دوسری شادی۔۔۔فوزیہ قریشی

آ ج کل فیس بک پر ایک شور سا برپا ہے اور وہ ہے دوسری شادی کا۔۔
مرد کی دوسری شادی آج کے دور میں جہاں مرد کی ضرورت ہے وہیں ہمارے معاشرے کی اُن خواتین کی بھی ضرورت ہے جن کے بالوں میں اچھے رشتے کے انتظار میں چاندی اُتر آئی ہے۔اس کے علاوہ چند بیواؤں اور طلاق یافتہ کی بھی ضرورت ہے۔۔ ہمارے معاشرے کے دوغلے رویے  جن کی بھینٹ بہت سارے وہ افراد بھی چڑھ جاتے ہیں جن کو ان روایات پر اعتراض ہوتا ہے لیکن وہ چاہ کر بھی اِس سے بغاوت نہیں کر پاتے۔ نتائج پھر انتشار اور بے راہروی کی صُورت میں سامنے آتے ہیں۔

میرے خیال میں اگر کوئی صاحبِ حیثیت انصاف کر سکتا ہے تو اسے بجائے غلط راستے اختیار کرنے کے شرعی راستہ اختیار کرنا چاہیے  اور ضرور دوسری یا تیسری شادی کرنی چاہیے ۔ بہت سی خواتین کو میں جانتی ہوں ، یہاں صرف ایک کی مثال دینا چاہوں گی ۔میری ایک دوست کی کزن میریج تھی بیاہ کر کے یو کے آئی  تھی۔ اس نے کچھ سال پہلے شوہر سے صرف اس لئے علیحدگی اختیار کر لی کیونکہ اس کے شوہر کے ایک گوری سے ناجائز تعلقات تھے۔ اُسے جب  تک خبر ہوئی ،اس کے شوہر کے اس گوری   سے تین بچے ہو چکے تھے ۔
اسے اُس کی بے خبری یا پھر مرد کی ہوشیاری کہیے۔

لیکن وہی مشرقی روایات میں جکڑی عورت نہ اُس سے خلع لے سکی اور نہ ہی اسے چھوڑنا چاتی تھی مطالبہ کیا   کہ وہ گوری کو چھوڑ دے لیکن شوہر گوری کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتا تھا اور نہ ہی اِس کو۔ کیونکہ گوری ہی اسے سکون دیتی تھی جب خاندان کی کھچ کھچ سے وہ تنگ آکر اُس کے پاس جاتا تھا۔
اُس وقت میں نے اسے مشورہ دیا تھا کہ یا تو تم اس کو نکاح کرنے دو یا پھر دو ٹوک فیصلہ کرو لیکن یہ کیا طریقہ ہے؟
تم  باقی سب کچھ  برداشت کر سکتی ہو لیکن نکاح کی اجازت نہیں دے سکتیں ۔
تب اس نے کہا تھا تم کیسی دوست ہو؟
تم میرے جذبات کو نہیں سمجھ پارہی۔
میرا اس کو یہی جواب تھا کہ یہ کیسے جذبات ہیں ؟
تم جس سے محبت کرتی  ہو اسے آزمائش میں ڈال رہی ہو نہ اسے چھوڑ سکتی ہو اور نہ خود کوئی بہتر فیصلہ کر سکتی ہو۔۔ تمہیں جب تک نہیں معلوم تھا تب تک بات ٹھیک تھی لیکن اب تم سب جانتی ہو تو جو اللہ کے احکامات ہیں ان کو اپنے ہاتھوں میں مت لو بلکہ شوہر کا ساتھ دو اور اُسے اس گندگی سے نکالو کیونکہ وہ تمہارے کہنے پر کہہ تو دے گا نہیں مل رہا لیکن اگر وہ چُھپ کر پھر بھی اُس سے ویسے ہی ملتا ہے تو تم کیا کر و گی یا کیا کرسکتی ہو؟
کیونکہ چھوڑنا تم چاہتی نہیں ہو۔
ایسی صورت حال میں اسے اجازت دے دو اور خود کو اور اس کو گنہگار مت کرو اور اس دلدل سے خود کو اور اُس کو بھی نکالو۔
تب اس نے مجھے کہا تھا کہ تم عجیب عورت ہو۔۔۔جبکہ کوئی عورت کبھی اجازت نہیں دیتی ہے۔
میرا جواب تھا کہ میں بس اتنا جانتی ہوں کہ مرد کو یہ اجازت میرے رب نے دی ہے تو پھرہم عورتیں کون ہوتی ہیں؟
اجازت نہ دینے والی یا بندشیں لگانے والی؟
میں جانتی ہوں کہ میں عجیب ہوں شاید  یہی وجہ ہے کہ مجھے حیرت ہوتی ہے ان خواتین پر جن کے شوہر انہی کی ناک کے نیچے غلط اور ناجائز طریقے سے اپنی خواہشات پوری کر رہے ہوتے ہیں اور وہ با خبر بھی ہوتی ہیں لیکن پھر بھی وہ اس گندگی کو قبول کرتی ہیں۔
یہ حیرت کی بات نہیں کہ وہی مرد باہر منہ مار کر اپنی اسی بیوی کے پاس آئے تو اس گندگی کو وہ آرام سے برداشت کر لیتی ہیں اور اس گند کے ساتھ رہنے کو بھی تیار ہیں۔
مگر اسی مرد کو ایک شرعی حیثیت کی اجازت دینے پر اتنا واویلا کیوں مچاتی ہیں؟
یہ ہمارے معاشرے کا بہت بڑا المیہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ اکثر مرد پھر چُھپ کر گرل فرینڈز ،کال گرلز اور طوائفوں کی طرف جاتے ہیں۔
اللہ نے یہ احکامات مرد کی فطرت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بھی دیے  ہیں کیونکہ اکثر مرد ایک عورت سے مطمن نہیں ہوتے پھر جو آج کل کی صورتِ حال ہے اس میں خواتین زیادہ مرد کم ہیں ایسے میں اگر صاحبِ  حیثیت جو سمجھتے ہیں انصاف کر سکیں گے ان کو ضرورہمت کرنی چاہیے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دوسری شادی۔۔۔فوزیہ قریشی

  1. ماشاءاللہ بہت زبردست
    جس کام کو کرنے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ممانعت نہ ہو تو اس میں انسان مرد و زن کی کیا مجال؟
    دوئم یہ کہ بہت مواقع پر انسان کی مجبوری بھی ہو سکتی ہے ورنہ اس زمانے میں اگر کوئی صاحب استطاعت بھی ہو تو دو دو خاندان کی تربیت کرنا بہر حال مشکل کام ہے

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *