مجھے یاد ہے۔۔۔حامد یزدانی۔۔۔قسط نمبر 19

(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں)

(19 قسط)

سال ۱۹۹۱ءشروع ہوچکا ہے۔ بہار بِیت چُکی۔ اب تو گرمیاں بھی اپنے الوداعی مرحلے میں ہیں۔ طاہرہ بھی پاکستان سے آچکی ہیں۔ زندگی قدرے معمول پر آرہی ہے۔آج دل بہت خوش ہے کہ والدصاحب کا شعری مجموعہ ’’توراتِ دل‘‘میرے ہاتھوں میں ہے۔ گورنمنٹ کالج لاہور میں میرے استاد ڈاکٹر سلیم اختر صاحب کے فلیپ اور ڈاکٹر وحید قریشی صاحب کے دیباچہ کے ساتھ۔

ایک سو اڑسٹھ غزلوں پر مشتمل یہ مجموعہ چورنگے سرورق کے ساتھ ماجد نے لاہور سے شائع کیا ہے۔ مجموعہ دیکھ کر جہاں خوشی ہوئی ہےوہاں کچھ خلش سی بھی سراٹھانے لگی ہے۔ایک تو یہ وہ ’’توراتِ دل‘‘ نہیں جس کا مسودہ والد صاحب نے اپنی زندگی میں فائنل کیا تھا۔ اُس میں غالباً ایک سو غزلوں کا انتخاب کیا گیا تھا اور دوسرے اس کا سرورق دل کش ہونے کے باوصف وہ نہ تھا جو پروین ابنِ رقم صاحب کے صاحب زادے اقبال پروین ابنِ رقم نے تخلیق کیا تھا۔ شاید وہ مسودہ اور سرورق اس وقت مل نہ سکے تھے۔ پھر بھی خوش تو ہوں کہ غزلوں کا یہ مجموعہ آخر شائع ہوہی گیا۔ اس میں میرا مختصر سا تاثر بھی ’’حرفِ آغاز‘‘ کے عنوان سے شامل ہے۔

ڈاکٹر سلیم اختر صاحب کتاب کے فلیپ میں لکھتے ہیں:

’’توراتِ دل‘‘ کا مطالعہ کریں تو یزدانی جالندھری ایک بڑے اور قدآور شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں۔ لہٰذا یزدانی کا یہ دعویٰ محض تعلّی نہیں:

خونِ دل سے اسے نکھارا ہے

ہم سے ہے بزمِ شاعری کا بھرم

یزدانی نے (روایتی شعرا کے برعکس) اندازو اسلوب بدل بدل کر عصری شعور سے آگہی کا ثبوت دیتے ہوئے بیشتر اشعار کو زمانہ کا آئینہ اور ماحول کا استعارہ بنا دیا ہے۔ یزدانی جالندھری کو ہم بجا طور پر ایک ترقی پسند شاعر کہہ سکتے ہیں کیونکہ وہ جبر، گھٹن، دباؤاور قدغن کے خلاف قلمی جہاد میں مصروف رہے۔ چناچہ جب یزدانی نے ان موضوعات و مسائل پرقلم اٹھایا تو دو ٹوک الفاظ میں اعلان کیا:

مصلحت کیش نہیں یزدانی

کوئی قدغن، کوئی تعزیر لگا

٭٭٭٭٭

ڈاکٹر وحید قریشی صاحب نے اپنے پیش لفظ کو ’’ہمارے عہد کا استاد شاعر‘‘ کا عنوان دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

یزدانی منجھے ہوئے شاعر ہی نہیں ، رومانی طرزِ شاعری کے آخری کلاسیکی شاعروں میں سے تھے۔لیکن وہ گھسے پٹے عشقیہ موضوعات کے شاعر نہ تھے۔ انھوں نے عشقیہ موضوعات میں بھی کوئی نہ کوئی ندرت کا پہلو دریافت کیا۔انھوں نے اپنی غزلوں کے ذریعہ عصرِ حاضر کے مسائل سے بھی رشتہ قائم کیا ہے۔ یزدانی نے اپنی غزلوں میں سیاسی، سماجی، معاشی اور فکری مسائل بڑی فنکارانہ چابکدستی سے سموئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں:

لوگ پہچان میں نہیں آتے

روپ کیا کیا، قبائیں کیا کیا ہیں

……..

ٹوٹا نہیں اشکوں سے ابھی ضبط کا پشتہ

پانی ابھی خطرے کے نشاں تک نہیں آیا

…….

فضائیں شہرِ وفا کی ہوئیں شفق آثار

یہ کس نے کھول دیا ہے لہو کا دروازہ

اسی لہو کے دروازے پر بیٹھے ہم آج یزدانی جالندھری کے کلام کا مطالعہ کررہے ہیں۔

٭٭٭٭٭

لاہور سے اخبارات وجرائد کے تراشے ملے ہیں جن میں والدصاحب کے انتقال پر تعزیت نامے شائع ہوئے ہیں۔

“روزنامہ جنگ” لاہور کے ادبی ایڈیشن میں احمد ندیم قاسمی، ڈاکٹر وحید قریشی،منیر نیازی، میرزاادیب، ڈاکٹر انور سدید ،طفیل ہوشیارپوری، حمید اختر اور دوسرے اہم شعرا اور ادبا کے تعزیعتی پیغامات شامل ہیں۔ منیر نیازی کا کہنا ہے:

’’جن چند ہستیوں نے مجھے زندگی میں متاثر کیا ہے اُن میں یزدانی صاحب کا نام بہت نمایاں ہے۔‘‘

طفیل ہوشیارپوری صاحب اور میرزا ادیب صاحب نے اپنے ہمدمِ دیرینہ کو جذباتی انداز میں یاد کیا ہے۔

احمد ندیم قاسمی کے مطابق یہ عہد ایک استاد شاعر سے محروم ہوگیا ہے۔

حمید اختر صاحب اپنے پیغام میں یزدانی صاحب اور ساحر لدھیانوی کے دوستانہ تعلقات کا حوالہ دیتے ہیں۔

روزنامہ امروز میں اظہر جاوید صاحب نے مکمل کالم والدصاحب کے انتقال پر لکھا ہے جس کا عنوان انھوں نے یہ ٹھہرایا ہے:

’’دنیا دار کمینے‘‘

کالم میں وہ اس کے عنوان کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یزدانی صاحب نے انتقال سے دو روز قبل انھیں یاد کیا مگر دنیاوی کاموں میں مصروفیات کے باعث وہ ہسپتال نہ پہنچ سکے اور یزدانی صاحب سے آخری ملاقات سے محروم رہے۔ اسی دکھ کا اظہار اور اپنے پرانے مراسم کا ذکر انھوں نے اپنے کالم میں کیا ہے۔

٭٭٭٭٭

میرزا ادیب صاحب اور انور سدید صاحب نے تو والدصاحب کی وفات پر ایک سے زیادہ کالم اور مضامین لکھے ہیں۔

٭٭٭٭٭

اب ماجد نے یہ خوش خبری روانہ کی ہے کہ والدصاحب کا نعتیہ مجموعہ ’’توصیف‘‘ بھی زیورِ طبع سے آراستہ ہوگیا ہے۔ مجھے دلی طمانیت حاصل ہوتی ہے اور میں اسے دعا بھیجتا ہوں۔ اطاعت کا سرورق والدصاحب کے جوانی کے دوست بشیر موجد صاحب کا بنایا ہوا ہے اور یہ سرورق وصول کرنے میں ہی والدصاحب کے ساتھ برسوں پہلے موجد صاحب کے دفتر گیا تھا۔ نعتیہ مجموعہ کا دیباچہ حفیظ تائب صاحب نے تحریر کیا ہے۔ اس میں ٖڈاکٹر انور سدید صاحب کی تفصیلی رائے بھی شامل ہے اور پروفیسر عارف عبدالمتین صاحب کی ایک مختصرمگر پرتاثیر تحریر بھی۔

٭٭٭٭٭

یہ اگست کا مہینہ ہے۔ میں تعطیلات گزارنے لاہور پہنچا ہوں۔ اپنے عزیزدوست محمد امین اور بھائیوں کے ساتھ والدصاحب کے مرقد پر حاضری دینے گیا ہوں۔

میانی صاحب قبرستان جس میں کتنے ہی نام ور لکھاریوں کی ابدی آرام گاہیں موجود ہیں۔ والدصاحب کی آرام گاہ چوک جنازہ گاہ سے دُور نہیں ۔ اُن کے شاعر دوست حسرت حسین حسرت صاحب کی قبر کے پاس سے گزرتے ہوئے ہم اُس مرقد تک پہنچے ہیں جس کی سنگِ مرمر کی پیشانی پر یہ قطعہ جگمگا رہا ہے:

یزدانی، مِرے نام کو یزداں سے ہے نسبت

پھر اس پہ مجھے نازکہ میں مصطفوی ہوں

حاصل ہے یہ منصب کہ ہوں مدّاحِ پیمبر ﷺ

یہ بھی ہے شرف میرا کہ میں آلِ نبی ہوں

اور اس سے اُوپروالد صاحب کا نام ، ان کی تواریخِ ولادت و وفات درج ہیں۔

ہلکے ہلکے گلابی، کاسنی اور سفید رنگوں کے ننھے ننھے پھول عین قبر کے اوپر مہک رہے ہیں۔ ہم نے کچھ تازہ گلاب اور گیندے کے پھول بھی اوپر بکھیر دیئے ہیں۔ جن کی خوشبو اب یادوں کے ساتھ ساتھ قلب و ذہن کی فضا میں پھیلتی جارہی ہے اور میری چشمِ تصور میں وہ منظر ابھر رہا ہے جب والدصاحب آخری سفر کرتے ہوئے یہاں پہنچے ہوں گے۔ میں تو تب ہزاروں کلومیٹر دُور جرمنی میں تھا مگر اس منظر سے دُور بھی نہ تھا۔

میں قبر کو چھوتا ہوں تو وہی لرزش مجھے اپنوں ہاتھوں میں محسوس ہوتی ہے جو مجھے جرمنی وداع کرتے ہوئے والدصاحب کے بدن میں محسوس ہورہی تھی۔ میں کچھ بھی نہیں کہہ پاتا ۔ نہ حروف میں اور نہ آنسوؤں میں۔ ایک سکوت سا محسوس ہوتا ہے دُور دُور تک۔ ایک طویل خاموشی۔ آنسوؤں کو بہنے کی اجازت گھر آکر ملی۔ خوب برسے۔ قطرہ قطرہ، مصرعہ،مصرعہ۔ اور خود بخود نظم ہوتے چلے گئے:

پاپا کے لیے

(یزدانی جالندھری کی یاد میں )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دُعائیں، حاشیہ چادر گل تر ہیں

لحد کا گھیر ہوئیں صبر و ضبط کی بیلیں

پس زماں مہک اُٹھے گل بہارِ ابد

جنھیں طلوع خزاں سے کوئی علاقہ نہیں

گماں کی دُھوپ پہ اَبر یقیں کا سایہ ہے

غم سفر کسی دیوار کی منڈیر نہیں

ہم اپنی آنکھیں مسافت میں بھول آئے مگر

کھنک اُٹھے ہیں ستارے ہوا کی مٹھی میں

سُلگ اُٹھے ہیں بجھے زخم منزلوں کی طرح

دہکتی ریت پہ یادوں کی چھپ اُترنے لگی

کنار شام پس ساحل جمال شفق

کسی نوید سحر کی اذاں اُبھرنے لگی

(حامد یزدانی)

٭٭٭٭٭

لاہور میں امی جان سے مل کر، ہمشیرہ انیسہ کی منگنی کی تقریب میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ مجھے حلقہ اربابِ ذوق لاہور کے انتخابات میں ووٹ دینے کا بھی موقع مل گیا۔ کچھ اساتذہ اور دوستوں سے بھی ملاقاتیں رہیں اوراس بار پھر پاکستان ٹیلی وژن لاہور پر پروگرام دیس پردیس کے لیے ڈاکٹر امجد پرویز صاحب نے میرا انٹرویو ریکارڈ کیا ہے جس میں والدصاحب کی بھی یادیں تازہ کی گئیں۔

٭٭٭٭٭

اب میں کولون، جرمنی لوٹ آیا ہوں۔

٭٭٭٭٭

لاہور سے روزنامہ امروز، ماہ نامہ ماہِ نو اور ہفت روزہ تکبیر باقاعدگی سے بذریعہ ڈاک ہمارے دفتر آتے ہیں۔ کچھ دیگر اخبارات و جرائد بھی وقتاً فوقتاً موصول ہوتے ہیں۔ ان میں بھی والد صاحب کی یاد میں کوئی نہ کوئی مضمون یا خبر شامل ہوتی ہے۔ ایک خبر یہ پڑھنے کو ملی ہے کہ والد صاحب کی یاد میں مجلسِ شمعِ ادب لاہور نے ایک خصوصی مشاعرہ کا اہتمام کیا جس کے میزبان ڈاکٹر تبسم رضوانی تھے جبکہ صدارت شہزاد احمد صاحب نے کی۔ لاہور اور گرونواح کے پیشتر اہم شعرا نے اس میں شرکت کیا اور اپنا اپنا کلام پیش کیا اور والدصاحب کو یاد کرتے ہوئے کئی نظمیں ان کی نذر گذاریں۔ میری ایک تازہ غزل چھوٹے بھائی ماجد یزدانی نے پڑھ کرسنائی۔ یوں میری شرکت بھی اس یادگار تقریب میں ممکن ہوگئی۔

٭٭٭٭٭

یہاں جرمنی کے شہروں فرینکفرٹ، برلن اور کولون میں آئے دن جن ادیبوں، شاعروں سے ملاقاتیں ہوتی ہیں وہ سبھی والد صاحب کا ذکر بہت محبت سے کرتے ہیں۔ قمر اجنالوی صاحب،طفیل خلش صاحب، جمیل الدین عالی صاحب، انتظار حسین صاحب، افتخار عارف صاحب سے حال ہی میں ملاقاتیں ہوئیں اور والد صاحب کا ذکرِ خیر رہا۔

٭٭٭٭٭

امجد اور طاہرہ نے مل کر میرا اولین اردو شعری مجموعہ ترتیب دیا ہے۔کتاب کا نام پہلے ’’برگِ شفق‘‘ رکھا گیا تھا مگر بعد میں تبدیل کرکے ’’ابھی اک خواب رہتا ہے‘‘ کردیا گیا۔ سرورق بھی امجد نے بنایا ہے۔ جاہدالحق نے اس کے نام ’’ابھی اک خواب رہتا ہے‘‘ کی مناسبت سے شیکسپئر اور جان کِیٹس کے مصرعے تلاش کرکے فراہم کیے ہیں۔پس ورق کے لیے ایک مقامی فوٹو سٹوڈیو سے تصویر بنوائی گئی ہے۔ امجد ہی مسودہ اشاعت کے لیے لاہور لے کر گیا ہے۔ واپسی پر وہ مطبوعہ کتاب کی چند کاپیاں بھی لے آیا ہے۔ اس مجموعہ کا انتساب والدصاحب کے نام ہے:

’’پاپا (یزدانی جالندھری صاحب) کے نام

جِن کے حُسنِ تربیت سے

میرے اظہار کا حرف حرف آئینہ

ترتیب پایا ہے۔‘‘

مجموعہ میں میرے حرفِ آغاز کے ساتھ ساتھ جناب شہزاد احمد، جناب افتخار عارف اور جناب خالد احمد کی آرا بھی شامل ہیں اور اسے پاکستان بکس اینڈلٹریری ساؤنڈز نے شائع کیا ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

٭٭٭٭٭

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply