ٹھرکی کہیں یا مہا ٹھرکی۔۔۔۔فوزیہ قریشی

آج ایک گورے کو پہلی بار ٹرین میں آنکھ مارتے دیکھا تو پاکستان کی یاد تازہ ہوگئی۔ ایک ایک کرکے محلے اور کالج کے باہر ملنے والے سارے عظیم ٹھرکی آنکھوں کے گرد گھومنے لگے۔ لگا میں نے پھر سے کالج میں داخلہ لے لیا ہے اور کالج سے نکلتے ہوئے سڑک کے اس پار کوئی کھڑا سیٹیاں بجا رہا ہے تو کسی کی آنکھ میں کچھ چلا گیا ہے جس کی وجہ سے ان کی آنکھوں کے زاوئے بدل رہے ہیں۔ تھوڑی دیر یہ ستارے جگمگاتے رہے اور مجھے کالج کے حسین دور میں لے گئے لیکن دورانیہ کافی مختصر تھا جلد ہی واپس ہوش کی دنیا میں آ گئی جب ٹرین ایک جھٹکے سے اگلے سٹاپ پر رکی ۔ ہوش   آتے ہی یاد آیا۔ ہائے یہ تو انگلستان ہے اور میں بھی نوجوانی کی بہاریں گزار چکی ہوں ۔ اب تو نظر بھی کافی خراب ہو چکی ہے اور ناک پر موٹے موٹے عدسوں والا چشمہ دھرا ہے۔گھٹنوں کا درد بڑھاپے کا احساس دلا رہا ہے اور ہاتھ کی جھریاں بھی نمایاں ہیں۔ چہرے کی رعنائی اور شگفتگی بھی ماند پڑ چکی ہے۔ ایسے میں یہ گورا یا تو اندھا ہے یا پھر مہا ٹھرکی۔ اپنی عمر کا لحاظ کرتے ہوئے میں نے صبر کے گھونٹ پی لئے اور اپنے غصے کو 12 منٹ کے لئے کنٹرول کر لیا اور بجائے اس آنکھ مارنے والے نابینا گورے کی طرف دیکھنے کے میں نے اپنے دائیں بائیں   دیکھنا شروع کر دیا۔ آج پہلی بار لگا جاوید چوہدری کی ماری کالمی چول تو سچ میں بڑے کام کی نکلی۔ پھر سوچا شاید عمر کا تقاضا ہے جو اس عمر میں چاہ کر بھی ایسی باتوں پر غصے کی جگہ ہنسی آرہی ہے۔ لیکن اس واقعے نے مجھے چند دن پہلے ہونے والے واقعے کو قلم بند کرنے پر مجبور کر دیا۔

کچھ دن پہلے کی بات ہے میں بس میں سفر کر رہی تھی۔ میرے سے کچھ سیٹس چھوڑ کر ایک گوری حسینہ بیٹھی ہوئی تھی۔موسم کی تبدیلی اس کے لباس سے عیاں تھی لیکن یہ اس کا ذاتی فعل ہے۔ نجانے ہم یہ کیوں سمجھنے کو تیار نہیں ہوتے۔۔
اسی بات کی سمجھ میرے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی دیسی خواتین کو نہیں آرہی تھی جو مسلسل اسی کی طرف دیکھ رہی تھیں اور کچھ نہ کچھ ارشاد بھی فرما رہی تھیں۔ہم دیسی لوگ ان کے کلچر ،ان کی تہذیب اور ان کی روایات پر بات کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں جبکہ وہ تو کسی کے ذاتی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتے۔خیر آتے ہیں قصے کی طرف۔۔ حسینہ کی ساتھ والی سیٹ پر ایک یورپی بیٹھا تھا۔تھوڑی دیر گزری تو اس حسینہ نے اس گورے کی طرف گھور کر دیکھا اور کچھ کہا۔ جواب میں وہ خاموش رہا۔مجھے پہلے حیرت ہوئی لیکن دونوں طرف کی خاموشی نے معاملہ رفع دفع کر دیا۔ دس منٹ ہی بمشکل گزرے تھے کہ اس گوری حسینہ نے اس بار پھر غصے سے دیکھا اور اسے سیٹ چھوڑنے کو کہا۔ جس پر وہ بولا میں کیوں سیٹ سے اٹھوں؟ میں نے کیا کِیا ہے؟ اس نے کہا تم نے جو کِیا ہے وہ تم اچھی طرح سے جانتے ہو۔ میں دو بار اگنور کر چکی ہوں اور سوچا تم میرے گھورنے اور غصے سے دیکھنے پر دوبارہ یہ حرکت نہیں کرو گے۔اس کے دوسری بار زور سے بولنے پر اب بس میں موجود باقی لوگ بھی متوجہ ہوئے۔ ہماری دیسی خواتین تو پہلے ہی اس پر نظر رکھے ہوئے تھیں ۔ایک نے دوسری کی طرف دیکھا اور فرمایا ” ایسے کپڑے پہن کر نکلے گی تو کوئی نہ کوئی اس پر اپنے ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کرے گا نا۔ دوسری نے اس کی تائید کی ہاں سچ کہا بہن۔ یہ سوچے بغیر کہ وہ تو اس سے بھی بڑا گناہ پیٹھ پیچھے غیبت کی شکل میں کر رہی ہیں لیکن ہم دیسیوں کو غیبت کرکے ثواب کمانے کا کچھ زیادہ ہی شوق ہوتا ہے۔موسم بدلتے ہی جیکٹس جمپر،سویٹرز اور کوٹ اتر جاتے ہیں۔بہار بہار ہی دکھائی دیتی ہے اور حسین جلوے بھی اپنے جوبن پر ہوتے ہیں۔

اب بس میں موجود باقی لوگ بھی اس کی طرف متوجہ تھے اور دیکھنے کے خواہش مند تھے کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ چند منٹ  مزید سکون سے گزرے پھر اچانک وہ گوری حسینہ زور زور سے بولنے لگی۔ اٹھو اس سیٹ سے، کہیں اور جاکر بیٹھو۔لیکن محترم بھی کافی ڈھیٹ تھے اور سیٹ چھوڑنے پر تیار نہ تھے اور یہی کہہ رہے تھے کہ میرا قصور کیا ہے؟
جس پر وہ پھٹ پڑی اور کہنے لگی تم بہانے بہانے سے مجھے ٹچ کر رہے ہو اور میں تم کو بار بار احساس دلا رہی ہوں کہ مجھے نہیں پسند کہ تم میری اجازت کے بغیر مجھے ہاتھ لگاؤ۔ گوری کے زیادہ شور کرنے پر اس گورے کو سیٹ سے اٹھنا پڑا۔ میں نے پہلی بار ایسا دیکھا تھا کیونکہ یہاں آپ کے ساتھ والی سیٹ پر بھی بیٹھنے کے لئے یہ لوگ بہت ادب سے اجازت لیتے ہیں۔ اگر آپ سائیڈ پر بیٹھے ہیں اور کھڑکی والی سیٹ خالی بھی ہے تو وہ اجازت کے بغیر نہیں بیٹھیں گے بلکہ کھڑے رہنے کو ترجیح دیں گے۔یہ میرے لئے کچھ انہونی سچویشن تھی جس میں یہ گورا جو شاہد یہاں کا لوکل نہیں تھا جو ان آداب سے واقف نہیں تھا یا اس وقت وہ کسی اور ہی دنیا میں تھا جبکہ دیکھنے سے کہیں سے بھی وہ ٹُن نظر نہیں آرہا تھا بلکہ اتنی بے عزتی سے اٹھنے کے بعد بھی وہ باز نہ آیا اور اب کھڑے ہوئے اسے چند منٹ  ہی گزرے تھے کہ ساتھ کھڑی ایک سیاہ فام حسینہ نے شور مچانا شروع کر دیا۔سیاہ فام ہم دیسیوں کی طرح کافی جوشیلے ہوتے ہیں۔۔۔۔ یہ تو ہاتھ بھی اٹھا لیتے ہیں اور زبان تو جیسے پہلے سے ہی تیز کی ہوتی ہے۔سیاہ فام حسینہ کی ایک زور دار گرج سے ہی بیچارہ سہم گیا۔ پہلے ہی کافی بے عزتی ہو چکی تھی۔ اس لئے اس نے اگلے سٹاپ پر بس سے اترنے میں ہی عافیت جانی۔اب سیاہ فام اس گوری کی طرف دیکھ کر اسے کہنے لگی کہ تم اگر پہلی بار ہی اس کو ٹھیک سے جواب دیتی تو یہ بار بار ایسی حرکات نہ کرتا۔ ان دونوں کو دیکھ کر ہماری دیسی خواتین نے بھی ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر سے وہی عظیم جملہ دہرایا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگیں۔
اس سارے واقعے سے بس دل نے یہی کہا کہ ٹھرکی کا نہ تو کوئی خاص دیس ہوتا ہے اور نہ ہی خاص بھیس۔ مہا ٹھرکی آپ کو دنیا کے کسی بھی کونے میں کبھی بھی مل سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *