اس عرصے میں ایک اہم واقعہ راجپال کے قتل کا ہے۔ اس کتاب کے شروع میں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ راجپال کا کیس عدالت میں چل رہا تھا۔ مجسٹریٹ نے اس کو ڈیڑھ سال سخت قید اور ہزار روپے← مزید پڑھیے
ٹونی رابنز کا نام کامیابی، ترقی، اور انسانی صلاحیتوں کو کھولنے کا مترادف بن چکا ہے۔ ایک پرجوش اسپیکر، مصنف، اور کوچ کے طور پر انہوں نے لاکھوں لوگوں کو اپنی زندگی تبدیل کرنے اور اپنے خوابوں کو حقیقت میں← مزید پڑھیے
انسانوں کا ایک ہجوم تھا جو سیلاب کے مانند میرے دائیں بائیں بہہ رہا تھا اور میں جیسے اس سیلاب میں چلا جا رہا تھا اور بہے جا رہا تھا ۔ میں دیکھ رہا تھا یہاں ہر کوئی اپنی دنیا← مزید پڑھیے
اس سر زمین پر ایک پچیس کروڑ کا ہجوم آباد ہے۔ ہجوم کو خدائی کا پتا ہے نہ ہی اپنا خدا یاد ہے۔ ہر کچھ عرصے بعد ہجوم کسی بے بس کو گھیر لیتا ہے۔ اسے سہماتا ہے ڈراتا ہے← مزید پڑھیے
خرم علی شفیق صاحب ماہر اقبالیات ہیں۔وہ اقبال اکادمی سے بھی وابستہ رہے۔ علامہ اقبال کی سوانح کے حوالے سے انہوں نے پانچ جلدوں پر کام کا منصوبہ بنایا جس کی تین جلدیں شائع ہو گئیں مگر اس دوران ان← مزید پڑھیے
مغرب کی نماز ختم ہوئی، ہمارا ارادہ تھا کہ صحنِ حرم میں جا کر ارکانِ عمرہ ادا کیے جائیں تاکہ سفر کا مقصد پورا ہو ۔ عمرہ بنیادی طور پر چار امور کا نام ہے ، میقات پر احرام باندھ← مزید پڑھیے
میرے قدم لائبریری کی طرف بڑھ رہے تھے ۔میرے دھیان میں لائبریری کا وہ شیلف تھا، جہاں میری مطلوبہ کتابیں پڑی تھیں۔ مجھے خیال آرہا تھا کہ کہیں کسی نے ان کی ترتیب برہم نہ کردی ہو۔ یہ خیال اندیشے← مزید پڑھیے
میں آج رابرٹ گرین کی مشہور کتاب “Mastery” کا خلاصہ پیش کروں گا۔یہ کتاب مہارت حاصل کرنے کا ایک جامع فلسفہ پیش کرتی ہے اور ان لوگوں کے لیے توشہ خاص ہے جو زندگی میں بہترین سے کم پر سمجھوتا← مزید پڑھیے
میں یہاں رابرٹ گرین کی مشہور کتاب “The Laws of Human Nature” کا ایک جامع اردو خلاصہ پیش کروں گا۔ یہ کتاب انسانی رویوں کو سمجھنے کا ایک انوکھا اور دلچسپ نقطہ نظر فراہم کرتی ہے۔ مصنف کا تعارف، پس← مزید پڑھیے
اکیسویں صدی کے آغاز میں بے قلعی منفیت ، ثنویت ،بے سمتی، یک منزلہ سفر کی تکرار ، ذہنی نارسائی ، شناختی بحران اور مختلف نفسیاتی کمپلیکس انسانی ساخت کا مرکز بن کر تمام علمیاتی انقباض کی از سر نو← مزید پڑھیے
کشمیری زبان کے شاعر غلام حسن بٹ کی کشمیری نعت میں عقیدت اور احترام کا اظہار کیا گیا ہے، آپ کی شاعری لسانی اور ثقافتی حدود سے ماورا ہو کر کشمیری، کھوار اور اردو زبان کے قارئین کے دلوں کو← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) (19 قسط) سال ۱۹۹۱ءشروع ہوچکا ہے۔ بہار بِیت چُکی۔ اب تو گرمیاں بھی اپنے الوداعی مرحلے میں ہیں۔ طاہرہ بھی پاکستان سے آچکی ہیں۔ زندگی قدرے معمول پر آرہی ہے۔آج← مزید پڑھیے
آج کی کتاب، کتابوں کی فہرست میں زوردار ترین، اور کافی حد تک متنازعہ کتاب ہے. آج میں رابرٹ گرین کی مشہور کتاب “The 48 Laws of Power” کا ایک جامع اردو خلاصہ پیش کروں گا۔ یہ کتاب اقتدار حاصل← مزید پڑھیے
اگر آپ موجود الیکشن میں پاکستان تحریک انصاف کی حیرت انگیز کامیابی کو سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ کتاب آپ کی مدد کرے گی. سو سوالوں کا ایک سوال یہ ہے کہ انسان کو کیا چیز ڈرائیو کرتی ہے اورزندگی← مزید پڑھیے
میں Eckhart Tolle کی مشہور کتاب “The Power of Now” کا ایک جامع اردو خلاصہ پیش کرنے جا رہا ہوں۔ اس کتاب کے مصنف کے بارے میں معلومات، کتاب کا پس منظر، کلیدی اسباق، بصیرت انگیز نکات، اور اس کے← مزید پڑھیے
گزشتہ کچھ عرصے سے دیکھا گیا ہے کہ قارئین میں کتابیں پڑھنے کی عادت کم اور سونگھنے کی عادت بڑھ رہی ہے۔ ویسے بھی عالمی سطح پر توجہ کا بحران ہے سو آج سے میں ایک نیا سلسلہ شروع کرنے← مزید پڑھیے
عنبر شمیم اردو دنیا کی ایک کثیر الجہتی شخصیت ہیں۔ اپنی خوبصورت شاعری کے ذریعے وہ انسانی جذبات، معاشرتی حرکیات اور وجودی تصورات کی گہرائیوں میں جھانکتا ہوا دکھائی دیتا ہے، اس کی شاعری زندگی کی پیچیدگیوں اور نشیب و← مزید پڑھیے
اطہر فاروقی نہ اُردو والوں کے لیے اجنبی ہیں اور نہ ہی انگریزی والے اُن سے ناواقف ہیں ۔ اُردو کے ایک ایسے ادیب اور مترجم کے طور پر ، جسے اردو زبان کی سیاست کا مکمل ادراک اور شعور← مزید پڑھیے
’’ایک مدبّر سیاستدان کے لیے ضروری ہے کہ وہ پیش بینی کرسکتا ہو‘‘۔ چودھری رحمت علی کی ڈائری کا یہ اقتباس، زیرِنظر کتاب کی آخری سطر مگر میری گزارشات کی تمہید ہے جسے قومی سیاست کے بیانیے کا محور ہونا← مزید پڑھیے
سن 2011 جس وقت یہ کتاب لکھی گئی اور اس سال میلان کنڈیرا اپنی عمر کی 80 بہاروں کو عبور کررہے تھے مگر اب وہ 94 برس کی عمر میں ایسٹ سائڈ کے وقت کے مطابق 12 جولائی 2023 صبح← مزید پڑھیے