اختصاریئے    ( صفحہ نمبر 65 )

عدالت کا فیصلہ اور گمراہ کن مہم

جسٹس شوکت صدیقی کی عدالت نے سلمان شاہد نامی شخص کی پٹیشن پر ایک آرڈر دیا جس پر شخص مذکورہ اور انکے حامیوں نے فوراً نا صرف جھوٹ بولا بلکہ عوام میں ہیجان برپا کرنے کی کوشش بھی کی۔ جسٹس←  مزید پڑھیے

ایک غزل کے دو شعر

جب نام ترا وردِ زباں تھا، تو کہاں تھا جب مجھ میں ترا عشق جواں تھا، تو کہاں تھا اقدار کے مدفن پہ ترا نوحہ عبث ہے جب میں بھی یہاں نوحہ کناں تھا تو کہاں تھا!←  مزید پڑھیے

’’دوائی پیک ‘‘(سو لفظوں کی کہانی )

’’لے اماں! ہاتھ آگے کر ‘‘۔ فیصل آباد کے جنرل ہسپتال کے ڈسپنسر نے دوائی اماں کے ہاتھ میں پکڑانے کی کوشش کی۔ ’’ ناں پتر !دوائی گیلی ہو جائے گی‘‘۔ ’’پھر اپنی چادر کے پلو میں لپیٹ لو ‘‘۔←  مزید پڑھیے

بڑھاپے کا عشق

بڑھاپے کا عشق پکڑے گئے، آج صبح جب اُنہیں جامعہ کراچی تلک ہمراہی کا شرف بخشا تو کہنے لگیں، اتی چلچلاتی دھوپ میں آپ کو میں ایسے تو نہیں جانے دوں گی، ایسا کرتے ہیں دو گھڑی، کچھ ٹھنڈا ہو←  مزید پڑھیے

ایک پرانی رومانوی کہانی

یہ ایک پرانی کہانی ہے۔ ایک لڑکی نے خواب میں اپنے بھائی کو مرتے دیکھا۔۔ جو اتفاق سے چند سال پہلے مر چکا تھا۔۔ اس کے گھر کے سامنے پکی سڑک بن رہی تھی، اس لڑکی کے بھائی کے دوست←  مزید پڑھیے

لینٹ

امریکہ آنے کے بعد جہاں بےشمار چیزیں میرے لیے نئی تھیں وہاں مسیحی تہوار لینٹ بھی بہت انوکھا لگا تھا۔ ایسٹر سے کچھ عرصہ قبل بہت سے لوگوں کو ماتھے پر راکھ سے صلیب کا نشان بنائے دیکھ کر کافی←  مزید پڑھیے

خدا اور ابلیس سے یاری

عربوں کے ثقافتی تہوار، خوشی و غمی کو منانے کے انداز اور میلوں میں دور جاہلیت سے پہلے اور اسلام کے آنے کے بعد کیا کیا تبدیلیاں رونما ہوئیں ؟؟؟ خلافت راشدہ کے دور میں کتنے باقی رہے اور کتنے←  مزید پڑھیے

زندگی

وہ رٹا لگاتا ہے۔۔ سب کچھ یاد کرتا ہے۔ کلاس میں استاد سوال پوچھتا ہے تو سوال ہی سمجھ نہیں آتا۔۔ وہ سمجھ کر یاد کرتا ہے اور چند سوال چھوڑ دیتا ہے۔ امتحان میں وہی سوال آ جاتے ہیں۔←  مزید پڑھیے

پروفیسر شاہرور

دمشق میں سول انجیئرنگ کے پروفیسر اسلام پر بہت سی کتب تحریر کر چکے ہیں۔ شاہرور اگرچہ حدیث کو اسلام کا ماخذ تسلیم نہیں کرتے مگر وہ بہت سے امور پر مصر کے احمد صبحی منصور سے مختلف رائے رکھتے←  مزید پڑھیے

ایک بھکاری کی کہانی جو خود کو بورخیس سمجھتا ہے

کسی بھی حقیقی چوک کی طرح اس فرضی چوک( جس کے بارے میں بات کی جا رہی ہے )کے وسط میں ایک بھکاری بیٹھا ہے۔لیکن کسی بھی حقیقی چوک کے برعکس آپ اسے رات کو بھی یہیں موجود پائیں گے۔←  مزید پڑھیے

آگ (سو لفظوں کی کہانی)

’’آپ جو بیان حلفی لکھ لیں ہم عدالت میں وہی بیان دیں گے، لیکن میری بیٹی کو نوکری سے نہ نکالیں‘‘۔ ’’نہیں، میڈیا میں ہم عزت دار لوگوں کی بہت بدنامی ہوئی ہے‘‘۔ مالک بپھرا ہوا تھا ۔ ’’مالک بچی←  مزید پڑھیے

دھوکہ

خدا سے دھوکہ ہوا۔۔۔دوسری دفعہ۔۔ پہلی دفعہ اس نے موسی کو طور پر بلایا اور قوم نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا۔۔بنا بنایا کام بگڑ گیا۔ اس دفعہ معاملہ عجیب ہوا۔ وہ جنت فرشتوں کے حوالے کر کے خود←  مزید پڑھیے

’’سگنل‘‘( سو لفظوں کی کہانی)

میں کافی عرصہ کے بعد اپنے گاؤں پہنچا تھا۔ ایک ہفتہ چھٹیوں کا کیسے گزرا پتہ ہی نہیں چلا ۔ مگر بچے اس ماحول کے عادی نہیں تھے ، میں نے انہیں بور محسوس کیا۔ واپسی پر ابا جی نے←  مزید پڑھیے

درایت

دیوار کریدو۔۔ دیوار میں ہے سب کچھ۔۔ یہ سن سن کر اور دیوار میں آنکھیں لگا لگا کر وہ تھک گیا تھا۔۔۔ خالی دیوار پر کچھ بھی نہیں تھا، اسے اس سنکی بڈھے پر غصہ آتا تھا جس نے کہا←  مزید پڑھیے

ہم سب کا پاکستان

میں ملک کی سرحد پر کھڑا تھا،،،، ایک محافظ میرے پاس آیا اور کہا،، کہاں سے تعلق ہے،،،، میں نے کہا فلاں صوبے سے،،،،، تو پھر فلاں صوبے جاؤ ناں ، یہاں کیا کر رہے ہو،،،، میں فلاں صوبے کی←  مزید پڑھیے

’’فادرز ڈے‘‘( سو لفظوں کی کہانی)

وہ اپنے ابا کو لئے شہر کے مشہور نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس بیٹھا تھا۔ ’’ ڈاکٹر صاحب یہ کونسی سی بیماری ہے، بچوں کی طرح ضد کرتے ہیں، آج کھوئے والی قلفی کی ضد کر رہے ہیں۔ اگر آپ کے←  مزید پڑھیے

مقبول لیڈر

رانا صاحب ایک کامیاب کاروباری شخصیت تھے۔ نہ جانے کیسے انہیں سیاست کی لت پڑ گئی اور انہوں نے الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا۔جب رانا صاحب نے پہلا الیکشن لڑا تھا تب ان کے مدمقابل اُس دور کا مقبول←  مزید پڑھیے

نھی عن المنکر کے حوالے سے توجہ طلب امور

محترم جناب ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب نے “نہی عن المنکر کے تین مدارج والی حدیث کے متعلق چند سوالات” کے عنوان سے ایک پوسٹ میں متعلہ موضوع پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ میں نے مشتاق صاحب کی مذکورہ پوسٹ پر←  مزید پڑھیے

نقطہء نظر

دو بھائی، ایک شرابی جواری گھر میں مارپیٹ کرنے والا۔۔بیوی اس کے مرنے کی دعائیں کرتی اور ساتھ ہی بچوں کی پٹائی بھی۔۔جس سے بچے سہمے سہمے رہتے۔۔ دوسرا بھائی استاد جس کا معاشرے میں نام مقام تھا اور معززین←  مزید پڑھیے

“غرقی”

گاؤں میں ایک گھر کے باہر مزدور گڑھا کھودنے میں مصروف تھے۔ ’’ کیا ہورہاہے ۔۔۔؟‘‘ میں نے پوچھا۔ باؤ خالد! ’’غرقی ‘‘بنا رہے ہیں ۔ ایک بزرگ نے بتایا۔ پتر! اس سے غلاظت نہیں پھیلتی ، کھیتوں کی رفع←  مزید پڑھیے