درایت

دیوار کریدو۔۔ دیوار میں ہے سب کچھ۔۔
یہ سن سن کر اور دیوار میں آنکھیں لگا لگا کر وہ تھک گیا تھا۔۔۔
خالی دیوار پر کچھ بھی نہیں تھا، اسے اس سنکی بڈھے پر غصہ آتا تھا جس نے کہا تھا کہ دیوار میں سب کچھ ہے۔
ایک شام وہ جب دیوار میں بنے طاق میں رکھا چراغ جلانے کو اٹھا تو اسے زوردار ٹھوکر لگی اور اس کے ہاتھ سے دیا سلائی زمین پر گر گئی۔۔۔۔۔پورا کمرہ جل اٹھا۔
پہلے چراغ جلتا تھا اور کمرہ روشن ہوتا تھا۔۔۔ اب کمرہ جل رہا تھا اور دیوار پر لکھے حروف روشن تھے!!!

ابنِ حیدر
ابنِ حیدر
سوچنے، محسوس کرنے، جاننے اور جستجو کےخبط میں مبتلا ایک طالبِ علم ۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *