لینٹ

امریکہ آنے کے بعد جہاں بےشمار چیزیں میرے لیے نئی تھیں وہاں مسیحی تہوار لینٹ بھی بہت انوکھا لگا تھا۔ ایسٹر سے کچھ عرصہ قبل بہت سے لوگوں کو ماتھے پر راکھ سے صلیب کا نشان بنائے دیکھ کر کافی حیرت ہوئی۔ کالج میں کئی دوستوں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ لینٹ مسیحی برادری پر ایسٹر سے پہلے خدا کی طرف سے واجب کردہ وہ چالیس روزہ ایام ہیں جن کا آغاز وہ بدھ کو اپنے ماتھوں پر راکھ سے صلیب کا نشان بنا کر کرتے ہیں۔ راکھ سے صلیب کا نشان بنانے کا مقصد خود کو یہ یاد دلانا ہے، ہم سب مٹی سے ہیں اور ہم واپس مٹی ہو جائیں گے( کتاب ایکلیسٹیاسٹس۳:۲۰ ای ایس وی)۔
لفظ لینٹ قدیم زبان اینگلو سیکشن کے لفظ لنسٹن کا مخفف ہے جس کے معانی موسم بہار کے ہیں۔ یہ لفظ موسم بہار میں(خاص کر مارچ کے مہینے میں) رومن کیتھولک چرچ کے مقررہ کردہ چالیس دنوں کے لیئے استعمال ہوتا ہے۔ ان چالیس دنوں میں مذہبی مسیحی برادری اپنے چرچ کے حکم کے تحت روزہ(فاقہ کشی)اختیار کرتے ہیں بلکہ بعض لوگ حضرت عیسیؑ کے صلیب پر چڑھنے اور چالیس دن صحرا میں بسر کرنے کے واقعے کو لے کر اپنے معمولات زندگی میں بھی آسائشات کو ترک کر کے عیسیٰ ابن مریم سے اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں۔ لینٹ سیزن کا اختتام ایسٹر پہ ہوتا ہے۔ انجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح کا کفارہ عید فصح، عبرانی کلینڈر کے مطابق چودہ نیسان کو رونما ہوا۔ دور جدید میں جہاں بے شمار چیزیں تبدیل ہوئی ہیں وہاں مسیحی مذہب بھی بے حد بدل چکا ہے۔ لینٹ تہوار اب صرف کیتھولک مسیحی برادری مناتی ہے۔ باقی تقریبا تمام مسیحی فرقے لینٹ کے چالیس روزہ فاقے کو ترک کر چکے ہیں۔ مزید اب تو کیتھولک مسیحی بھی چالیس دنوں میں فقط جمعہ کے روز تمام جانوروں(سور، مرغ وغیرہ) کا گوشت ترک کرکے صرف سمندری جانور اور سبزیاں کھاتے ہیں۔ امریکہ میں رہتے ہوئے مذہب سے دوری کا ایک نتیجہ تو واضح دیکھا کہ مذہب کے نام لیوا ہی ختم ہوگئے۔ اب بھی ماتھے پر صلیب کا نشان لئے لوگ دکھتے ہیں مگر اب ان کی تعداد اکا دکا ہی رہ گئی ہے۔

حمیرا گل
حمیرا گل
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *