تعصب۔۔۔۔فوزیہ قریشی

ہمارا عمومی رویہ!
ہمارے معاشروں کا یہ عام رویہ ہے کہ ہم ذات برادری کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بہنیں جوانی کی دہلیز کراس کر جاتی ہیں۔ اب یہ رویہ تھوڑا سا بدل گیا ہے وجہ میڈیا نے جہاں تباہی مچائی ہے وہاں کچھ شعور بھی دیا ہے۔ دیکھا دیکھی لوگ بدلنے لگے ہیں ۔اب ذات برادری سے باہر بھی رشتے کئے جاتے ہیں لیکن ایک وقت تھا جب صرف پیار کرنے والے  ہی ہمت کرتے تھے لیکن ان میں سے بھی بہت سارے منزل تک نہیں پہنچ پاتے تھے۔ مار دئیے جاتے تھے۔ جو بچ نکلتے وہ اپنوں سے دوری کے غم میں ہی گھل جاتے ہیں۔ آج بھی یہ رویہ موجود ہے لیکن اب گھر بیٹھی بیٹی جب تیس اور چالیس سال کراس کرتی ہے تب ان کے والدین کو احساس ہوتا ہے پانی سر سے گزر گیا ہے۔۔ بچیوں کو دیکھ کر آس پاس کے لوگ کچھ نہ کچھ سبق سیکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں اپنی بیٹیوں کو جلد بیاہ دیں۔۔ لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور برادری میں رشتوں کی کمی کے باعث رویوں میں تھوڑی بہت تبدیلی آ ئی ہے۔ ایک وقت تھا جب ہمارے بزرگ (بڑے بوڑھے) فرماتے تھے۔ اپنا مارے گا تو چھاؤں میں ڈالے گا۔۔
سوچو، اگر وہ اپنا ہے۔ تو مارے کیوں؟
یہ کیسا اپنا ہے؟
اسی چکر میں کتنی بیٹیوں کی زندگیاں برباد کر دی گئیں۔
“مارنے والے نے، نہ دھوپ دیکھی، نہ چھاؤں۔ نہ ناک دیکھی، نہ کان ، جو ھاتھ آیا کاٹ دیا۔”
ایک تعصب ہمارے ہاں یہ بھی پایا جاتا ہے ہم سب اپنی ذات برادری کو اعلیٰ سمجھتے ہیں اور دوسری  ذات، برادری کو کمی کمین۔ یہ روئیے پاکستان میں علاقائی و صوبائی بنیاد پر بھی موجود ہیں ، پشتون کی اپنی غیرت اور انا ہے، بلوچی کی اپنی، کشمیریوں کی اپنی، سندھیوں کی اپنی اور سب سے بڑھ کر سید جو سیدوں میں ہی رشتہ کرتے ہیں ۔۔۔

اسی طرح پنجابیوں کی اپنی انا کہہ لیں یا برادری ازم کا تعصب ۔ پنجاب میں تو برادریوں میں الگ ہی طرح کے تعصب پائے جاتے ہیں۔ میں بہت سی پنجابیوں کو جانتی ہوں جو اپنی ذات برادری سے باہر شادی نہیں کرتے جیسے جٹ ، جٹوں میں ۔۔ آرائیں ، آرائیوں میں ۔ راجپوت، راجپوتوں میں ۔ گجر ، گجروں میں ۔ رانے رانوں میں ۔ پنجابیوں میں تو ہر برادری ہی یہ تعصب رکھتی ہے۔ اسی طرح یہ تعصب عرب ممالک میں بھی پائے جاتے ہیں۔ پاکستان میں یہ تعصب ہندؤں سے آیا ہے، ذات برادری چھوت، ملیچھ ، شودر کمی کمین تھے اور برہمن اعلیٰ ۔ جو دیوتا برہما کے پاؤں سے جنمے وہ پلیت ، حقیر شودر کہلائے اوراس کے سر سے جنم لینے والے برہمن کہلائے۔ برہمن کے مندر میں شودر کو آنے کی اجازت نہیں تھی۔ جبکہ دونوں کا دیوتا ایک ہی تھا۔ بالکل اسی طرح عرب میں بھی یہ کانسیپٹ تھا عربی خود کو عجمیوں سے اعلیٰ سمجھتے تھے پھر قریش کے تعصب اسلام پھیلنے سے پہلے بالکل ہندؤں جیسے ہی تھے۔۔اسلام نے اسے بدلا لیکن آج چودہ سو سال بعد پھر وہی حال ہے۔ پاکستان میں یہ تعصب ہندؤں سے آیا ہے، ذات برادری چھوت ، شودر برہمن یہی کلچر تھا ان کا یہی تہذیب تھی ملک بٹ گئے نسلیں ہجرت کر گئیں لیکن تعصب نسل در نسل منتقل ہوتا گیا۔۔۔۔۔۔۔ پھر یہ تعصب صوبوں میں دیکھ لو ہر جگہ ملے گا۔ ساری بات تکبر کی ہے اسلام آنے سے پہلے یہی تصور سارے عرب میں تھا لیکن اسلام نے اس تعصب کو ختم کیا اور ہمارے پیارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے آخری خطبے میں ختم کیا ۔ فرمایا کسی گورے کو کالے پر اور عجمی کو عربی پر کوئی فوقیت نہیں ہے۔ اگر کوئی میرے رب کے نزدیک اعلیٰ ہے تو صرف تقوٰی کی بنیاد پر ۔۔۔ تعصب کو ختم ھونا چاہئے لیکن نام نہاد مسلمان علاقوں ، صوبوں، ذات برادریوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔
ان حالات میں کون ختم کرے گا یہ تعصب؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *