میں اس سال بھی ناکام رہا ۔۔۔۔۔حبیب شیخ

اس سال بھی ہمیشہ کی طرح میرا دھوم دھام سے استقبال کیا گیا ۔ مساجدکودلہنوں کی طرح سجایا گیا۔ گھروں اور دکانوں کو روشنیوں کی زینت سے سنوارا گیا ۔ ہر طرف لوگ ایک دوسرے کو مبارکباد دےرہےتھے ، ایک دوسرے کے گھروں ميں ملنے جارہےتھے، سوشل میڈیا بھی خوشیوں اور دعاؤں کے پیغامات سے بھرا پڑا تھا۔ گویا ہر طرف ایک جشن کا ماحول تھا ۔

اشیائے خوردو نوش کی دکانوں پر گھمسان کا رن  پڑا جیسے کھانے پینے کے لئے مخصوص دن آگئے ہیں۔ جب امیروں نے کھانے پینے کی چیزوں کی خریداری بہت زیادہ کر دی تو مہنگائی اور بڑھ گئی اور غربا آدھ کلو کھجور خریدنےکی استطاعت سے بھی محروم ہو گئے۔ امراء کے وزن میں اضافہ ہوا اور غریب مزید سوکھ کر کانٹا ہو گئے۔ لیکن کوئی حرج نہيں ، لاکھوں لوگوں نے خیرا ت اورزکوۃ دینے کے لئے اپنی تجوریوں کے منہ کھول دئیے۔ مجھے یہ نہیں پتا کہ فطرات و صدقات و خیرات و زکوٰۃ بانٹنے ميں کتنوں کی نیّت فرض یا محض ثواب کے لئے مخصوص تھی یا اس ميں انسانی ہمدردی کا بھی کوئی عنصر شامل تھا۔ دوسری طرف وصول کرنے والوں کا ایک لشکر تھا جن کی بنیادی ضروریات پھر بھی پوری نہيں ہو پائیں۔ دینے والوں نے دے کر سوچا کہ ان کا مذہبی اور سماجی فرض پورا ہو گیا ہے ۔ کیا ان ميں سے کسی بھلے مانس نے یہ بھی سوچا کہ ان پر اس نظام کو بدلنےکی ذمہ داری ہے جو لاکھوں عوام کو ہر ماہ غربت میں دھکیل رہا ہے اور غریب کو غریب تر بنا رہا ہے ۔ ستم یہ کہ کئی تو اس استحصالی نظام کو برقرار رکھناچاہتےہیں تا کہ عوام ان کے غلام اور محتاج رہیں ۔ پھر بہت سے ایسےبھی ہیں جو کہہ دیتے ہيں کہ غریب تو اللہ نے بنائے ہیں پھریہ لوگ کیوں شکا یت کرتے ہيں اور کیا انہيں پتا نہيں کہ ہمارے پیغمبروں نے کئی کئی سال یا پوری عمر غربت میں صبرو شکر کے ساتھ گزار دی تھی؟

میں کوئی مزدوروں ، بیماروں اور غیر مسلمانوں پر جبر کرنے تو نہيں آتا ہوں ۔ لیکن میرے آنے پر دن ميں سرِعام کھانے پینے پر پابندیاں عائد کر دی جاتی ہیں ۔ پانی کی سبیلیں بند کر دی جاتی ہیں حتّیٰ کہ کسی پیاسے کو پانی پلانا بھی جرم قرار دیا جاتاہے ۔ پینے کے پانی کی  دستيابی  نہ ہونے کی  وجہ سے کئی بیمار ، کمزور اور مزدور گرمی کی شدت سے مارے جاتے ہیں ۔ انہیں ٹھنڈے کمروں میں صوفوں پر بیٹھے علماء جنت کی بشارت دیتے ہیں ۔ کبھی یہ علما ء کسی شہید کے گھر دیکھنے گئے کہ اس کے اہلِ خانہ اب اپنا کماؤ بیٹا یا کماؤ شوہر کھو کر غربت و بیماری کی دوزخ میں دھکیل دئیے گئے ہیں ۔ ایسی باتیں کرنے سے قبل کاش یہ خود روزہ کی حالت میں اتنی گرمی ، دھوپ و دھول ميں ایک دن مزدوری کر کے دکھائیں ۔ کچھ لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ خوش قسمت ہيں جو رمضان کے مہینےميں شہید ہو گئے یا یہ کہ ان کی موت کا وقت آ گیاتھا ۔ کب تلک یہ ظالم ان مزدوروں کی مردہ اور بیماروں کی زندہ لاشوں کے انبار پر چڑھ کر بہشت کو چھونے کی کوشش کرتے رہيں گے!

کیا کسی نے سوچا کہ میرے آنے کا مقصد کیا تھا ؟ بہت لوگوں نے مجھے جشن کا مہینہ سمجھا حالانکہ جشن کا دن تو میرے جانے کے بعد آتا ہے ۔ کچھ دوسروں نے میرے دیے  گئے اوقات کو دن میں سو کر گزارنے اور رات کو لذیذ کھانوں اور گھومنے پھرنے کے لئے وقف کر دیا ۔ کچھ اور اپنے کھاتوں ميں ستر گنا ثواب جمع کرواتے رہے اور اسی کو میری آمد کا مقصد سمجھا ۔ میں تو اس لئے آیا تھا کہ لوگ اپنی ذات کی اصلاحِ کریں ۔۔۔ کردار کی اور جسم کی ، نفس پرستی ترک کر کے نفس کشی کریں، اپنی روح سے ناطہ جوڑیں ، بری عادات سے نجات حاصل کریں ، ظلم لالچ غصہ حسد جھوٹ کام چوری اور ہیراپھیری کو ختم کرنے کا عزم کریں ، اپنے غرور اور تکبر کا لبادہ اتار کر معاشرے میں انصاف کا نظام قائم کریں ۔ یہ میری خوشبوکو سونگھ کر روح کو تازہ کریں، میری روشنی سے آنکھوں کو پرنور کریں، اور چاروں اطراف مزید کانٹے بکھیرنے کے بجائے بکھرے ہوئے کانٹوں کو سمیٹیں تا کہ جب ميں اگلی بار آؤں تو معاشرہ ميں ہر سوُ یہ دیکھوں ؎
ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئےمحمود و ایاز
نہ کوئی بندہ رہا نہ کوئی بندہ نواز۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *