محمد جاوید خان کی تحاریر
Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

جہاں کیلاشے بستے ہیں ۔۔جاوید خان/14،آخری قسط

بے خار جھاڑیوں اور پتھروں پر چھوٹی چھوٹی چڑیاں اُچھل کود رہی تھیں اور چہک رہی تھیں۔مشرقی جنگل پوراانہی سے بھرا ہواتھا۔مشرقی سمت چڑیوں کی چہکاریں تھیں تو مغربی سمت نیچے پانیوں کی گونج۔سوائے اس کے یہاں زندگی سوئی ہوئی←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/13

ایک پل پار کیا،مڑے تو چوکی پر رکے،چوکی کے چوکی دار نے کہا بھائی صاحب!انٹری کرانی  ہوگا۔چوکی سے بالکل جڑ کر،بائیں ہاتھ نشیب میں ایک ہوٹل تھا۔وقاص جمیل نے کہا کھانا کھا لیتے ہیں،آگے ممکن ہے کھانا نہ ملے۔گاڑی نیچے←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/12

باباسرائے: بابا سرائے چار منزلہ عمارت ہے۔اس کی چوڑی راہ داریاں سرخ ٹائیلوں سے سجی ہیں۔راہ داریاں کیاہیں،دو طرفہ کمروں کے بیچ پورے پورے ہال ہیں۔اس کی چاروں منزلیں ایک ہی نقشے پربنی ہوئی ہیں۔مَیں ہال میں لگی کرسیوں میں←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/11

مارخو روں کی سچی کہانی: ہَوا تیز چل رہی تھی اَور دریا کی موجیں بھی تیز و تند تھیں۔ابراہیم شاہ اور مَیں مسجد کے برآمدے میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے۔ہمارے قدموں تلے آگ جلا دی گئی تھی۔یہ اِس وقت کام←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/10

میوزیم: ہلکی پھلکی تیاری کے بعد ہم باہر نکلے ہماری اگلی منزل یہاں کا میوزیم تھا۔برون میں ایک دومنزلہ عمارت میں میوزیم ہے جو دیکھنے کی چیز ہے۔کیلاش تہذیب دُنیا کی قدیم ترین زندہ تہذیب ہے تو یہاں کا میوزیم،اس←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/9

سلامُ الدین کیلاش کے متعلق بتاتے ہیں۔ کہیں سے سلامُ الدین صاحب آ بیٹھے۔وہ کیلاش لوگوں کے بارے میں بتانے لگے۔شفقت ان سے کچھ دیرپہلے چلے گئے تھے پھر آکر بیٹھ گئے۔سلامُ الدین صاحب نے پہلو بدلا سگریٹ کا کش←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/8

بشالینی کیلاشیوں کا زچہ گھر: کیلاشیوں میں بشالینی بھی ایک رسم ہے۔ندی یا دریاکنارے ایک زچہ گھر تعمیر کیا جاتا ہے۔یہ مشترک ملکیت ہوتا ہے۔ہر گھرانا اسے استعمال کر سکتاہے۔بچے کی پیدائش ہونے پرآتی ہے تو حاملہ عورت کو بشالینی←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/7

زمین کھاگئی آسماں کیسے کیسے۔ درمیانی اور تیسری تصویر جو سادگی اور حسن کا منفرد پیکر تھی،کے بارے میں مجھے کوئی خبر نہیں ملی۔میں ان تصاویر کو دیر تک دیکھتا رہا۔تصویریں بولتی ہیں۔کچی مٹی کی چھت والی اس سراہے میں←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان /6

چترال شہر پہاڑوں کے حصارمیں ہے: چترال شہر پہاڑوں کے حصار میں کَسا ہوا ہے۔بہت مضبوطی سے نہ  سہی کچھ ڈھیلے بازوؤں سے ہی سہی۔ایک مٹیالہ دریا اس کے بیچوں بیچ بہتا ہے۔کسی تیز رفتار اَژدھے کی طرح دوڑتا نظر←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/5

تنہا گھر: دروش کے کسی گاؤں میں ہم نماز کے لیے رکے۔وضو کیا تو طبعیت ترو تازہ ہو گئی۔نماز اَدا کی اَور آگے چل پڑے۔گاڑی میں گفتگو،باہر کے مناظرپر تبصرے تھے یا پھر شاہد حفیظ کو ہدایات تھیں۔علاوہ رستے کی←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/4

مشکل سڑک: منصور اسماعیل اس بات پر غصہ ہورہے تھے کہ میں ہر جگہ معلومات لینے کے لیے رُکتا ہوں۔انھیں لگ رہا تھا کہ یہ عمل منزل تک جلد پہنچنے میں رکاوٹ ہے۔لِہٰذا زیادہ جان کاری لینا ممکن نہ رہا۔دیوسائی←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/3

مشین چل رہی تھی اَور گنے کا رس نکالے جارہی تھی۔اسی کے پاس ایک چارپائی پر بیس،اکیس سال کانوجوان چرس کاسگریٹ بھر رہا تھا۔اُسے کوئی شرمندگی نہیں تھی کہ یہاں معزز لوگوں کاایک قافلہ اُسے دیکھ رہا ہے۔لیٹے لیٹے اُس←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/2

جہاں کیلاشا بستے ہیں۔ جاویدخان/قسط1 مردان،مردوں کی سر زمین:۔ مردان خیبر پختون خوا کا ایک ضلع ہے۔ایک مضبوط تہذیب کے آثار اِس کے سینے میں دفن ہیں۔سکندر اعظم جیسا سر پھرا تو یہاں سے گُزرا ہی تھا۔مگر وسط ایشیا کے←  مزید پڑھیے

جہاں کیلاشا بستے ہیں۔ جاویدخان/قسط1

ایک اَبر آلُود دن: دس اَگست 2018ء ایک اَبر آلود دن تھا۔ وقاص جمیل نے اپنی فولادی گھوڑی(مٹسو بِشی) کو تھپتھپایا تو وہ خوشی سے گُرکنے اَور کانپنے لگی۔اُس کی کپکپاہٹ میں چُستی تھی اَور فولادی عزم تھا۔ شام کے←  مزید پڑھیے

مَیں پیر پنجال ہوں۔۔۔۔ جاویدخان

میں پیر پنجال ہوں۔کشمیر میراوطن ہے۔مگرمیں سارے ایشیا کافخر ہوں۔مشرقی فطری حسن کا نمائندہ،پربتوں میں مجھے خاص مقام حاصل ہے۔288کلومیٹر لمبا اور40سے 50 کلومیٹر چوڑاہوں۔کئی درّے میرے دامن میں ہیں۔یہ دروازے ہیں جو فطرت نے میرے اندر لگارکھے ہیں۔سال کااکثر←  مزید پڑھیے

تیرتھوں میں اک تیرتھ (شاردہ) ۔۔۔۔جاویدخان

انسان نے اپنے سے برتر ہستی کو تلاش کیا۔اس کی تلاش کا سفر بھی لمبا اور کٹھن ہے۔پھراس نے اپنے تلاش کیے خدا سے محبت،پیار،اُنس اور اُمیدوں کے سارے تانے بانے جوڑے۔اس تلاش میں اِنسان کے وجدان نے ترقی  کی←  مزید پڑھیے

کشمیر،خاموشیاں اور ذمہ داریاں۔۔۔ جاویدخان

شوریدگی سرد پڑ سکتی ہے۔کسی طوفان کے گزرنے کے بعد خاموشی چھاجاتی ہے۔باقی صرف تباہی کے آثار رہ جاتے ہیں۔ہلچل خطرناک نہیں ہوتی۔خطرناک چُپ ہوتی ہے،خاموشی،چُپ جو اچانک پھٹ پڑے۔سری نگر کی خاموشی ایسی ہی چُپ ہے۔سری نگر کشمیر کی←  مزید پڑھیے

منٹو ،کشمیر اور یو این او۔۔۔۔جاوید خان

منٹو کشمیری تھا؟نہ بھی ہوتا تو تب کیا ہو جاتا؟۔ وہ لدھیانہ میں پیدا ہوا اور امرتسر میں جوان ہوا۔وہی رومانس کیے،دلی اور ممبئی میں پیسے کمائے،شرابیں پی۔اور امرتسر سے اس طرف واہگہ پار کرکے زندہ دلوں کے شہر،لاہور چلاآیا۔کشمیر←  مزید پڑھیے

یونیورسٹیاں،دانش گاہیں اَور خطرات۔۔۔ جاویدخان

کبھی انسان اپنے وجود سے آگاہ نہیں تھا۔آہستہ آہستہ وہ آگاہ ہوتا گیا۔خودسے،اپنے گھر (سیارہ زمین) سے اور اس میں رہنے والی دوسری حیات سے۔آگاہی کایہ عمل بنا رُکے آج تک جاری ہے۔قبل مسیح میں یونان کے ایک دانشور کے←  مزید پڑھیے

ناسا کے ویگیانک اور گائے۔۔۔ جاویدخان

گائے ایک شکتی شالی چوپایہ ہے۔کبھی بھی اسے بے لگام نہیں دیکھا گیا۔مسئلہ بیل کا ہو سکتا ہے۔مگر وہ سانڈ نما بیل جو ہر طرح کے کام سے آزاد،کلے سے بندھاصرف چارہ کھاتا ہے۔کمزور ہڈیاں نکلے،لاغر بیل جن پر منوں←  مزید پڑھیے