اِک پاکستانی حسینہ۔۔۔فوزیہ قریشی

آج مجھے کچھ برس پہلے کا واقعہ یاد آگیا جب میں نئی نئی لندن آئی تھی۔ یہ وہ وقت تھا جب میں لندن کو اپنے حالات کی نظر سے دیکھ رہی تھی۔ لندن کی سڑکیں ،بسز۔انڈر اور اوور گراؤنڈ ٹرینز جن میں ناردن لائن،جوبلی لائن ڈسٹرکٹ لائن اور پکا ڈلی کا سفر تقریباً  روز کا ہی کا معمول تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ عدالتوں کے چکر بھی۔
دن بھر کی خواری کے بعد گھر آتی تھی تو امی جان کا یہ جملہ شدت سے یاد آتا تھا کہ
” اللہ ہسپتال اور عدالتوں کے چکر سے میرے دشمن کو بھی محفوظ رکھناً ۔ آمین!دونوں اذیتوں سے کسی نہ کسی طرح واسطہ رہا۔۔۔۔۔۔

لیکن ! وہ کیا ہے نا اس وقت اس جملے کی اہمیت کا اندازہ نہیں تھا لیکن آج شدت سے یہی دعا دل سے نکلتی ہے اے میرے رب ویسے تو میں کسی سے رنجش دیر تک نہیں رکھتی ۔اس لئے میری نظر میں میرا کوئی دشمن بھی نہیں ہے۔
لیکن!! اگر کوئی ہے بھی تو اس کے لئے بھی یہی دعا ہے کہ اللہ اسے بھی اس اذیت سے ہمیشہ بچانا۔۔ جس سے میں گزر رہی ہوں یا کبھی گزری تھی۔

خیر واپس چلتے ہیں ایشین حسینہ کی طرف ۔ 2014  کی بات ہے مجھے اپنے بیٹے کے سلسلے میں ہر مہینے ویسٹ منسٹر Westminster جانا پڑتا تھا۔ وہی ویسٹ منسٹر جہاں River Thames کا کنارہ،
Houses of Parliament ,Trafalgar Square,اور Big Ben ہیں۔
میرے بیٹے کی کچھ ایکٹیویٹیز جسکا دورانیہ چند گھنٹے تھا۔ میں اسے چھوڑ کر کبھی لندن آئی London eye کی طرف نکل جاتی تو کبھی Trafalgar Square’s monuments کی طرف یا کبھی کبھی جب موسم اچھا نہ ہوتا تو کسی کیفے ٹیریا میں وہ گھنٹے گزارتی۔ اس دن بھی بچے کو اس سینٹر میں چھوڑ کر میں باہر نکلی تو آسمان کی طرف دیکھا موسم کی نیت مجھے کچھ خراب لگی تو اسی کیفے ٹیریا میں وقت گزارنے کا سوچا۔ موسم کی خرابی کی وجہ سے کیفے ٹیریا بھی بھرا  ہوا تھا۔ میں نے ایک سینڈوچ اور کیپی چینو آرڈر کیا اور ایک کونے میں دو سیٹس والی ٹیبل پر بیٹھ گئی۔ میں دیسی چائے پینے والی باہر صرف کیپی چینو کو ہی ترجیح دیتی ہوں کیونکہ باہر کی چائے میرے دل کو کم ہی بھاتی ہے۔ میں بھی ان تنہا لوگوں کی طرح اپنے فون میں مگن ہو گئی جنہیں کرنے کو کچھ نہیں ہوتا تو وہ کچھ دیکھیں یا نہ دیکھیں لیکن خود کو مصروف ثابت کرنے کی بھر پور کوشش میں مگن نظر آتے ہیں۔ تھوڑی دیر بعد میں اکتا گئی اور فون سائیڈ پر  رکھ کر ادھر  اُدھر دیکھنے لگی۔ کچھ دیر ہی گزری تھی کہ ایک گورا میری ٹیبل کے پاس آکر دوسری سیٹ پر مجھ سے بیٹھنے کی اجازت یہ کہہ کر مانگتا ہے کہ سوری صرف یہی سیٹ خالی ہے اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں۔ میں بھی پورے ہال کی طرف دیکھ کراسے بیٹھنے کی اجازت دے دیتی ہوں۔
بیٹھتے ہی تعارفی انداز میں پہلا سوا ل مجھ سے یہ کیا جاتا ہے۔
کیا آپ ٹرکش ہیں؟
جی نہیں

تو  کہاں سے ہیں آپ؟
پاکستان سے

کراچی؟

نہیں “لاہور”

مجھے حیرت ہوئی اچانک اس کے کراچی بے ساختہ کہنے پر تو،میں نے پوچھا! کیا آپ کبھی کراچی گئے؟
نہیں، پاکستان نہیں گیا کبھی

میں نے پوچھا، پھر میں آپ کو کراچی کی کیوں لگی جبکہ آپ نے کراچی دیکھا نہیں بلکہ پاکستان ہی نہیں گئے کبھی۔۔۔
کسی جگہ کو جاننے کے لئے وہاں جانا ضروری نہیں کچھ لوگ آپ کی زندگی میں اتنا گہرا اثر چھوڑ جاتے ہیں کہ آپ اس شہر کو بھی انہی  کے حوالے سے جانتے پہچانتے ہیں،اس نے گہرے لہجے میں جواب دیا۔

یہ تو زیادتی نہیں ہے اس طرٖح اگر تاثر غلط ہو تو آپ اس شہر اور اس کے لوگوں کو بھی کیا اسی طرح سے جج کریں گے؟
میں اس کے سحر سے نکلوں گا تو، کسی کو کبھی غلط یا صحیح  جج کر سکوں گا۔

اب میرے اندر کی دیسی تجسس والی خاتون نے بڑے تجسس سے پوچھا۔
اگر آپ مائنڈ نہ کریں تو کچھ شئیر سکتے ہیں اُن مس کراچی کے بارے میں۔
وہ  جی جی ضرور کہہ کر مجھے اپنے ماضی میں لے گیا بقول اس کے دس برس پرانی بات ہے وہ میرے ہی آفس میں کام کرتی تھی۔ وہ یہاں سٹوڈنٹ ویزے پر آئی تھی ۔ ڈگری کے بعد کچھ برس ہی وہ یہاں رہی۔ وہ وقت بہت حسین تھا ۔ میں آج تک اس وقت کے سحر سے خود کو آزاد نہیں کرسکا۔ ہم بریک ٹائم میں اکٹھے وقت گزارتے تھے۔۔۔۔ بہت سی باتیں ہوتی تھیں ۔ہم ہر ٹاپک پر بات کرتے۔ وہ بہت ذہین تھی۔ اسکے سوچنے اور بیان کا اندازبھی بہت دلچسپ و عجیب تھا۔ وہ بہت مخلص تھی اپنی فیملی سے، اپنے وطن سے اور اپنے مذہب سے۔۔
ہماری اتنی دوستی تھی لیکن پھر بھی میں کبھی اس کا ہاتھ تک کو نہ چُھو سکا جبکہ میں نے اپنی اس خواہش کا اُس سے کُھل کر کئی باراظہار بھی کیا۔۔

لیکن! وہ بہت مضبوط اعصاب کی مالک تھی اور سب سے بڑی وجہ اس کی اپنی  اقدار اور اپنے مذہب سے محبت تھی شاید۔دیکھنے میں وہ بہت ماڈ رن دکھائی دیتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مجھے اس کی شخصیت سے محبت ہوگئی۔ میں نے اپنی محبت کا اظہار بھی کیا اور اس کو پرپوز بھی کیا۔
لیکن! اس کے جواب کے بعد میں نے   دوبارہ اصرار   نہیں کیا۔

میں نے پوچھا  کہ اس نے کیا جواب دیا؟
تو وہ کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ ۔۔۔ اس نے کہا میرا مذہب مجھے کس غیر مذہب سے شادی کی اجازت نہیں دیتا۔ میں نے بہت منتیں کیں بلکہ یہاں تک کہا کہ تمہاری خاطر میں مسلمان ہو جاؤں گا ۔ جس پر اس کا جواب تھا کہ میری خاطر نہیں اپنی عاقبت کی خاطر مسلمان ہو نے کا سوچو۔
تم مسلمان میرے لئے ہونا چاہتے ہو جبکہ میں چاہوں گی کہ تم خود سے اسلام کو جانو سمجھو اور پھر اسلام قبول کرو اور اسلام قبول کرنے کے بعد ہو سکتا ہے تم میری جیسی نہیں بلکہ ویسی لڑکی تلاش کرو گے جو مکمل پردے میں ہوگی جسے کسی غیر محرم نے کبھی دیکھا نہیں ہوگا اور ایسی لڑکی کی تلاش میں بھی تمہیں کتنے سال بیت جائیں گے؟۔۔۔۔میں دعا کروں گی کہ میرا رب تمہیں ضرور اسلام کی طرف لائے لیکن کسی عورت کی خاطر یہ قدم اٹھانے پر کبھی مجبور نہ کرے۔

پھر کیا ہوا ؟
وہ، کچھ برس بعد وہ واپس کراچی چلی گئی کیونکہ اس کے والدین کی خواہش تھی وہ واپس آ جائے۔

کیا وہ جاتے ہوئے ، اپنا کوئی کانٹیکٹ نمبر یا ایڈرس نہیں دے کر گئی؟
نہیں بس آخری بار یہیں ہماری ملاقات ہوئی تھی۔ اسی وجہ سے میں اکثر یہاں آتا ہوں اس آس پرکہ شاید کبھی وہ مجھے اسی جگہ پھر سے مل جائے۔

یقین جانئے اس دن مجھے اپنی ایشین عورت پر بہت پیار آیا کہ آج دس برس بعد بھی ایک غیر مسلم اُسے اتنے خلوص اور محبت سے یاد کرتا ہے اور اس کے کردار اور شخصیت کی پاکیزگی سے آج بھی متاثر  ہے۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *