جو رب ہے،وہی سب ہے۔۔۔۔۔۔فوزیہ قریشی

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اکثر پریشان رہتا تھا کبھی اِس در تو کبھی اُس در ماتھا ٹیکنے پہنچ جاتا تھا۔ کبھی کبھی میں اپنی تکلیفوں کی گٹھڑی اپنے آس پاس موجود بندوں کے سامنے کھول دیتا۔ پھر جی بھر کر روتا۔ آہ و زاری کرتا اور بین ڈالتا۔

پل بھر کے لئے میں یہ بُھول جاتا کہ یہ بندے بھی تو اُسی کے محتاج ہیں ۔
جب مجھے اس بات کا احساس ہوا کہ میں کیا کر رہا ہوں؟
کن کے پاس جارہا ہوں؟
کن کے سامنے اپنی تکلیفوں کی گٹھڑی کھول رہا ہوں؟
تو میری سوچ میں ایک اہم تبدیلی آئی اور میں نے غور کیا۔
“میرا توکل تو بہت کمزور ہے”
اسی لئے شائد میں در در بھٹکتا رہا ہوں اور اسی لئے مجھے کبھی نہ حل ملا اور نہ سکون۔
جس دن میرے اندر اس احساس نے شدت پکڑی تو میں نے بلا جھجک اپنی تکلیفوں کی گٹھڑی اپنے رب کے آگے رکھ دی۔
یہ وہ دن تھا جس رات پہلی بار میں سکون سے سویا تھا۔
میں نہیں جانتا کہ گٹھڑی میں موجود ساری تکلیفیں ایک ایک کر کے کیسے ختم ہو گئیں؟۔۔۔بس اتنا جانتا ہوں کہ اب میں پُر سکون ہوں۔
اب میں گٹھڑی نہیں بناتا بلکہ چند دن بعد اپنی ایک پریشانی جو مجھے گھیرتی ہے اپنے رب کے دربار میں پیش کر دیتا ہوں۔ پھر میں مُطمن ہو جاتا ہوں اِس توکل کے ساتھ کہ اب معاملہ اُس کے دربار میں پہنچ گیا ہے۔ میں سب اُس کے حوالے کرکے مُطمن ہو جاتا ہوں۔ اس توکل کے ساتھ کہ یہ پریشانی اب زیادہ دن نہیں رہے گی۔
ایسا ہی ہوتا ہے کیونکہ میرا توکل اور میری امید اتنے قوی ہوتے ہیں کہ میری پریشانی کبھی کبھی چند لمحوں میں تو کبھی چند دنوں میں دور ہو جاتی ہے۔
یقین کیجئے رنج وغم،تکلیف اور پریشانی تب تک ہمیں ستاتے ہیں جب تک ہم اُس کا بوجھ اپنے کندھوں پر لاد کر کبھی کسی دوست کے پاس جاتے ہیں تو کبھی کسی رشتے دار کے پاس، کبھی آستانوں کی خاک چھانتے ہیں تو کبھی درباروں میں دعائیں ،منتیں ،چڑھاوے چڑھاتے ہیں۔ کبھی دھاگے باندھتے ہیں تو کبھی ننگے پاؤں اس زیارت تک پہنچتے ہیں۔
لیکن!! جہاں جانا چاہیے  وہاں ہم سب سے آخر میں پہنچتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے مسائل ختم ہونے کے بجائے بڑھتے جاتے ہیں کیونکہ ہماری دعائیں ٹھیک وقت میں ٹھیک جگہ پر نہیں پہنچ پاتیں۔
کبھی ہم نے سوچا جن کے پاس ہم اپنے مسائل لے کر جاتے ہیں ۔
کیا وہ اسی انہماک سے ہمیں سنتے ہیں؟
جس انہماک سے ہمارا رب ہمیں سنتا ہے۔
اکثر جن کے پاس ہم اپنے دُکھ درد لے کر جاتے ہیں وہ ہمارے جانے کے بعد ہمارا ہی مذاق اڑاتے ہیں۔ ہمارے غم ، رونے دھونے اور واویلے کو ہنسی میں اڑا دیتے ہیں۔ کبھی کبھی وہ ہمارے سامنے اچھے بننے کی اداکاری بھی کرتے ہیں۔ جس سے ہمیں لگتا ہے یہی ہمارے سچے اور مخلص غمگسار ہیں۔
جیسے ہی مجھے یہ احساس ہوا کہ میں تو غلط راہ پر چل رہا تھا اسی لئے میری تکالیف کم ہونے کے بجائے بڑھتی جارہی تھیں۔

کبھی عرش پر کبھی فرش پر کبھی ان کے در کبھی دربدر
غم عاشقی تیرا شکریہ  میں  کہاں کہاں سے گزر گیا ۔۔

یہی میں کر رہا تھا لیکن آج میں سکون میں ہوں۔
آپ سب سے بھی یہی گزارش ہے کہ اپنی عرض وغرض اس مالک کے سامنے رکھ دو جو تمہیں ستر ماؤں سے بھی زیادہ چاہتا ہے جو تمہاری شہ رگ کے قریب ہے۔ میری طرح تم بھی سکون میں آ جاؤ گے بس ایک بار آزما کر دیکھو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *