بہروپیے۔۔۔فوزیہ قریشی

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کے
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے۔۔

سوشانت کے مرنے پر لکھی گئی اکثر تحاریر خود کشی کے موضوع پر تھیں ۔ جس کا مقصد لوگوں کو احساس دلانا تھا کہ زندگی میں یہ مقام کسی پر بھی آسکتا ہے۔ایسے موقع پر تمہاری دولت شہرت بھی تمہارا ساتھ نہیں دے گی۔
پیغام تھا کہ خدارا اپنے آس پاس کے لوگوں کو اپنے رویوں سے بچاؤ لیکن کل جو رویہ سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آیا اس نے ثابت کیا کہ ہم تو رویوں سے قتل کرنے والے لوگ ہیں۔
لفظوں سے گھائل کرنے والے بے حس لوگ۔
جن کو تو بس دوزخ اور جنت کے ٹکٹ بانٹنے ہیں۔
جیسے RIP کہنے سے سوشانت جنت میں چلا جائے گا لیکن ہم کیوں جانے دیں؟
جنت پر تو ہمارا قبضہ ہے۔
جنت پر تو صرف ہم مسلمانوں کا حق ہے جن کے لئے دوسرے مسلک کے اپنے ہی مسلمان بہن بھائی بھی کافر ہیں۔
کچے عقیدے کے یہ پکے مسلمان جو کل جنت کے دروازے پر کھڑے تھے اکثر کی والز پر سوائے شدت پسندی، نفرت کے سوا کچھ دیکھنے کو نہیں ملتا۔
مزاروں پر ماتھا ٹیکنے والے شرک کی انتہا کرنے والے یہ ہر مسلک اور فرقوں میں بٹے سب کے سب کل جنت کے دروازے پر کھڑے ٹکٹیں بانٹ رہے تھے ۔ کسی کے لئے سکون کی دعا کرنا کہ وہ آرام سے آرام کریں (RIP) یا امن میں آرام کریں میں کیا برائی ہے؟
اسی طرح ہم میں سے بہت سارے
إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ کا مطلب و مفہوم بھی نہیں جانتے۔
“بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔”
عموماً یہ دعا کسی کی وفات کا سن کر پڑھتے ہیں ۔بہت سوں کو اس آیت کا مطلب بھی معلوم نہیں ہوگا جبکہ اس آیت مبارکہ میں اللہ کریم کی حکمت کی کھلی نشانیاں موجود ہیں اور یہ غم و پریشانی میں گھرے ہوئے لوگوں کی دلجوئی فرماتی ہے۔ بندے اور خدا کے درمیان تسلیم و رضا کو بیان کرتی ہے۔۔رسول کریم تو اس آیت کے وسیلہ سے رحم و اعانت طلب فرماتے تھے۔
سورہ بقرہ میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے اَلَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوآ إِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ’انہیں جب کبھی کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو خود اللہ تعالیٰ کی ملکیت ہیں اور ہم اس کی طرف لوٹنے والے ہیں۔‘‘ احادیث میں منقول ہے کہ صفوان رضی اللہ عنہ نے جب دیکھا کہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہما قافلہ سے پیچھے رہ گئی ہیں تو انہوں نے اس موقع پر اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا تھا۔گویا یہ بات حق ہے کہ گمشدگی یا مصیبت کے عالم میں اس آیت کو پڑھا جائے تو اللہ کریم مدد فرماتے ہیں۔راستے بھٹک جانے پر راستہ مل جاتا ہے۔اس آیت کو درود الم کے طور پر بھی پڑھا جاتا ہے۔
دنیا کی ہر شئے فانی ہے اور مالکِ کائنات کی ہی ہے۔
ہر شئے کو موت ہے اور وہ لوٹ کر واپس اپنے رب کے ہی پاس جائے گی۔
کیا ہمارے ایمان اتنے کمزور ہیں؟
ان دو جملوں کے اظہار پر اتنا واویلا کیوں؟
جن کا مطلب بھی ہمیں ٹھیک سے معلوم نہہں۔
کل چند لوگوں کو صرف اسی لئے بلاک کیا کہ وہ اسلام نام کا جھنجھنا اس وقت بچاتے ہیں جب ان کو لگتا ہے ان دو جملوں سے کوئی کافر جنت میں جانے والا ہے۔ اس لئے اب ہمارا فرض بنتا ہے کہ اسے روکیں۔
بجائے تحریر کو سمجھنے کے لگے دھڑا دھڑ اپنی مرضی کی آیات کمنٹ میں پیش کرنے۔ جیسے میں نے یا کسی اور نے سوشانت کو فرسٹ کلاس کی ٹکٹ خرید کر دے دی ہو۔
کاش ہم اُن تحاریر کی افادیت اور مقاصد کو سمجھتے۔
کچھ نے مجھے ہی مشورے دیے بچے کو وقت دیں۔ آپ اچھی ماں نہیں ہیں ۔ کہیں کمی ہے۔ دین کی تعلیم دیں وغیرہ غیرہ ۔
آپ کیا جانیں جو والدین اولاد کی تکلیف اور اذیت سے گزر رہے ہوتے ہیں۔
وہ کیا کچھ نہیں کرتے ؟
مشورے دینے بہت آسان ہیں لیکن آپ کسی کے حالات و واقعات سے بے خبر ہیں ۔
وہ کن حالات سے گزر رہا آپ نہیں جانتے؟
جس کے تن پر لگتی ہے وہی اس تکلیف کا اندازہ کر سکتا ۔
دیکھنے والے تماشائی صرف قیاس آرائیاں کر سکتے ہیں۔
اسی طرح کل ۔کچھ کا اسلام خطرے میں پڑگیا۔
ان میں سے ایک صاحب تو وہ تھے جو کچھ عرصہ پہلے ہی اپنی وال پر کم لباس اور آدھے کھلے گلے والی فرنگی حسینہ کے ساتھ لائیو کئے گئے انٹرویو کو شئر کرتے نظر آئے۔ انٹرویو میں وہ اسی فرنگی حسینہ کی تعریفوں کے پل باندھتے دکھائی دیتے ہیں۔
پھٹی آنکھیں اور کِھلی باچھیں چیخ چیخ کر اُن صاحب کے دل کا حال بیان کر رہی ہیں لیکن کل وہ خود کو ارتغرل سمجھ رہے تھے۔
اسلام تھا کہ اُمڈ اُمڈ کر کمنٹس میں آرہا تھا۔
یاخدا مجھے کسی کے لباس اور زندگی سے کوئی مسئلہ نہیں لیکن یہ منافقت قبول نہیں۔
خود بتائیے والز پر مجرے لگانا ۔ کمنٹس میں گندی باتیں کرنا اور پھر جب کوئی کافر مرے تو سچا پکا مسلمان بن کر جنت کے دروازے پر کھڑے ہوجانا۔
اپنے ہی مسلمان ملک میں لونڈے بازیاں کرنے والے یہ سچے مسلمان۔ جن کی شر سے معصوم بچے بھی محفوظ نہیں۔
ننھے جسموں کو ادھیڑنے والے یہ پاکباز جانباز و جہادی ۔ چور بازاری اور ملاوٹ کرنے والے، اپنے ہی بہن بھائیوں کے گلے کاٹنے والے، ورثے میں بہن کو حصہ نہ دینے والے، کارو کاری کے نام پر عورتوں کو مارنے والے جنت کی ٹکٹیں بانٹتے پھر رہے تھے۔
واللہ پہلا پتھر وہ مارے جس نے کبھی کوئی گناہ نہ کیا ہو لیکن ہمارے ہاں بڑے بڑے پتھر وہ مارتے ہیں جو خود گناہوں سے لتھڑے ہوتے ہیں۔
اللہ مجھ سمیت سب کو ہدایت دے آمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *