پروفیسر شاہرور

دمشق میں سول انجیئرنگ کے پروفیسر اسلام پر بہت سی کتب تحریر کر چکے ہیں۔ شاہرور اگرچہ حدیث کو اسلام کا ماخذ تسلیم نہیں کرتے مگر وہ بہت سے امور پر مصر کے احمد صبحی منصور
سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔
شاہرور کہتے ہیں کہ قرآن مجید پر ہونے والا گذشتہ کام اب عصر حاضر کے تقاضوں پر پورا نہیں اترتا۔ وہ قرآن مجید کی ایسی تشریح کرتے ہیں لبرل اور تکثیری معاشرے کو سپورٹ کرتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ قران مجید کی تشریح ابدی سماجی حقائق کی روشنی میں ہونی چاہیئے اور اللہ کے نام پر قانون سازی کا مطالبہ چند گروہوں کی مطلق العنانی کی خواہش ظاہر کرتا ہے شاہرور کہتے ہیں کہ اسلام کوئی قانون نہیں پیش کرتا
صرف ایسی حدود متعین کرتا ہے جس کے اندر ایک فرد آزادی کی بے انتہا حدود رکھتا ہے۔ .
شاہرور کا کام ایک اعلی سطح کا دانشورانہ کام ہے اور اسلام کے جوابی بیانئے کی تیاری میں اہمیت رکھتا ہے

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *