے۔
“درد کی شدت کو کم کیجئے نا
نام لیجئے میرا اور دَم کیجئے نا”
وہ قہقہ لگاتے ہوئے!! “آپ کو زیادہ ضرورت ہے۔”
“دیکھو نا! تم سے تفصیلی بات کا ارادہ نہیں تھا لیکن بات کرتے رات کے دو بج گئے اور نیند کا پتہ نہیں۔”
“سنیے ! صبح ہوتے ہی اپنا کسی ماہرِ نفسیات سے چیک اپ کروا لیجئے گا ۔مرض بڑھ گیا تو افاقہ نہ ممکن ہے۔”
“اس کا علاج صرف تمہارے پاس ہے۔”
“ٹھیک ہے پھر تیار ہو جائیے پل صراط پار کرنے کے لئے۔ اگلی کال تبھی کیجئے گا جب بی جی اور زیبی آپ کے ساتھ ہوں۔۔۔۔۔ اللہ حافظ”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ عرصے بعد
تالیوں کی گونج نے سمینار کے اختتام کا اعلان کیا تو وہ اپنا بیگ اٹھا کر سُست روی سے قدم بڑھاتی ہوئی ہال کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئی۔ وہ دروازے سے چند قدم دوری پر ہی تھی کہ جانی پہچانی آواز پر اُس کے قدم رُک سے گئے۔ مُڑ کر دیکھا تو پروفیسر فصیح چوہدری کسی سے فرما رہے تھے۔
سُنئے آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں۔
اُن محترمہ نے بھی جواب دیا فرمائیے۔
وہی الفاظ اُسے پھر سے سنائی دیے لیکن فرق بس اتنا تھا کہ اس بار مخاطب وہ نہیں تھی۔
“آپ ہُو بہُو اَمتل جیسی ہیں”۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *