نھی عن المنکر کے حوالے سے توجہ طلب امور

محترم جناب ڈاکٹر محمد مشتاق صاحب نے “نہی عن المنکر کے تین مدارج والی حدیث کے متعلق چند سوالات” کے عنوان سے ایک پوسٹ میں متعلہ موضوع پر اہم سوالات اٹھائے ہیں۔ میں نے مشتاق صاحب کی مذکورہ پوسٹ پر مختصرتبصرہ کیا، جو احباب کی نذر ہے:
حدیث کے حوالےسے آپ کے قائم کردہ سوالات تو پوری کتاب کا تقاضا کرتے ہیں، سو اس معاملے میں مجھے متعلقہ حدیث کے الفاظ میں “فان لم یستطع” کے زمرے میں شمار کیا جاوے۔البتہ ایک چھوٹا سا تبصرہ کیے دیتا ہوں جسے چاہیں تو “ذلک اضعف الایمان ” کے زمرے میں رکھ سکتے ہیں :
میرے خیال میں اس حدیث کی عمومی تشریح ، جس میں بادی النظر میں فزیکل طاقت و استطاعت رکھنے والےہر مسلمان کوبرائی کو قوت سے روکنے یا بدلنے کا نہ صرف اختیار ملتا ہے بلکہ وہ مذہبی حوالے سے اس پر ایک فرض ٹھرتا ہے، کسی طرح معقول نہیں ۔ یہ حدیث تدریس میں اکثر سامنے آتی رہتی ہے، اپنے فہم کے مطابق میں اس ضمن میں طلبہ کو تین چیزوں کو پیش نظر رکھنے پر متوجہ کرتا ہوں:
1۔ اس حدیث کی تشریح میں عموماً امر بالمعروف اور نھی عن المنکر سے متعلق حکمتیں اور شرائط و ضوابط ہمارے یہاں نظر انداز ہو جاتے ہیں، ان کی طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔
2۔امر بالمعروف اور نھی عن المنکر کے حوالے سے ہر مسلمان کا ایک دائرہ کار(Jurisdiction ) ہے۔
3۔استطاعت اور ایمان کی کمزوری کے معاملے میں فقط یہی بات پیش نظر نہ رکھنی چاہیے کہ مثلاًیونی ورسٹی کے لان میں لڑکا لڑکی بیٹھے ہیں، اور میں تھپڑوں یا جوتوں سے ان کی “تواضع ” کر سکتا ہوں ، تو ضرور کروں ورنہ میں کمزور ایمان والا ہی سمجھا جاؤں گا۔

Avatar
ڈاکٹر شہباز منج
استاذ (شعبۂ علومِ اسلامیہ) یونی ورسٹی آف سرگودھا،سرگودھا، پاکستان۔ دل چسپی کے موضوعات: اسلام ، استشراق، ادبیات ، فرقہ ورانہ ہم آہنگی اور اس سے متعلق مسائل،سماجی حرکیات اور ان کا اسلامی تناظر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *